PDA

View Full Version : توہین عدالت مقدمہ وزیر اعظم کو 18 ستمبر تک مہلت



انجم رشید
08-27-2012, 10:58 AM
ستان کی سپریم کورٹ میں این آر او پر عمل درآمد کیس میں توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران وزیراعظم راجہ پرویز اشرف عدالت میں پیش ہوئے جہاں عدالت نے انہیں مشاورت کے لیے اٹھارہ ستمبر تک کی مہلت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پیر کو قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او پر عمل درآمد کیس میں توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی۔
وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مشاورت جتنی طویل ہوگی اس کے نتائج اتنے ہی اچھے ہوں گے۔‘
حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ایوان صدر میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف پیر کو سپریم کورٹ میں پیش ہو نگے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی طور پر عدالت میں طلب کیا تھا۔
سماعت سے قبل عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے پر چاہے ان کی جماعت اتفاق نہ کرنے مگر اس کے احکام پر عملدرآمد ضرور کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی پیپلز پارٹی نے تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلوں کا تسلیم کیا ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’کبھی انہیں بھی انصاف ملےگا۔‘
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے اجلاس کے شرکاء کو حکومت کے خلاف عدالت میں مقامات سے متعلق پہلووں اور ان سے نمٹنے کی آپشنز کے بارے میں آگاہ کیا۔
صدارتی ترجمان کے مطابق وزیر قانون کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر تفصیلی بات چیت اور موجود آپشنز کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون کے احترام کی حکمران اتحاد کی پالیسی کے تحت وزیراعظم پیر کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سامنے پیش ہونگے۔
اتوار کی رات گئے تک جاری رہنے والے اجلاس میں سابق وزیراعظم گیلانی سمیت پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماوں کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ قاف، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
پیر کو وزیراعظم کے عدالت میں پیش ہونے کے موقع پر اتحادی جماعتوں کے رہنما اور وفاقی وزراء بھی وزیراعظم سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے ہمراہ ہونگے۔
خیال رہے کہ مقامی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم عدالت میں پیش نہ ہوں۔
سپریم کورٹ نے رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو این آر او پر عمل درآمد کے مقدمے میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی طور پر عدالت میں طلب کیا تھا۔
آٹھ اگست کو عدالت نے اپنے مختصر حکم نامے میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسی مقدمے میں عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر اُنہیں بطور رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اُنہیں وزارت عظمی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
اس سے پہلے پانچ رکنی بینچ نے ستائیس جون کو سماعت کے دوران سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب کیا تھا اور بعد میں پچیس جولائی کو عدالت نے وزیر اعظم کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے سے متعلق آٹھ آگست تک آخری مہلت دی تھی۔

گزشتہ سماعت میں بینچ نے کہا تھا کہ عدالت اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی
اس سے پہلے انیس جون کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے متعلق سپیکر کی رولنگ کے حوالے سے دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
اس معاملے کا آغاز سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیے جانے سے ہوا تھا۔ بعد ازاں انہیں اس جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اس سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔
حکمران جماعت پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ آئین میں صدر کو اندرون اور بیرون ملک استثنیٰ حاصل ہے اس لیے صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا جا سکتا ہے۔