PDA

View Full Version : ایران میں زلزلے، دو سو بیس ہلاکتیں



انجم رشید
08-12-2012, 11:27 AM
ایران میں زلزلے، دو سو بیس ہلاکتیں
آخری وقت اشاعت: اتوار 12 اگست 2012 ,

زلزلے سے چار دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں جبکہ ساٹھ دیہات میں ساٹھ سے ستّر فیصد تباہی ہوئی
ایرانی حکام کا کہنا ہے ملک کے شمال مغربی علاقے میں آنے والے دو زلزلوں میں کم از کم دو سو بیس افراد ہلاک اور تیرہ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔
اسی بارے میں
زلزلے سب سے زیادہ جان لیوا قدرتی آفت
جنوبی ایشیا میں لینڈ سلائیڈ میں اضافہ
متعلقہ عنوانات
دنیا, ایران
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق تبریز کے خطے میں آنے والے دو زلزلوں کی شدت چھ اعشاریہ چار اور چھ اعشاریہ تین تھی۔
ایرانی حکام کے مطابق پہلا زلزلہ ایران کے شہر تبریز جبکہ دوسرا زلزلہ اھر قصبے کے قریب آیا۔ تہران یونیورسٹی کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق دونوں زلزلے یکے بعد دیگرے آئے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مشرقی آذربائیجان صوبے کی ہنگامی امداد کی مقامی کمیٹی کے سربراہ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان حارث اور ورزقاب نامی قصبات میں ہوا ہے۔
حکام کے مطابق زلزلے سے چار دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں جبکہ ساٹھ دیہات میں ساٹھ سے ستّر فیصد تباہی ہوئی ہے۔
ایران کی ہنگامی سروسز کے ادارے کے سربراہ غلام رضا معصومی کا کہنا تھا کہ ’مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے حکام کو ہلاکتوں کی درست تعداد کا تعین کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔‘
تبریز کی ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’زلزلے کے جھٹکوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا اور بہت سے لوگ اپنے مکانوں سے باہر نکل آئے ہیں۔ ایمبولینسوں کا رش ہر جگہ ہے۔‘

زخمیوں کو صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے
متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہلالِ احمر کی ریلیف اینڈ ریسکیو تنظیم کے سربراہ محمود مظفر کا کہنا ہے کہ چھیاسٹھ امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔
مشرقی آذربائیجان کے حکام نے عوام سے کہا ہے کہ وہ رات گھروں سے باہر گزاریں کیونکہ مزید جھٹکوں کا خطرہ موجود ہے۔
تبریز کی رہائشی امینہ ضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے اہلِخانہ بہت خوفزدہ ہیں۔ رات کا وقت ہے لیکن ہم سو نہیں سکتے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’زلزلہ بہت طاقتور اور شدید تھا۔ زلزلے کے بڑے جھٹکے کے بعد دس چھوٹے جھٹکے آئے اور یہ عمل دس منٹ تک جاری رہا‘۔
خبر رساں اداے اے ایف پی کے مطابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے پیغام میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ آبادی تک امداد پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
خیال رہے کہ ایران ایک متحرک فالٹ لائن پر واقع ہے اور یہاں ماضی میں بھی زلزلے آتے رہے ہیں جن میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ سنہ دو ہزار تین میں ایرانی شہر بام میں آنے والے زلزلے سے پچیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے