PDA

View Full Version : روزہ رکھنے سے اچھی صحت، عمر درازی



ابوسفیان
08-09-2012, 12:49 AM
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ اگر قا‏عدے سے روزہ رکھا جائے تو انسان کو صحت سے متعلق کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جن میں حد سے زیادہ وزن سے نجات شامل ہے۔

سائنسدان مائکل موسلی کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنا انہیں کبھی پسند نہیں تھا اور وہ روزے کے دیرپا فوائد کے بھی منکر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب ان سے اس پر ایک دستاویزی فلم بنانے کے لیے کہا گیا تو انہیں بہت زیادہ خوشی نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا’لیکن جب ’ہورائزن‘ میگزین کے مدیر نے انہیں یہ یقین دلایا کہ اس کے ذریعے وہ عظیم جدید سائنس سے متعارف ہونگے اور اس سے ان کے جسم میں ڈرامائی بہتری آئے گی۔ اس لیے میں نے حامی بھر لی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں مضبوط ارادے والا شخص تو نہیں ہوں لیکن مجھے اس بات میں کافی دلچسپی رہی ہے کہ آخر کم کھانے سے لمبی عمر کا کیا تعلق ہے اور سائنسدانوں کے مطابق اسے بغیر کسی درد کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ زیادہ نہیں بلکہ بہتر غذا کھانے سے عمر دراز ہوتی ہے۔ یہ بات کم سے کم جانوروں کے بارے میں تو سچ ثابت ہو چکی ہے اور چوہوں پر اس کا تجربہ انیس سو تیس کی دہائی میں ہی کیا جا چکا ہے کہ جب کچھ چوہوں کو اچھی غذائیت پر رکھا گیا تو انہوں نے دوسرے چوہوں کے مقابلے زیادہ عمر پائی۔

اس بات کے بھی وافر ثبوت موجود ہیں کہ بندروں کے معاملے میں بھی یہ بات درست ثابت ہوئی۔

اس تحقیق کے مطابق’چوہوں کی عمر میں چالیس فی صد تک کا اضافہ دیکھا گیا۔ اگر انسان کی عمر میں بھی یہ اضافہ ہوتا ہے تو ان کی اوسط عمر ایک سو بیس سال ہوسکتی ہے۔‘

روزہ سے جین میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور آئی جی ایف - ون نامی ہارمون کی نشونما میں کمی ہوتی ہے جس سے بڑھاپے میں کمی آتی ہے اور بڑھاپے سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

بڑھتی عمر میں تو یہ ضروری ہوتا ہے لیکن جب انسان ضعیف العمر ہونے لگتا ہے تو اس کے مدھم ہونے سے جسم ریپیئر موڈ یعنی مرمت موڈ میں آ جاتا ہے۔

جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر والٹر لونگو کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے آئی جی ایف - ون کی سطح میں کمی آتی ہے اور جسم مرمت موڈ میں آ جاتا ہے اور مرمت کرنے والے کئی جین جسم میں متحرک ہو جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا زیادہ مفید ہے لیکن مائکل موزلی کا کہنا ہے کہ یہ عملی نہیں بلکہ ایک ہفتے میں دو دن روزہ رکھنا زیادہ قابل عمل ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جسم میں آئی جی ایف-1 کی بہت کم سطح ہونے سے آدمی قد میں چھوٹا رہ جاتا ہے لیکن وہ عمر سے جڑی دو اہم بیماریوں کینسر اور ذیابیطس سے محفوظ رہتے ہیں۔

شکاگو میں الونوا یونیورسٹی کی ڈاکٹر کرسٹا ویراڈی نے دو قسم کے موٹے مریضوں پر ایک دن کے بعد ایک دن روزہ کا فارمولا اپنایا اور اس کے اثرات کو انھوں نے اس طرح بیان کیا ’اگر آپ اپنے روزے کے دنوں کی پابندی کریں تو آپ کو دل کی بیماریوں کا خطرہ نہیں رہتا خواہ آپ روزے نہ رکھنے کی حالت میں زیادہ کھاتے ہیں یا کم۔‘

بہر حال انھوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ حاملہ عورتیں اور ذیابیطس کے مریض اس میں احتیاط رکھیں اور اعتدال سب سے اچھا راستہ ہو خواہ کھانے میں ہو یا روزہ رکھنے میں ہو۔
بشکریہ: بی بی سی اُردو

بےباک
08-13-2012, 06:27 PM
بہت خوب جناب ابوسفیان جی
جزاک اللہ خیر ،
اللہ تعالی ہمارا خالق ہے اور اسی نے ہماری رہنمائی فرمانی ہے ،اور نماز، روزہ ، حج زکواۃ اور حج یہ سب احکامات ربانی ہے ، وہ بہتر جانتا ہے ہمارے لیے کیا مناسب ہے ،کیونکہ ہم اس خالق کی تخلیق کردہ مخلوق ہیں ،
روزہ انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہے ، اللہ تعالی شفائے کاملہ ایمان کے ساتھ نصیب فرمائے ، آمین

ابوبکر
08-18-2012, 10:37 PM
جزاک اللہ خیر