PDA

View Full Version : اولیائے امت کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم



گلاب خان
08-14-2012, 06:31 PM
اولیائے امت کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
مولانا محمدموسیٰ خان ندوی(استاذ مدرسہ دار العلوم رحمانیہ حیدرآباد)

عظمت وتقدس کے ساتھ دل میں پائے جانے والے میلان کومحبت وچاہت کہتے ہیں ، محبت کا عنصر ہر جاندار مخلوق کے اندر پایا جاتا ہے، مگر انسان میں یہ عنصر احساس وشعور کے درجہ میں رکھا گیا ہے، سرچشمۂ محبت ذات صرف حق تبارک وتعالیٰ کی ہے، کیونکہ وہی خالق محبت ہے (روم) پھرانسانوں میں بھی تعلقات کی مختلف نوعیتوں کے اعتبار سے محبت کی مختلف شکلیں ہیں ؛ لیکن بنیادی طور پر اس کی دوقسمیں ہیں ، ایک طبعی جوآپسی تعلقات کے اعتبار سے ہر ایک کودوسرے طبعی وفطری تقاضہ کے تحت ہوا کرتی ہے؛ جیسے: بیوی شوہر کی، ماں باپ واولاد کی اور بھائی بہن وغیرہ کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت اور دوسری قسم ہے عقلی جودین وایمان کے تعلق کی بنیاد پر ہوا کرتی ہے، اس کی اعلیٰ ترین قسم ایک امتی کی اپنے پیغمبر حضرت سیدنا محمد رسول اللہؐ سے محبت ہے، جودین کے بنیادی احکام میں سے ہے، قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روسے ایک مسلمان اس بات کا پابند ہے کہ محنت وجستجواورمجاہدہ کے ذریعہ مذکورہ طبعی وفطری محبت پر عقلی ومذہبی محبت کوغالب کرے؛ کیوں کہ اس کے بغیر عظمت وتقدس اور تاثر پیدا نہیں ہوتا؛ توپھر آدمی قرآن وسنت پر عمل پیرا نہیں ہوسکتا؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے محبوب آنحضرتﷺ کی صفات واخلاق، عہدے ومناصب، آپؐ کے رتبے اور آپؐ کی مجلس کے آداب کوملحوظ رکھنے، آپؐ کی آواز پر فوری لبیک کہتے ہوئے دوڑ بڑنے کی تلقین فرمائی اور آپؐ کی عمر مبارک کی قسم تک کھائی ہے؛ تاکہ قارئ قرآن مسلمان اس کوپڑھ کر اور سمجھ کر دل کوعظمت ومحبتِ رسولؐ سے معمور کرلے۔
حضرات صحابہ کرامؓ نے محبت ِ رسولؐ اور اس کے عملی تقاضوں کواچھی طرح سمجھ کر اس کوپورا کرکے دکھلا دیا کہ"محبت اس کوکہتے ہیں ، محبت ایسی ہوتی ہے"اولیائے امت میں سرخیل طبقہ دراصل حضرات صحابہ کرامؓ ہی کا ہے، تابعین اور بعد کے اولیائے امت میں محبت ِ رسولؐ اور اس کے عملی تقاضوں کے جونظائر پائے جاتے ہیں وہ ان ہی صحابہ کرامؓ کے واسطہ سے حاصل کردہ فیضانِ نبوت کا اثر ہے، وہ جس قدر مستحکم اور متاثرکن ہوگا، اس کے ذریعہ وجود میں آنے والی چیزیں بھی عمل وروحانیت کے اعتبار سے مضبوط ومؤثر ہوسکتی ہیں ، اس لئے حق تبارک وتعالیٰ نے ان کومحبت ِ رسولؐ اور سنتوں کے اہتمام میں بہت ہی اونچے مقام پر فائز فرمایا تھا؛ اسی کا اثر ہے کہ جتنے بھی اولیائے امت گزرے ہیں انھوں نے اصحابِ رسولؐ کے واسطہ سے نور ِ نبوت کا فیضان حاصل کرکے اپنی زندگیوں کوایسا روشن ومنور کرلیا کہ وہ بعد میں آنے والے محبانِ اولیاء کے لئے عشق ومحبت رسولؐ کی دنیا میں خضر طریق ومشعل راہ بن گئے۔
