PDA

View Full Version : عمل اور بھروسہ



روشن خیال
08-23-2012, 08:21 AM
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

نفسِ امارہ
القران
بیشک نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے
سورہ یوسف 12؛53

رب العزت نے نبی علیہ السلام کو بشریت میں جلوہ گرفرمایا اور تقاضہ بشریت نے اپکو نفس عطا کیا گیا ایک عام انسان اور نبی علیہ السلام کی ذات کامل میں فرق ہے ۔ نبی علیہ السلام کے نفس کو ابتداء ہی سے نفسِ کاملہ کے درجے پر فائز کر دیا ۔
جو دل اللہ کی یاد سے غافل ہوجاے وہ شیطان کی آماجگاہ ہے۔

وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک صاف کرلیا اور اپنے رب کا ذکر کیا اور نماز پڑھی ۔
جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ اسکا ہو جاتا ہے ۔

ارشاد نبی علیہ السلام :
حضرت ابن معسود سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،" ہر آدمی کے ساتھ جن اور ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے "۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا اپ کے ساتھ بھی ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ِ " ہاں میرے ساتھ بھی ہے "، لیکن اللہ تعالٰی نے میری مدد فرمائی پس وہ مسلمان ہو گیا لہذا وہ مجھے نیکی کا حکم دیتا ہے "۔
( مسلم شریف )

’’حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور ہر ایک اپنی نیت پر عمل کرتا ہے۔ پس جب مومن کوئی (نیک) عمل کرتا ہے تو اس (نیک عمل کی برکت کے باعث اس) کے دل میں نور پھوٹ پڑتا ہے۔‘‘
( طبرانی )

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے کرنے سے اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دنیا سے بے رغبت ہو جا، اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغت ہوجا، لوگ بھی تجھ سے محبت کریں گے۔
( طبرانی )

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم! تو میری عبادت کے لئے فارغ تو ہو میں تمہارا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا اور تیرا فقر و فاقہ ختم کر دوں گا؛ اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرے ہاتھ کام کاج سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی (کبھی) ختم نہیں کروں گا
( ترمزی )

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص (دنیا سے) کٹ کر صرف اﷲ عزوجل کی (راہ کی) طرف ہو جائے اﷲ تعالیٰ اس کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو اور جو شخص (اﷲ تعالیٰ سے) کٹ کر دنیا کی طرف ہو جاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اسے اسی (دنیا) کے سپرد کر دیتا ہے۔‘‘
( طبرانی )

انسان جب تمام نفسانی خواہشات الائشوں سے پاکیزہ ہوجاتا ہے تو مجادئے ، مشقت و ریاضیت اورعبادت و محبت سےرب العزت کی رضا حاصل کرلیتا ہے پھر اسکا ایمان درجہ کمال تک پہنچ جاتا ہے اور ایمان کی کَڑی بھروسے کا درجہ کامل ہوجاتی ہے ۔

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اﷲ تعالیٰ پر اس طرح بھروسہ کرتے جیسا بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو تمہیں اس طرح رزق دیا جاتا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔
( ترمذی )

بیشک خدا سے محبت اور عملِ تقویٰ اور بھروسہ معراج تک لے جاتی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی اس معراج کے توسط سے آپ ﷺ کو مظہریت حق میں رنگ دیا آپ کی پاک ذات و صفات مظہرہ اتم بن گیٔ ۔

اللہ نگہبان

بےباک
08-24-2012, 01:35 PM
بہت بہت خوب ،
جزاک اللہ ۔۔۔۔۔

سیما
02-05-2013, 03:49 AM
جزاک اللہ