PDA

View Full Version : میدانِ سیاست سے



نذر حافی
08-06-2012, 11:55 AM
تحریر نذر حافی
میرے ایک دوست کسی کالج میں سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں ،اگر کوئی مہمان پہلے سے ٹائم لئے بغیر ان کے گھر چلا جائے تو پھرانہوں نے اگلے دن کالج میں جو لیکچر دینے کی تیاری کی ہوتی ہے وہ باتوں ہی باتوں میں وہی لیکچر مہمان کو دے دیتے ہیں،اس طرح مہمان بھی بور نہیں ہوتا اور پروفیسرصاحب کی بھی مشق ہوجاتی ہے۔ہمیں تو خاندانی طور پربغیروقت لئے کہیں آنے جانے کی عادت ہے لہذا ہمیں کئی مرتبہ پروفیسر صاحب کے ہاتھوں تختہ مشق بننے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ایک دن شومئی تقدیر سے ہم بغیر وقت لئے حسب عادت پروفیسر صاحب کے ہاں جا دھمکے ،وہ بھی احساس کمتری کے موضوع پر تیاری کئے بیٹھے تھے ،چنانچہ انہوں نے بھی آئو دیکھا نہ تائو،سیدھی ہمارے اوپر چڑھائی شروع کردی،خیر ان کے لیکچر سے ہمیں بھی یہ پتہ چل گیا کہ ماہرین نفسیات کے مطابق کوئی بھی شخص اس وقت احساس کمتری کا شکار ہوجاتاہے جب وہ اپنے آپ میں کسی چیز کی کمی کے احساس پر یقین کرلیتاہے۔ایسا شخص اگر اپنی اس کمی کے احساس کو دور کرنے کی فوری اور مثبت کوشش کرئے تو وہ جلد ہی اس موذی مرض سے نجات حاصل کرلیتا ہے لیکن اگر وہ اپنی کمی کو دور اور ختم کرنے پر توجہ نہ دے تو ایسا شخص بہت جلد نفسیاتی مریض بن جاتاہے۔احساس کمتری میں مبتلا نفسیاتی مریض کی علامات میں سے کچھ یہ ہیں کہ وہ دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے لگتاہے،اسے جس بات کاعلم نہیں ہوتا وہ اس میں بھی اپنی رائے دیتاہے،وہ اپنے آپ کو ویسا ظاہر کرنا چاہتاہے جیساکہ وہ نہیں ہوتا،دوسروں سےکچھ سیکھنے کے بجائے انہیں سکھانے کی کوشش کرتاہے،وہ ایسے شارٹ کٹس ڈھونڈنے لگتاہے جن کے ذریعے وہ جلد از جلد دوسروں کی نگاہوں میں ممتاز ہوجائے اور وہ کسی بلند مقام تک پہنچ جائے،مثلاًایک شخص کا اٹھنا بیٹھنا اگر پی ایچ ڈی کی سطح کے لوگوں کے ساتھ ہے اور وہ گریجویشن سےآگے نہیں جاسکا توپہلے تو وہ پی ایچ ڈی والوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا ،اس مقابلے کی مختلف صورتیں ممکن ہیں ،کبھی وہ مختلف موضوعات پر انگلش کی اصطلاحات رٹ کر آئے گا تاکہ یہ لوگ جان لیں کہ میں اگر چہ پی ایچ ڈی نہیں ہوں پھربھی میری انگلش بہت اچھی ہے،کچھ عرصہ گزرنے کے بعدجب اسے پتہ چل جائے گا کہ پڑھے لکھے لوگ انگلش کے بجائے علمی معیار کواہمیت دیتے ہیں تو پھر وہ یاتوخود پی ایچ ڈی کرنے کی کوشش کرے گا یا پھر اصلاً پی ایچ ڈی کے خلاف ہوجائے اور یہ مشہور کرے گا کہ پی ایچ ڈی کا کوئی فائدہ ہی نہیں یہ تو صرف وقت ضائع کرنے کی چیز ہے اور وہ اپنے اس مفروضے کے حق میں ٹھوس دلائل بھی لائے گا ۔