PDA

View Full Version : افطاری کی سرشاری میں الوداع رمضان



گلاب خان
08-18-2012, 10:19 PM
کالم نگار | ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
18 اگست 2012 1

ابھی ایک دن رمضان المبارک کا ہے۔ افطاری تو ابھی ہوں گی مگر یہ کالم رمضان کے بعد شائع ہوا تو مزا نہیں آئے گا۔ میرے خیال میں چاند رات کا مزا تو 29 رمضان کو آتا ہے مگر قمری کیلنڈر میں یہ تجسس بھی خوب ہے کہ عید کا پتہ نہیں ہوتا۔ افطاری رمضان کا ایک کلچر اور نیکی ہے۔ کلچر کے ساتھ ثواب کا ہونا شاید صرف اسلام میں ہے۔ گھر پر افطاری کا اپنا مزا ہے۔ مسجد میں بھی یہ مزا بھرپور ہوتا ہے۔ میرا دادا جان دادی سے کہتا کہ رمضان کے بعد بھی میرے لئے افطاری کا اہتمام ہونا چاہئے اور پھر سحری بھی ضروری ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے افطار پارٹی کو بھی فروغ ملا ہے۔ ہوٹلوں میں یہ سرگرمی خوب ہے۔ اب تو سحری کا بھی اہتمام ہوٹلوں میں ہونے لگا ہے۔ کسی سے پوچھا گیا کہ آج کل تم کس پارٹی میں ہو۔ اس نے کہا میں تو آج کل افطار پارٹی کو پسند کرتا ہوں۔ اس کیلئے ”لوٹا“ ہونا ضروری ہے کہ وضو کرنا پڑتا ہے۔ نجانے اس نام سے سیاسی پارٹی بنانے کا خیال کسی کو کیوں نہیں آیا۔ انتظار پارٹی بھی اچھا نام ہے کہ ہم کب سے نجانے کس کس کا انتظار کر رہے ہیں۔
ایک بات بہت عجیب ہے کہ اکثر افطار پارٹیوں میں 50 فیصد سے بہت زیادہ لوگ بغیر روزے کے ہوتے ہیں۔ ایسے اجتماعات میں افطار سے پہلے افطاری کی بے قراری بے زاری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس میں پہلا نمبر پیپلز پارٹی کے جیالوں کا ہے۔ دوسرا نمبر بھی انہی کا ہے۔ اب تو تحریک انصاف بھی پیچھے نہیں۔ ایک جلسے میں لوگ جاوید ہاشمی جیسے آدمی کی تقریر چھوڑ کر چیزوں پہ ٹوٹ پڑے کہ کوئی برتن سلامت نہ رہا۔ برتن کو خالی کرنے سے بھڑاس نہیں نکلتی۔ اسے توڑنا بھی ضروری ہے۔ اب تو توڑ پھوڑ اور جلا¶ گھیرا¶ کی سیاست عام بلکہ غلط العام ہو گئی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کھانے کی میز پر لڑائی نہ ہو تو پھر ہتھیار تو برتن اور چمچے ہی ہوتے ہیں۔ چمچوں اور لوٹوں کی سیاست میں کمی نہیں۔
صرف ایک پارٹی ایم کیو ایم ہے۔ ایسا ڈسپلن ان کے ہاں ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ حیرت تب ہوتی ہے جب یقین نہیں آتا ان کے جلسوں میں بھی ایسا انتظام ہوتا ہے کہ ہم جو بدنظمی کے عادی ہیں پریشان ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کے جلسوں کو کامیاب بنانے والے اس لحاظ سے پریشان ہیں کہ ہم لوگوں کو لے تو آتے ہیں۔ اب تقریر سنوانے کی ذمہ داری ہماری نہیں۔ نوازشریف اور شہباز شریف باقاعدہ ڈانٹ ڈپٹ کر کے سامعین کو چپ کرانے میں لگے ہوتے ہیں۔ الطاف حسین سات سمندر پار سے ٹیلیفون پر کہتے ہیں کہ خاموش ہو جا¶ تو سناٹا چھا جاتا ہے۔ وہاں جا کے رحمان ملک کے ساتھ گئے ہو¶ں کو بھی ڈسپلن کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ مجھے ملتان ایم کیو ایم کے دوست را¶ خالد نے کہا کہ نائن زیرو پر افطاری پر لوگ منظم تھے جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ سامنے دھری چیزوں سے پوچھ کر انہیں کھایا جائے۔ کہیں وہ الطاف بھائی سے شکایت نہ کر دیں۔ میرا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف والوں کو خاص طور پر ایم کیو ایم سے اس معاملے میں کوئی تربیت لینا چاہئے۔ اپنی ذات میں بھی ڈسپلن لانے کی بہت ضرورت ہے۔
