PDA

View Full Version : برما میں مسلم کشی



بےباک
07-19-2012, 07:22 AM
برمی صدر کا مسلمانوں کی بیدخلی پر غور
دہشت گردی میں دو ہزار برمی مسلمان شہید، 90 ہزار ھجرت پر مجبور
برما میں مسلمان اقلیت کے خلاف مقامی قبائل کی چند ہفتوں سے جاری دہشت گردانہ کارروائیوں میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔

ترکی کے محکمہ مذہبی امور کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ فسادات کے دوران برما میں دو ہزار مسلمان بچوں، مرد، خواتین اور بوڑھوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا ہے جبکہ نوے ہزار افراد ھجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب برمی صدر نے جلتی پہ تیل ڈالتے ہوئے ملک میں موجود تمام مسلمانوں کو وہاں سے نکالنے کے ایک فارمولے پر غور شروع کیا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ترک حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں برما میں مسلمانوں کے خلاف ماگ قبائل کی دہشت گردی پر اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی متوجہ کیا گیا ہے۔ بیان میں ان تمام عالمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ برما میں مسلمانوں کےخلاف جاری تشدد بند کرانے کے لیے ٹھوس کردار ادا کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ برما میں مسلمانوں کو اذیت ناک تشدد، ظلم، قتل عام اور جبری ھجرت جیسے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کے گھر بار محفوظ ہیں اور نہ ہی مساجد اور ان کی عزت وآبرو محفوظ ہیں۔ بوذی قبائل کےدہشت گرد سر عام مسلمانوں کو قتل کرتے اور ان کی خواتین سے اجتماعی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔

قبل ازیں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے تشدد کا سلسلہ فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ برما کے مسلم اکثریتی صوبہ اراکان میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ نہایت شرمناک اور انسانیت سوز ہے۔ عالمی برادری اس کاسختی سے نوٹس لے۔

خیال رہے کہ برما اور بنگلہ دیش کے سرحد کے قریب واقع شہر اراکان میں برما کے بوذی قبائل کی جانب سے وہاں کی مسلمان آبادی کو گذشتہ ایک ماہ سے سنگین نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ بوذی قبائل کے دہشت گرد مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں جبکہ وہاں کی حکومت بھی مظلوم مسلمانوں کاساتھ دینے کے بجائے انہیں اپنا شہری تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

برمی سفارت خانوں کے گھیراؤ کے مطالبات

برما میں مسلمانوں کےخلاف جاری بوذی دہشت گردی کےخلاف پورے عالم اسلام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مصر کی سب سے بڑی علمی درسگاہ جامعہ الازھر نے بوذی قبائل کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف دنیا بھر میں موجود برمی سفارت خانوں کے گھیراؤ کا مطالبہ کیا ہے۔ جامعہ الازھر نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برما میں مسلمانوں کےخلاف جاری ریاستی دہشت گردی روکنے کےلیے اپنے اپنے ملکوں میں موجود برما کے سفارت خانوں کا گھیراؤ کریں تاکہ برمی حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

جامعہ کی علماء کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں برما میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اراکان صوبے میں مسلمان آبادی کو ہولناک تشدد کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام جاری ہے۔ گھروں کو آگ لگا کر خاکستر کیا جا رہا ہے لیکن عالمی اور اسلامی سطح پر برما کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
مسلمانوں کی بیدخلی پر غور

درایں اثناء برما کے صدر"تھین سین" نے کہاہے کہ مسلمان ہمارے ملک کے شہری نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ عام شہروں سے نکل کر مہاجر بستیوں میں چلے جائیں یا ملک چھوڑ دیں۔

برمی صدر نے اقوام متحدہ کے مندوب برائے پناہ گزین"انٹونیو گیٹریز" سے ملاقات کے دوران کہا کہ روھینگیا شہر میں موجود مسلمان ہمارے شہری نہیں ہیں اور نہ ہی ہم ان کے تحفظ کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اگر انہیں حملوں کا سامنا ہے تو وہ ملک چھوڑ دیں۔ ہم انہیں اپنا شہری نہیں مانتے ہیں۔

