PDA

View Full Version : صرف میرے ہو کر رہو



تانیہ
12-07-2010, 03:44 PM
اپنی خاطر جگے ہو سوئے ہو
اپنی خاطر ہنسے ہو روئے ہو
کس لیے آج کھوئے کھوئے ہو
تم نے آنسو بہت پیئے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے، صرف میرے ہو کر رہو
حسن ہی حسن ہو ، ذہانت ہو
عشق ہوں میں ، تو تم محبت ہو
تم مری بس مری امانت ہو
جی لیے، جس قدر جیے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے صرف مرے ہو کر رہو

رہتے ہو رنج و غم کے گھیروں میں
دکھ کے ، آسیب کے بسیروں میں
کیسے چھوڑوں تمہیں اندھیروں میں
تم کو دے دوں گا سب دیے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے ، صرف مرے ہو کر رہو

اب مجھے اپنے درد سہنے دو
دل کی ہر بات دل سے کہنے دو
مری بانہوں میں خود کو بہنے دو
مدتوں زخم خود سیے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے ، صرف مرے ہو کر رہو

تانیہ
02-13-2011, 10:08 PM
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
زخم دل آپ کی نظروں سے گہرا نکلا

توڑ کر دیکھ لیا آیئنہ دل تو نے
تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا

جب کبھی تجھ کو پکارا میری تنہائی نے
بو اڑی پھول سے تصویر سے سایہ نکلا

تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
ڈوب کر بھی تیرے دریا سے میں پیاسا نکلا

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
زخم دل آپ کی نظروں سے گہرا نکلا

تانیہ
02-13-2011, 10:09 PM
شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
درد جو دل میں ہے چمکے تو سہی

ہم وہیں پر بسا لیں خود کو
وہ کبھی راہ میں روکے تو سہی

مجھے تنہاءیوں کا خوف کیوں ہے
وہ میرے پیار کو سمجھے تو سہی

وہ قیامت ہو ،ستارہ ہوکہ دل
کچھ نہ کچھ ہجر میں ٹوٹے تو سہی

سب سے ہٹ کر منانا ہے اُسے
ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی

اُس کی نفرت بھی محبت ہو گی
میرے بارے میں وہ سوچے تو سہی

دل اُسی وقت سنبھل جائے گا
دل کا احوال وہ پوچھے تو سہی

اُس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں
میری بستی سے وہ گزرے تو سہی

میرا جسم آئینہ خانہ ٹھہرے
میری جانب کبھی دیکھے تو سہی

اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسن
شرط اتنی ہے کہ، بولے تو سہی

تانیہ
02-13-2011, 10:10 PM
وہ تیری آنکھوں کے خواب سارے
وہ باتیں ساری حساب سارے
سوال سارے جواب سارے
وہ خوشیاں ساری عذاب سارے
نشہ تھا اک جو اتر گیا ہے

کچھ تو ہے تُو بدل گیا ہے

جو مجھ سے ملنے کی آرزو تھی
جو مجھ کو پانے کی جستجو تھی
ہوئی جو چاہت ابھی شروع تھی
جو تیری آنکھوں میں روشنی تھی
جو تیری باتوں کی راگنی تھی
جو تیری سانسوں کی تازگی تھی
جو تیرے لہجے میں چاشنی تھی

وہ میٹھا سارا پگھل گیا ہے

کچھ تو ہےتُو بدل گیا ہے

تانیہ
02-13-2011, 10:11 PM
منتظر کب سے تحیر ہے تیری تقریر کا
بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اُڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

جانے تو کس عالم میں بچھڑا ہے کہ تیرے بغیر
آج تک ہر لفظ فریادی میری تحریر کا

جس طرح بادِل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے وہ عالم بھی دیکھا ہے تیری تصویر کا

کس طرح پایا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا

عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
جوئے خوں کو نام دیتے ہیں جوئے شِیر کا

جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا

تانیہ
02-13-2011, 10:12 PM
اک مدت کے بعد کل
سر راہ ملی تھی اچانک
دیکھ کر مجھ کو چونک سے گئی
کہنے لگی ۔۔
یہ تم ہی ھو
کیا تھے تم کیا بن گئے
اتنے بجھے بجھے سے تو نہ تھے تم
تمہارا چہرہ تو رُخ روشن کی طرح تھا
تمہاری باتیں شوخیوں سے بھرپور
تمہاری آنکھوں میں چمک تھی
اب کیوں سناٹے سے چھائے ھیں
خاموشیوں کے پہرے ھیں
نیند سے بھاری پلکیں بتاتی ھیں
رتجگوں کے ڈیرے ھیں
کیوں نیند تم سے روٹھی ھے
کیوں تم اتنے سہمے سہمے سے ھو
کس بات سے اتنے ڈرے ھو
بتاؤ کیا غم ھے
کیا دکھ ھے
جو اندر ہی اندر تمہیں گھائل کررھا ھے
میں ہنس پڑا
نگاہیں نیچی کیئے بس اتنا ہی کہا
"میں ایک پورے چاند کے گرہن کی زد میں ہوں۔"
پھر اتنا کہہ کر پلٹ گیا

