PDA

View Full Version : شاتمِ رسول ،ٹیری جونزکی ہنسی



نذر حافی
09-20-2012, 03:24 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com

کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر " محمد رسول اللہ" صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پرچم لہرانے اور سید علی رضا تقوی کو گولی لگنےکی خبر میں نے پڑھی اور سنی تومجھے شدت سے احساس ہواکہ ہماری اس چھوٹی سی دنیامیں یوں تو ہر شئے کی ایک انتہااور حد ہے لیکن شایددوہرے پن،دوغلے پن اور دوہرے معیار کی کوئی انتہانہیں۔جو قوم دوہرے پن اور دوہرے معیار کی عادی ہوجائے اسے ذلت و رسوائی کی گھاٹیوں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔
جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ امریکی پادری کی"مسلمانوں کی معصومیت" نامی فلم منظر عام پر آنے کے بعد ہر روز اس کے خلاف احتجاج میں اضافہ ہی ہوتاچلاجارہاہےاور اب تک شاید دنیاکا کوئی ہی ملک یا خطہ ایسا ہوگا جس کے رہنے والوں بالخصوص مسلمانوں نے اس فلم کی مذمت نہ کی ہو۔
ممکن ہے آپ اسے " لوگوں کی بیداری قراردیں"اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اسے "ناموس پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم" کی خاطر مسلمانوں کی یکجہتی قراردیں۔
آپ اس فلم کے خلاف موجودہ احتجاجی تحریک کو جو مرضی نام دیں،آپ جتنے مرضی جلوس نکالیں،ہزاروں ٹائر جلائیں،گھنٹوں لمبی لمبی تقریریں کریں،ہرملک اور شہر کا پہیہ جام کریں،ہر ریاست میں سول نافرمانی کا اعلان کریں لیکن آپ کے پاس کوئی ضمانت نہیں کہ غیرمسلم دانشوروں اور میڈیا کی طرف سےآئندہ پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی نہیں کی جائے گی۔۔۔؟
جی ہاں آپ کے پاس کوئی ضمانت نہیں۔۔۔؟
آپ جائیے۔۔۔کسی سے ضمانت مانگ کر دیکھ لیجئے آپ کو احساس ہوجائے گا کہ اس امر کی ضمانت ملنا ناممکن ہے۔۔۔
سوچئے ضرور سوچئے آخر کیاوجہ ہے کہ دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ بسنے والے مسلمان اپنے پیغمبر ؐکی ناموس کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس دوسروں کو کافر ثابت کرنے اور قتل کرکے جنّت میں جانے کی گارنٹی تو موجود ہے لیکن ناموس پیغمبر کے لئے کوئی گارنٹی و ضمانت نہیں۔
جب آپ شیعہ اور سنّی ،پنجابی اور پٹھان،عربی اور عجمی،ہندی اور پاکستانی،کشمیری اور افغانی ،کالے اور گورے نیز وڈیرے اور کمّی سے بالاتر ہوکر سوچیں گے تو تب آپ کو اس سوال کا جواب خود بخود مل جائے گا ۔
آپ جان جائیں گے کہ دنیامیں ایک بڑی اکثریت رکھنے کے باوجود ہمارے پاس اپنے پیغمبر کی ناموس کی حفاظت کے لئے کوئی ضمانت اور کوئی گارنٹی کیوں موجودنہیں۔
آپ سوچیں گے توآپ کو اسلامی دنیا کی آستین میں سانپ اور مسلمانوں کے ہاں دوہرا معیار صاف دکھائی دے گا۔آپ سوچیں تو سہی کہ کیا یہ "مسلمانوں کی معصومیت" نامی فلم اس لئے بری ہے کہ اس کا بنانے والا ایک عیسائی پادری ہے یاپھر اس لئے بری ہے کہ اس میں معراج انسانیت اور ختمی المرتبت کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔۔۔؟
اگرآپ کے نزدیک اس فلم کی مخالفت کا معیار" ختمی المرتبت کی شان میں گستاخی ہے"۔۔۔ تو پھر انصاف سے بتائیے کہ ۔۔۔
کیا جنّت البقیع میں رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ اور ان کی آل کے مزارات کو منہدم کر کے توہین رسالت نہیں کی گئی؟
کیا رسول اکرم کی اکلوتی بیٹی کے مزار کو گراکر ویران کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین نہیں ہوئی؟
کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اور آل کے مزارات کو شرک کے مراکز کہنے سے رسول کی توہین نہیں ہوتی؟
کیا حضور کے مزار کی جالی کو چومنے والوں کو ڈانٹنے اور انہیں مشرک کہنےسے حضور کی اہانت نہیں ہوتی؟
کیا اولیائے کرام کے مقدس مزارات پر دھماکے کر نے سے حضور کی اہانت نہیں ہوتی؟
کیا بے گناہ لوگوں کو قرآن مجید کی آیات پڑھ پڑھ کر جانوروں کی طرح ذبح کردینے سے قرآن اور پیغمبر کی توہین نہیں ہوتی؟
کیامسجدوں میں نمازیوں کو گولیاں ماردینے سے اسلام اور پیغمبر اسلام کی اہانت نہیں ہوتی؟
کیا بیت المقدس پر یہودیوں کے قبضے اورفلسطینیوں کی در بدری کے باوجود سعودی شہزادوں کے ،صہیونی نیزامریکی و یورپی آقاوں کے ساتھ جام چھلکانے سے اسلام اور پیغمبر اسلام اہانت نہیں ہوتی؟
کیا اپنے آپ کو طالبانِ اسلام کہنے والوں کے ہاتھوں بچیوں کے سکول بند کرانے اور عورتوں کو مجمع عام میں پیٹنے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی رسوائی نہیں ہوتی؟
آپ جس بھی مذہب اور جس بھی مکتب سے تعلق رکھتے ہوں اپنے ضمیر سے پوچھئے کہ عورتوں اور بچوں کی چیخ وپکار کے درمیان، " کلمہ گو مسلمانوں کو" کلمہ پڑھتے ہوئے ، بسوں سے اتار کر موت کے گھاٹ اتار دینے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی شان میں اضافہ ہوتاہے یا توہین ہوتی ہے۔۔۔؟
امریکی پادری ٹیری جونز اور اس کے ہمنواوں کو یہ جرات صرف اسی لئے ہوئی ہے کہ وہ ہمارے دوہرے معیار اور دوہرے پن سے آگاہ ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ جب مسلمان خودہر روز پیغمبرِ اسلام کی توہین کرکے "مجاہد اسلام" طالبانِ اسلام " اور "خادم حرمین شریفین" رہ سکتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتاتو پھر انہیں مسلمانوں کے احتجاجات اور جلوسوں کو خاطر میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔
آج ناموس رسالت پر اپنی جان قربان کرنے والے " سید علی رضا تقوی" کا خون ہم سے کہہ رہاہے کہ اے فرقوں اور علاقوں،نعروں اور تنظیموں،قبیلوں اور ٹولوں میں بٹے ہوئے مسلمانو!اگر ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مخلص ہوتو میری طرح ظاہر و باطن کو ایک کردو،جس کے نام کا کلمہ پڑھتے ہو اس کے نام پر جان دے دو،جس کی امّت کہلاتے ہو اسی کی محبت کو زندگی کا معیار قرار دو، چاہے گستاخ رسول کوئی بھی ہو اس کی سزا ایک ہی مقرر کرو۔۔۔بصورت دیگر نعرے لگاتے رہو اور احتجاج کرتے رہو!
یقین جانیں ہمارے دوغلے پن،دوہرے معیار اورکھوکھلے احتجاجوں کو دیکھ کر ٹیری جونز ہنستا اور سید علی رضا تقوی روتاہوگا چونکہ دونوں جانتے ہیں کہ جو قوم دوہرے پن اور دوہرے معیار کی عادی ہوجائے اسے ذلت و رسوائی کی گھاٹیوں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔

admin
09-20-2012, 04:14 PM
ماشاء اللہ جناب ایک اچھی تحریر اور وہی پُر درد انداز.....

مسلمانوں کی بے بسی ہے کہ سب کی شخصیتیں سوئی ہوئی ہیں کوئی بیدار شخصیت بندہ ہی نظر نہیں آتا ہر کوئی کسی دوسرے سے خوفزدہ ہے.... ایک شخص بریلویوں سے تعلقات رکھنا چاہتا ہے مگر خود وہ دیوبندی ہے چنانچہ اپنے ملاں سے خوفزدہ ہے کہ کہیں میرے بھی مرتد ہونے کا فتویٰ صادر نہ فرما دے..... یہی حال دوسرے فرقوں کے ساتھ بھی ہے اصل میں مسلمانوں نے خود ہی اسلام کو مشکل بنا لیا ہے جو نماز پڑھانا سیکھ جاتا ہے وہ فتوؤں کی فیکٹریاں کھول لیتا ہے پھر چاہیے اس میدان میں ساری عمر گزار دینے والے علماء جو مرضی کہتے رہیں اس کی سوئی اپنی ہی بات پر اٹک کر رہ جاتی ہے اور آخرکار دوسروں کے بارے میں قتل کے فتوے جاری کرنے لگتا ہے..... عجیب معیار ہو چکا ہے ہمارا اور اس کا انجام بھی ہمارے سامنے ہے...