سب سے پہلی افطاری ن لیگ کی تہمینہ دولتانہ نے دی۔ ان کے گھر پر افطاری کا مزا کچھ اور تھا۔ اپنے نئے ہوٹل کی تقریب رونمائی کیلئے افطار پارٹی کا انتخاب اچھا لگا۔ یہاں صحافی کم تھے سیاسی زیادہ تھے۔ ایم این اے روحیل اصغر یہاں تھے۔ اتفاق سے ان کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں۔ روحیل مہذب آدمی ہیں اور آج تو ان کی اہلیہ بھی ساتھ تھی۔ جماعت اسلامی کے منور حسن‘ ڈاکٹر وسیم اختر اور لیاقت بلوچ کی افطاری میں ایک سا ماحول تھا۔ برادرم انور نیازی اس طرح کے موقعوں کے لئے سرگرم ہوتے ہیں مگر دیکھنے میں ایسا لگتا نہیں۔ جماعت والے بھی بہت منظم لوگ ہیں۔ لیاقت بلوچ ایک ٹھہرے سنبھلے ہوئے لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ مربوط روانی اور آسانی سے بات کرتے ہوئے مولانا مودودی بے مثال آدمی تھے۔ الطاف حسن قریشی نے افطاری سے پہلے تقریر نہیں کی تھی دوستوں کو بات کرنے کا موقعہ دیا۔ ایسے موقعے سے بہت خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ موقعہ افطاری کے بعد پھر شروع ہو گیا۔ قیوم نظامی ٹیک سوسائٹی کلب میں دوستوں کو اکٹھا کرتے رہتے ہیں۔ الطاف قریشی کی طرف سے افطار پارٹی اس کلب کی افادیت میں اضافہ کرے گی۔
پنجابی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر شاعرہ ادیبہ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے اپنے ایک سابق ڈائریکٹر جنرل پنجابی انسٹی ٹیوٹ کے اعزاز میں ایک محفل کی۔ رمضان کے مہینے میں ہر محفل افطار پارٹی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ارشد کے ساتھ موجودہ ڈائریکٹر جنرل ملک اشرف اعوان بھی تھے۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف کے حوالے سے یہ اچھی بات ہے کہ جا چکے دوستوں کو یاد رکھا جائے یہ بات ایک روایت بننا چاہئے۔ پرویز رشید نے بھی اس بات کی تعریف کی۔ برادرم افتخار ملک فلمسٹار بہار اور ایم پی اے عارفہ خالد کے ساتھ بہت اچھی گپ شپ رہی۔ نوائے وقت کی کالم نگار اور ادیبہ شاعرہ بشریٰ تارڑ اور محقق ڈاکٹر راشدہ نے بھی افطار پر بلایا۔ شاہد قادر کی افطار پارٹی جس دن تھی بارش بہت پڑی۔ صوفی تبسم اور آغا شاہد نے سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال کو گھر پر بلا رکھا تھا مجھے بھی کہا تھا مگر میں ماں کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے جا نہ سکا۔ خانہ فرہنگ لاہور میں افطار پارٹی کے لئے شہزاد، ذوالقرنین نے دعوت دی تھی مگر اس دن قمر زمان کائرہ کی طرف سے افطار پارٹی کےلئے فرخ سہیل گوئندی نے پابند کر لیا تھا۔