تانیہ
02-13-2011, 10:13 PM
ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا
اسے یاد کر کے نہ دل دکھا جو گزر گیا سو گزر گیا

نہ گلہ کیا، نہ خفا ہوئے یونہی راستے میں فدا ہوئے
نہ تو بے وفا نہ میں بے وفا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ غزل کی اِک کتاب تھا وہ گلوں میں اِک گلاب تھا
ذرا دیر کا کوئی خواب تھا، جو گزر گیا سو گزر گیا

مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں نہ سنا سنا کے اُداس کر
تو خزاں کا پھول ہے مسکرا، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ اُداس دُھوپ سمیٹ کر کہیں وادیوں میں اتر چکا
اسے ا ب نہ دے میرے دل صدا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

یہ سفر بھی کتنا طویل ہے یہاں وقت کتنا قلیل ہے
کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا ،جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ وفائیں تھیں کہ جفائیں تھیں نہ یہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اس کو گلے لگا، جوگزر گیا سو گزر گیا

کوئی فرق شاہ گدا نہیں کہ یہاں کسی بقا نہیں
یہ اُجاڑ محلوں کی سُن صدا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

تجھے اعتبار و یقین نہیں، نہیں دُنیا اتنی بُری نہیں
نہ ملال کر میرے ساتھ آ، جو گزر گیا سو گزر گیا

تانیہ
02-13-2011, 10:14 PM
تم کو دیکھے ہوئے گزرے ہیں زمانے آؤ
عمر رفتہ کا کوئ خواب دکھانے آؤ


میں سرابوں میں بھٹکتا رہوں صحرا صحرا
تم میری پیاس کو آئنہ دکھانے آؤ


اجنبیت نے کئ داغ دئے ہیں دل کو
آشنائ کا کوئ زخم لگانے آؤ


ملنا چاہا تو کئے تم نے بہانے کیا کیا
اب کسی روز نہ ملنے کے بہانے آؤ

تانیہ
02-13-2011, 10:14 PM
کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے
غمِ دنیا سے گھبرا کے تمہیں دل نے پکارا ہے

تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستورِ وفا کیا ہے


نجانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئیں ہم سے
تمہیں دیکھا، تمہیں چاہا، قصور اس کے سوا کیا ہے

نہ ہے فریاد ہونٹوں پہ، نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں ڈھالا ہے

تانیہ
02-13-2011, 10:17 PM
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں

جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دِل میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
اشکوں کا نوُر لُٹاتی تھیں
جب سانسیں اُجلے چہروں کی
تن من میں پھوُل سجاتی تھیں
جب چاند کی رِم جھِم کرنوں سے
سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے
جب ایک تلاطم رہتا تھا!

اپنے بے انت خیالوں میں
ہر عہد نبھانے کی قسمیں
خط خون سے لکھنے کی رسمیں
جب عام تھیں ہم دل والوں میں
اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر
کچھ جلتے بجھتے لفظوں کے
یاقُوت پگھلتے رہتے ہیں

اَب اپنی گُم سُم آنکھوں میں
کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی
کچھ گرد آلود سے موسم ہیں
اَب دُھوپ اُگلتی سوچوں میں
کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں

اب اپنے ویراں آنگن میں
جتنی صُبحوں کی چاندی ہے
جتنی شاموں کا سونا ہے
اُس کو خاکستر ہونا ہے

اب یہ باتیں رہنے دیجے
جس عُمر میں قصّے پُنتے تھے
اُس عُمر کا غم سہنے دیجے
اَب اپنی اُجڑی آنکھوں میں
جتنی روشن سی راتیں ہیں
ُس عمر کی سب سوغاتیں ہیں

جس عُمر کے خواب خیال ہوُئے
وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
وہ عمر بتائے سال ہوئے

اَب اپنی دید کے رستے میں
کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا
کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں
کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں
کچھ یادوں کی برساتیں ہیں

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں!

محسن نقوی

تانیہ
02-13-2011, 10:18 PM
خواب میری پناہ ہیں

بس میرا چلتا نہیں جب سختئی ایام پر
فتح پا سکتا نہیں یورش آلام پر
اپنے ان کے درمیاں دیوار چن دیتا ہوں میں
اس جہان ظلم پر اک خواب بُن دیتا ہوں میں

منیر نیازی

تانیہ
02-13-2011, 10:20 PM
فیض احمد فیض


دلِ مسافر



اداس مت ہو
دلِ مسافر اداس مت ہو
ہوا اگرچہ پھوار دامن میں بھر کے لائی ہے بےکلی کی
فضا اگرچہ کسی خاموشی سے مضمحل ہے
راہ میں کوئی نگاہ حدِنگاہ تک بے پناہ کھلی ہے
دن سوالی ہے، رات کالی ہے
شام روتی ہے
من بھگوتی ہے
آس بھی گرچہ بس خیالی ہے، بس خیالی ہے
اداس مت ہو

