PDA

View Full Version : کیاہم ایرانیوں سے کم ہیں۔۔۔؟



نذر حافی
08-01-2012, 03:37 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نذر حافی

معیشت کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی جبکہ بجلی معیشت کے لئے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔موجودہ دور میں بجلی کے بغیر معیشت کا تصور بالکل ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر ایک زندہ انسان کا تصور ۔اس ضمن میں گزشتہ کئی سالوں سےاس خبر کی بازگشت تو آپ سن ہی رہے ہیں کہ حکومت ایران ایک عرصے سے پاکستان کو سستے داموں میں بلکہ کسی حد تک مفت میں بھی بجلی کی فراہمی پر کمر کسے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں اب تک پاکستان و ایران کے درمیان جتنے بھی معائدے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر ایرانیوں نے ہی جوش و خروش دکھایاہے۔ پاکستان کو بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں ایرانیوں کے جوش و خروش کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ ۲۰۰۸ سے لے کر اب تک ایران نے اپنے حصے کا بڑا کام مکمل کرلیاہے حتی کہ پاکستانی بارڈر کے نزدیک ایرانی حدود میں ایک ہزار کلو میٹر تک گیس پائپ لائن بچھا کر ٹرانسمیشن سسٹم بھی نصب کردیاگیاہے اورایرانی سرحد کے قریب پاکستانی قصبوں میں ایران ۳۵میگاواٹ بجلی فراہم کر بھی رہاہے۔ہم یہاں پر یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ اس جوش و خروش کی وجہ یہ نہیں کہ ایران کے پاس بجلی کا کوئی خریدار نہیں بلکہ حقیقت حال تو یہ ہے کہ ایران پہلے سے ہی ترکی، آذربائیجان، ترکمانستان، افغانستان، عراق اور آرمینیا کو بجلی فروخت کر رہاہے اورصرف اور صرف ایک مسلمان اور پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ایران کی کوشش ہے کہ پاکستانی معیشت سنبھل جائے اور پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے اس بات کا اظہار مختلف موقعوں پر ایرانی حکام کربھی چکے ہیں۔یہ تو تھاتصویر کاایک رخ اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ ایرانی اس سلسلے میں جتنی گرمجوشی کا مظاہرہ کررہے ہیں ہماری طرف سے اتنی ہی سرد مہری دکھائی جارہی ہے اور یہ سرد مہری بھی بلاوجہ نہیں ہے چونکہ ہماری معیشت کو سہارا دینے کے لئے امریکہ اور یورپ نے ہمیں بھاری مقدار میں قرضے بھی اور وعدے بھی دے رکھے ہیں اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ہمیں ایران کی مفت یاسستی بجلی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ہمارے اس یقین کا اظہار کچھ دن پہلے اس وقت ہوا جب میڈیا نے یہ خبر شائع کی کہ حکومت نے پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ کے ذریعے ترکی کے ایک رینٹل پلانٹ سے فی یونٹ 16 روپے بجلی کا معاہدہ کیاہے ۔پیپکوذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے خود معاہدہ کیا اورپاور پلانٹ منگوا کر پیپکو کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مہنگے رینٹل پلانٹ کا کرایہ ادا کرنے کیلئے سبسڈی کی بجائے ہر ماہ ٹیرف 2فیصد بڑھا کر بوجھ صارف پر ڈالا جائیگا ۔تصویر کے دونوں رخ آپ کے سامنے پیش کرنے کے بعد ہم آپ سے یہ نہیں کہنا چاہتے کہ پاکستان کو امریکی و یوررپی دباو کو مسترد کرتے ہوئے ایران سے سستے داموں بجلی خریدنی چاہیے تھی ۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں۔۔۔ہمارا مقصد کچھ اور ہے اور ہم کوئی اور بات یعنی اس سے بھی بڑی بات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا ہمسایہ ملک ایران جس کی آج اپنی بجلی کی ضرورت۴۰ہزار میگاواٹ ہے جبکہ وہ۵۵ ہزار میگاواٹ یعنی اپنی ضرورت سے۱۰ہزار میگاواٹ زیادہ بجلی پیدا کررہاہے ۔آج سے صرف ۳۲ سال پہلےیہی ایران مسلسل تیل بیچ رہاتھااورزرہ پوش گاڑیاں،ٹرک،اینٹی کرافٹ توپیں اور بھاری اسلحہ خرید رہاتھا،یہاں تک کہ ۱۹۷۶سے ۱۹۷۷ کے دوران امریکہ سے اسلحے کی خریداری کا بل چار ارب ڈالر سےبڑھ کربارہ ارب سے بھی زیادہ ہوگیاتھا،ملک میں ہر روز نت نئے جشن اور میلے منعقد کئے جاتے تھے،مثلاً۲۶ اکتوبر کو شاہ کی سالگرہ ،۲۶جنوری کو سفید انقلاب کی سالگرہ ،۶دسمبر کو آزادی خواتین کی سالگرہ اس کے علاوہ جشن تاجپوشی،شہنشاہیت کا ۲۵ سوسالہ جشن وغیرہ وغیرہ۔۔۔صرف شہنشاہیت کے ۲۵ سوسالہ جشن کے اخراجات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اسے دنیاکی عظیم ترین نمائش کہاگیاتھا،امریکی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری تھا کہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اختیارات میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا چلاجائے،ایجنسیوں اور فوج کے کارندے اپنے وسیع اختیارات کے باعث کسی کو سراٹھانے کی مہلت نہیں دیتے تھے ،جوکوئی بھی شاہ پر یا شاہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتا تھا اسے ملک دشمن ،غدار اور خائن قرار دےدیاجاتا تھا۔چنانچہ جیلیں قیدیوں سے چھلک رہی تھیں،ٹارچر سیل خون اور ہڈیوں سے لتھڑ گئے تھے،لوگوں کی ایک بڑی تعداد خفیہ ایجنسیوں نے اغواء کر رکھی تھی ،۱۹۷۸ تک ملکی معیشت کا یہ حال ہوگیاتھاکہ شاہ اور اس کی بیوروکریسی پرائیویٹ بنکوں کے ۵۰ فی صد حصص کی مالک تھی،ایران کی غیرملکی تجارت صرف ۶۰ افراد کے ہاتھ میں آگئی تھی،کمپنیوں کے زیادہ تر شئیرز صرف ۵۰ خاندانوں کے پاس تھے،ہرروز شاہی خاندان کے افراد،شاہی محل کے ملازمین اور کارندوں کے لئےجنیوا میں سویس بینک کے اکاونٹ نمبر۲۱۴۸۹۵-۲۰ میں پہلوی فاونڈیشن کے اکاونٹ میں کئی ملین ڈالرڈالے جاتے تھے۔دن بدن ایرانی یونیورسٹیاں بے روزگار وں کو جنم دے رہی تھیں،ملک کے طول و عرض میں غیرملکی سرمایہ کاری خصوصاً امریکی سرمایہ کاری کا جال بچھاہواتھاجبکہ ایرانی نوجوان اپنے ہی ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں ٹھوکریں کھاتے پھررہے تھے،ایران کی یہ نام نہاد ترقی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ ایران جو کبھی گہیوں برآمد کرتا تھا اس نے گہیوں بھی در آمد کرنی شروع کر دی تھی۔۔۔ اور ۔۔۔پھر وہ دن بھی آپہنچا کہ جب ایک جرمن روزنامے "اشپی گل" کے خبرنگار نے ملکہ فرح سے یہ سوال کیا کہ کیاآپ کو یہ امید تھی کہ آپ سے عوام اس قدر متنفر ہوجائے گی ؟۔۔۔
