PDA

View Full Version : عجیب و غریب اور پُر اسرار



علی عمران
11-16-2010, 12:57 AM
ایسے واقعات جن کی آج تک سائنس کوئی توضیح پیش نہیں کر سکی۔
تاریخ کی عجیب ترین کہانی
دنیا کی نظر میں وہ گنوار اور جاہل تھا اور لوگ اٰس کا مزاق اُڑاتے تھے اس کا نام رابرٹ نکسن تھا ۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ بادشاہ کو اس کی اشد ضرورت ہے ۔ تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کی یہ بات غلط نہ تھی ۔ تاریخ میں اس سے عجیب کہانی ملنی مشکل ہے ۔
نکسن کے والدین بہت غریب تھے وہ گذر اوقات کے لیے صبح صادق سے لے کر رات کا اندیرا چھانے تک کھیتوں میں کام کرتے رہتے ۔ نکسن اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ وہ مضبوط جسم کا بظاہر احمق سا لڑکا تھا۔ شائر کے بُرج ہاوس فارم کے اردگرد کے علاقے میں اسے غبی کے نام سے پُکارا جاتا تھا ۔اس کے والدین نے اُسے اپنے گاؤں کے سکول میں داخل کروایا۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد انہوں نے اس کا سکول سے نام کٹوا کر کھیتوں میں ہل جوتنے پر لگا دیا۔
1445ء میں بوس ورتھ کے میدان میں برتانیہ کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا تھا ۔ بادشاہ رچرڈ کی فوجوں اور ہنری کی فوجوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری تھی ۔ میدانِ جنگ سے کئی میل کے فاصلے پر جاہل اور نا سمجھ رابرٹ نکسن ایک پرانے ہل سے زمین کاشت کر رہا تھا ۔ اس کے گھوڑے بوڑھے ہونے کے سبب نہایت سُست روی سے چل رہے تھے۔ وہ پہاڑ کے نصف میں جا کر ٹھہر گیا ۔ پھر اس نے چند لمحوں کے لیے اپنا سر جُھکایا ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ کچھ سُن رہا ہو ۔ با لآخر اس نے اپنا سر اُوپر اٹھایا اور خوشی سے رقص کرنے لگا اور ہاتھ بلند کر کے قہقہے لگانے لگا۔ اس سے کئی مرتبہ پہلے بھی ایسی حرکات سرزد ہو چُکی تھیں۔ لیکن آج اس کی حرکات کچھ زیادہ ہی عجیب تھیں ۔ اوورسیز دوڑ کر اس کے پاس آیا تاکہ اسے فضول حرکات سے روک کر کام پر لگائے ۔لیکن وہ خود رابرٹ کی حرکات دیکھ کر رُک گیا۔۔۔ رابرٹ اپنے آپ میں نہیں تھا وہ گُھور رہا تھا اور اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور ہ بازو ہلا ہلا کر نعرے لگا رہا تھا پھر اس نے اپنی چابک ہوا میں گُھمائی اور چِلایا ۔وہاں۔۔۔وہ رچرڈ۔۔۔ایسا۔۔۔کچھ دیر بعد وہ پھر گویا ہوا ہنری خندق کے اس پار ۔۔۔اپنی تمام طاقت کے ساتھ ۔۔۔خندق کے اوپر۔۔۔ہنری نے جنگ جیت لی ۔
اس کے بعد تھوڑی دیر تک وہ سبہوت کھڑا رہا اور پھر وہ مسکرانے لگا ۔اس نے پہلی مرتبہ اوورسیز کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔
جنگ ختم ہو گئی اور ہنری جیت گیا ۔اور پھر اس کے بعد وہ یوں ہل چلانے لگا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اوورسیز اپنے باس لارڈ آف کول منڈی کو اطلاع دینے چلا گیا کیونکہ یہ بات مشہور ہو چُکی تھی کہ ناقص العقل رابرٹ نکسن کو اِن چیزوں کے جاننے کا ملکہ حاصل تھا جو اس سے کافی فاصلے پر ہو رہی ہوں یا پھر ظہور پذیر ہونے والی ہوں۔اس نے قریبی گاؤں *میں آگ لگنے کی بھی پیشن گوئی کی تھی ، جو سو فیصد درست تھی اس کے علاوہ اس نے کول منڈی کے خاندان کے ایک فرد کے مرنے کی بھی پیشن گوئی کی تھی۔ مزید برآں اس نے دو ہفتوں بعد آنے والے طوفان کے بارے میں بھی بتا دیا تھا ۔اس نے یہ پیشن گوئی بھی کی تھی کہ ہنری اور رچرڈ کے درمیان بوتھ ورس کے میدان میں لڑائی ہو گی ۔ اور اس نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس معرکہ میں رچرڈ کو شکست فاش ہو گی ۔ ہنری کی فتح کے دو دن بعد بادشاہ کی طرف سے ایک خاص ایلچی آیا جس نے بتایا کہ بادشاہ ہنری ہفتم نے جنگ جیت کر اپنا تحت سنبھال لیا ہے ۔جب یہ ایلچی اس گاؤں میں پہنچا جہاں نکسن رہتا تھا تو وہ یہ دیکھ کو حیران رہ گیا کہ لوگوں کو بادشاہ کی کامیابی کی بہت پہلے اطلاع ہو چکی ہے ۔ اور یہ سب نکسن کی بدولت ہوا تھا ۔ پھر جلد ہی نکسن کی شہرت بادشاہ کے ایوان میں گونجنے لگی ۔ جب بادشاہ کے آدمی اسے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئے تو وہ چیخنے چلانے لگانے لگا کہ وہ بادشاہ کے محل میں نہیں جائے گا کیونکہ وہ وہاں فاقوں کی بدولت مر جائے گا۔لوگ اس کی یہ بات سن کر اس کا مذاق اُڑانے لگے اور وہ کہنے لگے ۔
بادشاہ بذاتِ خود ایک آدمی کو محل میں آنے کی دعوت دے رہا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ میں وہاں بھوک سے مر جاؤں گا ۔ چنانچہ بادشاہ کے آدمی مایوس ہو کر چلے گئے ۔ ایک مرتبہ پھر اسے بادشاہ کی طرف سے بلاوا آیا اس مرتبہ اس کا ارادہ تھا کہ نکسن کے والدین کو معقول رقم دیکر رضا مند کیا جائے ۔
بادشاہ کے آدمیوں کے آنے سے پہلے وہ سو کر اُٹھا تھا ۔ اس نے کہا کہ بادشاہ کے آدمی بہت جلد یہاں پہنچنے والے ہیں میں ان کے ساتھ ضرور جاؤں گا لیکن پھر کبھی واپس پلٹ کر نہیں آؤں گا ۔ رابرٹ ہنری کے پاس پہنچا تو اس نے نکسن کے آنے سے پہلے اپنی انگوٹھیاں چُھپا دیں اور نکسن سے کہا کہ بتائے کہ اس کی انگوٹھیاں کہاں گُم ہو گئی ہیں ۔ نکسن نے بادشاہ کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھا اور کہا ۔ بادشاہ سلامت انگوٹھیاں گُم نہیں ہوئیں* ۔ جس نے انگوٹھیاں چُھپا رکھی ہیں وہ انہیں برآمد بھی کر سکتا ہے ۔ بادشاہ اس بات سے بہت خوش ہوا چنانچہ اس نے ایک مُنشی کو اس کام پر مامور کیا کہ وہ دن رات نکسن کی تمام پیشن گوئیاں قلمبند کرے ۔ پیشن گوئیوں کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ بیشتر پیشن گوئیاں ہنری ہفتم کے بعد کے زمانے کی تھیں جن میں لندن کی 1616 کی آگ اور فور جارجز کی تحت نشینی بھی شامل ہے ۔ اس نے ایسی پیشن گوئیاں بھی کی جو حال ہی میں پوری ہوئیں مثلًا یہ پیشن گوئی کہ بیرونی حملہ آور جن کے پٹیوں پر برف جمی ہو گی لندن پر حملہ کریں گے۔
