PDA

View Full Version : رومن اردو مستقبل، ترقی یا مستقل خطرہ



ایم اے رضا
07-19-2012, 11:57 AM
manzil ab to ishq sfr main daikh rza yeh aai hey
uski yad ka ujla soraj mery ghr hr sham aya
پچھلے دنوں میرا ہی شعر میرے دوست نے رومن اردو میں ٹائپ کر کے مجھے موبائل پر بطور پیغام بھیجا جسے رومن شکل میں دیکھ کر مجھے بہت معیوب اور عجیب لگا۔ اس نے مجھے تحریک دی اور میں نے اس ،موضوع پر قلم چلانے کی جسارت کی زبان و ادب کے حوالے سے روزمرہ زبان پر دو آراءہمیشہ ملتی ہیں پہلی یہ کہ روزمرہ زبان کے اندر تبدیلیاں مقدر ہوتی ہیں انہیں روکنا نا ممکن ہیں اور دوسری رائے یہ کہ تبدیلیاں ہمیشہ ادائیگی ءتلفظ اور معانی میں ہوں گی نہ کہ اس کے متن اور الفاظ میں ان دونوں آراءکا آپسی گہرا تعلق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس دور میں جو اردو کو خطرہ در پیش ہے اس میں یہ دونوں آراءیا تو من و عن شامل ہیں یا سرے سے شامل ہی نہیں یعنی کہ یہ ایک خطرہ بھی ہے اور ایک تحفہ بھی ایک زحمت بھی ہے اور ایک رحمت بھی ۔۔۔



اگر اردو کی تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو بارہویں صدی میں جنم لے کر شاذ شاذ پنپنے والی اس زبان کو پندرہویں اور سولہویں صدی میں بطور زبان عروج ملا اور خطہ برصغیر میں فارسی کے مقابلے پر دوسری بڑی زبان بن کر ابھری اور اس وقت اردو دنیا کے کم و بیش 13 سے 19 فیصد حصے پر بولی جاتی ہے اور کم و بیش 22 سے 35 فیصد تک پڑھی جاتی ہے۔ (یہ اعداد وشمار انسائکلو پیڈیا انکارٹا (مائکرو سوفٹ کا تخلیف کردہ) اور انسائکلو پیڈیا بریٹینکا سے حاصل کی گئی ہیں) اس کو زبان کا درجہ دلوانے میں اوائل دور میں رجب علی بیگ سرُور کا نام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے جنہوں فسانہ عجائب لکھا اور بھی کئی نام ہیں لیکن رجب علی بیگ سرور کا نام اس لئے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آپ نے نثر میں زیادہ کام کیااس میں کوئی شک نہیں کہ تبدیلی زبان کی فطرت ہے ہر دور کی زبان پچھلے دور سے تھوڑی یابہت مختلف ہوتی ہے اور خصوصی حالات میں یہ عمل اور بھی تیز تر اور زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔



زبان جامد صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب اس کا چلن باقی نہ رہے اور وہ تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائے ۔زبان جتنی پھیلے گی اتنا ہی اس میں مقامی لب و لہجے ،تلفظ اور محاورے کا تنوع پیدا ہوتا ہے تحتی بولیاں رفتہ رفتہ علیٰحدہ زبانوں کی شکل اختیار کر جاتی ہیںہر زبان مستعار الفاظ کے معنی اور تلفظ میں تصرف روا رکھتی ہے اسے اتنا زیادہ معیوب نہیں سمجھتی ہے یہ عموماً نادانستہ طور پر ایک قدرتی عمل ہوتا ہے یہ زبان کے بارے میں چند مسلمات ہیں جنہیں جھٹلانا تقریباً ناممکن ہے ۔انہیں صرف اس لئے دھرایا جاتا ہے ہر دور میں تاکہ ان کے حوالے سے موجودہ تالیف کے مقاصد کو واضح کیا جا سکے اور کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو کسی دور میں بھی ہاں چھوٹا موٹا اختلاف تو ہوتا رہتا ہے جیسے دہلی اور لکھنﺅ والے جوتا اور جوتی کا فرق روا رکھتے جبکہ جناب مرزا اسد اللہ خان غالب نے اس فرق اور اختلاف کو یوں ختم کیا ”کہ بھائی اگر عورت پہنے تو جوتی اور مرد پہنے تو جوتا”اور یہ ان کے دور کا سب سے اہم ترین زبان و ادب کا مسئلہ تھا جسے جناب مرزا نے منٹوں میں حل کئے دیا۔ علمی مسئلے کے طور پر یہ بات دلچسپ ہے کہ اردو نے دوسری زبانوں سے اخذ کردہ الفاظ اور اپنے موروثی الفاظ میں تصرف کیا اور موجودہ دور کی نسبت پچھلے دور میں یہ سب تصرفات اس سے بھی زیادہ روا رکھے گئے ہیں اور اس پر بھی دو گروہ یا طبقات ہیں ایک طبقہ تصرفات کو مانتا ہے اور من وعن تسلیم کرتا ہے اور دوسرا اس سے انحراف کرتا ہے اور آج بھی ان تصرفات کی جگہ اردو کے نئے الفاظ تخلیق کرتا ہے اور ان الفاظ یا تصرفات کی ادائیگی پر بھی دو گروہ ہیں ایک گروہ یا مکتبہ فکر کہتا ہے کہ ان تصرفات ،الفاظ کو اسی زبان کے لہجے یا ادائیگی کے مطابق استعمال کیا جائے جس زبان سے وہ لئے گئے ہوں لیکن دوسرا گروہ یا مکتبہ فکر یہ کہتا ہے کہ نہیں اردو کے تصرفات کے مطابق لہجہ میں بھی تصرف کیا جائے لیکن اس معاملے میں راقم الحروف کا اول الذکر کا ہم پیالہ یا ہم مشرب ہے لیکن یہ اعتراض یا مسئلہ اختلاف بھی اتنا زیادہ سنگین نہیں کہ جو اردو کے لئے نقصان دہ ہو یا بہت زیادہ فائد مند۔۔۔



اردو کے بارے میں ایک اور بہت بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ ادبی اور مجلسی زبان ہے جسے عوام خصوصاً دیہات سے چندا لگاﺅ نہیں،اس اعتراض کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اردو کی تو اساس ہی عوامی تھی ۔اور یہ شاہی درباروں کی نہیں بلکہ لشکروں کی یعنی لشکری زبان ہے اور لشکری زبان میں ہر رنگروٹ ہوتا ہے ہر سپاہی ہر رنگ ہر انداز ہر ڈھنگ ہوتا ہے پھر کیسے یہ ممکن ہے کہ اردو دیہات کو میسر نہ کرے اور لشکر جہاں بھی جایا کرتے تھے شہر تو بہت دور کی مسافت سے یعنی لمبی مسافت سے انکی پہنچ میں آتے تھے لیکن لشکر کی زد میں گاﺅں سینکڑوں کی صورت میں آتے تھے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے لشکر گاﺅں پر اپنی زبان کا اثر نہ چھوڑے اور یہ کہنا غلط اور قرین قیاس نہیں کہ لشکر وں نے صرف شہروں پر اپنا اثر ڈالا یا صرف شہر ہی اسکی زد میں آئے اور اردو نے بازار، کاروبار، حرفوں، پیشوں، درگاہوں، خانقاہوں، خانقاہوں، مجالس سے لے کر سرکار، دربار، سیاست، قانون، نشرواشاعت، افواج اور سول یا دیوانی محکمہ جات، مدارس، مکاتب، جامعات، ادب و معارف تک ہر جگہ نہ صرف اپنی اہلیت کو منوایا بلکہ شاعری ہو یا نثر ہر میدان میں اس نے اپنی اہمیت کا لوہا منوایا ہے لیکن اس وقت اردو کے اوپر سب سے بڑا مسئلہ بلکہ مخمصہ یہ ہے کہ اردو کی املا انگریزی حروف تہجی میں کی جا رہی ہے جسے رومن اردو کہتے ہیں اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نہ تو مکمل طور سے اردو پر وبال سمجھا جا رہا ہے نہ ہی اردو کہ لئے خوش آئند یا اردو کے لئے سازگار انٹرنیٹ کی دنیا سے لے کر موبائل کی اسکرین تک اردو کی املا رومن اردو یعنی انگریزی حروف تہجی میں کی جا رہی ہے راقم الحروف نے جب اس پر تحقیق کی اور چند اردو دنیاسے وابستہ اردو دانوں سے رائے اکٹھی کیں تو نفی اثبات میں آراءبرابر تھیں کچھ لوگ یعنی اردو دان بہت زیادہ اس کو سراہ رہے تھے اور اتنے ہی اردو دان اسے اردو کے لئے ایک مستقل مصیبت سمجھ رہے تھے بنظر غائر اگر اسکا مطالعہ کیا جائے اور مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہی طالب علم جسے اردو املا میں اگر کوئی لفظ لکھنا نہ آتا ہو تو یقیناًوہ اسے رومن اردو میں لکھ دیتا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو اردو پر عبور کم اور انگریزی پر عبور زیادہ ہے اور یہ اردو زبان کے لئے خطرہ ہے۔ اگر اس مسئلے کو جلد حل نہ کیا گیا تو اردو کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اردو کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔اور اس سلسلے میں ہماری اردو پیاری اردو www.oururdu.com اردو لک www.urdulook.com ,www.urdulook.infoاردو نامہ ڈاٹ او ار جی اور اردو محفل کا کام اور خدمات انتہائی غیر معمولی ہے اور مجھے خوشی ہوتی ہے ان سب کو دیکھ کے کہ میں جب بھی کی بورڈ پر لفظ ٹائپ کرتا ہوں اور اردو کی حروف تہجی ٹائپ ہوتی چلی جاتی ہے تو ایک عجیب سا کیف اور سرور ملتا ہے کہ کچھ تو ایسے ہیں جو دوسروں کی غلطیاں نکالنے اور دیگر قوموں کو کوسنے کی بجائے اپنی غلطیاں درست کرنے اور اپنی قوم کو سنوارنے پر لگے ہوئے ہیں اور اردو منظر چیٹ (گپ شپ و گفتگو) خاص طور پر کروڑ ہا مرتبہ مبارک باد کا مستحق ہے جس نے یاہو اور فیس بک جیسے غیر ملکی و غیر معتدل میسنجرز کو پیچھے چھوڑ دیا ،اپنی اعتدال پسندانہ روش اور معاشرتی اقدار کو فروغ دینے کے سلسہ میں،،،

admin
07-19-2012, 03:16 PM
ماشاء اللہ جناب ایک بہترین اور اچھی تحریر ہم سے بانٹنے کا بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