PDA

View Full Version : سیرت رسول (ص) پر نادر کتاب



بےباک
07-28-2012, 07:39 PM
http://www.itdunya.com/images/smilies/bism.gif
سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ شاندار کتاب جو آپ نے اس سے پہلے پڑھی نہ ہو گی ،
سیرت کی وہ کتاب جس کو پیارے رسول رحمۃ اللہ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں قبولیت کی سند دی ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مضمون پڑھیے تب آپ کو یقین ہو گا ،
انداز بیان اپنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سردار احمد قادری
انسان اپنے تحفظ کے لئے مشکل کے وقت کسی مدد، کسی سہارے کا محتاج ہوتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے کسی کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوئی بھی انسان دوسرے انسان کے تعاون ،مدد سے کبھی بھی بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ مشکل کے اوقات میں جو کسی کی مدد کرتا ہے۔ انسان زندگی بھر اس کا احسان مند اور شکر گزار رہتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی تمام جہانوں کا نگہبان مالک اور رازق ہے۔ وہ ”مسبب الاسباب“ ہے اور اس نے اپنے حبیب کریم رؤف الرحیم آقا مولا سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمت اللعالمین بنا کر معبوث فرمایا ہے اور قیامت تک بلکہ روز قیامت بھی آپ ہی ہمارے لئے وسیلہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی مدد، رحمت اور شفاعت کا ذریعہ ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی مدد اپنی مخلوق کے ذریعے کرتا ہے اور اس کی تمام ترمخلوقات میں اعلیٰ، ارفع اور ممتاز ترین ہمارے آقا ومولا صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ اس لئے دنیا میں جب بھی کہیں کوئی آپ سے قلبی روحانی رابطہ اور تعلق فراہم کرتا ہے آپ مدد فرماتے ہیں اور پریشانی اور غم سے نجات دلاتے ہیں۔
1899ء میں لاہور کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوشحال ہند و خاندان میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام کنہیا لال رکھا گیا۔ یہ ”گابا“ خاندان میں پیدا ہوا تھا اس لئے اس کا پورا نام کنہیا لال گابا تھا جسے مخفف الفاظ میں کے ایل گابا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کے ایل گابا کا والد پنجاب کی برٹش راج کی حکومت کا وزیر تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان بھیجا ،نوجوان کے ایل گابا بیرسٹری کی سند لیکر واپس آیا۔ 34 سال کی عمر میں کے ایل گابا کی زندگی میں ایک انقلابی موڑ آیا اس نے اپنے مطالعہ کے ذوق و شوق کے تحت آقائے دو جہاں صلے اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ شروع کیا اور جوں جوں وہ سیرت کے باب پڑھتا جاتا تھا اس کے دل کے بند تالے کھلتے جاتے تھے بلآخر وہ غلامی رسول میں آگیا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا۔ اس کے اعلان سے معاشرہ میں ایک ارتعاش پیدا ہوا بالخصوص ہندو کمیونٹی اور اس کے اپنے گھرانے پر تو ایک قیامت گزر گئی۔ متعصب ہندؤں نے ایک طوفان بدتمیزی برپا کردیا، اس نے زہر میں بجھے ہوئے تمام سوالوں کا جواب دینے کے لئے اور اپنے مسلمان ہونے کی وجہ بیان کرنے اور اپنے آقا و مولا ﷺسے اپنی قلبی عقیدت و محبت ظاہر کرنے کے لئے انگریزی میں ایک سیرت طیبہ کے موضوع پر ایک شاہکار کتاب لکھی ”پیغمبر صحرا“ (PROPHET OF THE DESERT) اس کتاب کے شائع ہوتے ہی اس کے خلاف سازشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کے ایل گابا جو اب بھی کے ایل گابا ہی تھا کیونکہ اس نے اپنا نام خالد لطیف گابا رکھا تھا ایک سازش کے تحت ایک غلط مقدمے میں پھنسا دیا گیا اور اسے جیل ہوگئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج نے اس کی ضمانت کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی رقم تجویز کی یہ اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی، یہ آج کے کئی کروڑ روپے بنتے ہیں مسلمانوں کی حالت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ وہ یہ رقم ادا کرتے مسلمان اخبار ”زمیندار“ نے مسلمانوں سے چندے کی اپیل کی لیکن رقم اکھٹی نہ ہوسکی۔ اس دوران ایک رات سیالکوٹ کا ایک مسلمان تاجر حاجی سردار علی سویا ہوا تھا کہ اس کی قسمت جاگ اٹھی، آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کہ کے ایل گابا کی ضمانت کیلئے رقم مہیا کرو اور اسے بتاؤ کہ اس نے میرے متعلق انگریزی زبان میں جو کتاب لکھی ہے مجھے پسند آئی۔ چوہدری سردار علی نے اپنی جائیداد رہن رکھ کر رقم کا انتظام کیا اور لاہور پہنچ گیا۔ جیل پہنچ کر اس نے کے ایل گابا کو جب یہ بتایا کہ وہ اس کی ضمانت کا انتظام کرانے آیا ہے تو اس نے پوچھا تم مجھے کیسے جانتے ہو؟ سیالکوٹ کے اس تاجر نے بتایا کہ میں تو تمہیں نہیں جانتا لیکن آقا علیہ السلام تمہیں اچھی طرح جانتے ہیں اور تمہاری کتاب کو پسند بھی فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت میں یہاں آیا ہوں اور تمہاری ضمانت کا انتظام کرا رہا ہوں ، خالد لطیف گابا کا ایمان اور مستحکم ہوگیا اس کو یقین ہوگیا کہ اسلام میں خالق کائنات جب کسی کی مدد کرتا ہے تو اس کا وسیلہ اور ذریعہ آقا کریم علیہ الصلوة والسلام کی ذات اقدس ہوتی ہے احساس تشکر سے اس کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں۔