برمی صدر کا کہنا تھا کہ بوزی قبائل کے حملوں کا شکار مسلمانوں کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قائم کردہ مہاجر کیمپوں میں رہیں۔ اگر وہ مہاجر بستیوں میں بھی نہیں رہ سکتے تو ہم انہیں شہروں میں نہیں رہنے دیں گے اور انہیں ملک سے نکال دیا جائے گا۔
برما میں جہاں ایک جانب بودھ بھکشوؤں نے 2ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید اور 90ہزار سے زائد کو ہجرت پر مجبور کردیا ہے وہیں برمی صدر نے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے اراکانی مسلمانوں کو برما کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برما کے صدرتھین سین نے کہاہے کہ مسلمان ہمارے ملک کے شہری نہیں ہیں، اس لیے ان کے بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ عام شہروں سے نکل کر مہاجر بستیوں میں چلے جائیں یا ملک چھوڑ دیں۔برمی صدر نے اقوام متحدہ کے مندوب برائے پناہ گزین انٹونیو گیٹریز سے ملاقات کے دوران کہا کہ روہنگیا شہر میں موجود مسلمان ہمارے شہری نہیں ہیں اور نہ ہی ہم ان کے تحفظ کے ذمہ دار نہیں ہیں، اگر انہیں حملوں کا سامنا ہے تو وہ ملک چھوڑ دیں،ہم انہیں اپنا شہری نہیں مانتے ہیں۔برمی صدر کا کہنا تھا کہ بوذی قبائل کے حملوں کے شکار مسلمانوں کے مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قائم کردہ مہاجر کیمپوں میں رہیں،اگر وہ مہاجر بستیوں میں بھی نہیں رہ سکتے تو ہم انہیں شہروں میں نہیں رہنے دیں گے اور انہیں ملک سے نکال دیا جائے گا۔خیال رہے کہ برما کے شہر روہنگیا میں مسلمان پہلی بڑی اقلیت ہیں جن کی تعداد 8لاکھ سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام اداروں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ برما کے مسلمانوں کو وہاں کے مقامی دہشت گردوں کی جانب سے سنگین مظالم کا سامنا ہے۔ادھرترکی کے محکمہ مذہبی امور کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ فسادات کے دوران برما میں 2ہزار مسلمان بچوں، مرد، خواتین اور بوڑھوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا ہے جبکہ90 ہزار افراد ہجرت پر مجبور ہو گئے ۔ ترک حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں برما میں مسلمانوں کے خلاف ماگ قبائل کی دہشت گردی پر اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی متوجہ کیا گیا ہے۔ بیان میں تمام عالمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ برما میں مسلمانوں کیخلاف جاری تشدد بند کرانے کے لیے ٹھوس کردار ادا کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ برما میں مسلمانوں کو اذیت ناک تشدد، ظلم، قتل عام اور جبری ہجرت جیسے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا سامنا ہے، مسلمانوں کے گھر بار محفوظ ہیں اور نہ ہی مساجد اورنہ ہی ان کی عزت وآبرو محفوظ ہے۔ بوذی قبائل کے دہشت گرد سر عام مسلمانوں کو قتل کرتے اور ان کی خواتین سے اجتماعی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسلامی تعاون کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے تشدد کا سلسلہ فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ برما کے مسلم اکثریتی صوبہ اراکان میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ نہایت شرمناک اور انسانیت سوز ہے۔ عالمی برادری اس کاسختی سے نوٹس لے۔خیال رہے کہ برما اور بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب واقع شہر اراکان میں برما کے بوذی قبائل کی جانب سے وہاں کی مسلمان آبادی کو گزشتہ ایک ماہ سے سنگین نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ بوذی قبائل کے دہشت گرد مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں جبکہ وہاں کی حکومت بھی مظلوم مسلمانوں کاساتھ دینے کے بجائے انہیں اپنا شہری تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔دریں اثناء برما میں مسلمانوں کیخلاف جاری بوذی دہشت گردی کیخلاف پورے عالم اسلام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مصر کی سب سے بڑی علمی درسگاہ جامعہ الازہر نے بوذی قبائل کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف دنیا بھر میں موجود برمی سفارت خانوں کے گھیراؤ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ برمی حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔جامعہ کی علما کونسل کی جانب سے جاری بیان میں برما میں مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اراکان صوبے میں مسلمان آبادی کو ہولناک تشدد کا سامنا ہے، مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام جاری ہے، گھروں کو آگ لگا کر خاکستر کیا جا رہا ہے لیکن عالمی اور اسلامی سطح پر برما کے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ برما کے شہر روھینگیا میں مسلمان پہلی بڑی اقلیت ہیں جن کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام اداروں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ برما کے مسلمانوں کو وہاں کے مقامی دہشت گردوں کی جانب سے سنگین مظالم کا سامنا ہے۔

