PDA

View Full Version : تحریک طالبان کا ہوا



گلاب خان
08-18-2012, 10:14 PM
تحریک طالبان کا ہوّا
کالم نگار | سعید آسی
18 اگست 2012 2

فوری طور پر ذہن میں یہ خیال تو جاتا ہے کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کاکول اکیڈمی میں یوم آزادی کی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمہ کی امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا اور اپنی ہی سرزمین پر اس جنگ کو تیز کرنے کا عندیہ دیا جس کے دو روز بعد کامرہ ایئربیس پر دہشت گردوں کا منظم حملہ ہو گیا تو کہیں یہ جنرل کیانی کی ”پرعزم“ تقریر کا ردعمل تو نہیں؟ پھر تحریک طالبان کی جانب سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبر آئی تو جنرل کیانی کی تقریر کے ردعمل والے تاثر کو مزید تقویت حاصل ہو گئی۔ بس یار لوگوں نے ڈھنڈورے پیٹنا شروع کر دیئے کہ طالبان کی شکل میں موجود دہشت گردوں نے ہی ہماری رات کی نیندیں اور دن کا سکون برباد کیا ہوا ہے۔ یہ ملک میں جہاں بھی ہیں‘ ان کا ”بی مُکا“ دیا جائے‘ یہی پروپیگنڈہ ملک کے اندر فوجی اپریشن کو وسعت دینے اور امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دینے کا جواز بن رہا ہے اور جن کا ایجنڈہ ایسے الزامات کی بنیاد پر ملک میں کشت و خون کا بازار گرم کرکے اسکی ایٹمی صلاحیتوں کو مفلوج کرنے کا ہے‘ وہ پوری سہولت کے ساتھ اس ایجنڈے کی تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔
مجھے تو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمارا میڈیا مقابلہ بازی کی دوڑ میں ملکی سلامتی کو تہس نہس کرنیوالے دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
خود ہی اندازہ لگا لیجئے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی کا جو بھی واقعہ ہوتا ہے‘ اسکے چند ہی لمحوں بعد پورے میڈیا پر تحریک طالبان کی جانب سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی خبر چل رہی ہوتی ہے۔ یہ خبر کہاں سے آتی ہے‘ میڈیا کے کسی ادارے کی جانب سے اسکی تصدیق کی زحمت گوارہ نہیں کی جاتی۔ آخر تحریک طالبان کا کون آدمی اس کام پر مامور ہے کہ جیسے ہی ملک میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو‘ وہ میڈیا کے ہر ادارے کو فون کرکے یا بذریعہ فیکس اور ای میل یہ خبر پہنچا دیتا ہے کہ ہاں یہ ”کارنامہ“ تحریک طالبان نے ہی سرانجام دیا ہے۔ اگر تھوڑا سا تردد کرلیا جائے اور اسی موصولہ خبر کے Source کا کھوج لگالیا جائے تو اس خبر کے مصدقہ یا جعلی ہونے کا ثبوت مل سکتا ہے۔ مگر معاملہ سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ کا ہے اور میڈیا کا کوئی ادارہ اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ اس طرح ملک کی جڑیں کاٹنے کا ایجنڈہ رکھنے والے عناصر ہمارے میڈیا کی ”فعالیت“ کی برکت سے اپنے مقاصد میں بڑی سبک خرامی کے ساتھ کامیاب ہوتے جا رہے ہیں اور ہماری حکومتی عسکری قیادتیں بھی تو اسی پروپیگنڈہ سے مرعوب ہو کر پرائی آگ میں کودتی چلی جا رہی ہیں۔ نتیجتاً ایٹمی پاکستان کے غبارے سے ہوا نکالنے کیلئے دشمن کو کسی دقت اور رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔
کامرہ دہشت گردی میں سیکورٹی کی ناکامی کا معاملہ تو اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کی اس دہشت گردی کو ناکام بنانے کا پروپیگنڈہ کرنے کے باوجود پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی مگر اس سے پہلے اس دہشت گردی کے اصل محرکات اور پس منظر کا کھوج لگانے کی ضرورت تبھی محسوس ہوگی جب ہماری حکومتی اور عسکری قیادتیں دہشت گردی کی امریکی جنگ کو اپنی جنگ قرار دینے کے تصور سے باہر نکلیں گی۔ آپ ان محرکات کی کڑیاں ملانا شروع کریں‘ آپ کو کُھرا نکالنے میں قطعاً دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا۔
ابھی امریکی فوجی اور سول حکام کے ایک ہفتہ قبل کے بیانات ملاحظہ فرما لیجئے‘ انہیں بہت تشویش ہے کہ ہمارے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں‘ ان بیانات کے اگلے روز امریکی پینٹاگون کے ترجمان اخبار نیویارک ٹائمز کے اسلام آباد میں متعینہ نمائندے نے خبر چلوا دی کہ کامرہ ایئربیس میں ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں۔ اس نمائندے سے کسی نے نہیں پوچھا کہ اس نے یہ خبر کہاں سے حاصل کی اور اخبار نے بھی بغیر کسی سورس کے فراہم کی گئی یہ خبر پورے اہتمام کے ساتھ شائع کر دی۔ پھر اس خبر کے دو روز بعد کامرہ ایئربیس پر دہشت گردوں کا حملہ ہو گیا اور پھر اسکی ذمہ داری تحریک طالبان کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔ مقصد یہ ثبوت فراہم کرنے کا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار فی الواقع دہشت گردوں کی دسترس میں ہیں۔ بس یہی جواز کافی ہو سکتا ہے امریکہ کو پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع فراہم کرنے کا۔ یہی تو ساری سازش اور منصوبہ بندی ہے جسے ہم خود دہشت گردی کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دیکر اور ہر دہشت گردی کی واردات کو طالبان کے کھاتے میں ڈال کر کامیاب بنائے چلے جا رہے ہیں۔
ہمارے لئے اصل لمحہ¿ فکریہ تو یہی ہے کہ ہماری سیکورٹی فورسز کے حساس ترین مقامات بھی ہمارے سیکورٹی سسٹم کو ناکارہ بنانے کے عزائم رکھنے والے دشمن کی آسان دسترس میں ہیں۔ جی ایچ کیو اور پی این ایس مہران ایئربیس کراچی میں دہشت گردی متعینہ ہدف تک پہنچ کر کی گئی اور اب کامرہ ایئربیس کی دہشت گردی بھی ہدف تک پہنچنے کی منصوبہ بندی کے تحت ہوئی۔ ایسا منظم کام محض کسی ردعمل میں خود کو مارنے کا جذبہ رکھ کر دہشت گردی کرنے والوں کے بس کی بات نہیں‘ جی ایچ کیو اور مہران ایئر بیس پر دہشت گردی کے واقعات کی انکوائری رپورٹ بے شک قوم کے سامنے پیش نہیں کی گئی مگر حکومتی‘ عسکری قیادتوں کو تو ان رپورٹوں کی بنیاد پر دہشت گردی کے محرکات اور ان میں ملوث عناصر کا ادراک ہو چکا ہو گا۔ مہران ایئربیس دہشت گردی کے حوالے سے تو عسکری ذرائع بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کی نشاندہی بھی کر چکے ہیں‘ اگر یہ ہاتھ ایسی کسی واردات میں مقامی لوگوں کو استعمال کر لیتے ہیں تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ان کے چہروں کے نقاب بھی اترنے نہ پائیں اور تحریک طالبان پر یہ ذمہ داری ڈال کر اپنے اصل مقاصد بھی حاصل کرلئے جائیں۔ آخر ہم کب تک اس ٹریپ میں آتے رہیں گے؟ ذرا سوچیئے حضور والا! اور سنبھل جائیے۔ دشمن ہم پر منظم انداز میں حملہ آور بھی ہو چکا ہے اور ہمیں مارنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ہم سے داد بھی وصول کر رہا ہے۔ کیا ہم محض اس اطمینان‘ تسلی اور یقین دہانی پر تکیہ کئے بیٹھے رہیں کہ ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی اور تنصیبات نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مضبوط ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہیں۔