PDA

View Full Version : اربابِ علم و دانش سے ایک گزارش



نذر حافی
07-29-2012, 03:40 PM
نذر حافی

اس وقت ملتِ اسلامیہ یہودوہنود کے چنگل میں آئی ہوئی ہے اور مسلمانوں کی نوجوان نسل کولادین اور اوباش بنانے کے لئے طاغوتی طاقتیں پوری طرح سرگرمِ عمل ہیں۔طاغوت اپنی سیاسی حکمتِ عملی،اقتصادی دبائو،پلورل ازم کے نشے ،عسکری طاقت اور ثقافتی یلغارکے ذریعے ہماری آئندہ نسل کو دین و اخلاق اور اسلامی تہذیب و تمدّن سے عاری کرنے کا منصوبہ بنا چکاہے اور اس طاغوتی منصبوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پہلے مرحلے میںمسلمانوں کو اپنی علاقائی اور قومی زبانوں سے ناآشنا کیاجارہاہے۔
صاحبانِ علم و دانش بخوبی جانتے ہیں کہ زبان ہی وہ وسیلہ ہے جس کی بدولت نسل جدید کاقدیم سے رابطہ قائم ہوتاہے اور جس کے ذریعے علمی میراث،تہذیبی اقدار،ثقافتی فنون ،ادبی جواہر،سیاسی بصیرت اوردینی محبت نسل درنسل،سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہے۔اگر کسی قوم کو اس کی زبان سے محروم کردیاجائے تواس کی نسلِ نو اپنے ہی ملک میں بیگانی ہوجاتی ہے،اس کے بچے علم اپنے علمی ذخائر سے محروم ہوکرغیروں کی کتابوں کے محتاج ہوجاتے ہیں اور پھر غیر اپنی کتابوں اور اپنے نصاب تعلیم کے ذریعے اپنی ضرورت کے مطابق افراد تیار کرتے ہیں اور ان سے اپنی مرضی کے کام لیتے ہیں۔جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ لارڈمیکالے برّصغیر میں یہ تجربہ انجام دے چکاہے اور اسی کایہ نتیجہ ہے کہ آج برصغیر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عربی اور فارسی نہیںسمجھ سکتی اور ہماری اکثریت دوسرے ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات سے اس قدر بے خبر ہے کہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ استعماری طاقتیں کیاکیا ظلم کررہی ہیں۔چونکہ ہمارے لئے عربی اور فارسی کو اجنبی بنادیاگیاہے لہذا ہم جوکچھ بی بی سی،سی این این اور وائس آف جرمنی وغیرہ سے سنتے ہیں اسے ہی سچ سمجھتے ہیں۔
آج جب برما یا لبنان کے مسلمان ہمیں مدد کے لئے پکارتے ہیں تو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں،آج جب کشمیر اورفلسطین کی بیوائیں مدد کے لئے چیختی ہیں تو ہمیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ ہماری ذمہ داری کیاہے،آج جب افغانستان اور عراق کے کھنڈرات میڈیاپر دکھائے جاتے ہیں توہم صرف خاموش تماشائی بن کردیکھتے رہتے ہیں ۔
اگر استعمار ہم سے عربی اور فارسی زبان نہ چھیننتا تو یقیناً آج ہماری صورتحال اس سے مختلف ہوتی۔جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ جب تک برّصغیر میں عربی اور فارسی کادوردورہ تھا یہاں کے مسلمان ہمیشہ اسلام کے دفاع اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں کی مدد کے لئے کمربستہ رہتے تھے۔عربی اور فارسی کے بعد اب استعمار نے اردو زبان کو تختہ مشق بنارکھاہے۔ہماراآج کا جوان ،شیخ سعدی،مولانا روم،محی الدین عربی ،ملا صدرالدین شیرازی اوربوعلی سینا سے پہلے ہی ناآشناہے جبکہ علامہ اقبال سے بھی اس کا رابطہ انتہائی سطحی ہے ،اب اردوزبان کوختم کرکے انگلش کے ذریعے پاکستانی جوانوں کو میکاویلی،جان لاک،روسو،مل ،سمتھ اور سٹالن کا فریفتہ بنانے کا کام کیاجارہاہے۔آج پاکستان کی نسلِ نو کے علمی و فکری ارتقاء اوراخلاقی و دینی رشد کے لئے ضروری ہے کہ حوزہ علمیہ قم کے علمی و فکری ذخائر کو اردو زبان میں منتقل کرکے اردوزبان کے اندر بھی استعمار کے خلاف مقاومت اور مزاحمت کی روح پھونکی جائے۔
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی اور سربلندی کے پیچھے حوزہ علمیہ کی علمی و فکری طاقت پوشیدہ ہے۔حوزہ علمیہ قم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک بڑی خدمت یہ کی ہے کہ استعمار کا مقابلہ کرنے کے لئے فارسی زبان کوعلمی و فکری لحاظ سے اہلِ ایران کے لئے بالخصوص اور عالمِ اسلام کے لئے بالعموم ایک مضبوط قلعہ بنادیاہے۔ اسلامی جمہوری ایران کے مقابلے میں استعمار اس لئے مسلسل پسپاہوتاجارہاہے چونکہ ایران کا نظامِ تعلیم فارسی زبان میں ہے جس کے باعث ایرانی نسل کا رابطہ اپنے مفکّرین ،علماء اور دانشمندوں سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہے اور ان کے مقابلے میں جو استعماری فکر بھی ایران میںمغربی میڈیایامغرب نوازمیڈیاکے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے ،ایرانی مفکرین اپنی زبان میں حقائق کا تجزیہ و تحلیل کرکے لوگوںکواس سے آگاہ کردیتے ہیں۔چنانچہ زبان اور میڈیاکے ذریعے استعمار علمی و فکری بحران پیدا کر کے ایران میں داخل ہونے میں ناکام ہوچکاہے۔
ہماری پاکستان کے تمام اربابِ علم و دانش سے یہ گزارش ہے کہ وہ اردو زبان کی حفاظت کے لئے اپنے قلم اٹھائیں اور اپنی زبان کھولیں۔
یہ صاحبان علم و شعور کی دینی وملّی ذمہ داری ہے کہ وہ استعمارکی سازشوں اورمستقبل میں استعمارکی طرف سے ممکنہ خطرات کامقابلہ کرنے کے لئے جہاں پر اپنے حکمرانوں کو مفید مشورے دیں وہیں پر اپنی ملت کوبھی شعوری طور پر استعمار کے مقابلے کے لئے تیارکریں۔
آئیے ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کے لئے اور اپنے دینی و ملی تشخص کے بقاء کی خاطرتمام گروہوں اور تعصبات سے بالاتر ہوکر جدوجہد کرنے کاعزم و عہدکرتے ہیں۔اب وہ وقت آپہنچاہے کہ پاکستان بنانے والوں کو پاکستان بچانے کا ہنر بھی سکھایاجائے۔
nazarhaffi@yahoo.com