بےباک
07-19-2012, 07:43 AM
http://a5.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash4/483258_490507494308021_1048795437_n.jpg
https://dl.dropbox.com/u/49503275/saud003/june/June%2021/0%2C%2C16036150_401%2C00.jpg
http://a3.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash3/s720x720/559322_486207148072554_1988669759_n.jpg
http://a8.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash3/560995_218284801627775_1951977236_n.jpg
http://a6.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash4/484442_261379350630185_561009224_n.jpg
http://a1.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc7/431856_261881947258742_609898336_n.jpg
http://a8.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash4/293113_3856577345258_1319776952_n.jpg

pervaz khan
07-19-2012, 10:57 AM
بہت دکھ کی بات ہے

بےباک
07-19-2012, 06:23 PM
مہر بہ لب انسانیت ۔۔۔ برمی مسلمانوں پر اُفتاد کیوں؟


میانمار(برما) کے مسلمانوں کے حالتِ زار پر دنیا جس طرح خاموش ہے اس سے یہ شک ہوتا ہے کہ کہیں برما کے مسلمان کسی دوسرے سیارہ کی مخلوق تونہیںہیں؟ان خستہ حال انسانوں کی چیخ وپکار نہ اقوام متحدہ تک پہنچ رہی ہے اور نہ امریکہ و برطانیہ کے ایوانوں تک ۔ان کے مظلومانہ حال پر نہ مسلم ممالک کو رحم آرہا ہے اور نہ خود برصغیر کے ان ممالک کو جہاں سے ان کے آباو اجداد کا خمیر اٹھا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق برما میں مسلمانوں کی آبادی۲۲ لاکھ ہے لیکن ان میں سے تقریباً ۷لاکھ افراد بے وطن ادھر سے ادھر گھوم پھر رہے ہیں ۔ دو لاکھ لوگ اپنی جان بچا کر بنگلہ دیش میں جاکر آباد ہوگئے ہیں۔وہاں بھی ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیاجاتا۔اس کے علاوہ ایک سے دو لاکھ کے درمیان ‘پاکستان اور ملیشیا وغیرہ چلے گئے ہیں ۔ہندوستان میں بھی چند ہزار خاندان خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے پھرتے ہیں۔ جو برمی مسلمان خود برما میں آباد ہیں ،انہیں آزادی کے ساتھ مذہبی شعائرادا کرنے نہیں دئے جاتے۔۴۴سالہ محمد ہارون دہلی میں مزدوری کرتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ارکان صوبہ کے ضلع بوسیدم میں سب سے زیادہ‘۶لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔عام طور پر برمی مسلمان کھیتی باڑی کرتے تھے لیکن فوج نے اس علاقے میں آنے کے بعد ان کی زمینیں چھین لیں۔فوج سے پہلے حالات کچھ اچھے تھے۔۴۲سالہ حفیظ احمدکہتے ہیں کہ برما میں مسلمان پیسے والے تھے لیکن اب انہیں کنگال کردیا گیا ہے۔بڑے بڑے مدارس اور مساجد کو مقفل کر دیا گیا ہے۔
