PDA

View Full Version : دو بڑی غلط فہمیاں



بےلگام
07-25-2012, 08:44 AM
دو بڑی غلط فہمیاں

جب انسان شعور کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ہی بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، یہ کائنات کیا ہے اور اسے کس نے تخلیق کیا۔ اس سوال کا جواب اس کی پوری عمر کی راہ متعین کر دیتا ہے۔ انسانوں نے جب بھی اس سوال کے جواب میں ٹھوکر کھائی تو وہ دو غلط نتائج تک پہنچے۔

ایک نتیجہ تو وہ تھا جس پر انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل کے مغربی مفکرین پہنچے، وہ یہ تھا کہ یہ کائنات خود بخود ہی وجود پذیر ہو گئی ہے۔ اس کا کوئی خالق نہیں۔ یہ ایک نہایت ہی غیر علمی اور نامعقول نظریہ ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس باطل تصور کی دلیل کے طور پر ایک غلط نظریے، نظریہ ارتقاء کو پیش کیا گیا حالانکہ اگر یہ نظریہ درست بھی ہوتا تو یہ محض کائنات کے طریقہ تخلیق کی تفصیل کو بیان کرتا ہے نہ کہ اسے کسی خالق کے وجود سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ اب جدید سائنس اس نظریہ ارتقاء کو غلط ثابت کر چکی ہے۔
دوسرا غلط نتیجہ وہ تھا جس پر قدیم دور کا انسان پہنچا۔ یہ نظریہ شرک تھا۔ اس نظریے کے مطابق کائنات کی تخلیق تو ایک ہی خدا نے کی تھی لیکن اس نے اپنے اختیارات کو متعدد خداؤں اور دیوی دیوتاؤں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد پر توہم پرستی اور دیو مالا (Mythology) کی ایک دنیا تخلیق کی جاتی۔ یہ سب بھی عقل و دانش کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض عقیدت و محبت کے جذبات کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔

اللہ تعالی کے نبیوں نے ہر دور میں ان دونوں انتہا پسندانہ نظریوں کی بجائے انسان کو درست حقیقت کی نشاندہی کی ہے۔

أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ (فصلت 41:6)

بے شک تمہارا خدا تو بس ایک ہی خدا ہے۔ اسی کی جانب سیدھے رخ کرو۔ اسی سے مغفرت کی درخواست کرو اور مشرکین کے لئے تو ہلاکت ہے۔

اللہ تعالی کے انبیاء و رسل کی دعوت کو قبول کرنے والے توحید خالص کو اختیار کرتے۔ ان کی عبادات اور محبت کا مرکز اپنے رب کی ذات بن جاتی۔ وہ اسی سے مدد مانگتے، اسی کے آستانے پر سر جھکاتے اور ہر مشکل میں اسی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا، توحید خالص کے ان پیروکاروں کی بعد کی نسلیں، اپنے گرد و پیش کی مشرک اقوام کی توہم پرستی سے متاثر ہو کر توحید خالص میں شرک کی آمیزش کر لیا کرتی تھیں۔ بنی اسرائیل ایک خالص موحد قوم تھی لیکن اس کی بعد کی نسلیں فلسطین و مصر کی مشرک اقوام کی بت پرستی سے متاثر ہو بیٹھیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ بسا اوقات ان اقوام نے خدا کے انہی برگزیدہ نبیوں اور رسولوں کو اس کے شریک کا درجہ عطا کر دیا۔ بنی اسرائیل کے ایک فرقے نے سیدنا عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا قرار دیا تو سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے پیروکاروں نے توحید خالص کے علمبردار عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اپنی توحید میں شرک کی آمیزش کر لی۔ سیدنا اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد نے تو انتہا کر دی کہ اپنے آباء ابراہیم و اسماعیل علیہما الصلوۃ والسلام کے تعمیر کردہ مرکز توحید کعبۃ اللہ میں خود انہی کی تصاویر آویزاں کر دیں۔
عقل مند لوگ زیادہ تر خاموش رہتے ہیں اور مزید علم حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ بے وقوف لوگ زیادہ بولتے ہیں اور اس طرح اپنے لئے مصیبتوں کا باعث بن جاتے ہیں۔ سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام


توحید خالص کا یہ عقیدہ انسان کی فطرت میں اس حد تک اترا ہوا ہے کہ اگر وہ شرک کو اختیار کرتا بھی ہے تب بھی وہ دیوتاؤں کو ایک مخروطی تنظیم (Hierarchy) کی شکل دے لیتا ہے اور ان میں سے ایک ہستی کو سب سے برتر مانتا ہے۔ اگر انسان الحاد کو اختیار کرتا ہے تب بھی وہ کسی نظریے کو خدا کے مقام پر فائز کر کے اس کی پوجا شروع کر دیتا ہے۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دنیا کو توحید خالص کے فطری تصور سے روشناس کروایا۔ آپ کی امت چودہ صدیوں سے توحید خالص پر قائم ہے۔ ایسا ضرور ہوا ہے کہ اپنے ارد گرد کی اقوام سے کچھ مشرکانہ تصورات اور رسوم و آداب مسلمانوں میں در آئے ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی امت مسلمہ توحید پر قائم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مشرکانہ تصورات اور رسوم و آداب کی نشاندہی کر دی جائے تاکہ ان سے نجات حاصل کی جا سکے۔ ہماری رائے میں موجودہ دور میں چار ایسے معاملات ہیں جن میں مسلمانوں کے ہاں شرکیہ رسوم و آداب در آئے ہیں:

· اللہ تعالی کی بجائے کسی اور سے عبد و معبود کا تعلق

· ختم نبوت کی عملی تردید

· دیومالا کی تخلیق

· مراسم عبودیت کی تخلیق