PDA

View Full Version : Kuch TUm Kaho Kuch Hum



Ashfaq Ahmed
08-06-2012, 03:12 AM
مانا کہ علاجِ دلِ بیمار بہت ہے
کیا کیجے ہمیں لذتِ آزار بہت ہے

دنیا تو ہمیں چین سے جینے نہیں دیتی
اور دل ہے کہ دنیا کا طلب گار بہت ہے

اپنوں کی امیدیں ہیں تو غیروں کے تقاضے
دل ویسے ہی حالات سے بیزار بہت ہے

انسان کا انسان کو انسان سمجھنا
آسان نہ جانو اسے، دشوار بہت ہے

ہے آپ کو شوقِ سرو سامانِ زمانہ
ہم کو تو یہی اک نگہِ یار بہت ہے

تم لاکھ اُٹھایا کرو دیوار پہ دیوار
تم ہو تو ہمیں سایۂ دیوار بہت ہے

وحشت کدۂ زیست میں اک حرفِ تمنا
تھوڑی ہی سہی مہلتِ اظہار بہت ہے

آساں نہیں سرور کو محبت میں ستانا
دیوانہ ہے پر عشق میں ہشیار بہت ہے

سیما
08-06-2012, 03:16 AM
زبردست بہت اچھا لکھا آپ نے
شکریہ

Ashfaq Ahmed
08-06-2012, 03:23 AM
سمیا جی پوسٹ پسند کرنے کا بہت شکریہ

بےلگام
08-06-2012, 05:41 AM
بہت اچھے جناب

نگار
08-14-2012, 03:28 AM
دنیا تو ہمیں چین سے جینے نہیں دیتی
اور دل ہے کہ دنیا کا طلب گار بہت ہے

اپنوں کی امیدیں ہیں تو غیروں کے تقاضے
دل ویسے ہی حالات سے بیزار بہت ہے


بہت ہی خوبصورت ۔زبردست جناب ، شکریہ