متعدد عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق برما میں بہت سے مذاہب کے لوگ بستے ہیں لیکن واضح طور پرمسلمانوں اورعیسائیوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔حکومت برما کو مسلمانوں کے ساتھ کھلے عام تفریق کرنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں ہوتی۔اسی لئے مسلمانوں کو وہاں شہریت کا حق حاصل نہیں ہے۔۱۹۷۸میں مسلمانوں کی اکثریت والے صوبہ’ اراکان‘ میں کنگ ڈریگن آپریشن کیا گیا تھا۔اس کے نتیجہ میں دو لاکھ سے زیادہ مسلمان در بدر ہوگئے تھے۔دنیا بھر میں فوج کو غیر سیاسی کردار کی حامل اور کچلے ہوئے شہریوں کی محافظ سمجھا جاتا ہے لیکن برما میں فوج ہی مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن واقع ہوئی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ۸۰ کی دہائی میں جمہوریت پسند قومی لیڈر آنگ سانگ سوکی کو برما کے مسلمانوں کی اکثریت نے جوش وخروش کے ساتھ حمایت دی تھی لیکن ’فوجی جنٹا‘نے عوامی الیکشن میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوکر آنے والی سوکی کو حکومت سازی کا موقع نہیں دیااور انہیں نظر بند کردیا ۔ یہ ایک حیرت انگیز سوال ہے کہ آخر مہذب دور کی جمہوری دنیا نے کیسے جمہوریت کے اس قتل کو برداشت کرلیا؟بین الاقوامی تناظر میںبرما کی فوج کے پاس تو اتنی بھی طاقت نہیں تھی جتنی ازکاررفتہ عراقی فوج کے پاس ۹۰اور اس سے اگلی دہائی میں تھی۔
برما کی ۸۹فیصد آبادی اس دھارمک عقیدے پرعمل پیرا ہے جس کی بنیاد ہی بھائی چارہ اور بقائے باہم کے اصول پر رکھی گئی تھی مگر دنیا اتنی بڑی ‘منظم اور اجتماعی’ مذہبی دہشت گردی‘اور سرکاری ظلم وتشددکے خلاف مہر بلب ہے۔اتنی بڑی تعداد میں آباد روہنگیامسلمانوںکوایک طرف جہاں حقِ شہریت حاصل نہیں ہے وہیں انہیں تعلیم کا حق بھی میسر نہیں۔ان کے بچے اسکولوں میں داخلہ نہیں لے سکتے۔ خود مسلمان اپنے تعلیمی ادارے قائم نہیں کر سکتے۔ ۸۰ء کی دہائی تک مسلمانوں نے بڑی تعداد میں جو ادارے قائم کرلئے تھے انہیں بند کردیا گیا ہے۔ہمسایہ ملک میں اس اہم انسانی مسئلے پر جمہوری بھارت کی خاموشی یا لا تعلقی کی کیا توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ برما کے جولُٹے پٹے مسلمان پچھلے چند برسوں سے ہندوستان کے مختلف شہروں میں بھٹک رہے تھے وہ بے خانماں اب پچھلے چند مہینوں سے راجدھانی دہلی میں دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔یہ لوگ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے پناہ گزیں کے دفتر کے باہر ہفتوں پڑے رہے لیکن ان کا پناہ گزینی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔جس ’عالیشان ‘علاقے میں یہ دفتر واقع ہے وہاں کی مقامی آبادی نے پولیس پر اتنا دبائو ڈالا کہ اس نے آخر کار معصوم بچوں‘عمر رسیدہ بیماروں اور عورتوں پر مشتمل اس کارواں کو بے رحمی کے ساتھ مارپیٹ کر بھگا دیا۔حالانکہ کئی مسلم جماعتوں نے ان کی روزمرہ ضروریات کا انتظام کیا لیکن آخر کب تک؟پھر ایک سوال ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ اگر ایسا لٹا پٹا قافلہ پڑوسی ملک پاکستان سے آیا ہوتا تو کیا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا؟دہلی میں ہی ایسے ہزاروں خاندانوں کو اوقاف کی بیش قیمت زمینوں پر منظم کالونیاں بناکر دے دی گئی ہیں۔یہی نہیں وہ شہری ترقیات کے تمام ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے تعمیری اضافہ کرلیتے ہیں مگر ان کو کچھ نہیں کہا جاتا۔نیپال کے شہریوں کو تو آزادی کے ساتھ بغیر پاسپورٹ اور ویزا کے ہندوستان آنے جانے ‘یہاں آباد ہوجانے اور سرکاری ملازمتوں تک کیلئے درخواست دینے اور سول سروسزکے امتحانات میں بیٹھنے کا حق حاصل ہے۔وزارتِ اطلاعات ونشریات نے تو نیپالی اور سندھی زبان کے اخبارات کیلئے باقاعدہ اشتہارات کا فنڈاردو سے زیادہ مختص کر رکھا ہے۔توکیا عربی اور فارسی زبان کے رسائل بھی ایسی سہولت حاصل کرسکتے ہیں؟
