PDA

View Full Version : کاش کہ ایسا ہو سکے ۔۔ مشتاق احمد قریشی



بےباک
07-18-2012, 09:58 AM
کاش کہ ايسا ہوسکے…!...مشتاق احمد قريشي
موضوع ۔۔۔۔۔۔ سعودی عرب سے میت کو پاکستان لانا
مکہ مکرمہ اور مدينہ منورہ سعودي عرب کے دو ايسے عظيم شہر ہيں جہاں ہر سال لاکھوں فرزندان توحيد آتے ہيں ۔ ان ميں سے سينکڑوں ہر سال وہاں وفات پا جاتے ہيں۔ اکثر اللہ کے بندوں کي خواہش ہوتي ہے کہ وہ وہيں رہ جائيں ۔ ان کے مکہ ميں وفات پانے پر اکثر و بيشتر ان کي نماز جنازہ حرم کعبہ ميں ادا کي جاتي ہے ۔ انہيں جنت المعلي ميں دفن کيا جاتا ہے ليکن کچھ لوگ ايسے بھي ہوتے ہيں جن کے ساتھي اپنے پياروں کي ميت اپنے وطن لا کر اپنے ہي قبرستانوں ميں دفن کرتے ہيں ۔ ايسے لوگوں کو جس پريشاني اور دشواري سے گزرنا پڑتا ہے وہ نا قابل بيان ہے۔ جبکہ وہاں ميت کو کفنانا، دفنانا سب سرکاري خرچ پر سرکاري لوگ کرتے ہيں۔ نماز جنازہ تک پڑھا دي جاتي ہے کہيں کوئي دھيلا خرچ نہيں ہوتا ۔ اور اگر ميت کو اس کے عزيز اپنے وطن لے جانا چاہيں تو يہ کسي بلند پہاڑ سر کرنے سے کم نہيں ۔ پہلے مکہ سے جدہ جا کر اپنے سفارت خانے سے ايک اين او سي حاصل کرنا ہوگا اس سے پہلے ايک سرٹيفکيٹ متعلقہ اسپتال سے حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ اس معرکہ ميں ہي کئي روز صرف ہوجاتے ہيں پھر اگر معلومات درست حاصل نہ ہوں اور بندہ سيدھا وزارت داخلہ يعني شرطے خانے يا پوليس آفس چلا جائے تو وہاں کي پرسش و تحقيق ميں کئي کئي روز لگ جاتے ہيں پھر وہ بتاتے ہيں کہ کس کارگو کمپني سے ميت کے لئے بکنگ حاصل کي جائے ۔ اس کے لئے بار بار مکہ سے جدہ کا سفر کرنا اور کارگو انوائس حاصل کرنا پھر پوليس آفس سے ڈيتھ سرٹيفکيٹ حاصل کرنا اس کے بعد متعلقہ اسپتال کے مردہ خانے سے ميت حاصل کر کے غسل ميت اور کفن کے لئے دوسرے اسپتال لے جانا اور پھر وہاں سے ميت کارگو کرانے کے لئے جدہ کے بڑے اسپتال لے جانا جہاں ميت کو ادويات لگا کر انجکشن وغيرہ لگانا پھر چوبيس گھنٹوں کے لے سرد خانے ميں رکھ ديا جاتا ہے ۔اس کے بعد کم از کم چوبيس گھنٹوں کے بعد سرد خانے سے ميت حاصل کر کے کارگو آفس پہنچائي جاتي ہے ۔ ايک اجنبي ناواقف شخص جس پر پہلے ہي اپنے عزيز کي موت کا پہاڑ ٹوٹ چکا ہوتا ہے وہ يوں دربدر ايک آفس سے دوسرے آفس پھر تيسرے آفس اور اگر کہيں کوئي غلطي پاسپورٹ يا ويزہ ميں رہ گئي ہو تو سارے کئے کرائے پر متعلقہ پوليس آفيسر پاني پھير ديتا ہے ۔ اس ساري کارروائي ميں بتايا جاتا ہے کہ کم از کم پندرہ سے بيس دن لگتے ہيں اور اگر کسی دور کے علاقے کا مسلہ ہو تو اکثر اس سے بھي زيادہ عرصہ لگتا ہے ۔اب جبکہ سعودي عرب ميں تمام انتظامات اور دستاويزات کمپيوٹرائز ہيں، سب معلومات انگلي کے اشارے پر سامنے اسکرين پر نظر آنے لگي ہيں کيا ہي اچھا ہو کہ سعودي حکومت اس تمام مشقت کو ون ونڈو آپريشن ميں تبديل کرکے آنے والے زائرين کو سہولت پہنچائے اور خود بھي دس قسم کي الجھنوں، دقتوں سے محفوظ رہے ۔ کاش کہ اب ايسا ہوسکے اور سعودي حکمران تمام معاملات کو ون ونڈو آپريشن کا اہتمام کر کے پريشان حال، مصيبت زدہ لوگوں کي تکليف دور کرنے کا بندوبست کرسکيں۔ اللہ کرے کہ ايسا ہوسکے يقيناً اگر ايسا ہوگيا تو ہزاروں دکھي دلوں سے ان کے لئے دعا نکلے گي ۔ ميں مکہ ميں پاکستاني مشن کے کامران بٹ‘ جدہ قونصليٹ کے سہيل علي خان اور قونصل جنرل عبدالسالک خان اور ڈائريکٹر جنرل حج ابو احمد عاکف کا تہہ دل سے شکريہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے غير معمولي تعاون اور مدد فرمائي ۔

pervaz khan
07-18-2012, 11:13 AM
نائیس شئیرنگ ہے

نگار
07-18-2012, 02:37 PM
سعودی عرب میں زندہ انسانوں کی کوئی قدر نہیں تو وفات پانے والے کا تو کئی نام و نشان نہیں ہوتا ۔
وہاں ہر خارجی بندہ بس اللہ ہی کے بھروسے دل تھامے وقت گزارتا ہے ۔
اللہ تمام مسافروں کو اپنے حفظ و آمان میں رکھے اور ان کے لیے ہر طرح کی آسانیاں پیدا فرمائے
آمین ثمہ آمین
بہت شکریہ