PDA

View Full Version : وضو کے دوران کسی عضو کے دھونے میں شک کا بیان



پیرمحمدامیرسلطان قادری چشتی
08-06-2012, 06:50 PM
اگر وضو کے دوران کسی عضو کے دھونے میں شک واقع ہو تو کیا وضو دوبارہ کرنا چاہیے؟
وضو کرنے کے دوران کسی عضو کے دھونے میں شک واقع ہو جائے اور یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہو تو اس عضو کو دھو لیں اور اگر اکثر اس قسم کا شک ہوتا ہو تو اس کی طرف توجہ نہ کرے، البتہ وضو میں حقیقتاً کوئی عضو دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ وہ کون سا تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔

کیا محض شک کی بنا پر وضو ٹوٹ جاتا ہے۔اگر جسم پہ کوئی زخم ہو اور شک گزرے کہ زخم سے تھوڑا سا پانی یا خون نکلا ہے لیکن چیک کرنے پر پتہ چلے کہ پانی یا خون کا نام و نشان بھی نہیں تو کیا اس شک کی بنا وضو ٹوٹ جائے گا؟
آپ کو یقین ہو کہ خون نکل کر اپنی جگہ سے بہا ہے تو پھر وضو ٹوٹ گیا، اور آپ کو دوبارہ وضو کرنا پڑے گا، اور اگر صرف شک ہوا اور بعد میں خون وغیرہ نظر نہیں آیا تو آپ کا وضو برقرار ہے، دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر آپ احتیاط کرتے ہوئے دوبارہ وضو کر لیں تو آپ کے لئے بہتر اور افضل عمل ہے۔ نواقض وضو میں سے کوئی بھی سبب پایا جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
کن چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا
درج ذیل امور سے وضو نہیں ٹوٹتا :

خون کا ظاہر ہونا جو اپنی جگہ سے بہا نہ ہو۔
خون بہے بغیر گوشت کا گر جانا۔
کیڑے کا زخم سے یا کان سے یا ناک سے نکلنا۔
عضو تناسل کو چھونا۔
عورت کو چھونا۔
قے جو منہ بھر کر نہ آئے۔
بلغم کی قے اگرچہ بلغم زیادہ ہو۔
کسی ایسی چیز سے ٹیک لگا کر سونا کہ اسے ہٹا لیا جائے تو آدمی گر جائے۔
بیٹھ کر سویا اور گرگیا تب بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن رکوع و سجدہ یا قیام و قعود میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک گر نہ جائے۔
نماز پڑھنے والے کا سو جانا اگرچہ وہ رکوع یا سجدے کی حالت میں ہو۔
وضو کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے
وضو توڑنے والی چیزیں درج ذیل ہیں :

پاخانہ یا پیشاب کی جگہ سے کسی چیز کا نکلنا۔
جسم کے اندر کسی جگہ سے خون یا پیپ کا نکل کر مخرج سے پاک جگہ پر پہنچنا۔
تکیہ لگا کر سونا۔
منہ بھر کے قے آنا۔
بالغ کا نمازِ جنازہ کے علاوہ نماز کے اندر قہقہہ لگانا۔
بے ہوشی۔
مباشرتِ فاحشہ۔

انجم رشید
08-06-2012, 10:42 PM
السلام علیکم ۔
جزاک اللہ بہت بہت شکریہ آپ کا

pervaz khan
08-07-2012, 01:30 PM
جزاک اللہ