مگر تو پھر بھی اداس مت ہو
اداس مت ہو
اگرچہ لمحوں کے سرد پوروں پہ ہجر لکھا ہوا ہے برسوں
اگرچہ وقتی خوشی کے سینے پہ مستقل درد مل گئی ہے دعا کی سرسوں
اگرچہ احساس کی رگوں میں
کوئی اندھیرا سا جم گیا ہے، خیال میں وقت تھم گیا ہے
ابھی کوئی انتظار آنکھوں سے کم گیا ہے
ستم گیا ہے نہ کوئی رنج و الم گیا ہے (نہ صبر کے سر سے خم گیا ہے)
یہ سب تمہارے ہی پیرہن ہیں
ابھی سے یوں بےلباس مت ہو
دلِ مسافر
اداس مت ہو

ابھی تو آنکھوں میں آنسوؤں کی بہت جگہ ہے
ابھی تو راتوں کے جنگلوں میں مسافتوں کی بہت جگہ ہے
ابھی تو آہوں کے قافلے میں بہت نمی ہے
ابھی تو ہر شے کی زندگی میں بہت کمی ہے
ابھی سے یوں خودشناس مت ہو
اداس مت ہو
دلِ مسافر
اداس مت ہو



تانیہ
02-13-2011, 10:21 PM
حسن کوزہ گر

ن م راشد


جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ھوں!
تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف
کی دکّان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاھوں میں وہ تابناکی
تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ھوں
جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رھا ھوں!
یہ وہ دور تھا جس میں میں نے
کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب
پلٹ کر نہ دیکھا ــــــــــ
وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے
گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں
وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے
“حسن کوزہ گر اب کہاں ھے
وہ ہم سے خود اپنے عمل سے
خداوند بن کر خداؤں کے مانند ھے روئے گرداں!”
جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا
کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے
تغاروں میں مٹی
کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ھوتا تھا میں
سنگ بستہ پڑی تھی
صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں
مری ہیچ مایہ معیشت کے، اظہار فن کے سہارے
شکستہ پڑے تھے

میں خود، میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برھنہ
سر چاک ژولیدہ مو، سر بزانو
کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے
گل و لا سے خوابوں کے سیّال کوزے بناتا رہا تھا
جہاں زاد، نو سال پہلے
تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی
کہ میں نے، حسن کوزہ گر نے
تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں
میں دیکھی ھے وہ تابناکی
کہ جسے سے مرے جسم و جاں، ابرو مہتاب کا
رھگزر بن گئے تھے
جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات
وہ رود دجلہ کا ساحل
وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں
کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے
ایک ہی رات وہ کہربا تھی
کہ جس سے ابھی تک ھے پیوست اسکا وجود
اس کی جاں اس کا پیکر
مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا
حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ھے!
جہاں زاد اس دور میں روز، ہر روز
وہ سوختہ بخت آکر
مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گل سر بزانو
تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی ــــــــــ
(وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)
وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی
حسن کوزہ گر ھوش میں آ”
حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر
یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے
حسن، اے محبّت کے مارے
محبّت امیروں کی بازی،
“حسن، اپنے دیوار و در پر نظر کر
مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے
کسی ڈوبتے شخص کو زیرگرداب کوئی پکارے!
وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں
مگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے ان
خرابوں کا مجذوب تھا جن
میں کوئی صدا کوئی جنبش
کسی مرغ پرّاں کا سایہ
کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!

جہاں زاد، میں آج تیری گلی میں
یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں
ترے در کے آگے کھڑا ھوں
سرد مو پریشاں
دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاھیں
مجھے آج پھر جھانکتی ھیں
زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ھے جس پہ مینا و جام و سبو
اور فانوس و گلداں
کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں
میں انساں ھوں لیکن
یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!
حسن کوزہ گر آج اک تودہ خاک ھے جس
میں نم کا اثر تک نہیں ھے
جہاں زاد بازار میں صبح عطّار یوسف
کی دکّان پر تیری آنکھیں
پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں
ان آنکھوں کی تابندہ شوخی
سے اٹھی ھے پھر تودہ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش
یہی شاید اس خاک کو گل بنا دے!

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ھے جہاں زاد لیکن
تو چاھے تو بن جاؤں میں پھر
وہی کوزہ گر جس کے کوزے
تھے ھر کاخ و کو اور ھر شہر و قریہ کی نازش
تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں

تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ھے جہاں زاد لیکن
تو چاھے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب
گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب
معیشت کے اظہار فن کے سہاروں کی جانب
کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن
سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے
دلوں کے خرابے ھوں روشن!

