PDA

View Full Version : ایمان، اسلام اور احسان



پیرمحمدامیرسلطان قادری چشتی
08-04-2012, 01:21 PM
ایمان، اسلام اور احسان
حدیث جبریل میں دین کی تین بنیادی ضروریات کا بیان ملتا ہے جن میں پہلی ضرورت ایمان ہے۔ ایمان کی تعریف میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو امور بیان فرمائے ہیں ان کا تعلق بنیادی طور پر عقائد و نظریات سے ہے اور عقائد سے تعلق رکھنے والے علم کو اصطلاحی طور پر علم العقائد کہتے ہیں۔

اسلام کی تعریف میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو پانچ ارکان بتلائے ہیں ان سب کا تعلق ظاہری اعمال اور عبادات سے ہے۔ اس علم کو شریعت کی اصطلاح میں علم الاحکام یا علم الفقہ کہتے ہیں۔

حدیث مبارکہ کی رو سے دین کی تیسری ضرورت احسان ہے اور انسان کو یہ درجہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں۔ گویا اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زبان سے اقرار اور دل سے جو تصدیق کی، اس کا عملی اظہار اور پھر اپنے اعمال اور ظاہری عبادات کو حسن نیت اور حسن اخلاص کے اس کمال سے آراستہ کیا کہ اس کے اعمال اور عبادات اس کی تصدیق بالقلب کا آئینہ دار بن گئے۔ اس مرحلہ پر انسان درجہ احسان پر فائز ہو جاتاہے اور اسے باطنی و روحانی کيفیات نصیب ہو جاتی ہیں۔ پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ احسان کا موضوع باطنی اور روحانی کيفیات کے حصول سے متعلق ہے۔

صحت ایمان کی صحت کی علامت یہ ہے کہ اللہ کے بندے اللہ تعالیٰ سے اپنی نسبت بندگی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے ذریعے قائم کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّهَ.

النساء، 4 : 80

’’جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا۔‘‘

ایمان اگر جسم ہے تو اطاعت و محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی روح ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم بے کار ہے اسی طرح اطاعت و محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ایمان کے نام پر کی جانے والی ہر کوشش بے سود اور بے نتیجہ ہے مثلاً جب انسان پر موت وارد ہوتی ہے تو فقط س کی روح نکلتی ہے اور اس کے جسم سے آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پاؤں الگ نہیں ہو جاتے بلکہ سب کچھ قائم رہتا ہے لیکن روح نکل جانے سے انسان کو زندہ نہیں بلکہ مردہ کہتے ہیں بالکل اسی طرح کا حال ہمارے اعمال کا ہے، اگر سارے کے سارے اعمال قائم رہیں لیکن اندر سے محبت اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عنصر نکل جائے تو گویا ایمان جو سب ایمان کی روح ہے ختم ہو گئی۔ نمازیں، روزے، حج، زکوٰۃ، دعوت و تبلیغ اگر یہ سب کچھ ہے لیکن محبت اور ادب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خالی ہو تو پھر یہ بے روح عبادات اور اعمال مردہ لاشے ہیں جو ہم اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی حلاوت پا لے گا۔

پہلی یہ کہ خدا اور اس کا رسول اسے ہر شے سے زیادہ محبوب ہوں۔
کسی شخص سے محبت صرف خدا کے لئے کرے یعنی دنیا کی کوئی غرض اسے مطلوب نہ ہو۔
جب خدا نے اسے کفر سے نجات دے دی توپھر دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کو اس طرح ناپسند کرے جس طرح اس چیز کو ناپسند کرتا ہے کہ اسے آگ میں پھینکا جائے۔

مسلم، الصحيح، 1 : 49، بيان خصال من اتصف بهن وجد حلاوة الايمان
کافر لوگ تو پہلے ہی شیطان کے راستے پر چل رہے ہوتے ہیں جبکہ کامل مومنین پر

شیطان کا حملہ کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ شیطانی عزائم کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’میں ضرور ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیں۔‘‘

الحجر، 15 : 40

اس لیے شیطان کامل ایمان والے لوگوں سے زیادہ کمزور ایمان والوں کو گمراہ کرنے میں جلد کامیاب ہو جاتا ہے کیونکہ اس نے قسم کھائی ہوئی ہے :

’’میں (بھی) ان (افراد بنی آدم کو گمراہ کرنے) کے لئے تیری سیدھی راہ پر ضرور بیٹھوں گا (تاآنکہ انہیں راہ حق سے ہٹا دوں)۔‘‘

الاعراف، 7 :

16اعمال صالحہ کی کمی ایمان میں کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ ایمان پختہ نہ ہونے کی وجہ سے شیطان دلوں میں وسوسے اور شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔ مثلاً یہ وسوسے کہ وجود باری تعالیٰ کی حقیقت، کیا ہے، جنت و دوزخ کا وجود ہے یا نہیں۔ یہ شکوک و شبہات ایمان اور یقین کو کمزور کرتے چلتے جاتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’بے شک وہ خود (شیطان) اور اس کا قبیلہ تمہیں (ایسی ایسی جگہوں سے) دیکھتا (رہتا) ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔‘‘

الاعراف، 7 : 27