۱۱فروری ۱۹۷۹ کو شہنشاہیت کاسورج اپنی جھوٹی ترقّی کے نعرے لے کر ایران کے افق سے ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔ایرانی عوام نے اپنی گلی کوچوں سے غیر ملکی ایجنٹوں کو مار بھگایا،ایرانی سائنسدان،انجینئر،پروفیسر ،ڈاکٹر اور علماء ۔۔۔سب نے ایرانیوں سے احساس کمتری کو ختم کرنے اور ملت ایران کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔۳۲سال پہلے کے ایران کو آج کے پاکستان کے ساتھ رکھ کر موازنہ کیجئے وہاں بھی بالکل یہی صورتحال تھی جو آج ہمارے ہاں ہے،آج کے ایران میں اور ماضی کے ایران میں یہی فرق ہے کہ آج کا ایرانی احساس کمتری سے نکلا ہوا ہے ،آج ایران کے اعلی حکام کے نزدیک ان کی اپنی زبان "فارسی" میں گفتگو کرنا ان کے لئے فخر کا باعث ہے،انہیں اپناتعارف کرانے کے لئے انگریزی اصطلاحات کی بیساکھیوں کا سہارا نہیں لینا پڑتا،آج ان کی یونیورسٹیوں میں انگریزی کو ترقّی کامعیار نہیں سمجھاجاتا اوران کے پالیسی ساز اداروں میں غیرملکی قرضوں اور بیرونی امداد پر تکیہ نہیں کیا جاتا۔ایرانیوں نے اپنے ماضی سے عبرت حاصل کی جس کے باعث وہ آج نہ صرف بجلی فروخت کر رہے ہیں بلکہ ایٹمی ٹیکنالوجی میں بھی قابل رشک حد تک پیشرفت کرچکے ہیں۔دوسری طرف ہم ہیں ، اب چینی مہنگی ہو یا آٹا،ہمیں پولیس لوٹے یا ڈاکو،ہمارے گھروں پر ڈرون حملے ہوں یا خودکش،ہمیں ہتھوڑاگروپ مارڈالے یا فوج۔۔۔ہماری معیشت بھی اور سیاست بھی چند خاندانوں کی باندی ہے، ملک کے گلی کوچوں میں غیرملکی کمپنیوں کا سیلاب موجزن ہے، سیاست،فوج ،اور بیوروکریسی کے اندر ایک مخصوص طبقہ موجود ہے جس کےکارخانے بھی ہیں،زمینیں بھی نوکریاں بھی اورٹارچرسیل بھی۔۔۔
اس مخصوص طبقے کی صحت پر مہنگائی اور بے روزگاری وغیرہ کا کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ انہیں تو ان سارے مسائل سے فائدہ پہنچتاہے چونکہ اسمبلیوں کی سیٹیں،ایجنسیوں کی جیلیں،کارخانے اور ملّیں تک سب کچھ ان کا اپناہے۔اب حکومت چاہے ایران سے بجلی خریدے یا ترکی سے۔۔۔مہنگی خریدے یاسستی،ہمارے لئے مقام فکر یہ ہے کہ کیا یہ خریدی ہوئی بجلی ہمارے ملک کے اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتی ہے،کیا ہمارے سائنسدانوں میں اتنی صلاحیّت بھی نہیں کہ وہ اپنے ملک میں اتنی بڑی مقدار میں پائے جانے والے آبی زخائر،معدنی زخائر اور شمسی توانائی کو بروئے کار لاکر ملک کو بجلی کے بحران سے نجات دلائیں۔
یقیناً ایران کی طرح ہمارے سائنسدان ،انجینئر ،پروفیسر،ڈاکٹر اور علماء بھی مل کر پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑاکرسکتے ہیں ۔آج ہر پاکستانی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مانگی ہوئی بجلی ہمارے مستقبل کی تاریک راہوں میں روشنی نہیں کرسکتی۔
