PDA

View Full Version : کامرہ ائیر بیس پر حملہ، آٹھ خودکش حملہ آور ہلاک



انجم رشید
08-16-2012, 10:58 AM
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع شہر کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً دو بجے دہشتگردوں نے حملہ کیا اور حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پاکستانی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے تقریباً چار گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کے بعد جمعرات کی صبح صورتحال پر قابو پا لیا ہے اور فائرنگ کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے۔ اس وقت علاقے میں مزید ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے اور اسلام آباد پشاور موٹر وے کو اٹک کے مقام پر بند کر دیا گی

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی لاشوں سے خود کش جیکٹیں ملی ہیں اور حملہ آوروں کے پاس ’راکٹ پروپلڈ گرنیڈ‘ (آر پی جی) اور خودکار ہتھیار بھی موجود تھے۔
ترجمان کے مطابق جوابی کارروائی میں فضائیہ کے دو اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں اس حملے کی جوابی کارروائی کی سربراہی کرنے والے آفیسر، ایئر کموڈور محمد اعظم بھی شامل ہیں جن کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کا منہاس ایئر بیس اور ایروناٹیکل کمپلیکس موجود ہے۔
عسکری ذرائع نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد گیارہ سے پندرہ کے درمیان تھی۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پاکستانی فضائیہ کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں اور یہ حملہ دو ہزار نو میں جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے کی طرز پر کیا گیا۔
پاکستانی فضائیہ کے ترجمان گروپ کیپٹن طارق محمود نے نامہ نگار ظہیر الدین بابر کو بتایا کہ دہشتگردوں کے گروہ نے پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی رات دو بج کر دس منٹ پر فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
فضائیہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے منہاس ائیر بیس کے جس حصے پر حملہ کیا تھا انہیں وہیں گھیر لیا گیا اور اس کارروائی میں فضائیہ کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا۔
نامہ نگار ذوالفقار علی نے پاکستانی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بتایا کہ حملہ آوروں نے ایئر بیس کے ہینگر (طیاروں کے کھٹرے کرنے کی جگہ) میں گھسنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائی، انہیں ہینگر تک پہنچے سے روکنے میں کامیاب رہی۔ ایئر بیس کی بیرونی دیوار کے باہر سے بھی دستی بموں کی مدد سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک جہاز کو نقصان بھی پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق جس جہاز کو نقصان پہنچا وہ ایک ساب - 2000 طیارہ تھا جو کہ نگرانی اور معلومات اکھٹے کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چند ذرائع کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے جس سمت سے کارروائی کی، اس کے پیشِ نظر اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ حملہ آوروں کو پہلے سے یہ معلومات حاصل تھیں کہ یہ حساس طیارے اڈے میں کس مقام پر موجود ہیں تاہم اس معاملے کی تحقیقات آپریشن مکمل کرنے کے بعد کی جائیں گی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور اس واقعے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
کامرہ میں پاکستانی فضائیہ کے اڈے پر ماضی میں بھی حملے کی کوشش ہو چکی ہے۔ اکتوبر دو ہزار نو میں ایک خودکش حملہ آور نے اسی اڈے کے باہر واقع حفاظتی چوکی پر دھماکہ کر کے چھ شہریوں اور پاکستانی فضائیہ کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ پاکستان میں کسی فوجی اڈے پر دہشتگردوں کے حملے کا پہلا واقعہ نہیں۔ مئی دو ہزار گیارہ میں شدت پسندوں نے کراچی میں واقع بحریہ کے مہران بیس پر حملہ کیا تھا اور سترہ گھنٹے کی کارروائی میں دس اہلکار اور حملہ کرنے والے دہشتگردوں میں سے تین ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے قبل سنہ دو ہزار نو میں راولپنڈی میں پاکستانی بری فوج کا صدر دفتر بھی دہشتگردوں کا نشانہ بنا تھا اور بائیس گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی میں بائیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

pervaz khan
08-16-2012, 12:14 PM
ایسی حساس جگہوں پر سیکورٹی اتنی سخت ہوتی ہے کہ کوئی بھی اسے بیس سے ہزاروں گز کے فاصلے پر ہو تو اس پر کڑہی نظر رکھی جاتی ہے۔اور اس کو بیس میں داخل ہونے سے پہلے ہی پکڑ لیا جاتا ہے۔ پتہ نہیں یہاں کیا ہو رہا ہے۔بہت دکھ اور افسوس ہوتا ہے ایسی خبریں پڑھ کر۔