ہنری نے نکسن کی یہ درخواست ٹھکرا دی کہ اسے محل میں* اکیلا نہ چھوڑا جائے ۔ ایک دفعہ بادشاہ ایک طویل شکاری سفر پر روانہ ہوا ۔ بادشاہ نے چند درباریوں کو اپنی عدم موجودگی میں نکسن کی حفاظت پر مامور کیا لیکن اس کے بجائے وہ نکسن کو ایک کمرے میں* بند کر کے خود بادشاہ کے ساتھ شکار پر چلے گئے ۔ بدقسمتی سے وہ درباریوں کو یہ بتانا بھول گئے کہ نکسن کس کمرے میں ہے ۔ جب بادشاہ شکار سے واپس آیا تو نکسن کی تلا ش شروع ہوئی ۔ لیکن وہ بند کمرے میں فاقوں کی وجہ سے مر چُکا تھا ۔ اپنے متعلق بھی اس کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی ۔

علی عمران
11-16-2010, 01:02 AM
خواب جس نے دنیا ہلا دی

اخبار بوسٹن گلوب کے خبروں کی وصولی کے کمرے میں نصب شدہ کلاک میں رات کے 3 بج رہے تھے ایسے میں اخبار کا رپورٹر بائرن اچانک نیند سے ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔ اس نے اپنے آپ کو ایک جھٹکا دیا تاکہ وہ اس خواب کے اثر کو زائل کر سکے جو اس نے ابھی ابھی دیکھا تھا۔
جب اسے یقین ہو گیا کہ اس نے جو کچھ دیکھا تھا وہ محض ایک خواب تھا تو اس نے سکون کا سانس لیا اسے لوگوں کی چیخ و پکار اب بھی صاف سنائی دے رہی تھی جو سمندر کے کھولتے ہوئے پانی میں دھکیلے جا رہے تھے جس میں وہ بری طرح تڑپ رہے تھے۔اسے وہ تمام منظر اس طرح دکھائی د رہا تھا جیسے وہ ہوا میں معلق ہو گیا ہو۔ پگھلا ہوا لاوا اور چٹانیں پہاڑ کے پہلو میں واقع کھیتوں اور گاؤں کے لوگوں کے سروں پر سے اڑ رہا تھا۔آتش فشاں پہاڑ کے ایک زبردست دھماکے نے جزیرہ پیر لیب کو ہوا میں اچھال دیا تھا۔جہاں آگ،خون اور کیچڑ کے مرغولے خوفناک سماں پیش کر رہے تھے۔ ارد گرد کا پانی جزیرے کی جگہ لینے کے لئے خوفناک آواز سے جزیرے میں داخل ہو رہا تھا اور سمندر میں جوار بھاٹا آیا ہوا تھ۔ آگ و خون، لوگوں کی چیخ و پکار اور سمندر کے جوار بھاٹا کی خوفناک آوازوں نے بائرن کو کسی حد تک مخبوط الحواس بنا دیا تھا اور وہ سام بوسٹن گلوب کے دفتر میں بیٹھا خیالات میں کھویا ہوا تھا۔
پھر کچھ ہی دیر بعد وہ خیالات سے حقائق کی دنیا میں آ گیا اس نے سوچا کیوں نہ یہ خواب بطور ریکارڈ محفوظ کر لیا جائے چنانچہ اس نے پنسل اٹھا کر خواب کی تفصیل لکھنا شروع کر دی کہ کس طرح جزیرہ پیر لیب کی تباہی نے لوگوں کو خوف و ہراس سے مخبوط الحواس بنا دیا تھا۔ اور وہ کس طرح پگھلے ہوئے لاوے کے سمندر میں پھنس گئے تھے۔
آتش فشاں پھٹنے سے جزیرہ لرز رہا تھا کشتیاں پانی کی سطر پر ہچکولے کھا رہی تھیں اور پورا جزیرہ آتش فشاں ہاڑ کے دہانے سے نکلی ہوئی آگ کے سمندر میں معلق ہو گیا تھا۔
بائرن سام نے کاغذ کے اوپر بہت ضروری کے الفاظ بھی لکھ دئیے اور اسے اپنی ٹیبل پر چھوڑ دیا۔
اگلی صبح یہ کاغذ اخبار کے ایڈیٹر کو ملا۔ اس نے سوچا یہ ضرور کوئی ایسی خبر ہے جو ٹیلیگرام کے زریعے موصول ہوئی ہے۔اور بائرن سام نے اس کی توجہ کے لئے اس پر بہت ضروری کے الفاظ لکھ دئیے تھے چنانچہ ایڈیٹر نے جلد از جلد یہ خبر اخبار کے سامنے والے صفحے پر دو کالمی سرخی میں شائع کر دی۔
اس خبر نے ساری دنیا میں تہلکہ مچا دیا اور بوسٹن دھڑا دھڑ فروخت ہونے لگا کیونکہ یہ خبر صرف اسی اخبار نے شائع کی تھی۔ ایڈیٹر نے یہ خبر ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے کی جس نے اسے ساری دنیا میں پھیلا دیا۔ 29 اگست 1883 کو دنیا کے تمام اخبارات کی خبر یہی تھی۔ لیکن بوسٹن گلوب کے لئے یہ خبر دردِ سر بن گئی کیونکہ کئی ایک اخبارات نے اس خبر کی مزید تفصیلات طلب کیں جو کہ ایڈیٹر کے پاس موجود نہ تھیں۔جاوا کے جزیرے سے کوئی براہِ راست تعلق بھی قائم نہ تھا۔
اسی شام بوسٹن کا ایڈیٹر سام سے ملا۔ سام نے نہایت شرمساری سے بتایا کہ وہ سنسنی خیز خبر دراصل ایک خواب تھی۔
واس لائبریری نے بتایا کہ جاوا کے قریب پیر لیب نامی کوئی جزیرہ موجود نہیں ہے چنانچہ ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی اپنی جان بچانی مشکل ہو گئی اس نے ایک اعلی سطح کی کانفرنس منعقد کی۔ جس میں اس تکلیف دہ صورتِ حال سے نمٹنے اور کوئی معقول قدم اٹھانے کے متعلق غور و خوض کیا گیا۔اخبار بوسٹن نے اس خبر کی تردید کرنے اور معافی مانگنے کا فیصلہ کر لیا۔پھر ایک عجیب ہی واقعہ ظہور پذیر ہوا امریکہ کے مغربی ساحل سے یہ خبر موصول ہوئی کہ سمندری جوار بھاٹے نے ساحل پر تباہی مچا دی ہے۔مزید برآں ٹیلی گرام کے ذریعے ایک خبر اور موصول ہوئی کہ سمندری جوار بھاٹے سے کئی کشتیاں غرق ہو گئیں۔جس سے ہزاروں افراد لقمہ اجل ہو گئے۔ابھی بوسٹن گلوب نے تردید شائع نہیں کی تھی کہ ملک کے دوسرے اخبارات نے تشویشناک خبروں کو شائع کر دیا۔بعض لوگ تو آئے دن طوفان کی خبریں سننے کے لئے بے چین تھے۔ آسٹریلیا سے ایک خبر موصول ہوئی کہ یہاں کی فضاء توپ کے گولوں جیسی آواز سے لرز اٹھی ہے اور ساتھ ہی سمندر میں جوار بھاٹا اٹھ چکا ہے جو ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
چند دنوں بعد امریکہ کے ساحل پر ایک جہاز لنگر انداز ہوا جس نے حیرت انگیز واقعات بیان کئے کہ جاوا کے قریب آبنائے سنڈا میں کراکاٹووا جزیرہ آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے سمندر میں غرق ہو گیا ہے اور اس جزیرے کے تمام باشندے ہلاک ہو گئے ہیں۔
جونہی یہ خبر موصول ہوئی اخبار بوسٹن گلوب نے اپنی پچھلی خبر کی تردید اور معافی نامہ چھاپنے کا ارادہ ترک کر دیا۔دوسرے اخبارات نے بھی اس خبر کو جلی حروف میں شائع کیا کہ کراکاٹووا کے حالات 27 اگست سے خراب ہونے شروع ہو گئے تھے اور یہ جزیرہ 28 اگست کو ٹھیک اسی وقت ڈوب گیا جب بائرن سام اپنے دفتر میں لیٹا خواب دیکھ رہا تھا۔ اس جزیرے کے غائب ہونے کو عظیم حادثہ قرار دیا گیا۔آتش فشاں پہاڑ پھٹنے سے جو دھماکہ ہوا وہ ساری دنیا کے زلزلہ پیما آلات پر ریکارڈ کیا گیا۔
لیکن سام کو تو خواب میں پیر لیب جزیرہ نظر آیا تھا جبکہ ڈوبنے والے جزیرے کا نام کراکاٹووا تھا۔ کراکاٹووا اور پیرلیب کے ناموں میں کئی سال اختلاف رہا۔حتی کہ ڈچ آسٹری سوسائٹی نے ایک نقشہ دکھایا جس میں کراکاٹووا کا پرانا نام پیر لیب ہی درج تھا۔ان کے خیال میں اس جزیرے کا نام گذشتہ 1050 سال سے متروک تھا۔

علی عمران
11-16-2010, 01:05 AM
دوسرا جنم
شانتی دیوی کا دعوی ہے کہ وہ اس دنیا میں دوسری مرتبہ آئی ہے۔ سائنسدان جنہوں نے اس کا طبی اور نفسیاتی معائنہ کیا ہے اپنی شکست تسلیم کر چکے ہیں۔ وہ شانتی کی کہانی کو صحیح گردانتے ہیں لیکن اس کی تشریح کرنے سے قاصر ہیں۔