مستقبل کی تاریک راہوں کو روشن کرنے کے لئےہمیں اس مخصوص کرپٹ طبقے کو پہچاننا ہوگا جو مسلسل پاکستانیوں کو لوٹ رہاہے اوریہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنے قدموں پر کھڑاہو،وہ مخصوص طبقہ جو سائنسدانوں کو ذلیل کررہاہے،انجینئروں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہا،ملک کو مزید پستی میں دھکیلنے کے لئے تعلیمی اداروں سے اردو کومکمل طور پر ختم کر کے انگریزی رائج کررہاہے۔۔۔
جس دن ہم نے یہ سمجھ لیاکہ قوموں کے مستقبل بجلی سے نہیں استقلال سے روشن ہواکرتے ہیں اس دن ہمارے ملک کے کسی ائیر پورٹ پر بھی کسی ملکہ سے کوئی صحافی یہ سوال کررہا ہو گا کہ کیاآپ کو یہ امید تھی کہ آپ سے عوام اس قدر متنفر ہوجائے گی ؟۔۔۔nazarhaffi@yahoo.com

بےباک
08-02-2012, 06:10 PM
مستقبل کی تاریک راہوں کو روشن کرنے کے لئےہمیں اس مخصوص کرپٹ طبقے کو پہچاننا ہوگا جو مسلسل پاکستانیوں کو لوٹ رہاہے اوریہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنے قدموں پر کھڑاہو،وہ مخصوص طبقہ جو سائنسدانوں کو ذلیل کررہاہے،انجینئروں کی حوصلہ افزائی نہیں کررہا،ملک کو مزید پستی میں دھکیلنے کے لئے تعلیمی اداروں سے اردو کومکمل طور پر ختم کر کے انگریزی رائج کررہاہے۔۔۔

بہت خوب نذر حافی صاحب ، اپ نے ایک حقیقت بیان کر دی ، شکریہ جناب ،
آپ کے مضامین مشعل راہ ہیں جناب ۔لکھتے رہیے گا ، شاید ہم کچھ سمجھ سکیں ، :photosmile:

انجم رشید
08-02-2012, 08:59 PM
السلام علیکم ۔
بہت خوب جناب نزر صاحب
واقع ہی آپ کی باتیں سوچنیں والی ہیں کہ کیا ہم ایران سے گیس لیں یا ترکی سے بجلی لیں یا یورپ امریکہ سے بھیک لیں یا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے ۔
یہاں تک بھیک کا تعلق ہے تو یہ تو ساری کی ساری چند جیبوں میں چلی جاتی ہے مانگی ہوی چیز میں بھی ان کرپٹ سیاست دانوں کرپٹ بیروکریٹوں اور کرپٹ افسروں کمیشن ہوتا ہے یعنی یہاں سے بھی یہ لوگ جیبیں بھر لیتے ہیں
الحمد للہ اللہ تعالی نے ہمیں اس وطن عزیز کو ہر نعمت سے نوازہ ہے ہر قسم کے وسایل ہیں اگر ہم ملکی وسایل پر نظر ڈالیں تو بہت سی چیزوں میں ہم دنیا میں ایک سے دس نمبر میں آتے ہیں کہیں ہمارہ نمبر ایک ہے کہیں دو کہیں تیں چار پانچ چھ ہے پاکستان گندم پیدہ کرنے والے پہلے دس ملکوں میں شامل ہے پاکستان چاول پیدہ کرنے والے پہلے دس ملکوں میں شامل ہے کپاس میں بھی آم میں بھی ہیرے جواہرات میں بھی سونے چاندی میں بھی افرادی قوت میں بھی یہاں یہاں آپ نظر ڈالیں کے ہم دنیا کے پہلے دس نمبر ملکوں میں ہوں گے پھر بھی ہم غریب ہیں
کچھ ایسے وسایل جن کا ابھی تک کیسی نے استمال ہی نہیں کیا اور نہ کرنا چاہتے ہیں ۔
آپ توانای کا بحران دیکھ لیں الحمد للہ ہمارے پاس وسایل ہیں لیکن وہ استمال ہی نہیں ہو رہے جیسے ہمارے پیارے ملک میں سورج 12 ماہ چمکتا ہے ہم شمسی توانای سے کیا کچھ نہیں کرسکتے بجلی پیدہ کر سکتے ہیں فیکٹریوں ملوں میں پانی گرم کر سکتے ہیں تاکہ گیس کی بچت ہو گروں میں پانی گرم کرسکتے ہیں ۔
