PDA

View Full Version : "دو ٹکے کے "عام آدمی"



نذر حافی
08-01-2012, 03:28 PM
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com

الف۔ہیلو سر!میں ایک عام پاکستانی ہوں۔کیا آپ بھی پاکستانی ہیں؟
ب۔جی ہاں،لیکن میں عام پاکستانی نہیں ہوں،میں ذرا لیڈر ٹائپ شخص ہوں
الف۔پڑھے لکھے بھی ہیں؟
ب۔جی کیوں آپ کو اس سے کیا غرض۔۔۔؟
الف۔ اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ آج کل پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔۔۔
ب۔جی ہاں پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کے حالات بہت خراب ہیں،بہت زیادہ
الف۔ویسے آپ نے اس قتلِ عام کو رکوانے کے لیے کچھ کیا ہے؟
ب۔جی ہم نے بہت زیادہ پریس کانفرنسیں کی ہیں،ریلیاں نکالی ہیں،پوسٹر چھپوائےہیں اور احتجاجی جلوس نکالے ہیں۔
الف۔اچھا تو پھر کیا قتلِ عام رُک گیا ہے؟
ب۔جی نہیں!چونکہ ہمارے ہاں صرف پڑھے لکھے لوگوں کا قتلِ عام نہیں ہو رہا بلکہ فرقہ وارانہ قتل، سیاسی قتل،عدالتی قتل،سماجی قتل،اقتصادی قتل،میرٹ کاقتل۔۔۔ہر طرح کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔۔۔
الف۔تو پھر آپ اس ظلم کے خلاف کیا کر رہے ہیں؟
ب۔وہ جی ہم اس ظلم کے خلاف لوگوں کا شعور بلند کر رہے ہیں۔
الف۔بہت خوب !آپ لوگوں کا شعور کیسے بلند کر رہے ہیں؟
ب۔ہم ظلم کے خلاف نعرے لگاتے ہیں،پوسٹر چھاپتے ہیں اور ظالم کی مذ مت کرتے ہیں۔
الف۔اچھا تو کیا ان نعروں اور مذمتوں سے کچھ فرق پڑا؟
ب۔حقیقت تو یہ ہے کہ بلکل فرق نہیں پڑا۔
الف۔کیا اس طرح آئندہ کوئی فرق پڑنے کی امید ہے؟
ب۔جی سچ پوچھیئے تو وہ بھی نہیں
الف۔آخر کیوں ؟
ب۔وہ جی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگوں کا قتلِ عام بہت ضروری ہے۔ہماری تمام تر مشکلات کا حل اسی قتلِ عام میں ہی ہے۔
الف۔وہ کیسے۔۔۔؟
ب۔دیکھیں ناں جی ہمارے ہاں دو بڑی مشکلات ہیں،ایک بے روزگاری اور دوسرے اقتصاد،اور ان دونوں کا علاج قتلِ عام میں ہی ہے۔
الف۔۔ہیں،ہیں،یہ آپ نے کیا کہا؟؟؟
ب۔۔ جی جی میں نے ٹھیک کہا
الف۔وہ کیسے۔۔۔؟
ب۔وہ ایسے کہ جب کہیں پر کچھ لوگ قتل ہوتے ہیں تو بہت سارے بے روزگاروں کو روزگار مل جاتاہے،۱یک توشہدا کی بیواوں اور یتیموں کی سرپرستی کے لئے فنڈز اکٹھے کئے جاتے ہیں جس سے بہت سارے لوگ چندہ جمع کرنے کا دھندہ شروع کرتے ہیں،اس طرح ان کی بے روز گاری اور اقتصادی مشکلات ختم ہوجاتی ہیں ،دیگیں پکتی ہیں ،چاول بکتے ہیں ،اس کے علاوہ کفن فروشوں کا کپڑا خوب بکتاہے،لیڈروں کی دکانیں چمک اٹھتی ہیں،قاتلوں کو یزید اور شہدا کو مظلوم کہہ کر لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں،شہدا کے پسماندگان کے ساتھ تصاویر بنواکر نت نئی شخصیات کو ابھرنے کا موقع ملتاہے۔اس کے علاوہ قتلِ عام سے آبادی کم ہوجاتی ہے ،جس سے روزگار کے مواقع زیادہ ہوجاتے ہیں۔۔۔
الف۔میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا۔
ب۔نہ کریں ،آپ کو سیاست کا کیا پتہ
الف۔پاکستان میں سب لوگ تو شہدا کے خون کی تجارت نہیں کرتے ،مخلص لوگ بھی موجود ہیں۔سب کو ایک جیسا کہنا مخلصین کے ساتھ زیادتی ہے۔
ب۔جی ہاں،پاکستان میں مخلصین کے ساتھ اور بھی بڑی بڑی زیادتیاں ہوتی رہتی ہیں،ایک چھوٹی سی زیادتی یہ بھی سہی۔ ویسے مٹھی بھر مخلصین کی وجہ سے سب کو اچھا کہنابھی تو مخلصین کے ساتھ زیادتی ہے۔
الف۔اچھا چھوڑیئے یہ بتائیے کہ آخرپاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کا قتلِ عام کیوں نہیں روکاجاسکتا؟
ب۔صاف بات ہے کہ بھیڑئیے کی درندگی کو بھیڑوں کی میں میں سے نہیں روکا جا سکتا۔۔۔ویسے یہ بتائیں کہ کیا ان پڑھ آدمی"انسان "نہیں ہوتا۔آپ کو اُس کی فکر کیوں نہیں؟
الف۔خیر انسان تو انسان ہی ہوتا ہے ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا ۔در اصل ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کے بقول پاکستانی سیاستدان غدار ہیں،فوج اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کر رہی، عدلیہ میں ہوتا ہے شب و روز تماشامیرے آگے،بیوروکریئٹس کرپٹ ہیں،۔۔۔
ٹھیک ہے،یہ ساری باتیں ٹھیک ہیں لیکن آپ ان مسائل کا حل تو بتائیں۔ میدان میں تو اُتریں۔ راستہ تو دکھائیں۔
ب۔دیکھو مسٹر" عام شخص"،تم عام آدمی ہو لہذا لیڈروں کے کاموں میں مت پڑو اور کان کھول کر سن لو!
میدان میں اترنے والے چلے گئے اب ان کا صرف نام لیاکرو اور ان کے ناموں کے ترانے پڑھاکرو
الف۔آپ کا اشارہ کس کی طرف ہے کون لوگ چلے گئے؟؟؟
الف۔وہی تمہارے مخلصین ،علامہ اقبال،محمد علی جناح،ضیاالدین رضوی،عارف حسینی اور مفتی جعفر وغیرہ وغیرہ
ب۔وہ چلے گئے ہیں تو پھر آپ کون ہیں؟
الف۔عزیزم!یہ سوال ہم سے نہیں اپنے آپ سے پوچھو،ہم لیڈر ہیں،رہبرہیں،مالک ہیں اور تم۔۔۔تم کون ہو؟؟؟
"دو ٹکے کے "عام آدمی"

انجم رشید
08-02-2012, 10:37 PM
السلام علیکم
بہت بہت شکریہ جناب

بےباک
08-05-2012, 04:00 PM
بہت ہی تلخ سچ ،،
شکریہ نذر حافی صاحب ،

شان
11-08-2012, 08:22 PM
بہت خوب لکھا ہے کہ لیڈروں کے کاموں میں مت پڑو