PDA

View Full Version : جاگ کے رہنا پاکستانی بھائیو!



نذر حافی
08-05-2012, 05:07 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نذر حافی
کسی بھی ملک میں جب خفیہ ہاتھ اتنے مضبوط ہو جائیں کہ وزیروں کو دھمکانے لگیں،سیاستدانوں کی جاسوسی کرنے لگیں،مذہبی رہنماوں کو بلیک میل کرنے لگیں،جوانوں پر جعلی مقدمات بنانے لگیں اور حکومتوں کے تختے اُلٹنے لگیں تو پھر اُس ملک میں قانون کی جگہ جبر اور حکومت کی جگہ وحشت لے لیتی ہے ،چاہیے تو یہ تھا کہ قیام پاکستان کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کو سُکھ اور چین نصیب ہوتا لیکن آج بھی کراچی سمیت ملک بھر کی جیلیں ایسے جوانوں سے بھری ہوئی ہیں جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے جعلی مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ اکثر جوان نعرہ لگانے ،تقریر کرنے اور کسی جلسے وغیرہ میں شمولیت کے جرم میں عرصہ دراز سے پابندِ سلاسل ہیں.
ان نوجوانوں کی گرفتاری کے پیچھے متحرک خفیہ ہاتھ نے یقیناًحکومت وقت کو یہ باور کرایا ہو گاکہ یہ گرفتار شدہ جوان ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں،خفیہ ہاتھ ماضی میں بھی اسی طرح کے منفی پروپیگنڈے سے کئی حکومتوں کو عوام کے ہاتھوں رسوا کرا چُکے ہیں،حکمران فوجی ہوں یا سول یہ خفیہ ہاتھ انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے سوا باقی سب لوگ ملک دشمن اور غدار ہیں۔خفیہ ہاتھوں کا یہی پروپیگنڈہ بنگلہ دیش بننے کا باعث بن چکا ہے اور انہی خفیہ ہاتھوں میں کھیلنے والے حکمران ماضی میں بھی پاراچنار سے لیکر شمالی علاقہ جات تک کی بستیوں پر یلغار کر کے آگ وخون کا کھیل ،کھیل چُکے ہیں،اسی خفیہ ہاتھ نے جہاد افغانستان کی آڑ میں مخصوص دینی مدارس کے طلاب کو عسکری تربیت دی جس کا خمیازہ آج ہم دہشت گردی اور فرقہ واریت کی صورت میں بھگت رہے ہیں اور یہ کون نہیں جانتا کہ لیاقت علی خان کی شہادت اور محترمہ فاطمہ جناح کی رحلت کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ تھا۔
یہ خفیہ ہاتھ ہر دور میں حکمرانوں کو عوام سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی ترغیب دیتا ہے جس سے افہام و تفہیم کے راستے بند ہوجاتے ہیں اور تشدد اور تخریب کی راہیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں،ملک بھر خاص کر کراچی کی جیلوں میں بھسم ہونے والے نوجوان جن میں سے ایک بڑی تعداد جلسے جلسوں سے گرفتار ہوئی ہے ۔
یہ سب جوان پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں،ان کے آبائو اجداد نے شمالی علاقہ جات کو آزاد کرا کر الحاق پاکستان کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں،یہ جوان پاکستان کی امیدوں کے محور اوور قوم کا روشن مستقبل ہیں لیکن خفیہ ہاتھ ان پر جعلی مقدمات قائم کر کے اور ان پر تشدد کر کے ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیوں کو دہرا رہا ہے،حق بات تو یہ ہے کہ اگر یہ خفیہ ہاتھ اسی طرح منفی رویہ اختیار نہ کرتا تونہ ہی بنگال بنگلہ دیش بنتااور نہ ہی ملک میں مذہبی فرقہ واریت و علاقائی تعصّبات جنم لیتے.