شانتی دیوی کے والدین دہلی میں رہائش پذیر ہیں وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ شانتی دیوی 1926 میں دہلی میں پیدا ہوئی اس کی پیدائش کوئی غیر معمولی نہیں تھی۔ بچپن میں وہ عام بچوں کی طرح زندگی بسر کرتی تھی۔ مگر جوں جوں وہ بڑی ہوتی گئی کھوئی کھوئی سی رہنے لگی۔ اس کی ماں کو معلوم ہوا کہ وہ فضاء میں غیر مرئی انسانوں سے باتیں کرتی رہتی ہے۔جب وہ سات برس کی ہوئی تو اس نے پہلی بار اپنی ماں کو بتایا کہ وہ اس سے پہلے متھرا نامی قصبے میں زندگی بسر کر چکی ہے اور اس نے متھرا میں اپنے مکان کا محلِ وقوع بھی بتایا جہاں وہ اپنا پہلا جنم گزار چکی تھی۔
شانتی کی ماں نے جب اپنے خاوند کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا تو وہ اسے ہسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس سے کئی قسم کے سوالات پوچھے۔ جب لڑکی نے اپنی پوری کہانی بیان کی تو ڈاکٹروں نے اس انوکھے معمے کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ وہ کافی سوچ و بچار کے بعد بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
اگر یہ فرض کر لیا جاتا کہ اس کی دماغی حالت خراب ہے تو یہ ایک غیر معمولی اور انوکھا کیس تھا اور اگر وہ بقائمی ہوش و حواس تھی تو یہ ایک قصہ تھا جس کی سائنسی توضیع ناممکن تھی اور ڈاکٹروں نے اس کے باپ کو نصیحت کی کہ وہ لڑکی سے برابر پوچھ گچھ کرتا رہے اور اگر وہ اپنے دعوے پر بد ستور قائم رہے تو اسے دوبارہ پیش کیا جائے۔
شانتی دیوی اپنے دعوے پر بدستور قائم رہی اور اس کی کہانی میں بال برابر بھی فرق نہیں*آیا۔اس کے والدین اپنی بیٹی کی ان باتوں سے حیران تھے۔ انہیں یقین ہو چکا تھا کہ ان کی بیٹی کا دماغ چل گیا ہے۔جب وہ نو برس کی کوئی تو اس نے بتایا کہ وہ اپنا پہلا جنم متھرا میں گزار چکی ہے جہاں اس کی شادی بھی ہوئی تھی اور اس کے دو بچے بھی پیدا ہوئے تھے اس نے اپنے دونوں بچوں کے نام بھی بتائے اور یہ دعوی بھی کیا کہ ان دنوں اس کا نام لُدگی تھا اس کے والدین اس انکشاف پر محض مسکرا دئیے۔
ایک شام جب اس کی ماں اور شانتی رات کا کھانا تیار کر رہی تھیں دروازے پر دستک ہوئی۔شانتی دوڑی دوڑی دروازے کی طرف گئی اور جب وہ کافی دیر تک واپس نہ آئی تو اس کی ماں کو تشویش لاحق ہوئی اور وہ شانتی کو دیکھنے کے لئے دروازے کی طرف آئی جہاں شانتی سیڑھیوں پر کھڑے ایک شخص کو گھور رہی تھی۔
ماں یہ میرے خاوند کا چچا زاد بھائی ہے جو متھرا میں ہمارے مکان کے نزدیک ہی رہتا تھا۔ اجنبی واقعی متھرا میں رہائش پذیر تھا اور وہ شانتی کے باپ کے ساتھ کاروباری سلسلہ میں ملاقات کرنے آیا تھا۔ اس نے شانتی کو تو نہ پہچانا التہ اتنا کہا ک اس کے چچا زاد بھائی کی بیوی کا نام لُدگی ہی تھا اور وہ 10 سال پہلے بچے کی پیدائش کے وقت مر گئی تھی۔
اس کے پریشان حال والدین نے اجنبی کو جب شانتی کی پوری کہانی سنائی تو وہ اس بات پر رضامند ہو گیا کہ وہ اپنے چچازاد بھائی کو متھرا سے دہلی لائے گا اور یہ معوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ شانتی اسے پہچانتی بھی ہے یا نہیں۔
شانتی کو اس منصوبے سے بے خبر رکھا گیا تھا۔ لیکن جب اجنبی کا چچا زاد بھائی یعنی شانتی کا مفروضہ شوہر آیا تو وہ اس سے لپٹ گئی اور اس نے بتایا وہ اس کا خاوند ہے۔ اس کا یہ خاوند اس کے باپ کے ساتھ اعلی حکام کے پاس گیا۔جہاں اس نے لڑکی کی عجیب و غریب کہانی بیان کی۔
چنانچہ حکومتِ ہند نے سائنسدانوں کی ایک خاص کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس انوکھے معمہ کو حل کیا جا سکے جو ان دنوں قومی دلچسپی کا باعث بنا ہوا تھا۔
کیا وہ لُدگی کا دوسرا جنم تھا؟۔ سائنسدان یہ معلوم کرنے کے لئے اسے متھرا لے گئے جب وہ گاڑی سے اتری تو اس نے اپنے مفروضہ خاوند کی ماں اور بہن کی صحیح صحیح نشاندہی کر دی اور اس نے نشاندہی کے علاوہ ان کے نام بھی بتا دئیے۔حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے ان کے ساتھ متھرا کی مقامی زبان میں گفتگو کی۔ حالانکہ اسے صرف اردو زبان سکھائی گئی تھی۔حیران و پریشان سائنسدانوں نے اس کا معائنہ جاری رکھا۔
انہوں نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے چھکڑے پر بٹھایا وہ تمام راستے میں ڈرائیور کو صحیح صحیح ہدائتیں دیتی رہی۔ وہ جس جگہ سے بھی گزری اس کے صحیح کوائف بتاتی رہی آخر کار اس نے*ڈرائیور کو ایک تنگ گلی کے سرے پر رکنے کے لئے کہا۔یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ رہتی تھی۔ جب اس کی آنکھوں کی پٹی کھولی گئی تو اس نے ایک آدمی کو مکان کے باہر حقہ پیتے دیکھا جس کی بابت اس نے انکشاف کیا کہ وہ اس کا خسر ہے اور وہ حقیقتا اس کے مفروضہ خاوند کا باپ تھا۔ شانتی نے اپنے دونوں بچوں کو بھی پہچان لیا لیکن وہ اپنے اس بچے کو نہیں پہچان سکی جس کے طفیل اس کی موت واقع ہوئی تھی۔
سائنسدان اس بات پر متفق ہو گئے کہ شانتی دیوی دہلی میں پیدا ہوئی لیکن حیران کن حد تک متھرا میں اپنی زندگی کے متعلق جانتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو رپورٹ پیش کی کہ انہیں اس کہانی کی*صداقت پر ذرہ بھر بھی شک نہیں لیکن وہ آج تک اس کہانی کی تشریح نہیں کر سکے۔شانتی دیوی اب دہلی میں رہتی ہے اور سرکاری ملازمت کرتی ہے اس کی یہ عجیب و غریب کہانی حکومت کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ 1958 میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنے ماضی سے پریشان ہونے کی بجائے اپنے حال سے مطمئن ہے۔ شانتی دیوی کی کہانی ایک ایسے معمے کا زندہ ثبوت ہے جسے سائنس حل نہیں کر سکی۔

علی عمران
11-16-2010, 01:06 AM
انسانی ریڈار

جب سکاٹ لینڈ یارڈ گمشدہ ہیرے کی بازیابی میں ناکام ہو گئی تو اسے بادل نخواستہ پیٹر ہرکس جس کا دماغ ایکسرے شعاعوں کو بھی مات کرتا تھا سے مدد حاصل کرنا پڑی۔
یہ ہیرا دسمبر 1950 میں ویسٹ سنٹر اپنے کے قریب ایک جگہ سے چرایا گیا تھا یہ ایک جرم تھا جسے عالمگیر شہرت حاصل ہو گئی۔ساٹ لینڈ*پولیس کے لئے تو یہ ایک چیلنج کی حیثیت اختیارکر چکا تھا۔ ہرکس سادہ اور خاموش طبیعت کا ڈچ نوجوان تھا سکاٹ لینڈ کے نمائندے اسے ڈارڈرچ میں ملے تاکہ اس سلسلہ میں تمام شرائط طے کی جا سکیں۔ شرائط طے ہونے کے بعد اس نے لندن کے لئے پرواز کی جہاں ائیر پورٹ پر پولیس سارجنٹ اور دیگر حکام اس کے استقبال کے لئے موجود تھے۔حکام نے اسے ایک ہتھیار اور ایک کلائی کی گھڑی دی جو چور جاتے وقت چھوڑ گیا تھا۔
