PDA

View Full Version : اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے : شکیب جلالی



راجہ صاحب
11-23-2010, 03:36 PM
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے

پینا ہو تو اک جرعۂ زہراب بہت ہے
ہم تشنہ دہن تہمتِ بادہ نہیں رکھتے

اشکوں سے چراغإں ہے شبِ زیست، سو وہ بھی
کوتاہیِ مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے

یہ گردِ رہِ شوق ہی جم جائے بدن پر
رسوا ہیں کہ ہم کوئی لبادہ نہیں رکھتے

ہر گام پہ جگنو سا چمکتا ہے جو دل میں
ہم اس کے سوا مشعلِ جادہ نہیں رکھتے

سرخی نہیں پھولوں کی تو زخموں کی شفق ہے
دامانِ طلب ہم کبھی سادہ نہیں رکھتے

علی عمران
11-23-2010, 05:16 PM
اب آپ رہِ دل جو کشادہ نہیں رکھتے
ہم بھی سفرِ جاں کا ارادہ نہیں رکھتے

بہت خوب................ نہایت اعلٰی کلام

صباحت
12-02-2010, 01:09 PM
اشکوں سے چراغإں ہے شبِ زیست، سو وہ بھی
کوتاہیِ مژگاں سے زیادہ نہیں رکھتے

واہ واہ..کیا کہنے

راجہ صاحب
12-02-2010, 02:06 PM
تمام احباب کا شکریہ