اولیائے ہند میں حضرت شیخ احمد سرہندی مجد الف ثانیؒ کا نام نمایاں نظر آتا ہے، ابھی دوتین ماہ قبل ہی لوگوں نے بڑے اہتمام سے ان کی یاد منائی ہے، ان کی ذات کے ساتھ ان کی تعلیمات کوبھی یاد رکھنے اور روبعمل لانے کی ضرورت ہے، ان کے محبت وعشق رسولؐ کے بارے میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش کیا ہوسکتی ہے؟ بایں ہمہ وہ سنت وشریعت کے کٹر پابند ہونے کے ساتھ بدعات وخرافات سے سخت نفرت کرتے تھے اور اپنے مریدین ومنتسبین کوخطوط کے ذریعہ ان سے بچنے کی قوت کے ساتھ تلقین فرماتے تھے، تاریخ ہند سے واقفیت رکھنے والے کے علم میں ضرور یہ بات ہوسکتی ہے کہ اکبر بادشاہ کے من گھڑت دین الٰہی کوکھرچ کر پھینکنے میں ان ہی کی سخت جدوجہد کوبڑا دخل ہے (جودین کی ہمدردی کے لبادہ میں دین اسلام کے خلاف بہت بڑی بغاوت تھی، جوہر بدعت کا لازمی نتیجہ ہے) ان کے زمانہ میں ایک غلط خیال یہ قائم کرلیا گیا تھا کہ ولی، نبی کے برابر ہوتا ہے، وہ شدت سے اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے کہ: "کوئی ولی، نبی کے درجہ کونہیں پاسکتا؛ بلکہ ولی کا سر نبی کے قدم کے نیچے ہوتا ہے۔
(مکتوبات مجدد الف ثانیؒ:۱/۶۶۶)

اپنے ایک دوسرے مکتوب میں سنت کی اہمیت اور بدعت کی قباحت کوبیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:"فضیلت تمام تر سنت کی پیروی میں ہے اور امتیاز واعزاز شریعت پر عمل کرنے میں ہے، مثلاً اتباعِ سنت کی خاطر دوپہر میں سونا (جس کوقیلولہ کی سنت کہتے ہیں ) کروڑوں شب بیداریوں سے افضل ہے، جواپنی جانب سے ایجاد کردہ ہو’’۔(۱/۱۴) اپنے مخدوم زادہ خواجہ محمد عبد اللہ کوسنت کی اشاعت اور بدعت کے انسداد کی ضرورت واہمیت سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: "پورے عزم وہمت کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ سنتوں میں سے کسی سنت کورواج دیا جائے اور بدعات میں سے کسی بدعت کا ازالہ کیا جائے، یہ کام ہر وقت ضروری تھا، لیکن ضعف اسلام کے اس زمانہ میں کہ مراسمِ اسلام کا قیام، سنت کی ترویج اور بدعت کی تخریب کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور بھی ضروری ہے’’۔ (تاریخ دعوت وعزیمت:۴/۲۶۹) بڑے ہی عبرت کا مقام ہے کہ آج سے تین چار سوبرس قبل سنت کی ترویج اور بدعت کی قباحت کی ضرورت اس قدر شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی ہوتوفی زمانہ جبکہ عشق نے فسق کی جگہ لے لی ہے، ایسے وقت میں کس قدر اہتمام کے ساتھ اس کام کی ضرورت ہوگی؟