انجم رشید
08-16-2012, 03:42 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم
سوچنے کی بات ہے کہ دہشت گرد اپنے آپ کو مجاہد کہتے ہیں کیا یہ لوگ انسان کہلانے کے قابل ہیں جنہوں نے رحمت بھری رات شب القدر میں ایک مسلم ایر بیس پر حملہ کیا اور جہنم واصل ہوے کیا یہ لوگ انسان ہیں کچھ لوگ ان کو درندہ کہیں گے لیکن میں سمجھتا ہوں ان کو درندہ کہنا بھی درندوں کی توہین ہے کیوں کہ درندہ صرف خوراک حاصل کرنے کے لیے اس جانور کو مارتا ہے جس کو وہ کھا سکتا ہوں درندے کو بھی علم ہے کہ کون سہ جانور شکار کرنا ہے اور کون سہ نہیں یہاں تو یہ شیطان میں ان کو شیطان ہی کہوں گا مسلموں کا سر قلم کر رہے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ جنت ان کا ٹکانا ہے میں کہتا ہوں جہنم ا ن کا ٹکانا ہے اللہ تبارک و تعالی ان کو ہدایت دے آمین ثم آمین
وسلام

بےباک
08-16-2012, 05:28 PM
بڑا دکھ ہوا ،
انا للہ و انا الیہ راجعون
یہ ایسی کاروایاں کر رہے ہیں جیسے دشمن ملک کرتے ہیں ،یہ صرف ان طیاروں کو تباہ کر رہے ہیں جس سے فضائی نگرانی کی جا سکے ،
یہ کیا چاہتے ہیں ؟ ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ، اور یہ لوگ دشمن کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں ، یہ حسن بن الصباح کے قماش کے لوگ ہیں ، وہ بھی فدائین بناتا تھا اور انہوں بھی ان کا عمل پسندیدہ اور مرغوب بتاتا تھا ،
ان کو جہاد کرنا ہے تو افغانستان میں عیسائیوں کی فوجیں ہی فوجیں ہیں ،اور جہاں پر یہ لوگ چھپے ہوئے ہیں ، وہیں موجود ہیں اور وہ افغانستان پر ظلم و گارت گری کر رہی ہیں ، ۔۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اپنے ملک کو ہی نقصان پہنچایا جا سکے ، اور وہ بھی ا س نوعیت کا ،جس سے ھندو ؤں اور عیسائیوں کا فائدہ ہو ۔ یہ طیارے دشمن کے طیاروں کا کھوج لگانے کے لیے ہوتے ہیں اسی طرح کے کام کے لیے طیارے اورین کراچی میں تباہ کیے گئے تھے کہ آج تک ان کا متبادل نہیں مل سکا ان کا کام نگرانی کرنا ہوتا ہے ، دشمن کے طیارے کوسینکڑوں کیلو میٹر سے دیکھ سکتے ہیں ۔
یقینا ان تنظیموں سے دشمن ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں ، اسلام کے نام پر لڑنے والی طاقتیں اسلام کے قلعے کو ہی کمزور کریں تو لعنت ہے ان پر۔ ان تنظمیوں کو پاکستان کی حکومت اسلامی نہیں نظر آتی تو ان کو چاھیے کہ اسلامی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے لیے عوام کو قائل کریں ، قتل و غارت ، فساد اسلام میں ممانعت ہے ، میں ترک جہاد کا کوئی سبق نہین دوں گا یہ اسلام کا اہم جزوء ہے ، مگر اس کے لیے دشمن سے پیسے لے کر اسلحہ لے کر اپنے ہی بہن بھائیوں کو مارنا اور اس ملک کو نقصان پہنچانا جس کی بنیاد ہی اسلام پر رکھی گئی تھی ، آپ اس ملک میں قوانین بدلیں یا نظام بدلیں ،اور اس کے لیے مخلصانہ کوشش کریں ،،،،، انا للہ و انا الیہ راجعون ۔اس طرح تو آپ باغی ہیں اور باغی ہی کہلائے جائیں گے ،

tashfin28
08-16-2012, 09:40 PM
دہشتگرد اور انکی جاری پرتشدد کارروائياں

محترم قارئين
السلام عليکم،

ہم نےایک بار پھر دیکھا کہ دہشت گردوں نے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران پاکستان ایئر فورس بیس پر حملہ کيا۔ ہم سختی سے ان غیر انسانی عناصر کی اس بزدلانہ حرکت کی مذمت کرتے ہيں جورمضان کے اس مقدس مہینے کے تقدس کا احترام بھی نہیں کرتے۔

