PDA

View Full Version : رنگِ وطن از ساغرؔ صدیقی



زیرک
08-14-2012, 06:26 PM
چمن چمن، کلی کلی، روِش روِش پُکار دو
وطن کو سرفروش دو، وطن کو جاں نثار دو
جو اپنے غیضِ بے کراں سے کوہسارِ پیس دیں
جو آسماں کو چِیر دیں، ہمیں وہ شہسوار دو
یہی ہے عظمتوں کا اِک اصُولِ جاوداں حضُور
امیر کو شجاعتیں، غریب کو وقار دو
نظر نظر میں موجزن تجلّیوں کے قافلے
وہ جذبۂ حیاتِ نَو، بشر بشر اُبھار دو
شعور کے لباس میں صداقتیں ہیں مُنتظر
خلوص و اعتبار کے جہان کو نِکھار دو
تصوّرات زندگی کو پِھر لہُو کا رنگ دیں
چلو! جنُوں کی وُسعتوں پہ دانشوں کو وار دو
فضائیں جس کی نکہتوں سے ہوں وقارِ گُلستاں
تو ایسے ایسے پُھول کو ستارۂ بہار دو
جو چشم و دل کے ساتھ ساتھ میکدے کو پُھونک دے
مُجھے خُدا کے واسطے وہ جامِ پُراسرار دو
چھلک رہا ہے خلوتوں میں ساغرِؔ مشاہدات
اُٹھو سنخورو! زمیں پہ کہکشاں اُتار دو

ساغرؔ صدیقی

زیرک
08-14-2012, 06:26 PM
میرے وطن

جانِ فردوس ہیں تیرے کوہ و دمن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن
تُجھ پہ صدقے ہے تن تُجھ پہ قُرباں ہے مَن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن

تیرے دریاؤں میں ہیں سفینے رواں
اے مقامِ جہانگیر و نُورجہاں
تیرا ہر قریہ ہے گُلستاں بُوستاں
تیرے کانٹے بھی ہیں مجھ کو غُنچہ دہن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن

تیرے چک اور گاؤں اِرم زاد ہیں
کھیتیاں آسمانوں کی بُنیاد ہیں
تیرے دیہات تقدیس آباد ہیں
تیرے نغمے نئے اور ساز کُہن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن

تُجھ میں لاہور ہے، تُجھ میں ملتان ہے
تُو کہ وارث کا روشن قلم دان ہے
تُو بلوچوں پٹھانوں کا قرآن ہے
تُو کہ ایمان کے چاند کی ہے کِرن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن

تیرے آغوش میں ہے قلندر کا در
تیری مٹی میں پنہاں ہے گنجِ شکر
تُو نے دیکھے ہیں داتا سے اہل نظر
تُو کہ سُلطان باہو کی ہُو کا وزن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن

تُو ہے خیبر کے در کا امیں اے وطن
کام تیرا ستارہ جبیں اے وطن
کوئی دُنیا میں تُجھ سا نہیں اے وطن
تیرے ذرّے بھی ہیں مُجھ کو دُرِّ عدن
زندہ باد اے وطن، زندہ باد اے وطن

ساغرؔ صدیقی

زیرک
08-14-2012, 06:27 PM
ترانہ

جِیو سرفروشو! جیو جاں نثارو
جبینِ وطن کے چمکتے سِتارو
مِلی ہے تمہیں شہرتِ جاوِدانہ
شجاعت کی دُنیا میں تم ہو یگانہ
جیو سنگ و آہن کے تسخیر کارو
جیو سرفروشو! جیو جاں نثارو

خُدا نے سِکھائی تمہیں روزگاہی
تمہی موجِ توحید کے ہو سپاہی
روایاتِ اسلام کے شاہ پارو
جیو سرفروشو! جیو جاں نثارو

نگہبانِ نامُوسِ حیدرؓ تمہی ہو
سرِ بحرِ ہستی شناور تمہی ہو
گلستانِ مِلّت کی ہنستی بہارو
جیو سرفروشو! جیو جاں نثارو

تمہی سے ہے بیدار اُلفت وطن میں
تمہی سے ہے آباد جنّت وطن میں
وطن کی حقیقت کے پروردگارو
جیو سرفروشو! جیو جاں نثارو

ساغرؔ صدیقی

زیرک
08-14-2012, 06:28 PM
میرے وطن کے راہنماؤ

میرے وطن کے راہنماؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
جس میں ہو صدیقؓ کی عظمت
جس میں ہو عثمانؓ کی عقیدت
جس میں ہو فاروقؓ کی جرئات
جس میں ہو حیدرؓ کی شجاعت
مِٹ جائیں ظلمات کے گھاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ

طارقؓ کی تدبیر ہو جس میں
خالدؓ کی تقدیر ہو جِس میں
مجحن کی زنجیر ہو جس میں
قرآں کی تاثیر ہو جِس میں
مِلّت کے جذبات جگاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ

عقل و خرد کی آنکھ کا تارا
طوفاں میں مضبوط کنارا
مفلس اور نادار کا پیارا
جہد و عمل کا بہتا دھارا
فکر و نظر کی شمع جلاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ

سر توڑے جو مغروروں کا
ساتھی ہو جو مہجوروں کا
دارِ ستم کے منصوروں کا
محکُوموں کا مجبوروں کا
چل نہ سکے زردار کا داؤ
اِک ایسا آئین بناؤ

خدمتِ انساں کام ہو جس کا
فیضِ سخاوت عام ہو جس کا
کام فقط اسلام ہو جس کا
شانِ سلف پیغام ہو جس کا
وقت کے پرچم کو لہراؤ
اِک ایسا آئین بناؤ

ساغرؔ صدیقی

زیرک
08-14-2012, 06:28 PM
اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
ہر روِش پر نکہتوں کی آبرُو جلنے لگی
پھر لغّاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرِد مندو! ادائے گُفتگُو جلنے لگی
قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نَو ورائے ما و تُو جلنے لگی
ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمتِ انسانیت پِھر چارسُو جلنے لگی
دے کوئی چِھینٹا شرابِ ارغواں کا ساقیا
پھر گھٹا اُٹھی، تمنّائے سبُو جلنے لگی
اِک ستارہ ٹُوٹ کر معبودِ ظُلمت بن گیا
اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی
دیکھنا ساغرؔ! خرامِ یار کی نیرنگیاں
آج پُھولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی

ساغرؔ صدیقی