تانیہ
02-13-2011, 10:23 PM
خواب اھورے سہی
خواب اپنے تو ہیں
دل میں آیا جو بھی، دل نے پایا سبھی
نیند کے اُس طرف گو کہ کچھ بھی نہیں

جب حقیقت کے رنگ راس آئے نہیں
تو ہم نے سوچھا چلو نیند کے ساتھ سہی
سو روز چلتے رہے خواب بُنتے رہے
خواہشیں خود بخود ہاتھ آنے لگیں

خوشبوئیں بِن کہے ساتھ آنے لگی
جھلملاتے ہوئے سارے تارے حسین
خود ہی جُھولی میں آکر چمکنے لگے
رنگ نظروں کی چادر پہ ایسے چڑھے

کہ پھول پلکوں پہ آ کر مہکنے لگے
جو بھی دل کو لگا ہمسفر بن گیا
نہ تڑپنا کوئی نہ جُدائی کوئی
نہ زمانہ کوئی نہ خدائی کوئی

آنکھ اگرچہ کُھلی ھاتھ ملتے ہوئے
کچھ ہی پل کو سہی۔ہم خوش تو رہے
لوگ ہنستے ہیں تو اُن کو ہنس لینے دو
خواب اھورے سہی
خواب اپنے تو ہیں

تانیہ
02-13-2011, 10:24 PM
محبت کا اک پہر

یہ جو پلکوں پہ رم جھم ستاروں کا میلہ سا ہے
یہ جو آنکھوں میں دُکھ سُکھ کے ساون کا ریلہ سا ہے
یہ جو تیرے بنا ' کوئی اتنا اکیلا سا ہے
زندگی تیری یادوں سے مہکا ہوا شہر ہے
سب محبت اک پہر ہے

ساحلوں پہ گھروندے بنائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے
رنگ بارش میں کیسے اڑائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے
راستوں میں دیئے سے جلائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے
آئینے کس طرح سے سجائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے

کوئی خوشبو کا جھونکا ادھر آنکلتا کہیں
گُم ہے نیندوں کے صحرا میں خوشبو کارستہ کہیں
ہر خوشی آتے جاتے ہوئے وقت کی لہر ہے
سب محبت کا اک پہر ہے

زندگی دھوپ چھاؤں کا ایک کھیل ہے بھیڑ چھٹتی نہیں
اور اسی کھیل میں دن گزرتا نہیں ' رات کٹتی نہیں
تم نہیں جانتے خواہشوں کی مسافت سمٹتی نہیں
پیار کرتے ہوئے آدمی کی کبھی عمر گھٹتی نہیں

دل کی دہلیز پہ عکس روشن تیرے نام سے
رت جگےآئینوں میں کھلے ہیں کہیں شام سے
اک دریا ہے چاروں طرف درمیاں بحر ہے
سب محبت کا اک پہر ہے

تانیہ
02-13-2011, 10:24 PM
سندیسہ

ہمارے پاؤں میں *******جو رستہ تھا
رستے میں پیڑ تھے
پیڑوں پر جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں
اب وہ اڑٹے اڑتے تھک گئی ہیں
وہ گھنی شاخیں جو ہم پہ سایہ کرتی تھیں
وہ سب مرجھا گئی ہیں
اسے کہنا
لبوں پر لفظ ہیں
لفظوں پر کوئی دستاں قصہ کہانی جو اسے اکثر سناتے تھے
کسے جا کر سنایئں گے
بتایئں گے کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے
درلب بوسہء اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے
کبھی بکھری ہوئی زلفوں میں*******ہم
مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے
چراغ اور آیئنے کے درمیاں کب سے سر ساحل
کھڑے موجوں*******کو تکتے ہیں
اسے کہنا
اسے ہم یاد کرتے ہیں
اسے کہنا ہم آکر خود اسے ملتے مگر مستقل بدلتے
موسموں کے خون میں رنگین ہیں ہم
ایسے بہت سے موسموں*******کے درمیاں تنہا کھڑے ہیں
جانے کب بلاوا ہو! ہم میں آج بھی اک عمر کی
ورافتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے ،وہ بازی جو
بساط دل پہ کھیلی تھی ابھی ہم نے جیتی ہے
نہ ہاری ہے
اسے کہنا
کبھی ملنے چلا آئے
اسے ہم یاد کرتے ہیں

تانیہ
02-13-2011, 10:26 PM
آج یہ سب کچھ نام تمھارے

ساحل
ریت
سمندر
لہریں
بستی
دوستی
صحرا
دریا
خوشبو
موسم
پھول
دریچے
بادل
سورج
چاند
ستارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے
خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
نیند کے لمحے
درد کے آنسو
چین کے نغمے
اڑتے وقت کے بہتے دھارے
روح کی آہٹ
جسم کی جنبش
خون کی گردش
سانس کی لرزش
آنکھ کا پانی
چاہت کے یہ عنوان سارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے

تانیہ
02-13-2011, 10:26 PM
کوئی ایک شخص تو یوں ملے کہ سکوں ملے
کوئی ایک لفظ تو ایسا ہو کہ قرار ہو
کہیں ایسی رت بھی ملے ہمیں جو بہار ہو
کبھی ایسا وقت بھی آئے کہ ہمیں پیار ہو!

کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔
کہ چراغِ جاں اسے نور دے، اسے تاب دے، بنے کہکشاں
کائی غم ہو جس كو كہا کریں غمِ جاوداں
کوئی یوں قدم کو ملائے کہ بنے کارواں

کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
میری راہِ گزرِ خیال میں کوئی پھول ہو
میں سفر میں ہوں مرے پاؤں پہ کبھی دھول ہو
مجھے شوق ہے مجھ سے بھی کبھی کوئی بھول ہو
!غمِ ہجر ہو، شبِ تار ہو، بڑا طول ہو۔۔۔

کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
کہ جو عکسِ ذات ہو، ہو بہو میرا آئینہ، میرے رو برو
کوئی ربط کہ جس میں نا مَیں، نہ تُو
!سرِ خامشی کوئی گفتگو ۔۔۔

کوئی ایک شخص تو یوں ملے کہ سکوں ملے

تانیہ
02-13-2011, 10:29 PM
تيری آرزوں کے دوش پر
تيری کيفِيت کے جام میں
میں جو کِتنی صديوں سے قید ہوں
تيرے نقش میں تيرے نام میں
میرے زاِئچے میرے راستے
میرے ليکھ کی یہ نِشانِياں
تيری چاہ میں ہیں رکی ہوئی
کبھی آنسوں کی قِطار میں
کبھی پتھروں کے حِصار میں
کبھی دشتِ ہجر کی رات میں
کبھی بدنصيبی کی گھاٹ میں
کئی رنگ دھوپ سے جل گئے
کئی چاند شاخ سے ڈھل گئے
کئی تُن سُلگ کے پگھل گئے
تيری الفتوں کے قیام میں
تيرے درد کے در و بام میں
کوئی کب سے ثبتِ صليب ہے
تيری کائنات کی رات میں
تيرے اژدھام کی شام میں
تُجھے کیا خبر تُجھے کیا پتا
میرے خواب ميری کہانیاں میرے بے خبر تُجھے کیا پتا

تانیہ
02-13-2011, 10:30 PM
عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت
پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہو
مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا سا نورِ سحر
میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
میں اسی سوچ میں تھا پریشان بہت
کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔.
عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت
پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہو
مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا سا نورِ سحر
میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
میں اسی سوچ میں تھا پریشان بہت
کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔

تانیہ
02-13-2011, 10:31 PM
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

تانیہ
02-13-2011, 11:49 PM
http://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpg
کہیں ایسا نا ہو کہ ان کہی کا بھید کھل جائے
اسی خدشے میں تم مجھ سے
میرئ تخلیق کے جوہر جدا کرتے رہے ہو
اور میری تکمیل سےڈرتے رہے ہو
تمہاری مصلحت کشی کی سفاکی
مجھے تو کیا زمین و آسمان کو بانجھ کر ڈالے
تمہاری فطرت بے مہر سے واقف بھی ہوں
تسلیم کرتی ہوں
مگر یہ کیا ازیت ہے
عجب انداز وحشت ہے
مجھے تم سے محبت ہے
http://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpg

تانیہ
02-13-2011, 11:54 PM
http://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpg
خواب کی مسافت سے
وصل کی تمازت سے
روزوشب ریاضت سے
کیا ملا محبت سے
اک ہجر کا صحرا
اک شام یادوں کی
اک تھکا ہوا آنسو
http://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpghttp://oi52.tinypic.com/221edc.jpg

عبادت
02-14-2011, 11:51 PM
ٹو لیٹ




آدھی رات کے سناٹے میں
کس نے فون کیا ہے مجھ کو ؟
جانے کس کا فون آیا
فون اُٹھا کر یوں لگتا ہے
اُس جانب کوئی گم سم گم سم اُکھڑا اُکھڑا
دھیرے دھیرے کانپ رہا ہے
مہکی ہوئی اک خاموشی میں
گھپ خاموشی
لیکن اس خاموشی میں بھی گونج رہے ہیں
ٹھنڈی سانسیں ، بارش ، آنسو
خاموشی سے تھک کر اس نے سانس لیا تو
چوڑی کھنکی ..............
اف یہ کھن کھن ............
اک لمحے میں سارے بدن میں پھیل گئ
تیرے علاوہ کوئی نہیں
لیکن اتنے برسوں بعد.............