ہم بہادر پاکستانی افوج کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے ملک اور قوم کا دفاع کرتے ہوئے ان بے رحم قاتلوں کو شکست دی- ٹی ٹی پی اور ان کے حلیفی گروہ جو انسانیت کے دشمن ہیں بالآخر وہ ایک المناک آخر کو پہنچيں گے اور ماضی کی ایک بھولی بسری یاد کے علاوہ اور کچھ بھی نہيں ہونگے- مزید اہم بات یہ ہے، يہ کارروائياں ان دہشت گردوں کی طرف سے مایوسی کو ظاہر کرتی ہيں اوروہ يہ دکھانا چاہتے ہيں کہ وہ اب بھی کچھ طاقت رکھتے ہيں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف تباہ کرنے کی طاقت رکھتےہيں - وہ کچھ بھی تعمیر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ايسا کر سکتے ہیں۔

ہماری گہری دلی ہمدردياں ان بہادر فوجیوں کيلۓ ہيں جنہوں نے فرض کی لائن میں اپنی جانوں کا نذرانہ پيش کیا۔ اس کے علاوہ، ہماری دعائيں زخمیوں کی فوری اور مکمل بحالی کے لئے ہيں۔ مذہب کے ان نام نہاد ولی، حقیقت میں، موت اور تشدد کے حامی ہيں جو پاکستان میں اندھا دھند قتل عام کر رہے ہیں۔ کسی صورت، ہم ان انتہا پسندوں کو ایک آزاد پاس دے کر مذہب کے نام پر معصوم لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہيں دينا چاہيۓ۔ يہ عسکریت پسند خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں.

ہميں ضرور سمجھنا چاہيۓ کہ ان دہشت گردوں کا خوف اور افراتفری پھیلانے کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہيں۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ وہ کس کو مارتے ہیں اور سال کے کس مہينے ميں مارتے ہيں- ہميں يہ حقیقت تسليم کرنا ہوگا کہ ان کو شکست دینے کا واحد راستہ ان کے خلاف متحد ہونے کا ہی ہےاور ان کو آزادانہ طور پرمعصوم افراد کو نشانہ بنانے کيلۓ کھلی چھٹی نہيں دينی چاہيۓ۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز اور عوام کے خلاف جاری دہشت گردی اور تشدد کی کارروائیاں امریکہ اور پاکستان کو مل کر ايک ساتھ کام جاری رکھنے کی زیادہ ضرورت پر زور ديتی ہے تاکہ پوری طاقت کے ساتھ ان دہشت گردوں سے نمٹا جائيں اور انہیں پاکستان اور خطے میں پر تشدد سیاسی ایجنڈے کا تعاقب کرنے سے روکا جاسکے۔


تاشفين - ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم، شعبہ امریکی وزارت خارجہ
ای میل : digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

انجم رشید
08-17-2012, 11:36 AM
کامرہ ایر بیس حملہ کے کچھ نکات سامنے آے ہیں
حکیم اللہ گروپ نے زمہ داری قبول کر لی حکیم اللہ گروپ نے لشکر جنگوی کے گروپ قاری یاسین گروپ کو اڑھای کروڑ روپے اڈوانس دیے اور اڑھای کروڑ روپے تونسہ شریس سے ڈاکٹروں کو اغواہ کرکے حاصل کیے گے ۔
پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے یکم اگست اور 9 اگست کی رپوڑٹوں میں دہشت گردی کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور 27 - 28 رمضان مبارک کی تاریخیں بتا دیں تھیں ۔
حملے کا مقصد اواکس طیاروں کو تباہ کرنا تھا جو نگرانی کے کام آتے ہیں ۔
حملے میں حکیم گروپ نے صرف دہشت گرد فراہم کیے لیکن منصوبہ کہیں اور تیار ہوا تھا اواکس طیاروں کی تباہی کا فایدہ بھارت کو ہوتا اس لیے بھارت بھی ملوث نظر آتا ہے ۔
یہاں امریکی مفاد بھی ہیں پہلا مفاد ۔
امریکہ حقانی گروپ کے خلاف کاروای کاپاکستان کو کی بار کہہ چکا ہے بلکہ دباؤ ڈال رہا ہے اب امریکیوں کو پاکستان پر دباؤ ڈالنا اور آسان ہو گیا ہے ۔
اور سب سے بڑا مفاد جو امریکہ ہنود یہود کا مشترکہ مفاد ہے وہ ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا اس لیے پراپوگنڈا کیا جارہا ہے کہ کامرہ ایر بیس پر ایٹمی اسلحہ موجود ہے امریکہ ایک بار پھر بتانا چاہتا ہے کہ پاکستانی ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں ہیں ۔
حکیم گروپ نے دوگروپ حملہ آوروں کے تیار کیے تھے ایک گروپ تو کامرہ ایر بیس پر جہنم واصل ہو چکا ہے دوسرے گروپ کی تلاش جاری ہے یہ بھی اطلاح ہے کہ گایڈ بیس کے اندر موجود تھا ۔
تحقیق کے بعد بہت کچھ سامنے آنے کی امید ہے
وسلام