قمر زمان کائرہ وفاقی کابینہ میں پڑے لکھے وزیر ہیں۔ شاید ایک ادھر اور بھی ہو بابر اعوان کی گفتگو بڑی بھرپور اور بااثر ہوتی ہے مگر پیپلز پارٹی اپنے کارآمد بندوں کو جلدی فارغ کر دیتی ہے۔ پھر بھی فارغ نہیں بیٹھتی کائرہ صاحب نے بہت نپے تلے انداز میں بات کی۔ روایتی سیاسی باتیں صحافیوں کی طرف سے سوالات کے جواب میں کیں۔ بہت مختلف انداز میں دانشوری کی باتیں کر رہے تھے۔ ہم نے نہیں کہا ہم خط نہیں لکھیں گے، لکھیں گے جب زرداری صاحب نہیں ہونگے۔ پھر کوئی اور خط لکھے گا۔ شاید خط لکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ افطاری سے پہلے اعتزاز احسن نے بوتل سے پانی گلاس میں ڈال لیا تھا مگر ساتھ والے صاحب نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ممتاز شاعر ایم آر شاہد نے افطار پارٹی کے بہانے نعتیہ مشاعرہ کر لیا۔ شاعر افطاری کے تکلف سے آزاد بڑے جذبے سے نعتیں سنا رہے تھے۔ ادیب اور کالم نگار خواجہ جمشید امام نے کچھ لکھنے والوں کو جمع کیا ہے کہ ایک رائٹر کلب بنایا جائے۔
پنجاب یونیورسٹی کے دلیر اور دانشور وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی طرف سے افطار پارٹی کے لئے برادرم چوہدری اکرم اور ایثار رانا نے دعوت دی۔ یہ دوستوں کا ایک میلہ تھا جس کی جو مرضی آئی اس نے بات کی، سب سے نہ ہو سکی تو ساتھ والے کو سُنا دی۔ مل جُل کر اور گھل مل کر لوگوں نے کھایا پیا اور انجوائے کیا۔ ڈاکٹر مجاہد کامران ذوق و شوق والے تخلیقی، تعلیمی، تفریحی، مزاج کے آدمی ہیں۔ ایسی محفلیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس طرح کی سرگرمی پہلے دیکھنے میں نہ آئی تھی۔ محفل میں صرف ایک خاتون شاعرہ ادیبہ صوفیہ بیدار تھی۔ وہ ہمیشہ ان محفلوں میں ہوتی ہے۔ شہر سے دور سُندس شریف میں روحانی شخصیت حبیب عرفانی نے ایک افطار محفل سجائی، یہ ایک مختلف افطاری تھی اسے افطار پارٹی کہنا مناسب نہیں۔ روحانی ثمرات اور برکات کا سماں تھا۔ یہاں رمضان کے الوداعی لمحوں میں مسرور افسردگی محسوس ہوئی۔ ایک افطار پارٹی ایک اچھی خاتون تسنیم نے بھی گھر پر سجا رکھی تھی۔ اس نے نیشنل کالج آف آرٹس میں نظریاتی اعتبار سے جرا¿ت سے وقت گزارا اور اپنی پینٹنگز سے اسلام اور پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس کے والد میاں نصیر احمد سے مل کر اچھا لگا۔ وہ 78 برس کے آدمی ہیں اور اپنے سینے میں تاریخ کی گمشدہ چیزیں محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کے بیٹے فیصل نصیر بھی مسلمانوں کی گمشدہ متاع کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔ بڑے میاں صاحب مولانا عبدالستار خان نیازی کے علاوہ جنرل حمید گل کی رفاقتوں کو روشنیوں کی طرح دل میں سنبھالے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مادر ملت سرگودہا تشریف لائی تھیں مَیں نے اتنے جلال اور جمال والی بوڑھی عورت پھر نہیں دیکھی، انہوں نے صرف اتنا کہا کہ میں ہار گئی تو یہ ملک ٹوٹ جائے گا پھر ایسا ہی ہوا اور اب تک ہم ٹوٹنے کی آوازوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