بندہ مٹ جائے نہ آقا پر وہ بندہ کیا ہے
بے خبر ہو جو غلاموں سے وہ آقا کیا ہے
۔۔
کے ايل گابا لاہور ہائيكورٹ ميں ايك مشہور وكيل ہوا كرتے تھے ۔ پھر انہوں نے بنظر غائر اديان عالم كا مطالعہ كيا اور صميم قلب كے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ خالد لطيف نام پايا۔ وہ اس مناسبت سے بھی كے ايل گابا ہی رہے۔ انہوں نے بعد از آزادى " بھارتى مسلمانوں" كى حالت زار سے متعلق خون رلا دينے والى ايك كتاب "مجبور آوازيں" لکھی تھی مگر ان كى نمائندہ تصنيف " Prophet of Desert" ہے۔ غالبا اس كا اردو ترجمہ بھی " صحرا كا پيغمبر" كے نام سے چھپ چکا ہے۔ يہ دراصل ايك حقيقت پسند نو مسلم كا اپنے آقا و مولا كى عظمت كا شان دار الفاظ ميں بيان ہے۔وہ اس كے مقدمہ ميں لكھتے ہیں :
"اسلام اب بھی ايك بہت بڑی طاقت ہے اور اسى ليے بلقان والوں كى مخالفت اور يہوديوں كى نفرت وقتا فوقتا منظر عام پر آتى رہتی ہے۔ نہرو بھی خوف زدہ رہتا ہے اور تو اور روس جيسى قوت بھی اس كى دشمنى كا دم بھرتى ہے۔"

اذان
07-28-2012, 11:08 PM
زبردست شئیرنگ کا شکریہ
جزاک اللہ

pervaz khan
07-29-2012, 01:18 PM
جزاک اللہ

بےباک
07-29-2012, 05:46 PM
http://www.deeneislam.com/ur/horiz/halate_hazra/1908/i_2.gif

بےباک
07-29-2012, 05:55 PM
دوستو جب میں نے یہ دو مضامین مطالعہ کیے تو مجھے اس کتاب کی تلاش اور جستجو شروع ہوئی جس کو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قبولیت کی سند عطا فرمائی ہے ،
تو مجھے وہ کتاب مل گئی ، اس کی اصلی کتاب جو کہ 1934 میں لاہور سےچھپی تھی ، اور پھر مجھے تلاش ہوئی ۔۔۔ اس کا اردو ترجمہ بھی تلاش کیا ،جو کہ نذیر احمد مدنی صاحب کی وساطت سے مجھ تک پہنچا ، اور میں ان کا بھی ممنون ہوں ، اس کے بعد اس کو سکین کیا گیا ، الحمد للہ رمضان میں اپ کے لیے ایک خاص تحفہ ہے ،
الحمد للہ دونوں زبانوں میں کتاب مل گئی ہے ، اور اردو منظر کے دوستوں کے لیے رمضان المبارک کا تحفہ ہے ، اور پیارے رسول صلہ اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے طالب ہیں ، سب دوستوں سے دعا ہے کہ وہ درود شریف پڑھیں اور سب مسلمانوں کے لیے دعا کریں ،
آپ سب کے لیے نیک تمناؤں کا طلب گار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا اردو ترجمہ کا لنک لیں ،،آن لائن بھی پڑھی جا سکتی ہے ، اور اگر نیٹ کی رفتار تیز نہیں تو ساتھ میں پی ڈی ایف کی شکل میں ڈاون لوڈ بھی کی جا سکتی ہے ،
http://www.mediafire.com/view/?nn3322iidinlcmv

کتاب کا اصلی انگریزی نسخہ ،http://www.iqra.co.za/images/categories/DSC03784.JPG
http://www.mediafire.com/view/?xpuy38k33nyf8cy

محترم خالد لطیف گابا ۔ اپنے والد سے اور گھر والوں سے بالکل الگ ہو گئے تھے ، تقسیم ھند اورقیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد وہ انڈیا چلے گئے تھے ، اور دو سال پہلے ان کی وفات ہوئی ہے ،خالد لطیف گابا کا والد ہرکشن لال قصبہ لیہ جو کہ ڈیرہ غازی خان کے قریب ہے پیدا ہوا تھا ، وہ 1937 میں فوت ھو گیا تھا