pervaz khan
08-17-2012, 12:23 PM
دہشت گرد چاہے کوئی بھی ہوں اتنی احساس جگہ پر وہ اتنی آسانی کے ساتھ گھس گے ۔یہ فکر والی بات ہے۔ہماری سیکورٹی کہاں تھی۔اللہ نہ کرے اگر یہی حالت کہوٹہ کی سیکورٹی کی ہے پھر تو اللہ ہی مالک ہے۔ امریکہ اور بھارت تو ہمارے دشمن ہیں اور ان سے کسی خیر کی توقع کرنا نادانی ہے۔وہ ہمیں ہر طرح کا نقصان پہنچا سکتے ہیں جو وہ نہیں کرسکتے وہ ہمارے لیڈر کر کے ان کی مدد کر رہے ہیں۔

عزیزامین
08-17-2012, 04:34 PM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120817/Sub_Images/1101597506-1.jpg


http://ummatpublication.com/2012/08/17/images/news-08.gif

عزیزامین
08-17-2012, 04:34 PM
http://ummatpublication.com/2012/08/17/images/news-14.gif

عزیزامین
08-17-2012, 04:36 PM
http://ummatpublication.com/2012/08/17/images/news-23.gif

عزیزامین
08-17-2012, 05:03 PM
http://ummatpublication.com/2012/08/17/images/story1.gif
http://ummatpublication.com/2012/08/17/images/story1a.gif

tashfin28
09-05-2012, 08:21 PM
افغانستان میں جنازے پر خود کش حملہ ميں 25 افراد ہلاک

محترم ممبران،
السلام عليکم،

ہماری دلی مخلص تعزیت اور نيک دعائيں ان معصوم لوگوں کے سوگوار خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہيں جو افغانستان میں طالبان کی طرف سے حال ہی میں ایک جنازہ کے اجتماع پر خود کش حملے میں ہلاک ہو ئيں۔

یہ واقعی نہايت پریشان کن ہے کہ اس ظالمانہ دہشتگرد حملے ميں وہ معصوم لوگ مرے گۓ جنازے ميں شرکت کيلۓ گۓ تھے۔ عوامی مقامات اور مذہبی اجتماعات پر اس طرح کے سفاکانہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے طالبان کا حقيقی سیاہ چہرہ، برائی کی ذہنیت، اور دہشت گردی سے افغانستان اور پورے خطے کو لاحق سنگین خطرہ واضح کرتا ہے۔

ميں فورم پر موجود ان ممبران سے ايک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جوطالبان کے پروپيگنڈے کا شکار ہوچکے ہيں اورجان بوجھ کر نام نہاد مقدس جنگ کے نام پر انسانیت کے خلاف طالبان کی جاری سفاکانہ جرائم کو نظر انداز کرتے ہيں۔ وہ کس طرح ایک جنازہ میں شرکت کرنے والے معصوم لوگوں پر اس سفاکانہ تشدد اور غیر انسانی حملے کا جواز پیش کر سکتے ہیں؟