موقع واردات پر کاغذ کے چند ٹکڑوں کے معائنے کے بعد ہرکس نے لندن کے نقشہ پر آہستہ آہستہ ایک لکیر کھینچی یہ لکیر ہرکس کے کہنے کے مطابق وہ راستہ تھا جو چور نے لندن سے فرار ہوتے وقت اختیار کیا تھا۔اگرچہ اس نے اس سے پہلے لندن نہیں دیکھا تھا تاہم اس نے اس نقشہ پر اسی راستے کے اردگرد مخصوص عمارتوں کی نشنادہی بھی کر دی، اس نے یہ بھی بتایا کہ چور ایک نہیں تین ہیں اور ان کے ساتھ ایک عورت بھی ہے۔
بلآخر جب تین ماہ کی سر توڑ کوششوں کے بعد چور گرفتار ہوئے تو ان کے حلیے ہرکس کی تفصیلات کے عین مطابق تھے۔
جنگ کے دوران چند ڈچ محب وطنوں کو اپنے ایک نئے ممبر کے متعلق شک گزرا تو وہ اس کی تصویر لے کر ہرکس کے پاس پہنچ گئے۔ ہرکس نے چند لمحوں کے لئے اپنی انگلیاں تصویر پر پھیریں میں اس آدمی کو جرمن آفیسر کے روپ میں دیکھ رہا ہوں۔ چنانچہ بعد میں اس کی کڑی نگرانی کی گئی اور بلآخر اسے جرمنی کو جنگ کی معلومات بھیجنے پر گرفتار کر لیا گیا۔بعد میں اس نے نازی جاسوسی نظام کے ایک آفیسر کی حیثیت سے اقبالِ جرم کر لیا۔ہرکس نے یہی پیشن گوئی کی تھی۔
نجمی گن(ہالینڈ) کی پولیس ہرکس کی خصوصی طور پر شکرگزار ہے۔اگست 1951 میں اس قدیم شہر کے ارد گرد کے علاقے میں کوئی نامعلوم شخص آگ لگا کر لوگوں کو پریشان کرتا تھا۔ دو سو سے زائد سپاہی اس علاقے میں گشت پر معمور کئے گئے تھے۔لیکن اس کے باوجود جھونپڑیوں،مکانوں اور پلوں کو آگ لگانے کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ان وارداتوں کے شروع ہونے کے بعد ایک رات ہرکس نجمی گن کے کارخانہ دار دوست کے ساتھ گھوم رہا تھا کہ اچانک وہ ٹھہر گیا۔اس نے اپنے دوست کو بتایا کہ جلد ہی جانسن کے کھیتوں میں آگ لگائی جانے والی ہے۔پھر وہ اپنے دوست کے ساتھ پولیس کو آگہ کرنے کے لئے دوڑا۔لیکن وہاں پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ اس آگ کی اطلاع دو منٹ پہلے چوکی کو مل چکی ہے۔پولیس نہ صرف ہرکس کی خصوصیات کے بارے میں نا علم تھی بلکہ الٹا اس کے ساتھ گستاخی سے بھی پیش آ رہی تھی۔ہرکس نے اصرار کے ساتھ یہ پیش کش کی کہ اسے اگر ایک موقع دیا جائے تو وہ اس پر اسرار آگ کے بارے میں پولیس کی مدد کر سکتا ہے۔
اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور پولیس کپتان کی جیب میں موجود اشیاء کی تفصٰل بتا دی حتی کہ اس نے اس پنسل کے اوپر موجود تجارتی نشان بھی بتا دیا جو پولیس کیپٹن کی جیب میں تھی۔چنانچہ ہرکس کی درخواست منظور کر لی گئی اور اس کی راہنمائی میں نجمی گن کی پولیس نے آگ لگانے والے نامعلوم شخص کا سراغ لگا لیا۔
سب ے پہلے ہرکس نے درخواست کی کہ پولیس اسے وہ جگہ دکھائے جہاں اس سے پہلے آگ لگ چکی ہے۔چنانچہ راکھ ٹٹولنے کے بعد اسے ایک جلا ہوا پیچ کس ملا۔اس نے چند لمحوں کے لئے اسے خاموشی سے ٹٹولا اور کہا، ہمیں ایک نوجوان طالبِ علم کی تلاش کرنی چاہیے۔چنانچہ اسے سکولوں کی سالانہ کتاب میں موجود طلبہ کی تصویریں دکھائی گئیں۔آخر کار ہرکس نے گروپ فوٹو میں ایک لڑے کی نشاندہی کر دی۔
لڑکا جس کے متعلق میں ابھی ابھی آپ کو بتارہا تھا یہ شہر کے ایک امیر کبیر آدمی کا بیٹا ہے جس کی عمر سترہ سال ہے ہرکس ے پولیس کیپٹن کو بتایا۔یہ بڑا مضحکہ خیز انکشاف ہے پولیس کیپٹن بڑبڑایا۔لیکن ہرکس بدستور کہتا رہا۔ اس لڑکے کی ایک جیب میں تمہیں ماچس ملے گی اور دوسری میں لائیٹر میں جلنے والا مادہ۔ لیکن یہ لڑکا سگریٹ بلکل نہیں یتا۔
جب اس لڑکے کو پولس سٹیشن لایا گیا تو اس نے اقبالِ جرم کرنے سے انکار کر دیا۔حتی کہ ہرکس نے کہا اپنی ٹانگ اوپر اٹھاؤ اور پولیس کو وہ زخم دکھاؤ جو بھاگتے وقت تمہیں خار دار تاروں کی باڑ کو پھلانگتے وقت لگا تھا۔ یہ زخم ٹھیک اسی جگہ موجود تھا۔ چنانچہ لڑکے نے تمام الزامات تسلیم کر لئے۔ بلآخر اسے دماغی امراض کے سنٹر بھیج دیا گیا۔اس حیرت انگیز تفتیش نے بڑی شہرت اختیار کر لی مگر ہرکس کے لئے تو یہ ایک معمولی بات تھی۔
ہرکس کو اس جگہ لے جایا گیا جہاں ایک آدمی کو اس کی دہلیز پر قتل کر دیا گیا تھا۔ہرکس نے مقتول کا کوٹ ٹٹولا اور پولیس کو بتایا کہ قاتل ایک بوڑھا آدمی ہے جس نے چشمہ لگا رکھا ہے۔اس کی مونچھیں بھی ہیں مزید برآں وہ مصنوعی ٹانگوں کے سہارے چلتا ہے۔اس آدمی نے آلہ قتل مقتول کی چھت میں چھپا رکھا ہے۔چنانچہ پولیس نے اس کی راہنمائی میں چھت سے وہ بندوق برآمد کر لی جس سے مقتول پر گولی چلائی گئی تھی اور اس بندوق پر سے قاتل کی انگلیوں کے نشانات بھی مل گئے یہ نشانات مقتول کے خُسر کے تھے جس کی مونچھیں بھی تھیں اور وہ عینک بھی لگاتا تھا۔مزید برآں وہ بیساکھیوں کو بھی استعمال کرتا تھا۔پیٹر ہرکس کو خود معلوم نہیں کہ وہ کس طرح کسی معمے کو حل کر لیتا ہے۔
1958 میں اسے امریکہ لیجایا گیا جہاں دماغی ماہرین کی ایک ٹیم نے اس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے بھی تسلیم کیا کہ وہ ہرکس کی ان عجیب و غریب خصوصیات کو دیکھ کر حیران ہیں جس کا ذہن راڈار کی مانند ہے۔ یہ قدرت کا ایک ایسا عطیہ تھا جو سائنس سے بھی عجیب ہے گویا سائنس سے عجائبات تک ایک قدم ہے۔

علی عمران
11-16-2010, 01:10 AM
خزانہ جو آج بھی کنوئیں میں موجود ہے

برقی آلات نے ثابت کر دیا ہے کہ اوک آئی لینڈ میں ہزاروں ٹن خالص سونا موجود ہے لیکن یہ سونا آج تک نکالا نہیں جا سکا۔ اوک لینڈ کا یہ خزانہ اتنی ہوشیاری اور مضبوطی سے کنوئیں میں گاڑا گیا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ سو سال کی تگ و دو کے باوجود بھی نہیں نکالا جاسکا۔ بہت سے لوگوں نے اس کو نکالنے کی کوششیں کی ہیں۔ اس مقصد کے لئے جدید ترین سائنسی آلات بھی استعمال کیے گئے ہیں لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔
اوک آئی لینڈ نوواسکوٹا میں نیلے پانی کی خلیج ماؤں کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔ اس میں چھوٹی چھوٹی چٹانیں اور ٹیلے ہیں۔ 1795 میں اتوار کی ایک روشن صبح کو سب سے پہلے تین آدمی ٹانی ڈوگن،ڈینی لگ کی نس،اور جیک سمتھ اس جزیرے میں داخل ہوئے انہیں بخوبی علم تھا کہ یہ جزیرہ جہازوں کے مسافروں اور بحری قزاقوں کا مسکن رہا ہے۔ بعض جہاز یہاں اس لیے ٹھہرتے تھے کہ ان کی صفائی کی ضرورت پڑتی تھی۔