عبادت
02-15-2011, 12:53 AM
دل میں بکھرے ہوے جالوں سے پریشان نہ ہو
میرے گزارے ہوے سالوں سے پریشان نہ ہو

میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے
میرے گستاخ سوالوں سے پریشان نہ ہو

میں نہ مانا تیری انکھیں نہیں کھلتی ہیں مگر
دن نکلنے دے اجالوں سے پریشان نہ ہو

اپنی زلفوں سے اُترتی ہوئی چاندنی کو چھپا
میرے بکھرے ہوے بالوں سے پریشان نہ ہو

اے نئ دوست میں بھر پور ہوا ہوں تیرا
میرے ماضی کے حوالوں سے پریشان نہ ہو

دیکھ یوں دور نہ ہو مجھےلگا لے دل سے
تو میری روح کے چھالوں سے پریشان نہ ہو

خود کو ویران نہ کر میرے لیے جان میری
ان پریشان خیالوں سے پریشان نہ ہو

عبادت
02-15-2011, 01:07 AM
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے

تونے کیسے موڑ پر چھوڑ دیا مجھ کو
دل کی بات چھپاؤں تو رسوئی ہے

تیرے بعد بچا ہی کیاہے جیون میں
میں ہوں ، بھیگی شام ہےاور تنہائی ہے

آج میری آنکھوں میں ساون اترے گا
آج بہت دن بعد تیری یاد آئی ہے

آج کی رات بہت بھاری ہے دونوں پر
آج مجھے وہ خط لوٹانے آئی ہے

جانے میں کیا سوچ کے چپ ہوں گم سم ہوں
جانے وہ کیا سوچ کے واپس آئی ہے

یہ مہمان نوازی ہے یا اور ہے کچھ
میرے لیے وہ چاے بنا کر لائی ہے

عبادت
02-15-2011, 01:25 AM
ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں
تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں

تجھےخبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم
بہت سے کام مقدر پر ٹال رکھتے ہیں

کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے
تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں

تمہارے بعد یہ عادت سی ہوگی اپنی
بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ہیں

خوشی سی ملتی ہے خود کو اذیتیں دے کر
سو جان بوجھ کے دل کو نڈھال رکھتے ہیں

کبھی کبھی وہ مجھ کو ہنس کر دیکھ لیتے ہیں
کبھی کبھی میرا بے حد خیال رکھتے ہیں

تمہارے ہجر میں یہ حال ہو گیا پنا
کسی کاخط ہو اسے بھی سنمبھال رکھتے ہیں

خوشی ملی تو تیرے بعد خوش نہیں ہوتے
ہم اپنی انکھ میں ہر دم ملال رکھتے ہیں

زمانے بھر سے بچا کر وہ اپنے آنچل میں
مرے وجود کے ٹکڑے سنبھال رکھتے ہیں

کچھ اس لیے بھی تو بے حال ہو گے ہم لوگ
تمہاری یاد کا بے حد خیال رکھتے ہیں

تانیہ
02-17-2011, 09:53 PM
واہ عبادت جی واہ ...بہت خوب

سقراط
02-17-2011, 10:12 PM
واہ واہ بہت عمدہ شاعری اور غزل کو چن چن کر ایک گلدستہ بنایا ہے آپ کا زوق مجھ سے بہت ملتا جلتا ہے یعنی کے یوں کہہ لیں کہ بہت شاندار ہے

نازک حسین
02-20-2011, 01:13 PM
بہت خوب تانیہ! اچھی شاعری ہے

" بھول جاوں "

جتنا بھی اس کو سوچوں، اتنا ہی دور پاوں
جتنا بھی اس کو چاہوں، خود ہی بکھرتی جاوں

میں عام سی مسافر بے آس، نے سہارا
وہ دور بسنے والا ایک آسمان کا تارا

میں ریت سے الجھتی، صحراوں کی ہوا ہوں
وہ ساحلوں پہ چلتا باد صبا کا جھونکا

ہاں فرق تو بہت ہے، پر بات یہ فقط ہے
میں لاکھ ٹوٹ جاوں، خود ہی سے روٹھ جاوں

پر یہ نا ہو گا مجھ سے
کہ میں اس کو بھول جاوں.....

" پروین شاکر "

نازک حسین
02-20-2011, 01:25 PM
" سودا گری "

بے بسی ، بے خیالی، بے خودی دے گیا
کچھ نئے تجربے اجنبی دے گیا

سوچنے کے لیے پل کی مہلت نہ دی
جاگنے کے لے ایک صدی دے گیا

لے گیا جان و دل جسم سے کھینچ کر
ہاں مگر روح کی تازگی دے گیا

اس کے آنے سے ہر ایک کمی مٹ گئی
جاتے جاتے وہ اپنی کمی دے گیا

اس کی سودا گری میں بھی انصاف تھا
زندگی لے گیا اور زندگی دے گیا----

نازک حسین
02-20-2011, 01:36 PM
" تیری یادوں کی روانی اور یہ فروری "