فرانس میں مسلم خواتین کے حجاب کے ساتھ سکھوں کو بھی دستارپر پابندی اور تعصب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔لہٰذا ۲۰۰۷میںشرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے ایک طرف تو حکومت ہند پر بجاطوردبائو ڈالا اور دوسری طرف حکومت فرانس سے از خود رابطہ کیا۔یہاں تک کہ کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کورایک وکیل کو لے کر خود پیرس پہنچ گئیں۔جرمنی میں مقیم فرینچ زبان کے ماہر ایک سکھ پروفیسر کی خدمات حاصل کی گئیں،پھر جب خود وزیر اعظم من موہن سنگھ ‘فرانس گئے تو سکھوں کی دستار کے مسئلہ پر صدرسرکوزی سے خصوصی طور پر بات کی۔ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بھی سفارتی سطح پرکافی سرگرمی دکھائی۔فجی میں ہندودھرم ماننے والوں کے ساتھ بدسلوکیاں کی گئیں تو حکومت ہند نے اس کے خلاف زبردست ردعمل ظاہر کرکے وہاں کے حکمرانوںکو ہوش کے ناخن لینے کا سجھائو دیا جس سے فجی کے حاکموں کی عقل ٹھکانے آگئی ۔کیا ایسی ہی سرگرمی مسلم قائدین کو بھی اختیار کرنے کی چھوٹ دی جاسکتی ہے؟حال ہی میں وزیر اعظم کی ملاقات برما کی جمہوریت نواز لیڈر آنگ سانگ سوکی سے بھی ہوئی ہے۔اس ملاقات سے کئی روز پہلے وزیر اعظم سے مختلف تنظیموں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ جب وہ برمی لیڈر سے ملاقات کریں تو برما کے ان خانہ بدوش مسلمانوں کا ذکر بھی ضرور کریں لیکن افسوس کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے ان بے سہاروں،بے چاروں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ہندوستان میں آزادی کے بعد سے اب تک سینکڑوں مسلم کش فسادات میںہزاروں بے گناہوں کی جانیں تلف ہوچکی ہیں۔لاکھوں لٹ پٹ کر بربادہوچکے ہیںلیکن آج تک نہ متاثرین کی بازآبادکاری کاکوئی منصوبہ بنایا گیااور نہ قصورواروں کو سزا ملی۔اس کے برخلاف ۱۹۸۴ء میں ہونے والے قتل عام کی پاداش میں کتنے ہی نامی گرامی سیاستدانوںکودھول چٹادی گئی اور متاثرین کوبھاری معاوضے اور دوسری صورتوں میں ملنے والی مختلف امداد کے علاوہ ان کیلئے جنوری۲۰۰۶میں سات ارب ۱۴کروڑ۷۶ لاکھ روپیہ کا بجٹ منظور کیا گیا۔ آج بھی دہلی کی مختلف عدالتوں میں متاثرین کے کتنے ہی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ فساد زدگان کے تئیں اتنی فراخ دلی شاید آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کسی بھی حکومت نے نہیں دکھائی ہوگی لیکن لٹے پٹے ہزاروں برمی مسلما ن دردر کی ٹھوکریں کھاکر بیٹھ گئے ہیں‘ انہیں آج تک معاوضہ کے نام پر سات روپیہ تک نہیں دئے گئے۔ایسی صورت میں کیونکر اس شخص کی زبان پکڑی جائے جویہ گلہ کرے میری بربادی اور تباہی پر خاموشی اختیار کی گئی اور مصلحتوں کے تالے لب اظہار پر چڑھائے گئے کیونکہ میں مسلمان اور کلمہ خواں ہوں۔