اس لیکچر کو کچھ دن ہی گزرے تھے اور ابھی ہمارے ذہن میں اس کا ارتعاش باقی تھا کہ ہماری ملاقات سچ مچ میں ایک ایسی شخصیت سے ہوگئی جن کا دعوی تھا کہ یہ جتنے بھی پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لیے پھرتے ہیں ان کی ڈگریوں کو آگ لگا دینی چاہیے،جب ہم نے وجہ پوچھی تو وہ بولے کہ ان لوگوں کے پاس علم نہیں ہوتا صرف ڈگری ہوتی ہے،علمی میدان میں پرانے زمانے کا گریجویٹ آج بھی ان سے کہیں زیادہ قوی ہے۔ہم سے رہانہیں گیا اور ہم نےپوچھ لیا کہ قبلہ آپ کے پاس کونسی ڈگری ہے،اصل میں یہیں پر ان کا احساس کمتری چھپاہواتھا یہ سنتے ہی وہ بولے میں تو بیچلر آف لاء ہوں البتہ میرے خاندان میں باقی سب کو ئی ایم فل ہے کوئی ایم ایل ایل ہے اور کوئی پی ایچ ڈی،پھر انہوں نے علم کی فضیلت پر لیکچر شروع کر دیا اورمیں بھی یہیں سے سمجھ گیا کہ موصوف گریجویشن سے اوپر کی سطح سے حساس کیوں ہیں،میں نے پوچھاآپ کرتے کیا ہیں وہ بولے اپنی کریانےدکان کھول رکھی ہے،یہ سنتے ہی میں نے پوچھا جناب
خیر سے آپ کھاتے پیتے خاندان کے چشم و چراغ ہیں کوئی خاص مالی مشکل بھی نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ گریجویشن توآپ کی لاء میں ہے اور کھولی ہوئی آپ نے کریانے کی دکان ہے،چاہیے تو یہ تھاکہ آپ کا جو شعبہ ہے آپ اس میں پارٹ ٹائم ہی پریکٹس کرتےرہتے اور بالکل ہی اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے جدا نہ ہوتے،یہ سنتے ہی انہوں نے رزق حلال کمانے کی اہمیت،تجارت کی برکات اور گریجویشن پر تعلیم کو ختم کرنے کے فلسفے پر ایسا لیکچر دیا کہ کئی مرتبہ مجھے بھی یہ خیال آیا کہ آگے تعلیم جاری رکھنے کے خیال کے بجائے کوئی دکان وغیرہ کھول لی جائے،جب وہ چلے گئے تو کافی دیرتک ہر طرف خاموشی چھائی رہی اور میں یہ سوچتا رہا کہ اب دکان کھولنے کیلئے قرض کس سے مانگوں۔
البتہ جب بعد میں ان کے دلائل کا خمار میرے دماغ سے اترا اور میری عقل ٹھکانے آئی تو مجھے احساس ہوا کہ ایک احساس کمتری میں مبتلا شخص کس طرح دوسروں کو ان کے راستے سے بھٹکاتاہے۔
کچھ دنوں بعد جب دوبارہ مقدّر کی دیوی مجھے کھینچ کر پروفیسر صاحب کے شکنجے میں لے گئی تو اس سے پہلے کہ پروفیسر صاحب مجھے اپنے پنجے میں دبوچ کر میرے اوپر اپنا لیکچر جھاڑتے میں نے انہیں اپنی ساری روداد سنادی۔میرا قصہ سن کر وہ مسکرائے اور بولے کہ دیکھو سوشل سائنسزز کی آپس میں اس طرح سے نیٹ ورکنگ ہے کہ ایک علم کے تجربات کو دوسرے علوم کی لیبارٹریز میں پھر سے ٹیسٹ کیا جاسکتاہے اور ایک ہی وقت میں ایک مفروضے کے تجربے سے کئے طرح کے نتائج کو اخذ کیا جاسکتا ہے اور ایک ہی نقطے سے کئی طرح کے افکار تولید کئے جاسکتے ہیں۔لہذا اب یہ جان لو کہ جس طرح ایک شخص نفسیاتی بیمار ہوتا ہے اسی طرح ایک معاشرہ کی بھی نفسیات ہوتی ہے اور وہ بھی نفسیاتی طور پر بیمار ہوتا ہے،میں نے چونک کر کہا یعنی جس طرح ایک شخص احساس کمتری میں مبتلا ہوتا ہے اسی طرح ایک معاشرہ بھی احساس کمتری میں مبتلاہوسکتاہے۔