میری باتیں تیری کہانی اور یہ فروری
میرا ہاتھ،تیرا ساتھ،لمبی سڑک اور یہ فروری

گم سم شامیں، سنہری راتیں اور یہ فروری
بھیگے دن، مدھم سورج،ہلکے بادل اور یہ فروری

بہتی ندیا، گاتے پنچھی، اڑتی دھند اور یہ فروری
کافی، بستر، تیری محبت اور یہ فروری

تنہا میں، تنہا چاند، میرا کمرہ اور یہ فروری
میری آنکھیں، میری نیند، تیرے خواب اور یہ فروری

نازک حسین
02-20-2011, 01:59 PM
اس نے پھر میرا حال پوچھا ہے
کتنا مشکل سوال پوچھا ہے

ہچکیوں کا عجیب لہجہ تھا
بات کو ٹال ٹال پوچھا ہے

تم مجھے چھوڑ تو نہ جاؤ گے
واسطے ڈال ڈال پوچھا ہے

آنسوؤں کی زبان میں اس نے
جتنا پوچھا کمال پوچھا ہے

کیا کبھی مل سکیں گے ہم دونوں
مجھ سے میرا خیال پوچھا ہے

دن گزرتا ہے کس طرح میرا
کیسے گزرے گا سال پوچھا ہے

سقراط
02-20-2011, 09:48 PM
نازک بھائی آپ کے نام کی طرح آپ کے جذبات بھی بہت نازک لگتے ہیں بہت عمدہ ذوق اور کلیکشن ہے ایک سے بڑھ کر ایک شاعری شکریہ جناب ہم جیسوں کے لیے آپ نے اتنی محنت کی
http://oi38.tinypic.com/2ptyrfd.jpg

سقراط
02-20-2011, 09:51 PM
اس کے آنے سے ہر ایک کمی مٹ گئی
جاتے جاتے وہ اپنی کمی دے گیا
واہ واہ یار کمال کردیا بہت اچھے بہت اچھے:D

بےباک
03-19-2011, 03:18 AM
ارادہ ہے ہمارا تیرے دل میں اتر جانے کا
تجھے خوب ہنسانے کا تیرا دل بہلانے کا
ساری اُداسیاں تیری زندگی سے ختم کر کے
تیرے جیون میں خوشیوں کی بہاریں لانے کا
اب چھوڑ بھی دے تُو اُداسیوں کا ساتھ
کچھ فائدہ نہیں، اپنا ہی دل جلانے کا
منتظر ہیں خوشیاں تیرے آنگن میں آنے کو
اب وقت نہیں ہے خود کو یوں ستانے کا

این اے ناصر
03-19-2011, 01:07 PM
بے باک بہت ہی پیاری غزل اپ نے لکھی ہے دل کو چھورہی ہے۔ شکریہ

تانیہ
05-05-2011, 02:47 AM
نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں

آ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں

تانیہ
05-05-2011, 02:47 AM
وقت پھر وار کر نہ جائے کہیں
خواب آنکھوں میں مر نہ جائے کہیں

میری آنکھوں پہ تیرے ہاتھ کا لمس
یہ بھی سپنا بکھر نہ جائے کہیں


تجھ کو یہ خوف کیوں ہے اے جاناں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں


تیرے جانے سے میرے دل کا نگر
خشک پتوں سے بھر نہ جائے کہیں


ضبط کرنا مجھے بھی مشکل ہے
آنکھ تیری بھی بھر نہ جائے کہیں


شبنم رحمٰن

تانیہ
05-05-2011, 02:57 AM
نصیب عشق دلِ بےقرار بھی تو نہیں

بہت دنوں سے ترا انتطار بھی تو نہیں

تلافئ ستمِ روزگار کون کرے

تو ہم سخن بھی نہیں، رازدار بھی تو نہیں

زمانہ پرسشِ غم بھی کرے تو کیا حاصل

کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار بھی تو نہیں

تو ہی بتا کہ تری خاموشی کو کیا سمجھوں

تری نگاہ سے کچھ آشکار بھی تو نہیں

وفا نہیں نہ سہی، رسم و راہ کیا کم ہے

تری نظر کا مگر اعتبار بھی تو نہیں

اگرچہ دل تری منزل نہ بن سکا اے دوست

مگر چراغِ سرِ رہگزار بھی تو نہیں

بہت فسردہ ہے دل، کون اس کو بہلائے

اُداس بھی تونہیں، بے قرار بھی تو نہیں

تو ہی بتا ترے بےخانماں کدھر جائیں

کہ راہ میں شجرِ سایہ دار بھی تو نہیں

فلک نے پھینک دیا برگِ گل کی چھاؤں سے دور

وہاں پڑے ہیں جہاں خارزار بھی تو نہیں

جو زندگی ہے تو بس تیرے درد مندوں کی

یہ جبر بھی تو نہیں، اختیار بھی تو نہیں

وفا ذریعۂ اظہارِ غم سہی ناصر

یہ کاروبارکوئی کاروبار بھی تو نہ نہیں

تانیہ
05-05-2011, 02:59 AM
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سرزیرِبارِساغر و بادہ نہیں کیا

کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغوسبو نہ ہوں
اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

http://img1.imagehousing.com/1/4ef296724ee1cb1ad0c7338bce209ce6.gif
http://img1.imagehousing.com/1/2cc663b73c81a0eb99f5caba9c382fdd.gif

تانیہ
05-05-2011, 01:50 PM
وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کر زندہ رہوں خدا نہ کرے

رہے گا ساتھ تیرا، پیار زندگی بن کر
یہ اور بات ہے زندگی میری وفا نہ کرے

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

اگر وفا پر بھروسہ رہے نہ دنیا کو
تو کوئی شخص محبت کا حوصلہ نہ کرے

سنا ہے محبت اس کو دعائیں دیتی ہیں
جو دل پہ چوٹ کھائے مگر گلہ نہ کرے

بجھا دیا نصیبوں نے میرے پیار کا چاند
کوئی دیا میری پلکوں پہ اب جلا نہ کرے

زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
قتیل جان سے جائے یہ التجا نہ کرے

اذان
05-06-2011, 10:57 AM
واہ واہ زبردست

بہت خوب

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

تانیہ
05-19-2011, 10:53 PM
دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا
تم بھی تو بے اماں ہوئے ہم کو ستا لیا تو کیا

آپ کے گھر میں ہر طرف منظر ماہ و آفتاب
ایک چراغ شام اگر میں نے جلا لیا تو کیا

باغ کا باغ آپ کی دسترسِ ہوس میں ھے
ایک غریب نے اگر پھول اٹھا لیا تو کیا

لطف یہ ھے کہ*آدمی عام کرے بہار کو
موج ہوائے رنگ میں*آپ نہا لیا تو کیا

اب کہیں بولتا نہیں*غیب جو کھولتا نہیں
ایسا اگر کوئی خدا تم نے بنا لیا تو کیا

جو ھے خدا کا آدمی اس کی ھے سلطنت الگ
ظلم نے ظلم سے اگر ہاتھ ملا لیا تو کیا

آج کی ھے جو کربلا کل پہ ھے اس کا فیصلہ
آج ہی* آپ نے اگر جشن منا لیا تو کیا

لوگ دکھے ہوئے تمام رنگ بجھے ہوئے تمام
ایسے میں اہل شام نے شہر سجا لیا تو کیا

پڑھتا نہیں ھے اب کوئی سنتا نہیں ھے اب کوئی
حرف جگا لیا تو کیا شعر سنا لیا تو کیا

عبيد اللہ عليم

عبادت
05-20-2011, 03:28 AM
ہونٹوں پر ساحلوں کی طرح تشنگی رہی
میں چپ ہوا تو میری انا چیختی رہی

اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی

سڑکوں پر سرد رات رہی میری ہمسفر
آنکھوں میں میرے ساتھ تھکن جاگتی رہی

یادوں سے کھلتی رہی تنہائی رات بھر
خؤشبو کے انتظار میں شب بھگتی رہی

وہ لفظ لفظ مجھ پر اترتا رہا شکیل
سوچوں پراس کے نام کی تختی لگی رہی

تانیہ
05-20-2011, 06:50 PM
ہونٹوں پر ساحلوں کی طرح تشنگی رہی
میں چپ ہوا تو میری انا چیختی رہی

اک نام کیا لکھا تیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی

سڑکوں پر سرد رات رہی میری ہمسفر
آنکھوں میں میرے ساتھ تھکن جاگتی رہی

یادوں سے کھلتی رہی تنہائی رات بھر
خؤشبو کے انتظار میں شب بھگتی رہی

وہ لفظ لفظ مجھ پر اترتا رہا شکیل
سوچوں پراس کے نام کی تختی لگی رہی


واہ ...بہت خوب

اوشو
05-21-2011, 10:04 AM
اپنی خاطر جگے ہو سوئے ہو
اپنی خاطر ہنسے ہو روئے ہو
کس لیے آج کھوئے کھوئے ہو
تم نے آنسو بہت پیئے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے، صرف میرے ہو کر رہو
حسن ہی حسن ہو ، ذہانت ہو
عشق ہوں میں ، تو تم محبت ہو
تم مری بس مری امانت ہو
جی لیے، جس قدر جیے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے صرف مرے ہو کر رہو

رہتے ہو رنج و غم کے گھیروں میں
دکھ کے ، آسیب کے بسیروں میں
کیسے چھوڑوں تمہیں اندھیروں میں
تم کو دے دوں گا سب دیے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے ، صرف مرے ہو کر رہو

اب مجھے اپنے درد سہنے دو
دل کی ہر بات دل سے کہنے دو
مری بانہوں میں خود کو بہنے دو
مدتوں زخم خود سیے اپنے
تم بہت سال رہ لیے اپنے
اب مرے ، صرف مرے ہو کر رہو


بہت عمدہ
شکریہ