عبید قندیل
07-29-2012, 06:25 PM
ماشااللہ نہایت خوبصورت اور معلوماتی کتاب شیئر کی ہے۔ جزاک اللہ خیر

بےباک
07-29-2012, 06:29 PM
خالد لطیٍف گابا کی ضمانت ہو گئیKhaled Latif Gauba gets bail

Barrister K.L. Gauba was born in 1899. He was the son of Lala Harikrishna Lal Gauba. Barrister K.L. Gauba started working as a clerk under the Deputy Commissioner of Multan, India. Over time K.L. Gauba accumulated great wealth and eventually became the Minister of Education in Punjab, India. K.L. Gauba was a very kind-hearted person. Later in life, K.L. Gauba became the target of ruthless persecution of the British Government in India. The British Government sold all of his assets at auction and K.L. Gauba died virtually a pauper.
Khaled Latif Gauba eldest son of the banker millionaire and first Hindu minister of Punjab, Lala Harkishan Lal Gauba. Even after converting to Islam, he would write K.L. Gauba while signing his name in English. After becoming a Muslim, K.L. Gauba wrote a book in English about the Beloved Prophet (sallallahu alaihe wa sallam). The book was entitled “Prophet of the Desert.” The book, which was reprinted several times, was widely acclaimed by readers.

In his autobiography “Friends and Foes”, K.L. Gauba describes how he became the target of systematic persecution of the British government. K.L. Gauba states that for some reasons, he incurred the wrath of Sir Douglas Young, the then Chief Justice of the High Court of Punjab. K.L. Gauba was implicated in a case and was jailed for a period of time. The Lahore District and Session Judge fixed K.L. Gauba’s bail at 1,50,000.00 in local currency. Despite repeated appeals by two Muslim dailies "Daily Jamnidar" and "Ehsan" for financial contributions, no local Muslim could come up with the amount required to free K.L. Gauba on bail. As a result, K.L. Gauba had to stay in jail for several weeks.

During this time, Alhaj Malek Sardar Ali, a contractor by profession in Sialkot, Pakistan was blessed with the vision of the Beloved Prophet (sallallahu alaihe wa sallam) in a dream. In the dream, the Beloved Prophet (sallallahu alaihe wa sallam) said: “Sardar Ali, rise and go to Lahore in the morning to free a neo-Muslim Khaled Latif Gauba with 1,50,000.00 in bail money. He has written about me in the book "Prophet of the Desert" which I have liked very much.”

Malek Sardar was delighted at the unexpected and yet auspicious vision of the Beloved Prophet (sallallahu alaihe wa sallam). Without delay, he carried out the orders of the Beloved Prophet (sallallahu alaihe wa sallam) and went to the court to certify the necessary papers to free K.L. Gauba. At the court, the deputy commissioner Mr. Chandra sought to instill fear in Malek Sardar by telling him that in the event K.L. Gauba escapes on bail, Malek Sardar would lose all of his security deposits. Malek Sardar remained adamant and replied that he would be happy to even sacrifice his own life to carry out the orders of the Beloved Prophet (sallallahu alaihe wa sallam) even though he neither saw nor knew Latif Gauba before.

The deputy commissioner Mr. Chandra refused to certify the papers of Malek Sardar. Malek Sardar borrowed from friends and deposited 1,50,000.00 at the British Session Judge Court in Lahore, Pakistan to free Latif Gauba.

اردوجواب
07-29-2012, 11:28 PM
ماشاء اللہ
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
آمین
میں نے ارادہ کیا ہے اس مقبولیت کے شرف سے ہمکنار ہونے والی کتاب کو اردو ٹیکسٹ میں لکھ کر انٹر نیٹ کی زینت بناؤں۔۔۔تا کہ پڑھنے جو دشواری مجھے ہو رہی ہے کسی اور کو نہ ہو۔
تھوڑا وقت لگے گا لیکن انشا ء اللہ جلد ہی اسے خوبصورت ٹیکسٹ فارمیٹ میں لے آؤں گا۔
طالب دعا،

بےلگام
07-30-2012, 01:35 AM
ماشاءاللہ

روشن خیال
07-30-2012, 08:03 AM
بے باک جی
جزاک اللہ خیر

مدنی
07-30-2012, 08:34 PM
سر جی ، جزاکم اللہ خیرا احسن الجزا،
بارک اللہ فی اھلک ومالک وعلمک وعملک ،
آمین ثم آمین

زیرک
09-06-2012, 01:11 AM
بہت اچھے بےباک جی بہت اچھا پسِ منظر پیش کیا ہے آپ نے، انشاءاللہ اب اس کتاب کا مطالعہ کرنا ہم پر فرض ہو گیا ہے۔
اللہ پاک ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور آپکو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