آج اکیسویں صدی ہے اور میڈیاکا دور دورہ ہے آج ہر شخص یہ جانتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جوان چاہے شیعہ ہوں یا سنی پنجابی ہوں یا سندھی ،بلوچ ہوں یا پٹھان بلا تفریق سب محب وطن ہیں۔قوم کی امیدوں کے مرکز اور ملکی سلامتی کے حقیقی ضامن ہیں۔پاکستان کو ان جوانوں سے کوئی خطرہ نہیں اگر خطر ہ ہے تو اسی خفیہ ہاتھ سے ہے جو وزیروں کو دھمکاتا ہے ،سیاستدانوں کی جاسوسی کرتا ہے،مذہبی رہنماوں کو بلیک میل کرتا ہے ۔ جوانوں پر جعلی مقدمات بناتا ہے اور حکومتوں کے تختے اُلٹتا ہے۔
نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ صرف ۲۰۱۰ءمیں کراچی کے اندر۱۶۵۰ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں سے ۳۷۳لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔مذہبی دہشت گردی میں ۵۰ افراد سے حق زندگی چھیناگیا،گزشتہ سال کراچی میں پانچ بڑے دھماکے کئے گئے جن میں متعدد لوگ لقمہ اجل بنے ،ماہرین کے مطابق اس وقت کراچی میں دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے سرکاری اداروں کے تجزیاتی سیل اولا ًتو نہایت کمزور ہیں اور ثانیاً خود سرکاری اداروں میں پائے جانے والےعدم اعتماد کے باعث مختلف "تجزیاتی سیل"اپنی معلومات کو دیگر اداروں کے ساتھ مکمل طور پر شیئر نہیں کرتے اور اس کا سارا فائدہ دہشت گرد ٹولوں کو پہنچ رہاہےچنانچہ اب کراچی میں"توازن دہشت"کا اصول قائم ہے ۔توازن دہشت سے مراد یہ ہے کہ ہر متحارب گروہ یہ جانتاہے کہ دوسرا گروہ بھی مضبوط ہے اور اگر دوسرے گروہ کو ختم نہ کیا گیا تو وہ گروہ اس گروہ کو ختم کردے گا۔
اگر آپ کراچی کے حالات کے بارے میں کچھ جاننے کے لئے گھر سےباہر نکلیں تو آپ کوقدم قدم پر مختلف نظریات کا سامنا کرنا پڑے گا۔کوئی آپ سے کہے گا کہ کراچی کےحالات کی خرابی کے پیچھے خفیہ ہاتھ ہے،کوئی کہے گاحکومتی ہاتھ ہے،کوئی انتہائی رازدارانہ انداز میں سرگوشی کرے گا کہ متعصّب اور انتہاپسند تنظیموں کا ہاتھ ہے، کوئی کہے گا کہ کراچی والوں کی غفلت کا ہاتھ ہے،کوئی کہے گا سیاسی پارٹیوں کا ہاتھ ہے،قصّہ مختصر یہ کہ ہرکسی کو کراچی کے خراب حالات کے پیچھے ایک ہاتھ دکھائی دیتاہے اور اگر کسی کو کراچی کے بارے میں معلومات نہ ہوں تو وہ بھی یہ کہہ ہی دیتاہے کہ کراچی کے خراب حالات کے پیچھےخدا کا ہاتھ ہے۔۔۔
بالاخر ایک بات تو مسلّم ہے کہ ان خراب حالات کے پیچھے جس کا بھی ہاتھ ہے وہ ہاتھ دھو کر کراچی کے پیچھے پڑاہواہے۔کراچی کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑھنے کی ایک خاص وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کراچی کو آج بھی مزار قائد، ثقافتی رنگینیوں،تجارتی سرگرمیوں،تاریخی مقامات،غریب پروری،ادبی و علمی محافل،دینی و سیاسی نشستوں اور مرکز روزگار و تجارت ہونے کے باعث منی پاکستان کادرجہ حاصل ہے ،دنیا کے بڑے ائیر پورٹس میں شامل جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ ،دنیاکی بڑی بندرگاہوں میں سے دو بڑی بندرگاہیں ، دنیاکی ایک گنبد والی سب سے بڑی مسجد ،مسجد طوبی ،پاکستان ائیر فورس میوزیم،قومی عجائب گھر،دنیاکے بلند ترین فواروں میں سے ایک کراچی جیٹ فونٹین ،پاکستان کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ ، تمام تجارتی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر، دنیاکے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک وسیع و عریض اور حسین و شاد ساحل بھی کراچی میں ہے۔کراچی پاکستان کا تجارتی دارالخلافہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت سیاحتی مقام بھی ہے۔
اپنی تجارتی توانائیوں،کاروباری منڈیوں اور سیاحتی و تاریخی مقامات کے باعث آج بھی سرکاری آمدن کا ۶۵فی صد حصہ کراچی سے حاصل ہوتاہے۔بلامبالغہ کراچی کو ہمیشہ سے پاکستان کے دل کی حیثیت حاصل رہی ہے اور کراچی کی اسی اہمیّت کو دیکھتے ہوئے استعمار گزشتہ کئی دہائیوں سے کراچی میں اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہے،ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ استعمار ی طاقتیں تقریباً ڈیڑھ سوسال سے متحد ہوکرمسلسل اسلامی دنیاکے اہم تجارتی مراکز،معدنی و آبی زخائر اور قدرتی وسائل کو مرحلہ وار ہڑپ کرتی جارہی ہیں اور جہاں ان کا بس نہیں چلتا یاپھر کوئی مصلحت نظر آتی ہے تووہاں یہ طاقتیں اپنے ایجنٹوں کی وساطت سےتجارتی مراکز یا معدنی ذخائر کو تباہ اور ویران کر دیتی ہیں،آج عراق سمیت پوری عرب دنیا کی صورتحال ہمارے سامنے ہے اور ان دنوں میں امریکہ کی کھلم کھلا مداخلت کے باعث تیل و گیس، سمندری حیات اور معدنی وسائل سے مالامال افریقی اسلامی ملک سوڈان کو تقسیم کر کے ایک نئی عیسائی ریاست تشکیل دے دی گئی ہے.