اولیائے امت کی تاریخ میں ایک مقدس ہستی حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیریؒ کی ہے، آپ کا خاندان ملک شام کے شہر الخلیل سے نقل مکانی کرکے ہندوستان کے صوبہ بہار کے ایک قصبہ منیرآیا تھا، ساتویں صدی ہجری کے بڑے پایہ کے بزرگوں میں گذرے ہیں ، ظاہری وباطنی علوم میں بڑی دسترس رکھتے تھے، سچے عاشق رسولؐ بھی تھے، جس کا نتیجہ تھا کہ سنتوں کی غیرمعمولی پابندی بھی فرماتے تھے، ایک سواکیس برس کی عمر میں جب کہ ضعف ونقاہت اپنی آخری حد کوپہنچ گئی تھی، ایسی مرض الوفات کی حالت میں آپؒ نے جوآخری وضوفرمایا ہے تواس میں سنتوں کا بڑا اہتمام فرمایا ہے، مسواک اور دعاؤں کے اہتمام سے وضوفرما رہے تھے؛ مگر منہ دھونا بھول گئے، قریب ہی حاضر شیخ خلیل نے یاد دلا دیا، ضعف پیرانہ سالی سے یہ بھی ممکن تھا کہ اخیر میں صرف منہ دھولیں ، لیکن انھوں نے ازسرنووضوفرمایا اور درمیان کی دعاؤں میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں فرمائی اور پھر اخیر میں شیخ زاہد نے پیر دھونے میں مدد کرنی چاہی تومنع فرمایا۔ (تاریخ دعوت وعزیمت:۳/۲۲۴) کیونکہ وضوکی سنتوں میں ایک اہم ترین سنت یہ ہے کہ وضومیں کسی کی مدد نہ لینا چاہئے؛ اسی طرح کا واقعہ حضرت جنید بغدادیؒ کا بھی منقول ہے؛ البتہ ان سے انگلیوں کا خلال چھوٹ گیا تھا تواز سر نووضوکیا اور فرمایا کہ قبر میں آقاؐ سے ملاقات ہونے والی ہے، ان کی سنتوں کوترک کرنے کے بعد کس صورت سے ان سے ملوں ؟
ہمارے دکن کا علاقہ بھی کبھی اولیائے کرامؒ سے خالی نہیں رہا، یہاں سرزمین دکن میں بڑے بڑے چوٹی کے اولیائے امت آسودۂ خاک ہیں ، جن میں سے ہر ایک "خورشید بداماں"تھا، جن کی زندگیاں عشق رسولؐ سے سرشار اور اتباعِ سنت نبویؐ سے بھرپور تھیں؛ دکن کے انہیں اہل علم واہل دل بزرگوں میں رہبر شریعت ورہنمائے طریقت محدث دکن عارف باللہ حضرت ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ صاحب قبلہؒ ہیں ، جوایک سچے عاشق رسولؐ ہونے کے ساتھ ساتھ سنتوں کوپورے اہتمام سے اپناتے اور دوسروں کوترغیب وتلقین بھی فرماتے، حضرتؒ کی زندگی کی ان دونمایاں چیزوں کوہم حضرت ہی کے ایک قریبی ہر دم حاضر باش بااعتماد مرید جناب پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار خاں صاحب قادری نقشبندی داؤد زئی، سابق صدر شعبۂ عربی عثمانیہ یونیورسٹی(حال مقیم امریکہ) کے حوالہ سے پیش کرنا چاہیں گے جنہوں نے عشق ومحبت سے سرشار ہوکر اپنے پیر ومرشد کی سوانح حیات لکھی ہے، حضرت قبلہؒ کے حج کے سفر حرمین شریف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مدینہ میں قیام کے زمانہ میں غار ثور پر حاضری ہوئی توپہلے وہاں سفر ہجرت کے موقع پر حضرت صدیق اکبرؓ کے ہمراہ اس غار میں آنحضرتؐ کے پناہ گزیں ہونے کا واقعہ سنایا، اس کے بعد اپنا کرتا اتار کر غار کے دہانے سے اندر داخل ہوئے؛ تاکہ برہنہ پشت کوغار کا حصہ مس کروائیں تاکہ براہ ِ راست برکت حاصل ہو۔(تذکرۂ محدثِ دکن:۱۳۰) ایک طرف آنحضرتﷺ سے عشق ومحبت اور والہانہ تعلق کا یہ عالم ہے تودوسری طرف سنتوں کی پابندی کا یہ حال تھا کہ کسی نے حضرت سے دریافت کیا کہ دینداری کا کمال کیا ہے؟ جواب میں ارشاد فرمایا کہ مسلمان کوکامل اتباعِ سنتِ نبویؐ حاصل ہوجائے اور خود حضرت بھی سنتوں کی بڑی پابندی فرماتے:ہراچھے کام کوداہنی جانب سے شروع فرماتے، مسجد سے باہر نکلنا ہوتا توپہلے بایاں پاؤں باہر نکال کر بائیں جوتے پر رکھتے پھر پہلے داہنا جوتا پہنتے، پھر بایاں اور جب مسجد میں داخل ہوتے تواس کے برعکس کرتے۔ (تذکرہ:۲۲۰، ۲۲۱) ایک اور واقعہ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ جولوگ صوفیائے کرامؒ اور بزرگوں کی نسبت کونہیں مانتے کیا ان کے دل میں اللہ ورسولؐ کی محبت ہوتی ہے اور کیا ان کے اعمال قبول ہوتے ہیں ؟ (سائل کا منشا یہ تھا کہ حضرت قبلہؒ مسؤل عنہ کے بارے میں کفر یا خارج اسلام ہونے کا فتویٰ صادر کردیں ) لیکن حضرت قبلہؒ نے ان کے تیور کوبھانپ لیا اور نہایت ہی حکیمانہ انداز میں سمجھایا کہ دیکھوایک آقا کے دوغلام ہیں ، ایک صرف خدمت کرتا ہے، آقا سے خلوص ومحبت اس کے دل میں نہیں ہے، وہ قابل نفرت ہے اور دوسرا غلام صرف محبت کا دم بھرتا ہے، آقا کی خدمت نہیں کرتا یہ بھی قابل نفرت ہے، ہمارا کام ہے کہ مشورہ دیں ، سمجھائیں اور دعا بھی کریں کہ خدمت کرنے والے غلام کواللہ آقا کی محبت وخلوص بھی عطا کرے؛ اسی طرح صرف محبت کا دَم بھرنے والے غلام کوخدمت کی توفیق عطا کرے۔
(بحوالہ مذکورہ:۱۲۰)

مذکورہ واقعہ میں حضرت عبداللہ شاہ صاحبؒ نے جس حکمت آمیز اور نرم وگداز انداز میں سائل کے سوال کا جواب دیا تواس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت کے زمانہ میں بھی کچھ شدت پسند لوگ تھے، جوحضرت کی بات سے فائدہ اٹھاکر ایک مخصوص طبقہ کے ساتھ تشدد آمیز رویہ اختیار کرسکتے تھے؛ مگرحضرت کے دوٹوک جواب پر چپ سادھنے پر وہ صاحب مجبور ہوگئے اور شریر قسم کے لوگوں کوشرارت کا موقع بھی نہ مل سکا، غالباً یہی وجہ ہے کہ شہر میں جوسیرت النبیؐ وفیضانِ اولیاء کے جلسے منعقد ہوتے ہیں ، ان میں حضرات مقررین کواپنے متشددانہ افکار وخیالات کی تائید میں حضرت عبداللہ شاہ صاحب کے کوچہ سے خوشہ چینی کا موقع ہاتھ نہ آیا اس لئے حضرتؒ کا نام بھی ان جلسوں میں بہت کم ہی لیا جاتا ہے؛ اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین سے سچی اور حقیقی محبت وتعلق رکھنے والے کی ذمہ داری ہے کہ ان کی زندگیوں سے ان دونوں چیزوں کویعنی محبت ِ رسولؐ اور سنتوں کی پیروی وپابندی کولے، تاکہ اولیاء اللہ کے ذریعہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وسیرت تک رسائی ہواور پھر اس کے ذریعہ اللہ کا قرب اور اس کی بارگاہ میں محبوبیت کا مقام حاصل ہواور دونوں جہاں کی حقیقی کامیابی حاصل ہواور عشق ومحبوبیت کا مقام حاصل ہواور دونوں جہاں کی حقیقی کامیابی حاصل ہواور عشق ومحبتِ رسولؐ میں اندھی جذباتیت اور خواہشاتِ نفسانی کی تحریک پر پیدا شدہ بدعات کے اندھیروں سے نکل کر باہوش وحواس سنجیدگی ومتانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور سنتوں کی پیروی کرتے ہوئے حقیقت کی دنیا میں آئے۔