انہوں نے کہا ہاں ہاں ایک قوم،ایک محکمہ،ایک شعبہ،ایک ملک،ایک معاشرہ کوئی بھی احساس کمتری میں مبتلاہوسکتاہے۔پھر انہوں نے کہا کہ یہ مفروضہ بھی ہے،مشاہدہ بھی ہے اور تجربہ بھی اب اسے سوشل سائنسز کی جس شاخ میں بھی لے جاکر پرکھو گئے ایک تو اسے صحیح پائو گئے اور دوسرے اس سے مزید علمی و عملی نکات اخذ اکروگئے۔وقت گزرتاگیا اور پھربات پہنچی میری جوانی تک اور میں نے یہ یہ نظریہ بنالیاہے کہ معاشرتی اور ملکی مسائل کاخود تجزیہ و تحلیل کر کے لوگوں پر اپنی رائے ٹھونسنے کے بجائے لوگوں کواصل حقائق سے آگاہ کرنے کے بعد یہ مشق کرانی چاہیے کہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے وہ خودغوروفکرکریں اپنی رائے قائم کریں ۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان جس بحران کا مسلسل شکار ہے وہ سیاسی بحران ہے۔یعنی سیاسی بحران ہی بیک وقت پاکستان کا ملکی،قومی اور معاشرتی بحران ہے،اس بحران سے نجات اگر الیکشن سے ممکن ہوتی تو ہم نے اب تک کئی الیکشن کرائے ہیں،اگر ریفرنڈم سے ممکن ہوتی تو وہ بھی کرواچکے ہیں،اگرسیاستدانوں کی مارکٹائی اور اسیری ہوتی تو وہ بھی ہم کرچکے۔۔۔ہم یہ سب کرچکے لیکن ہمیں یہ سب کرنے کے باوجود سیاسی بحران سے نجات نہیں ملی۔
اگر ہم اس بحران سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی بنیادیں معلوم کرنی پڑیں گی۔پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل اس بات پر دلیل ہے کہ سیاسی بحران کی بنیادیں قیام پاکستان کے ساتھ ہی پڑچکی تھیں، نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 9 مئی 1958ء کو پٹواری عطاء محمد نے صوبہ سرحد کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب کو لاہور میں قتل کر دیا۔ 5 دسمبر 1963ء کو پاکستان کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی لبنان کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کو ان کو زہر دیا گیا۔ ڈاکٹر نذیر احمد 8 جون 1972ء کو راجن پور میں قتل ہوئے۔ خواجہ رفیق کو بھی 20 دسمبر 1972ء کو لاہور میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اچکزئی قبیلے کے قوم پرست رہنما عبدالصمد اچکزئی 2 دسمبر 1973ء کو ایک بم کا نشانہ بنے۔ حیات محمد خان شیر پائو 8 فروری 1976ء کو دہشت گردی کی واردات میں مارے گئے۔ چودھری ظہور الٰہی 25 ستمبر 1981ء کو لاہور میں بے رحم قاتلوں کی فائرنگ کی زد میں آ گئے۔ فاضل راہو کو 7 جنوری 1987ء کو اپنے گائوں گولارچی سندھ میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ رئیسانی قبیلے کے سردار غوث بخش رئیسانی 26 مئی کو کوئٹہ میں قتل ہوئے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما علامہ عارف الحسینی کو 15 اگست 1988ء میں پشاور میں گولیوں کا نشانہ بنے۔مہاجر قومی موومنٹ کے عبوری سربراہ عظیم احمد طارق بھی اپنے گھر میں قتل کر دئیے گئے۔ حکیم محمد سعید 17 اکتوبر 1998ء میں کراچی میں قتل ہوئے۔ پاکستان سنی تحریک کی پوری قیادت کو 18مئی 2001ء میں دہشت گردی کی واردات میں مار ڈالا گیا۔ عمر اصغر خان 25 جون 2002ء کو کراچی میں بند کمرے میں مردہ پائے گئے۔ سابق وزیر خارجہ صدیق خان کانجو 2001ء کو ملتان میں قتل ہوئے۔ نواب اکبر خان بگٹی 26 اگست 2006ء کو ایک اپریشن کے دوران غار میں دبا دئیے گئے۔ غلام حیدر وائیں 20 اکتوبر 1993ء میں اپنے حلقے میں مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ مرتضیٰ بھٹو کو ان کی بہن کے وزارت عظمیٰ کے دور میں 1996ء کو پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ 27دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کاقتل ہونا اس کے علاوہ آرمی کا بلاشرکت غیرے اقتدار کرنا،بنگال میں عوامی بغاوت کاابھرنا،محترمہ فاطمہ جناح کاقتل ہو نا ،سیاسی انتخابات میں دھاندلیوں کا سہارالینا،سیاستدانوں کو بلیک میل کرنا،آئینی وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکانا،ایک لمبے عرصے تک آئین و قانون کا معطل رہنا،مسئلہ کشمیر پر پسپائی اختیار کرنا، افغانستان کی آگ میں پاکستان کو دھکیلنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔یہ سارے واقعات پاکستان میں سیاسی بحران پر دلالت کرتے ہیں اور یہ سیاسی بحران ہی ہے جس نے باقی تمام بحرانات کو جنم دیاہے۔۔۔مزے کی بات یہ ہے اور سوچنے و سمجھنے کامقام یہ ہے کہ ان سارے واقعات میں آرمی کھلم کھلا ملوث نظر آتی ہے۔۔۔تاریخ پاکستان کےسیاسی و عسکری حقائق کی جانچ پڑتال کرنے سے واضح طور پر یہ دکھائی دینے لگتاہے کہ یوں تو فوج کو غیرسیاسی ادارہ کہاجاتاہے لیکن ملک میں سب سے زیادہ سیاسی کردار فوج کا ہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارےہاں آرمی کا محکمہ سیاستدانوں کے مقابلے میں احساس کمتری کا شکار ہے ،چنانچہ ہمارے ہاں آرمی کے جرنیل اپنی پیشہ وارانہ خدمات انجام دینے کےبجائے سیاستدانوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے رہتے ہیں،سیاستدانوں کی جاسوسی ان کے نزدیک کوئی جرم نہیں، لوگوں کو سیاستدانوں سے بدگمان کرنے کے لئے سیاستدانوں کے مالی اور جنسی سکینڈلز سامنے لانا بھی ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہےنیزجمہوری حکومتوں کو گرانے کی نہ صرف سازشیں کرنا بلکہ ایوان اقتدار پر قبضہ جمالیناتو ان کے لئے چھوٹی موٹی بات ہے۔اپنے احساس کمتری کو چھپانے کے لئے فوجی حلقے اپنا تمام تر زور سیاستدانوں کو بدعنوان اور کرپٹ بناکر پیش کرنے میں لگاتے ہیں جبکہ اگر جرنیلوں کی کرپشن سے پردہ اٹھایاجائے تو عوام کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔اگرآپ صرف مشرف دور میں ہونے والی جرنیلی کرپشن کے چند مجمل نمونے ملاحظہ فرمائیں تو بھی آپ ہکا بکا رہ جائیں گے۔۔اسی دورِ حکومت میں کچھ لوگ زمینوں اور پلاٹوں کے بادشاہ مانے جاتے تھے۔ میڈیا نے یہ راز بھی افشاء کیا کہ وہ ڈیفینس کی تمام ہاوسنگ سکیموں کے ایک پلاٹ پر چھ لاکھ روپے کا نذرانہ وصول کرتے تھےرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہیں سےملک میں لینڈ مافیا کے تابناک کاروبار نے زورپکڑا اوراسلام اباد میں74000 پلاٹوں کو بار بار فروخت کیا گیا۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔ہمارا مقصد چونکہ کسی کو بدنام کرنا یاکیچڑاچھالنانہیں ہے اس لئے ہم نے صرف آئینہ دکھانے کی خاطر ایک اشارہ کیا ہے۔اب آئیے ملک و قوم کا اسّی فیصد بجٹ چٹ کر جانے والے ان جیالوں کے پیشہ وارانہ محاذ پر ان کی کارکردگی بھی ملاحظہ فرمائیں اور یہ دیکھیں کہ جب بھی ملک و قوم کو ان کی ضرورت پڑی تو انہوں نے کیا کیاگل کھلائے،بنگلہ دیش میں ضرورت پڑی تو اس وقت اسلامی دنیاکےسب سے بڑے ملک کے نوّے ہزار فوجیوں نے ہندوستان کی آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے،۱۹۶۵ میں ضرورت پڑی تو پرویزمشرف کی طرح خود کو عقل ِکل نیزبہت بڑاسیاسی مفکر اور سیاستدان سمجھنے والے جنرل ایوب صاحب تاشقند میں مذاکرات کی میز پر شکست کھاکر آگئے ،مسئلہ کشمیر پر ضرورت ہے تو ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے،کارگل کی چوٹیوں پر لڑائی شروع ہوئی تو ان کے چھکے چھوٹ گئے اور انہوں نے منتخب حکومت کو لتاڑدیا،مسئلہ افغانستان پر ملک و قوم کی حفاظت پڑی تو انہوں نے سب کچھ اٹھاکر امریکہ کے قدموں میں رکھ دیا،سیاستدانوں کے مقابلے میں جرنیلوں کے احساس کمتری میں مبتلا ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ جو فوجی بھی وردی اتارتا ہے وہ اپنے آپ کو ایک سیاسی شخصیت کے طور پر منوانے کی کوشش کرنے لگتاہے،ملک کے سیاسی حالات پر تبصرے شروع کردیتاہے،سیاسی پارٹیاں تشکیل دینے لگتاہے اور چیخنے لگتاہے کہ ملک میں سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے فوج کو آئینی اختیارات دیے جائیں۔حالانکہ سیاسی حالات کے خراب ہونے کی وجہ انہی جرنیلوں کی مداخلت ہے،اگر یہ احساس کمتری کے شکار نہ ہوں اور فوج کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ میدانِ سیاست کے بجائے فوج کی بیرکوں پر مرکوز کردیں اور اپنی اور اپنے ماتحت جوانوں کی علمی و فکری سطح بلند کریں تاکہ فوج سے سیاست کے مقابلے میں احساس کمتری نکلنے پائے،اگر انہیں تبصرے کرنے کا بہت ہی شوق ہے توسیاسی تبصرے کرنے کے بجائے فوجی حکمت عملی اورعسکری پالیسیوں کے حوالے سےبات کریں، اپنے فرائض منصبی تک محدود رہیں نیز سیاستدانوں کو سیاست کرنے دیں توحالات آج بھی بہتر ہوسکتے ہیں اور ملک تمام بحرانات سے نجات پاسکتاہے۔
اب مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پاکستانی فوج آئینی طریقے سے سیاست میں آئے یا غیر آئینی طریقے سے،مسئلہ یہ ہے کہ سیاستدانوں کومیدانِ سیاست میں ٹکنے دیاجائے۔۔
nazarhaffi@yahoo.com

بےباک
08-28-2012, 04:05 AM
زبردست ،جزاک اللہ ،محترم ،