یاد رہے کہ یہ وہی عمل ہے جو چند سال پہلے آسٹریلیا نے امریکہ کے ساتھ مل کرانڈونیشیاء میں انجام دیا تھا اور اس طرح ایک نئی عیسائی ریاست مشرقی تیمور وجود میں آئی تھی،اس کے علاوہ مشرقی پاکستان کی ہم سے جدائی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،سب جانتے ہیں کہ پاکستان توڑنے کی خاطر۱۹۷۱ء میں مغربی و امریکی استعمار نے کس طرح ہندوستانی استعمار کا ہاتھ بٹایا تھا، کشمیر اور فلسطین کی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے۔ ہماری ملکی تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی بھی استعمار ی سازشوں کو سمجھنے یا استعمار کا مقابلہ کرنے کی زحمت نہیں کی،انہوں نے ہمیشہ استعماری منصوبوں کو آگے بڑھایاہے،ہمارے حکمران ماضی میں بھی مارو اور حکومت کرو نیزلڑاو اور دباوجیسی پالیسیوں پر عمل پیرا رہے تھے اور آج بھی اسی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔
آج بلوچستان کے معدنی ذخائر کس طرح برباد ہورہے ہیں یہ اہل بلوچستان سے پوچھئے،خیبرپختونخواہ میں لاقانونیّت کے باعث لوگوں کا معیار زندگی کہاں پہنچ چکا ہے یہ بھی ہم سب کو معلوم ہے،شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے مسلسل جاری ہیں اور انہی حملوں کو بہانہ بنا کر طالبان کراچی میں بھی کشت و خون کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ڈرون حملے نہیں رکتے،کراچی کے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے،یہ بھی استعماری ایجنڈے کوکامیاب کرانے کی ایک چال ہے ورنہ اپنے ہی ہم وطنوں اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے سےکیا ڈرون حملے روکے جاسکتے ہیں۔پنجاب میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان ٹھاٹھیں مار رہاہے اور کراچی فسادات کی آگ میں جل رہا ہے۔
آج جب کراچی کی سڑکوں پر بکھرا ہوا خون سیٹلائٹ کے ذریعے عالمی برادری کو دکھایاجاتاہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں پرپڑتاہے،بیرونی ممالک سے آنے والے سرمایہ کار ڈرنے لگتے ہیں جبکہ اندرون ملک بیٹھے ہوئے سرمایہ کار فرار کرنے لگتے ہیں ، آج کل اکثرہڑتالوں اور فسادات کے باعث ایک ایک دن میں اربوں ڈالر کی قومی آمدنی کا نقصان ہورہاہے۔
کراچی کی بدامنی گویا پورے پاکستان کی بد امنی ہے،ایسے میں اہلیان کراچی کی ذمہ داری ہے کہ وہ استعمار کی اس بھڑکا ئی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لئےشدّت پسند ٹولوں،حکومتی چیلوں ،سیاسی چمچوں ،متعصب گروہوں اور مفاد پرست عناصر سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کریں۔
ہر شخص اللہ کے آخری رسول {ص} کی خوشنودی کے لئے اپنے دل سے مقامی اور مہاجر کا بغض دھودے،سب مسلمان اپنے دلوں میں مہاجرین مکّہ اور انصار مدینہ کا ساجوش و ولولہ پیداکریں، کراچی کا ہر فرد امن و آشتی اور صلح و مروّت کا پیکر بن جائے،نفرتوں کے بیج بونے والے متعصب ٹولوں کے خلاف گلی کوچوں اور محلوں سے صدائے احتجاج بلند کی جائے،ہر ماں اپنے بیٹے کا بازوتھام لے اور ہر باپ اپنی اولاد کا محافظ بن جائے،شر پسندوں سے نفرت کی جائے اور دوسروں کو بھی شرپسندی سے نفرت دلائی جائے،ایک دوسرے کو معاف کیا جائے،ہر نفرت انگیز پوسٹر اتار دیا جائے،کسی نفرت انگیز تقریر کو سن کر واہ واہ نہ کی جائے،کسی نفرت پرور نعرے کا جواب نہ دیاجائے، اور ہر شخص کی زبان پر صرف یہی ورد ہو اشھدان لاالہ الااللہ۔۔۔اشھدانّ محمد رسول اللہ۔۔
اگر ہم سب پورے ملک میں اور اہلیان کراچی بالخصوص کراچی میں محبت و اخوت اور دوستی و بھائی چارہ قائم کرنے کے لئےکمر کس لیں تو انشاء اللہ ہمیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ کراچی کے خراب حالات کے پیچھے خفیہ ہاتھ ،حکومتی ہاتھ ، متعصّب اور انتہاپسند تنظیموں کا ہاتھ اور سیاسی پارٹیوں وغیرہ کا ہاتھ تو ہےلیکن خدا کا ہاتھ فقط اتحاد قائم کرانے والوں کے ساتھ ہے۔ nazarhaffi@yahoo.com

admin
08-05-2012, 05:26 PM
نہایت عمدہ تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالٰی آپ کے قلم میں اور قوت و طاقت عطا فرمائے۔۔۔ آمین