PDA

View Full Version : رنگِ انقلاب از ساغرؔ صدیقی



زیرک
08-14-2012, 06:24 PM
رہبروں کے ضمیر مُجرم ہیں

ہر مُسافر یہاں لُٹیرا ہے

معبدوں کے چراغ گُل کر دو

قلبِ انسان میں اندھیرا ہے

ساغرؔ صدیقی

زیرک
08-14-2012, 06:24 PM
راہزن آدمی، رہنما آدمی
بارہا بن چکا ہے خُدا آدمی
ہائے تخلیق کی کارپردازیاں
خاک سی چیز کو کہہ دیا آدمی
کُھل گئے جنّتوں کے وہاں زائچے
دو قدم جُھوم جُھوم کر جب چلا آدمی
زندگی خانقاہِ شہُود و بقا
اور لوحِ مزارِ فنا آدمی
صُبحدم چاند کی رُخصتی کا سماں
جس طرح بحر میں ڈُوبتا آدمی
کچھ فرشتوں کی تقدیس کے واسطے
سِہہ گیا آدمی کی جفا آدمی
گُونجتی ہی رہے گی فلک در فلک
ہے مشیّت کی ایسی صدا آدمی
آس کی مُورتیں پُوجتے پُوجتے
ایک تصویر سی بن گیا آدمی

ساغرؔ صدیقی

زیرک
08-14-2012, 06:24 PM
دستُور یہاں یہاں بھی اندھے ہیں، فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست! خُدا کا نام نہ لے، ایمان یہاں بھی اندھے ہیں
تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لِپٹے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں، عُنوان یہاں بھی اندھے ہیں
زردار توقع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پر
مزدُور یہاں بھی دیوانے، ذی شان یہاں بھی اندھے ہیں
کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنُوں، انسان یہاں بھی اندھے ہیں
بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اُڑتی دیکھی ہے
حیراں ہیں دِلوں کے آئینے، نادان یہاں بھی اندھے ہیں
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے، بے نُور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بُھوکا ہے، سُلطان یہاں بھی اندھے ہیں

ساغرؔ صدیقی