ایم ودودساجد
wadoodsajid@gmail.com

نگار
07-19-2012, 06:32 PM
بہت زیادہ دُکھ کی بات ہے کہ مسلمان پر ہر جگہ ظلم ہو رہا ہے ۔
اللہ تعالی ہی کوئی کرشمہ دکھائے گا ایک دن انشاءاللہ

pervaz khan
07-19-2012, 11:36 PM
اللہ پاک رحم فرمائیں آمین

بےباک
07-20-2012, 04:57 AM
http://www.youtube.com/watch?v=HP6YDANbPKc&feature=relmfu
http://www.youtube.com/watch?v=Vu7f2u9dI78&feature=related

pervaz khan
07-20-2012, 01:24 PM
کتنے دکھ کی بات ہے پوری دنیا خاموش ہے

tashfin28
07-20-2012, 07:24 PM
برما ميں کشيدگی اور امريکی موقف

برما کے ريخائين رياست ميں حاليہ نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات اور کشیدگی پر امريکی حکومت کو گہری تشويش ہے۔ ہميں قیمتی جانوں کےالمناک ضیا‏ع اور نقصان پر بہت زیادہ دکھ پہنچا ہے۔

امریکی حکومت مسلسل تمام جماعتوں پر زور دیتی رہی ہے کہ کشیدگی سے گريز کريں اور تشدد سے بالکل بازآئيں۔

یہ برما کی حکومت اور موجود دوسرے اقلیتوں پر منحصر ہيں کہ جنگ بندی اور سيزفائر پرعمل پيرا ہو اور جلد ہی اصل مذاکراتی کوششوں کے راستے پر گامزن ہوجاۓ۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

اذان
07-21-2012, 04:01 AM
برما ميں کشيدگی اور امريکی موقف

برما کے ريخائين رياست ميں حاليہ نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات اور کشیدگی پر امريکی حکومت کو گہری تشويش ہے۔ ہميں قیمتی جانوں کےالمناک ضیا‏ع اور نقصان پر بہت زیادہ دکھ پہنچا ہے۔

امریکی حکومت مسلسل تمام جماعتوں پر زور دیتی رہی ہے کہ کشیدگی سے گريز کريں اور تشدد سے بالکل بازآئيں۔

یہ برما کی حکومت اور موجود دوسرے اقلیتوں پر منحصر ہيں کہ جنگ بندی اور سيزفائر پرعمل پيرا ہو اور جلد ہی اصل مذاکراتی کوششوں کے راستے پر گامزن ہوجاۓ۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

تاشفین صاحب حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ آپ امریکی ڈالر کی خاطر ہمیشہ جھوٹے بیانات دیکر پاکستانی حکمرانوں کی طرح اپنا ایمان کمزور کر کے جہنم کو دستک دےرہے ہیں آپ ڈالروں کے خاطر خوف الہی بھول گئے ہیں، جن کی آپ جھوٹی وکالت کررہے ہیں قیامت کے دن یہ آپ کے کام نہیں آئے گے
اوپر لاشیں دیکھ کر اللہ سے ڈرے
اور یہودیوں کی جھوٹی وکالت بند کریں

بےباک
07-21-2012, 11:56 AM
http://ummat.com.pk/2012/07/21/images/news-22.gif

pervaz khan
07-21-2012, 01:04 PM
یہاں بھی بوسنیا جیسے بھیانک مناظر نظر آ رہے ہیں اللہ پاک رحم فرمائیں آمین