روایت کے مطابق اس جزیرے میں سب سے پہلے بحری قزاقوں نے خیم نصب کیے تھے یہ لوگ فاراسکوٹی کے باشندوں سے تجارت بھی کرتے تھے او پھر وہ پر اسرار طریقے سے اس جزیرے سے غائب ہو گئے۔ بعض کو پھانسی دے دی گی تھی اور بعض آپس میں لڑ جھگڑ کر مر گئے۔ اس بات کی تصدیق ساحل کی ریت میں دبےہوئے پستولوں چاقوؤں اور سونے کے سکوں سے ہوتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتے تھے اور اسی بدمستی میں ایک دوسرے کو قتل کر دیتے تھے۔
ٹانی ڈوگن نے سب سے پہلے اپنے ساتھیوں کو شاہ بلوط کے ایک غیر معمولی درخت کی طرف متوجہ کیا جس کی شاخوں سے لمبے لمبے رسے لٹک رہے تھے۔ یہ رسے زمین میں گڑھے ہوئے تھے۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ کوئی چیز ان رسوں کی مدد سے کنوئیں میں لٹکائی گئی ہے جسے بعد میں احتیاط سے بند کر دیا گیا ہے۔
جزیرے کے یہ تینوں مسافر کئی سالوں تک دن رات اس کنوئیں کو کھودنے میں مصروف رہے۔ ان کا خیال تھا کہ بحری لٹیروں نے یہاں پر اپنی دولت چھپا رکھی ہے۔ جب اتنی تگ و دو کے بعد بھی وہ خزانے کو نہ پا سکے تو انہوں نے ڈاکٹر جان لنڈز کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ چنانچہ اس نے کنوئیں کا معائنہ کیا اسے پنتیس فٹ کی گہرائی میں ناریل کے ریشوں کی ایک موٹی تہہ دکھائی دی۔ چنانچہ اسے یقین ہو گیا کہ اس کنوئیں میں کوئی نہ کوئی دفینہ ضرور موجود ہے۔
اس نے اپنے طور پر اس کنوئیں کی مزید کھدائی شروع کر دی جب ڈاکٹر جان لنڈز کے مزدوروں نےکنوئیں کومزید دس فٹ تک کھودا تو انہیں شاہ بلوط کی لکڑی سے بنی ہوئی تختوں کی ایک موٹی تہہ تہہ ملی جس کے نیچے ناریل کے ریشوں سے بنی ہوئی ایک اور تہہ ملی۔ اس سے اندازہ لگایا گیا کہ کنوئیں کی یہ بھرت دو ہزار میل دور ویسٹ انڈیز سے لائی گئی تھی۔ آٹھ فٹ کی مزید گہرائی پر ایک چپٹا پتھر ملا جس پر آڑھی ترچھی لکیریں تھیں۔ ابھی تک خزانے کی بازیابی کے کوئی آثار باقی نہیں تھے۔ ڈاکٹر لنڈز کا سرمایا بھی ختم ہونے کو تھا۔ چنانچہ آخری تدبیر کے طور پر اس نے ایک برما خریدا۔ جس کے استعمال سے کنواں ایک سو فٹ کی گہرائی تک پہنچ گیا۔ آخر کار برما پھوٹک پلستر اور سخت لکڑی سے راستہ بناتا ہوا ایک ایسی جگہ سے گزرا جہاں پر خالی کمرے کا گمان ہوتا تھا۔ مزید سوراخ کرنے پر نیچے سے پانی نکلا۔
یہ پانی کنوئیں میں آہستہ آہستہ چڑھنے لگا اس پانی کی سطح پر سونے کے چند ٹکڑے اور کاغذ کے پرزے ملے۔ یہ دیکھ کر جان لنڈز بہت خوش ہوا اور اس نے برمے کی مدد سے کنوئیں کی مزید کھدائی شروع کر دی۔ اس مرتبہ کنوئیں میں پانی اس قدر تیزی سے داخل ہوا کہ تین مزدور اس پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
ڈکٹر لنڈز کا دیوالیہ نکل گیا تھا۔ تاہم نو سال کی پیہم کوششوں سے صرف اتنا پتہ چل سکا کہ کنوئیں میں سونا موجود ہے۔
برقی آلات سے یہ بات ثابت تو ہو گئی کہ کنوئیں میں سونا موجود ہے لیکن پانی نے خزانے تک پہنچنے کی ہر کوشش میں رکاوٹ کھڑی کر دی۔ یہ پان حیرت انگیز کاری گری سے بنی ہوئی زمین دوز سرنگوں کے ذریعے آتا تھا۔
خیال کیا جاتا ہےکہ یہ سونا اسی کنوئیں میں پڑا رہے گا کیونکہ 1957 میں امریکہ کے انجینئروں نے پوری تحقیق اور تفتیش کے بعد یہ بیان دیا تھا۔“کنوئیں میں بے شک ہزاروں ٹن خالص سونا موجود ہے لیکن یہ خزانہ کبھی حاصل نہیں کیا جا سکے گا“۔

علی عمران
11-16-2010, 01:12 AM
کیرو کے کارنامے
بوڑھے آدمی کی لاش آگ کے سامنے پڑی ہوئی تھی۔ وہ بلا شک و شبہ دم توڑ چکا تھا کمرہ بھی اس کے جسم کی طرح سرد تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے سراغرسانوں کی تفتیش کے مطابق بوڑھے کوغیر متشددانہ طور پر لوہے کی سلاخوں سے ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ ہتھیار کس نے استعمال کیا تھا؟ اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔ کمرے کی شکستہ حالت سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کسی دولت مند آدمی کی ملکیت نہیں ہے۔ اس لئے ڈاکہ زنی کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔ مقتول جھگڑالو قسم کا انسان بھی نہیں تھا علاوہ ازیں اس کا کوئی جانی دشمن بھی نہیں تھا۔
سکاٹ لینڈ یارڈ کے سراغ رساں واپس جانے کے لئے اپنے کیمرے اور فیتے باندھ رہے تھےکہ دروازے پر ایک خوش پوش جوان نمودار ہوا۔ سراغ رساں اسے اس کمرے میں لے گئے جہاں بوڑھے کی لاش موجود تھی۔ اجنبی نے ادھر ادھر دیکھے کے بعد خواہش ظاہر کی کہ اسے خون آلود ہاتوں کے وہ پرنٹ دکھائے جائیں جو دیوار پر نقش ہو چکے تھے۔ چنانچہ سراغ رسانوں نے اسے وہ پرنٹ دکھائے۔ اجنبی نے ایک پرنٹ کو نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھا اور سراغ رسانوں کی طرف مڑتے ہوئے بولا۔ بوڑھے آدمی کا قاتل فرور مور ہے جس کی پینٹ کی بائیں جیب میں سونے کی چھوٹی سی گھڑی بھی ہے۔ اور وہ مقتول کا کوئی قریبی رشتے دار بھی ہے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کے سراغ رسانوں نے ان کا وقت ضائع کرنے پر اس خوش پوش بانکے نوجوان کے کان کھینچنے کا ارادہ کیا۔ لیکن چونکہ وہاں لندن کے اخبارات کے کئی نمائندے موجود تھے اس لئے وہ محض مسکرانے کے اور کچھ نہ کہہ سکے۔
یہ خوش پوش نوجوان کون تھا؟ جس نے دیوار پر خون آلود ہاتھوں کے پرنٹ دیکھ کر ہی قاتل کے متعلق انکشاف کر دیا تھا۔ یہ کیرو تھا۔ مشہور و معروف پامسٹ۔ اس نے بعد میں اپنا کاروباری کارڈ دکھاتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔
کیرو کے انکشافات دوسرے روز اخبارات میں شائع ہوئے اور پھر چوبیس گھنٹوں کے بعد پولیس قاتل کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ قاتل کا نام فرور مور ہی تھا اور وہ بوڑھے آدمی کا بیٹا تھا۔ علاوہ ازیں اس کی پتلون کی جیب سے ایک چھوٹی سی گھڑی بھی برآمد ہوئی جو سونے کی تھی۔
کیرو کا اصلی نام کاؤنٹ لوئیس ہامن تھا۔ وہ شاہراہوں پر دھوپ میں بیٹھ کر اپنے گاہکوں کے ہاتھ دیکھا کرتا تھا۔ اس طرح اس نے کافی رقم جمع کر لی تھی۔ وہ ہر ہفتے اچھی خاصی رقم بنک میں بھی جمع کرواتا تھا۔