بےباک
07-29-2012, 11:10 PM
محترم بھائی نذر حافی صاحب ، آپ کی تحریریں فکری انقلاب والی تحریریں ہیں ۔ بلاشبہ بحیثیت مسلمان عربی ہماری مذھبی زبان ہے اور اردو ہماری قومی زبان ہے ، آج تک ہمارے حکمران اور ارباب اقتدار نے باوجود وعدے کر کے پاکستان کی قومی زبان سے انحراف کیا ہوا ہے ،
آپ کی تحریر ایک رہنما تحریر ہے ، آپ اس فورم پر ضرور لکھا کریں ،
دینی اور ملی تشخص اگر ہو گا تو پاکستان کی بقا ہو گی ، ورنہ ہماری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

pervaz khan
07-30-2012, 12:17 PM
زبردست

انجم رشید
07-30-2012, 03:31 PM
السلام علیکم
بہت بہت شکریہ نزر صاحب آپ نے واقع ایک سلگتے ہوے موضع پر بات کی ہے آج ہمارہ نظام تعلیم انگلش میں ہے چھوٹے چھوٹے بچے بھی صرف ماما پاپا جانتے ہیں امی جان ابا جان جیسے الفاظ کا ان کو علم ہی نہیں بہت بہت شکریہ جناب

نذر حافی
08-01-2012, 03:16 PM
السلام علیکم۔۔۔۔
مجحے یہ جان کر خوشی ہوءی کہ ابحی ہمارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو ان ھساس موضوعات کو سمجحتے ہیں اور اپنے دین و ملک سے سچی مھبت رکحتے ہیں۔مجحے آپ کا یہ پلیٹ فارم شعوری و فکری ھوالے سے بہت پسند ایاہے۔آپ دعاکریں کہ خداوند عالم علم و شعور کے اس سفر میں مجحے آپ کا ہمسفر بننے کی توفیق عطا فرماءے۔ آمین