ہمارے پاس کویلے کے وسیع زخایر موجود ہیں ہم ان کو استمال نہیں کر رہے تھر کول کا منصوبہ ہی دیکھ لیں ۔
ہمیں اللہ تعالی نے وافر پانی دیا ہے اور ہمارے یہ کرپٹ لوگ ڈیم نہیں بنا رہے مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آی کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے سندھ اور پختونخواہ صوبوں کو کیا نقصان ہو گا کیا یہ صرف سیاست چمکانے کے لیے ہےمجھے یقین ہے کہ آج بھی سروے کر لیں سندھ اور پختون خواہ میں کوی یہ نہیں بتا سکے گا کہ کالا باغ ڈیم کا کیا نقصان ہے ۔
ہمارے پاس ایک صنعت ہے جس سے ہم اربوں کما سکتے ہیں وہ ہے سیاحت کی کیا آج تک کیسی حکومت نے اس طرف کوشش کی ۔
اور ہزاروں وسایل ہیں لیکن کیسی نے آج تک کوشش نہیں کی کہ ان وسایل کو استمال کیا جاے ۔
اب بات رہ جاتی ہے کہ یہ وسایل استمال کیوں نہیں کر رہے تو محترم میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ یہ کرپٹ حکمران سیاست دان بیروکریٹ اور افسر یعنی یہ سب جو ہمارے بڑے بنے بیٹھے ہیں جن کے ہاتھوں میں ملک کی بھاگ دوڑ ہے یہ نہیں چاہتے کہ ہم ترکی کریں کیوں کہ ایسے تو ان کی جیبیں نہیں بھریں گی ان کی لوٹ مار ختم ہو جاے گی ان کے کمشن ختم ہو جایں گے ۔
اب بات آگی کہ ان لوگوں سے کیسے جان چھوٹے اور یہ لوگ کون ہیں ہمیں ان کو پہچاننا چاہیے تو یہ تو سب کے سامنے ہیں کچھ سامنے ہیں کچھ ان کے پیچھے ہیں اب ان سے جان چھڑوانے کی بات ہے یہاں تو سارا نظام ہی خراب ہے اب نظام کیسے بدلیں یہی ایک مسلہ ہے کہ بدلہ کیسے جاے تبدیلی تو ایک انقلاب سے ہی آسکتی ہے جس کے ابھی دور دور تک اثار نظر نہیں آتے لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے ہمیں تبدیلی کی طرف جانا چاہیے جتنا بھی جو کوی کر سکتا ہے کرنا چاہیے زبان سے قلم سے یا کیسی بھی طریقے سے سو محترم اگر آپ جیسے لوگ سامنے آجایں تو ہم جیسے نکمیں بھی ساتھ چل پڑیں گے صرف بات نیک مقصد کی ہے ہم نے وہ پاکستان بنانا ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا ہم نے اس مقصد کی طرف جانا ہے جس کے لیے پاکستان بنا تھا ہمیں ان شہیدوں کے مقصد کے لیے جدوجہد کرنی جس نیک مقصد کے لیے انہوں نے اپنی جانے قربان کی تھیں ہماری مایں بہنوں نے اپنی عزت عفت کی قربانی دی تھی ۔
آے ہم سب اس مقصد کی طرف چلنا شروع کر دیں ہمیں قطرہ بننا ہوگا تاکہ دریا بہہ نکلے اگر ہم نے ان کرپٹ لوگوں سے جان چھڑوا لی تو یہاں کوی کیسی محترم ساینس دان کو بے عزت نہیں کر سکے گا ہر کیسی کی جان ومال و عزت محفوظ ہو گی قانون و عدل کی حکمرانی ہو گی ہمارے بزرگوں نے ہمیں پاکستان اس لیے دیا تھا کہ ہم اس کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنایں نہ کہ دنیا کا کرپٹ ترین ملک ۔
آتے رہے گا جناب محترم نزر صاحب اور ہمیں ان سلگتے ہوے مسایل سے آگاہ رکھیے گا بہت بہت شکریہ
وسلام