معصوم لوگوں کے خلاف یہ باقاعدگی سے کی جانی والی دہشت گردی کی کارروائیاں واضح طور پر دہشت گردوں کی برائی، قتل اور دھمکیوں کے ذریعےاپنے سیاسی طاقت حاصل کرنے کے ایجنڈے اور عزائم کو ظاہر کرتی ہيں۔ يہ ذکر کرنا نہايت ضروری ہے کہ انتہا پسندوں کے خوفناک قتل کی کارروائیوں اور عسکریت پسندی کی وجہ سے افغانستان کی سالميت کو شدید خطرہ ہے۔ امريکی انتظاميہ اور اتحادی افواج اقغانی عوام کے ساتھ ان غیر انسانی درندوں کے خلاف ان کی جاری جنگ ميں ساتھ ساتھ کھڑے ہیںجو بلا امتیازمعصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہيں۔

بلا شک وشبہ،ان دہشت گردوں کو اپنے تشدد اور انتہا پسندی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے سے روکنے کےعلاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ ہی نہيں ہے۔ ہم سمجھتے ہيں کہ اس وقت زیادہ سے زیادہ مل کر کام کرنےکی اشد ضرورت ہے تاکہ دہشتگردی کی خطرے کو ختم کرسکيں جو افغانستان بھرکے پرامن لوگوں کےليۓ ايک خطرہ بن چکی ہے۔ ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت اور دوسرے تمام بین الاقوامی ممالک سنجیدگی سے اس ہدف کا تعاقب کرنے میں مصروف عمل ہيں۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

انجم رشید
09-05-2012, 10:39 PM
تاشفین جی یہ تو میں بعد میں پڑھوں گا لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ اس پیج کو آپ نے کتنی خوبصورتی سے پیچھے کر دیا جس میں میں نے آپ کے ملک کی اور یورپ کی دہشت گردی کا ذکر کیا ہے خیر میں دوبارہ وہ پیج سامنے لا رہا ہوں آپ کو بعد میں جواب لکھوں گا

tashfin28
09-07-2012, 06:43 PM
طالبان نے سر قلم پاکستانی فوجیوں کی ویڈیوجاری کردی


ہماری گہری، دلی اور مخلص تعزیت اور نيک دعائيں ان بہادر فوجيوں کے سوگوار خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہيں جو حال ہی میں باجوڑایجنسی میں تحریک طالبان نے دہشت گردی کے ايک ظالمانہ کارروائی کے درميان گرفتار کرکے بے رحمی سے ان کے سر قلم کر ديۓ۔ یہ واقعی بہت دردناک ہے کہ ان پاکستانی فوجیوں کو ٹی ٹی پی کی طرف سے جاری ویڈیو میں غيرانسانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد آخر میں ان سر قلم کر دیۓ۔

(http://www.longwarjournal.org/archives/2012/09/taliban_release_vide_3.php).
اس طرح کی جاری سفاکانہ کارروائیوں سے ٹی ٹی پی کا حقيقی سیاہ چہرہ، برائی کی ذہنیت، اور دہشت گردی سےپاکستان کو لاحق سنگین خطرہ واضح نظر آتا ہے۔
پاکستان بھر میں یہ باقاعدگی سے فوج کے خلاف کی جانی والی دہشت گردی کی کارروائیاں واضح طور پر دہشت گردوں کی برائی، قتل اور دھمکیوں کے ذریعے پاکستان ميں اپنے سیاسی طاقت حاصل کرنے کے ایجنڈے اور عزائم کو ظاہر کرتیں ہيں۔ يہ ذکر کرنا نہايت ضروری ہے کہ امریکی عوام اور امریکی انتظامیہ انتہا پسندوں کے خلاف پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے دی گئی زبردست قربانیوں کا اور ملک کو ان عسکریت پسندی کی خوفناک قتل کی کارروائیوں کی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا کرنے کو دل سے قدر کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ان غیر انسانی درندوں کے خلاف ان کی جاری جنگ ميں ساتھ ساتھ کھڑے ہیںجو بلا امتیازمعصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہيں۔

بلا شک وشبہ،ان دہشت گردوں کو اپنے تشدد اور انتہا پسندی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے سے روکنے کےعلاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ ہی نہيں ہے۔ ہم سمجھتے ہيں کہ اس وقت زیادہ سے زیادہ مل کر کام کرنے اور باہمی اختلافات کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشتگردی کی لعنت کو شکست دينے پر زيادہ توجہ مرکوز کرسکيں جو پاکستان بھرکے پرامن لوگوں کےليۓ ايک خطرہ بن چکی ہے۔ ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت سنجیدگی سے اس ہدف کا تعاقب کرنے میں مصروف عمل ہے۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu