PDA

View Full Version : عید کا چاند از ساغرؔ صدیقی



زیرک
08-14-2012, 06:20 PM
عید کا چاند

عید کا چاند ہے خُوشیوں کا سوالی، اے دوست
اور خُوشی بِھیک میں مانگے سے کہاں مِلتی ہیں
دستِ سائل میں اگر کاسۂ غم چیخ اُٹھے
تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں مِلتی ہیں

عید کے چاند! مُجھے محرمِ عِشرت نہ بنا
میری صُورت کو تماشائے اَلَم رہنے دے
مُجھ پہ حیران ہیں یہ اہلِ کرم رہنے دو
دہر میں مُجھ کو شناسائے اَلَم رہنے دو

یہ مسرّت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں
کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے
چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا
اتنے دن تُو نے بھی ظُلمت میں گُزارے ہوں گے

ساغرؔ صدیقی

*****************

چاکِ دامن کو جو دیکھا تو مِلا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بُھول گیا عید کا چاند
اُن کے اَبروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چُھپا عید کا چاند
جانے کیوں آپ کے رُخسار مہک اُٹھتے ہیں
جب کبھی کان میں چُپکے سے کہا “عید کا چاند“
دُور ویران بسیرے میں دِیا ہو جیسے
غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عِید کا چاند
لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے
آج بھی خُلد کی رنگین فضا عید کا چاند
تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں
گھول کر دَرد کے ماروں نے پِیا عید کا چاند
چشم تو وُسعتِ افلاک میں کھوئی ساغرؔ
دِل نے اِک اور جگہ ڈُھونڈ لیا عید کا چاند

ساغرؔ صدیقی