صورتِ حال کی نزاکت کے پیشِ نظر 1893 میں کیرو نیویارک چلا گیا جہاں اس نے پارک ایونیو میں اپنا دفتر کھول لیا۔ اسے یہاں بھی بڑی کامیابی ہوئی۔ بے شمار لوگ اس کے پاس ہاتھ دکھانے کی غرض سے آیا کرتے تھے۔ جلد ہی اس کی شہرت کی گونج اخبارات میں بھی سنائی دینے لگی۔
اخبار نیویارک ورلڈ کی ایک خاتون نے پوچھا کہ کیا وہ اپنے فن کے متعلق امتحان دینے کو تیار ہے؟ کیرو کے لئے یہ لمحہ بہت نازک تھا۔ اس نے ایک لمحے کے توقف کے بغیر اس کا یہ چیلنج قبول کر لیا۔
اخبار نیو یارک ورلڈ نے کیرو کے مقابلے کی خبر کو خوب اچھالا۔ امتحان کا دن قریب آ گیا اس دن مرہ امتحان میں کیرو ایک خاموش ترین انسان تھا۔ امتحان میں اسے نیویارک کی 13 مختلف شخصیتوں کے ہاتھوں کے پرنٹ دئیے گئے تاکہ وہ ان کی شناخت کر سکے۔ ان پر بظاہر کوئی نشان نہیں تھا جو شناخت میں ممدو و معاون ثابت ہو سکتا۔
ان پرنٹوں کے بارے میں صرف تین جج صاحبان ہی جانتے تھے۔ اور وہ چپ چاپ منہ لٹکائے ہوئے اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب کیرو سے غلطی سر زد ہوتی ہے۔ کیرو ایک ایک پرنٹ کو اٹھاتا اور بغیر ہچکچاہٹ سرسری جائزے سے ہی بتا دیتا کہ وہ پرنٹ کس آدمی کے ہیں۔ کیرو تیرھویں اور آخری پرنٹ پر آ کر رک گیا۔ اس نے پرنٹ کو میز پر رکھا اور ججوں سے مخاطب ہوا“ میں اس پرنٹ والے آدمی کا نام نہیں بتاؤں گا“۔
یہ سن کر حاضرین کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار پیدا ہو گئے کہ وہ ہار رہا ہے۔ کیرو نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھا کر حاضرین کو خاموش رہنے کی تلقین کی اور بولا میں اس آدمی کا نام اس لئے نہیں بتا رہا کہ وہ ایک قاتل ہے۔ اگر اس کا نام بتا دیا گیا تو وہ جیل میں ہی سخت روحانی کرب میں مبتلا ہو کر مر جائے گا۔ یہ پرنٹ ڈاکٹر ہنری مئیر کا تھا۔ جسے بیک وقت پاگل اور قاتل قرار دے کر جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔ اخبارات نے کیرو کی دل کھول کر تعریف کی۔ اس کے ساتھ ہی ساری دنیا میں اس کی شہرت پھیل گئی۔ کیرو نے یورپ کا بھی کامیاب دورہ کیا۔ 1897 میں اس نے پیشن گوئی کی کہ زارِ روس اپنے آخری دن تنگی اور عسرت میں بسر کرے گا۔ علاوہ ازیں اس سے بیوی اور حکومت دونوں چھن جائیں گے۔ کیرو کی یہ پیشن گوئی 1917میں پوری ہوئی 1906 میں وہ اپنے پیشے سے ریٹائر ہو گیا۔
کیرو کو ایک گاہک کی رقم لوٹنے میں بدسلوکی کے جرم میں 13 ماہ قید کی سزا دی گئی۔ 1936 کی ایک صبح کو ہالی وڈ کی سٹرک کے کنارے اس کی لاش پڑی ہوئی ملی۔ وہ ہسپتال جاتے ہوئے فالج کا شکار ہو گیا تھا۔
کیرو کہا کرتا تھا کہ اسے اپنی *صلاحیتوں اور پیشن گوئیوں کی صداقت کا کبھی بھی یقین نہیں ہوا۔ آخری عمر میں اس کی یہ صلاحیت جواب دے گئی۔ اس کی حالت ایک ایسے جادوگر کی مانند ہو گئی تھی جو منتر بھول چکا ہو۔

علی عمران
11-16-2010, 01:15 AM
دن کے وقت رات
تاریخ بتاتی ہے کہ کئی ملکوں اور شہروں میں دن کے وقت اندھیرا چھا گیا۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ ماہرین فلکیات کے پیچیدہ حسابات کے مطابق زمین خلاء میں 18 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ ماہرین کے نظریے کے مطابق خلاء بلکل خالی نہیں ہے بلکہ اس مں زمین کی حرکت اور دیگر تغیرات سے پیدا ہونے والے اربوں چھوٹے چھوٹے غیر شفاف ذرات ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔ اگر یہ یقین کر لیا جائے تو پھر دوپہر کے وقت اندھیرا چھانے کا مظاہرہ کسی حد تک سمجھ میں آ جاتا ہے۔
کائناتی گرد سورج کی روشنی کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی نتیجتآ سورج کی روشنی دھندلی اور نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہ غیر معمولی مظاہرہ کسی وقت بھی ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جب کبھی بھی عین دوپہر کے وقت اندھیرا چھایا وہ دن بادلوں سے مبرا تھا اور اس دن سورج گرہن کا بھی کوئی امکان نہ تھا۔
26 اپریل 1884 کو پیرسٹن(انگلینڈ) میں دوپہر 12 بجے کے قریب ڈرامائی طور پر اندھیرا چھا گیا۔ آسمان بلکل سیاہ ہو گیا تھا ایسا لگتا تھا متفائے بسیط پر کوئی بڑا سا سیاہ پردہ تان دیا گیا ہو۔ شہر کے لوگ پریشانی میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ جانور آرام کے لئے اپنی اپنی پناہ گاہوں کی طرف چلے گئے۔ عبادت گزار لوگ سجدے میں جھک گئے۔ اور پھر اندھیرا اسی تیزی سے چھٹ گیا جس تیزی سے چھایا تھا سورج کی روشنی دوبارہ زمین پر پڑنے لگی۔ اگرچہ اس مظاہرے کی کئی تعبیریں کی گئیں لیکن عوام کسی سے بھی مطمئن نہ ہو سکی۔ 12 اپریل 1889 کو اٹیکس(فرنی سوٹا)کے شہریوں کو بھی اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ بھی اس کی تشریح نہ کر سکے۔
19 اگست 1763 کی صبح لندن بھی تاریکی میں ڈوب گیا۔ اس مرتبہ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ لوگوں نے لالٹینیں اور موم بتیاں روشن کر لیں۔ ماہرین فلکیات کے زائچوں کے مطابق اس روز سورج گرہن کا کوئی امکان نہیں تھا۔
19 مارچ 1886 کو اوشکائیش میں بھی ایسا ہی ہوا۔ دن کے 3 بجے نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر سارا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔ یہ صورت تقریبآ 10 منٹ تک رہی۔ اس دوران آسمان پر سیاہی مائل دھبہ ہوا کے دوش پر مغرب سے مشرق کی طرف اڑتا ہوا دکھائی دیا۔ جب شہر میں سورج کی روشنی عود کر آئی تو پتہ چلا کہ مغرب کے شہروں کو بھی اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
4 دسمبر 1904 کو ممفس(ٹینسن) کے لوگ معمول ک مطابق اپنا کام کر رہے تھے۔ صبح کے 10 بجے اچانک سورج غائب ہو گیا جس کی وجہ سے مکمل تاریکی چھا گئی۔ یہ تاریکی پندرہ منٹ تک چھائی رہی۔ تاریکی کے یہ 15 منٹ شہر کے لوگوں کے لئے خوف و ہراس کے لمحات تھے۔ شہر کے بعض حصوں میں تو لوگوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا تھا۔ بعض دیندار لوگ تو سجدے میں گر گئے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ شاید نفسیاتی وجوہ کی بنیاد پر اس قلیل الوقوع لیکن خوفناک مظاہرے کا ذمہ دار جنگل کی آگ ، غیر معمولی بادل اور دور کے ریگستانوں کی دھول کو ٹھہرایا گیا۔یہ تشریح بعض موقعوں پر تو تسلیم کر لی گئی مگر بعض دوسرے موقعوں پر یہ بلکل بیکار ثابت ہوئی۔ نتیجتآ قدرت کے اس پر اسرار مظاہرے کی تشریح متنازع ہی رہی۔
اسی طرح کا ایک واقع 24 ستمبر 1950 میں بھی پیش آیا جب تقریبآ تمام ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سورج کا رنگ پر اسرار طور پر نیلا پڑ گیا ایسا لگتا تھا جیسے سورج کی روشنی کسی نیلے فلٹر سے چھن کر آ رہی ہے۔
26 ستمبر کو سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں بھی سورج سبزی مائل نیلا دکھائی دیا۔ ڈنمارک میں یہ صورتِ حال کوئی 2 گھنٹے تک رہی۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہو گئے کہ انہیں یقین ہو گیا کہ قیامت آ گئی ہے چنانچ بنکوں کے سامنے اپنا ریسیونگ اکاونٹس نکلوانے کے لئے لوگوں کی لمبیلمبی قطاریں لگ گئیں۔
عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی کہ سورج کی یہ غیر معمولی کیفیت اس دھوئیں کی بدولت ہے جو البرٹا(کینیڈا) کے جنگل میں آگ لگنے کی وجہ سے فضا میں چھا گیا تھا۔ لیکن اس تشریح میں بھی ایک خامی تھی۔
اگر اس پر اسرار مظاہرے کا ذمہ دار دھواں ہی تھا تو وہ ایک ہی وقت میں امریکہ کے مشرقی حصوں کو بھی تاریک کر رہا تھا اور واشنگٹن کی طرف کے مغربی حصے کو بھی۔ یہ انوکھی ہوا تھی جو دھوئیں کو دو مخالف سمتوں میں پھیلا رہی تھی۔

علی عمران
11-16-2010, 01:26 AM
برمودا تکون(Bermuda Triangle)

برمودا تکون جسے شیطانی تکون کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ مثلث بحر اوقیانوس میں واقع ہے جو فلوریڈا سے شروع ہو کر برمودا اور پورٹوریکو سے ہوتی ہوئی واپس فلوریڈا پر اختتام پذیر ہوتی ہے یوں یہ ایک مثلث کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اس مثلث کی شہرت کی وجہ اس سے جڑے ہوئے کچھ مافوق الفطرت واقعات ہیں جنہیں سائنس تو نہیں مانتی لیکن اس کے باوجود جس انداز میں ان واقعات کو پیش کیا گیا اور انہیں مافوق الفطرت مخلوقات وغیرہ سے تشبیہہ دی گئی یہ مثلث ایک عرصہ تک عالمی فورمز پر زیرِ بحث رہی۔
ان واقعات میں جو مشہور واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں بحری جہازوں اور فضائی جہازوں کا پر اسرار طور پر غائب ہو جانا، انسانوں کا غائب ہو جانا وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
اس مثلث کا برمودا مثلث نام پہلی مرتبہ Vincent H. Gaddis نے 1964 میں Argosy magazine میں لکھے گئے اپنے ایک آرٹیکل میں استعمال کیا۔ اس آرٹیکل میں اس نے لکھا کہ اس خطرناک علاقے میں بہت سے بحری اور ہوائی جہاز بنا کوئی نشان چھوڑے غائب ہو گئے۔Gaddis پہلا شخص نہیں تھا جس نے اس جانب توجہ مبذول کروائی بلکہ اس سے پہلے 1952 میں George X. Sands نے اپنی ایک رپورٹ جو اس نے Fate magazine کو مہیا کی اس میں اس بارے میں کافی کچھ بتایا تھا۔ اس کے علاوہ 1969 میں John Wallace Spencer نے ایک کتاب لکھی جس کا نام Limbo of the Lost Ships ہے جس میں اس پر اسرار تکون پر تفصیل کے ساتھ بات کی گئی۔
ان سب کتابوں کے علاوہ بے شمار مضامین اور کتابیں اس حوالے سے شائع ہوئیں۔ جن میں برمودا مثلث کو ایک افسانوی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ لیکن سائنس نے آج تک کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بناء پر ان سب چیزوں کو رد کر دیا۔ کیونکہ یہ تمام باتیں سائنسی اصولوں سے ہٹ کر صرف اور صرف مافوق الفطرت انداز میں پیش کی گئیں۔ بہت سے مصنفین اور ناول نگاروں نے ان واقعات کو مزید نمک مرچ لگا کر اور اندازو بیان کی آرائش سے مزید پر اسرار بنا کر پیش کیا۔
اس مثلث سے جس کہانی کو سب سے پہلے منسوب کیا گیا وہ ایک مشہورو معروف بحری جہاز USS Cyclops کا غائب ہونا تھا جو 1918 میں اس کا شکار ہوا۔ 542 فٹ لمبا یہ جہاز 1910 میں بنایا گیا تھا اور یہ امریکن نیوی کو دوسری جنگِ عظیم میں بحری جہازوں کے لئے ایندھن لے جانے کا کام کرتا تھا۔ یہ جہاز Bahia،Salvador سے سپلائی لے کر Baltimore, Maryland کی جانب روانہ ہوا لیکن اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ بعد میں اس کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ یہ جہاز اپنی روٹین سے ہٹ کر 3 اور 4 مارچ 1918 کو بارباڈوس میں مزید سپلائی لینے کے لئے رکا تھا۔ لیکن اس کے بعد یہ ایسا غائب ہوا کہ اپنا نام و نشان تک نہیں چھوڑا۔ اس جہاز میں عملے سمیت کل 306 مسافر سوار تھے جن میں سے کسی کا بھی کوئی سراغ نہیں ملا۔ یہ جنگِ عظیم میں امریکی نیوی کا سب سے بڑا نقصان تھا جو بغیر کسی لڑائی کے ہوا۔ یہ بلاشبہ ایک پر اسرار واقعہ تھا لیکن یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واقعی برمودا مثلث کے علاقے میں ہی غائب ہوا، ہو سکتا ہے یہ جہاز بارباڈوس اور بالٹیمور کے درمیان کسی اور علاقے میں غائب ہوا ہو کیونکہ بارباڈوس اور بالٹیمور کے درمیان بے حد وسیع سمندری علاقہ ہے۔
دوسرا بڑا واقعہ جو اس سلسلے میں بیان کیا جاتا ہے وہ SS Marine Sulphur Queen Vanishes بحری جہاز کی گمشدگی کا ہے جو 1963 میں فلوریڈا کے قریب اس مثلث میں غائب ہوا۔ اس جہاز میں عملے کے 39 افراد سوار تھے لیکن ان میں سے ایک بھی نہیں ملا۔ مگر کوسٹ گارڈ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جہازاس طرح بنا ہوا تھا کہ اسے کسی وقت بھی ٹکڑوں میں تبدیل کر کے رکھا جا سکتا تھا اور یہ جہاز یقینآ سمندر میں اترا ہی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق کیونکہ یہ جہاز ایک آئل ٹینکر تھا لیکن بعد میں یہ اپنے اصلی کام سے ہٹ کر مولٹن سلفر لے جانے لگا اور اس تبدیلی کی وجہ سے یہ جہاز تباہ ہو گیا۔ بعد میں سمندر میں کسی جلے ہوئے جہاز کے آثار بھی ملے تھے۔
اس کے علاوہ 28 دسمبر 1948 کی رات ایک ہوائی جہاز NC16002 جو DC-3 مسافر بردار جہاز تھا اور سان جان San Juan (پورٹوریکو) سے میامی(فلوریڈا) جا رہا تھا غائب ہوا۔موسم بھی بلکل صاف تھا اور پائلٹ کے مطابق میامی سے 50 میل دور تھا کہ اچانک غائب ہو گیا اس میں سوار عملے کے تین اور 29 مسافروں کا کبھی بھی سراغ نہیں مل سکا۔ محکمانہ تفتیش میں یہ بات بتائی گئی کہ ٹیک آف کے وقت جہاز کی بیٹریاں مکمل طور پر چارج نہیں تھیں جو بعد میں اڑان کے دوران رابطہ سسٹم خراب ہو جانے کا سبب بنیں اور میامی سے جو میسج جہاز کو دیا گیا کہ ہوا کا رخ تبدیل ہو گیا ہے پائلٹ کو موصول نہیں ہو سکا اور وہ بروقت حفاظتی انتظام نہیں کر سکا۔
اس کے علاوہ 25 اکتوبر 1980 کو ایک اور بحری جہاز S.S.POET بھی اسی طرح پر اسرار طور پر غائب ہوا اور اپنا نام و نشان تک نہ چھوڑا لیکن تحقیق میں یہ الزام لگایا گیا کہ انشورنش کی رقم حاصل کرنے کے لئے اس جہاز کو غائب کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ جو بے حد مشہور ہوا وہ 5 ایونجر Avenger تارپیڈو بمبار جہازوں جسے فلائٹ 19 بھی کہا جاتا تھا کا پر اسرار طور پر غائب ہو جانا تھا۔ ان جہازوں کے گروپ نے فلوریڈا کے فورٹ لاؤڈرڈیل Fort Lauderdale کے نیول ائیر بیس سے 2 بج کر 10 منٹ پر اڑان بھری یہ ایک معمول کی اڑان تھی جس کا کمانڈر لیفٹینٹ چارلس ٹیلر تھا اور باقی اس کے شاگرد شامل تھے جنہیں مشرق کی جانب 56 میل تک جانا تھا۔ لیکن یہ فاصلہ طے کرنے کے بعد کمانڈر نے مزید 67 میل مشرق کی جانب اڑنے کا کہا اور پھر وہاں سے 73 میل شمال کی جانب جا کر سیدھا واپس بیس پر آنا تھا یہ فاصلہ 120 میل کا بن گیا۔ اور یہ اضافی فاصلہ انہیں اس ٹرائی اینگل کی جانب لے گیا۔ اڑان کے تقریبا ایک گھنٹے بعد ٹیلر نے بیس کو ایک پیغام بھیجا کہ طیارے کے سمت بتانے والےآلات compasses کام نہیں کر رہے لیکن اسے خود پر یقین تھا کہ وہ فلوریڈا کے ٹاپوؤں( یہ ٹاپو فلوریڈا کے چھوٹے چھوٹے آئس لینڈز کا ایک سلسلہ ہے جو فلوریڈا کے مین جزیرے کے جنوب میں واقعہ ہیں) کے اوپر ہی کہیں اڑ رہے ہیں۔ بیس میں موجود لیفٹینٹ کاکس نے کہا کہ اگر تمہیں یقین ہے کہ تم وہاں ہو تو شمال کی جانب میامی کی طرف اڑو۔
آج کل کے جہازوں کے پاس تو اپنی موجودہ پوزیشن کو چیک کرنے کے لئے بہت سے راستے موجود ہیں جن کا مطالعہ جی۔پی۔ایس (Global Positioning Satellites) کے تحت کیا جاتا ہے اور اگر وہ ان سب آلات کو بہترین طریقے سے استعمال کرنا جانتا ہو تو ان حالات میں یہ بات تقریبا ناممکن ہے کہ کوئی پائلٹ اپنا راستہ کھو دے ۔ لیکن 1945 میں پانی پر اڑتے ہوئے اپنے ابتدائی نقطے کے بارے میں معلومات پر انحصار کیا جاتا تھا کہ وہ کتنی رفتار سے کتنی دور اور کس سمت میں اڑ رہے ہیں اور اگر پائلٹ ان میں سے کسی ایک کا بھی حساب نہیں رکھ پاتا تو وہ یقینآ گم ہو جاتا تھا سمندر کے اوپر کوئی نشانیاں نہیں تھیں جو انہیں سیدھا راستہ دکھا سکتیں۔
یہ سب جہاز 3 بجکر 45 منٹ پر غائب ہو گئے اور اس کے بعد ان کا بیس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔اس بیڑے کو بچانے کے لئے جانے والا ایک اور جہاز Martin Mariner بھی پراسرارطور پر غائب ہو گیا۔ تحیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ جہاز اپنی اڑان کے کچھ ہی دیر کے بعد ایک دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا بعد میں اس جہاز کا تیل اور ٹکڑے سطع سمندر پر تیرتے ہوئے ملے۔ اس جہاز کی تباہی کا سبب کاک پٹ میں گیس بھر جانے اور عملے کے ارکان میں سے کسی کے سگریٹ جلانے کی وجہ سے اس میں ہونے والے دھماکے کو بیان کیا گیا۔
ادھر ایونجر کی گمشدگی کے بارے میں تحقیق میں کہا گیا کہ ٹیلر سمت کے بارے میں دو راہے کا شکار تھا لیکن ٹیلر ایک ماہر پائلٹ تھا اور اس سے اس قسم کی غلطی کی کوئی توقع نہیں تھی۔ بعد میں اس تحقیق کو اس عنوان کے ساتھ بند کر دیا گیا کہ causes or reasons unknown۔
یہ واقعہ اس مثلث کی پر اسراریت کے عنوان میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔
برمودا تکون کے بارے میں مختلف تھیوریاں:۔
برمودا تکون کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جگہ ایک دروازے کی حیثیت رکھتی ہے جہاں دوسری دنیا سے آنے والی مخلوق اس دنیا میں داخل ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے وقت کا خلاء کہتے ہیں جہاں آنے والی ہر چیز وقت کے خلاء میں گم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے سمندر کی تہہ میں ڈوبے ہوئے اٹلانٹس کے سگنلز کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور ماہرین اس سب کو حقیقت کے منافی اور من گھڑت افسانوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔
اس کے علاوہ اس کا ایک سبب پانی کی تیز لہروں کو قرار دیا جاتا ہے جو ہر ہونے والے حادثے کے نشان کو اس طرح صاف کر دیتی ہیں کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا۔اس کے علاوہ ایک وجہ علاقائی موسم بھی بتایا جاتا ہے جو اچانک بادو باراں اور طوفان کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے جہاز غائب ہوتے ہیں اور اموات واقع ہوتی ہیں۔
کچھ دانشور ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں تین سمندروں گلف آف میکسیکو، اٹلانٹک اور کیریبئن کے پانیوں کا میلاپ ہوتا ہے۔ اور ان کے پانیوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے اس میں ایسی مقناطیسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے اوپر سے گزرنے والی ہر چیز کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔ اور بعد میں تیز لہریں وقت کے ساتھ ساتھ اس کا نشان مٹا دیتی ہیں۔
بعض مفکرین کے نزدیک ایک سبب یہاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی اور امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی ہے جن سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے یہ من گھڑت قصے گھڑے گئے۔
کچھ مفکرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں امریکہ نے ایسی لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں انسانوں کے خاتمے کے لئے مہلک ترین ہتھاروں کی تیاری اور تجربات کا کام کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے اس لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔ حقیقت کیا ہے یہ آج تک کسی تحقیق میں سامنے نہیں آ سکی۔

تانیہ
11-22-2010, 04:13 PM
بہت شکریہ ایسی زبردست شیئرنگ کے لیے