کاش تمام فرقے ایک ہی پلیٹ فارم سے جمع ہو کر وحدت المسلمین کا نعرہ لگا کر ناموس پیغمبر (ص) کی حفاظت کے لئے میدانِ عمل میں آ جائیں تو یقین جانیں کسی تلوار یا بندوق اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں سب خود ہی سمجھ جائیں گے کہ اب بس اس سے زیادہ یہ قوم برداشت نہیں کرے گی... دوہرا معیار ختم ہونا چاہیے جو جہاں جس کے عقائد و نظریات پر حملہ کرے سب کو مل کر اس کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے....... انصاف اور صرف انصاف معاشرے کو متحد و منظم رکھ سکتا ہے اور کسی کو بھائی بندی کی نظر سے چھوڑ دینا نا انصافی ہے جو نہ صرف معاشرے میں بلکہ معاشرے سے باہر بھی افراد کو دعوت دیتی ہے کہ اس معاشرے کی جڑیں کاٹ ڈالے.....

اللہ تعالٰی ہمارے ایمان و یقین کو سلامت رکھے اور ناموس رسالت (ص) کی حفاظت کے سلسلے میں پوری امت مسلمہ کو متحد و متفق فرما دے..... آمین

انجم رشید
09-21-2012, 10:46 AM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.co

سوچئے ضرور سوچئے آخر کیاوجہ ہے کہ دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ بسنے والے مسلمان اپنے پیغمبر ؐکی ناموس کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس دوسروں کو کافر ثابت کرنے اور قتل کرکے جنّت میں جانے کی گارنٹی تو موجود ہے لیکن ناموس پیغمبر کے لئے کوئی گارنٹی و ضمانت نہیں۔
جب آپ شیعہ اور سنّی ،پنجابی اور پٹھان،عربی اور عجمی،ہندی اور پاکستانی،کشمیری اور افغانی ،کالے اور گورے نیز وڈیرے اور کمّی سے بالاتر ہوکر سوچیں گے تو تب آپ کو اس سوال کا جواب خود بخود مل جائے گا ۔
آپ جان جائیں گے کہ دنیامیں ایک بڑی اکثریت رکھنے کے باوجود ہمارے پاس اپنے پیغمبر کی ناموس کی حفاظت کے لئے کوئی ضمانت اور کوئی گارنٹی کیوں موجودنہیں۔
آپ سوچیں گے توآپ کو اسلامی دنیا کی آستین میں سانپ اور مسلمانوں کے ہاں دوہرا معیار صاف دکھائی دے گا۔آپ سوچیں تو سہی کہ کیا یہ "مسلمانوں کی معصومیت" نامی فلم اس لئے بری ہے کہ اس کا بنانے والا ایک عیسائی پادری ہے یاپھر اس لئے بری ہے کہ اس میں معراج انسانیت اور ختمی المرتبت کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔۔۔؟
اگرآپ کے نزدیک اس فلم کی مخالفت کا معیار" ختمی المرتبت کی شان میں گستاخی ہے"۔۔۔ تو پھر انصاف سے بتائیے کہ ۔۔۔
کیا جنّت البقیع میں رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ اور ان کی آل کے مزارات کو منہدم کر کے توہین رسالت نہیں کی گئی؟
کیا رسول اکرم کی اکلوتی بیٹی کے مزار کو گراکر ویران کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین نہیں ہوئی؟
کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اور آل کے مزارات کو شرک کے مراکز کہنے سے رسول کی توہین نہیں ہوتی؟
کیا حضور کے مزار کی جالی کو چومنے والوں کو ڈانٹنے اور انہیں مشرک کہنےسے حضور کی اہانت نہیں ہوتی؟
کیا اولیائے کرام کے مقدس مزارات پر دھماکے کر نے سے حضور کی اہانت نہیں ہوتی؟
کیا بے گناہ لوگوں کو قرآن مجید کی آیات پڑھ پڑھ کر جانوروں کی طرح ذبح کردینے سے قرآن اور پیغمبر کی توہین نہیں ہوتی؟
کیامسجدوں میں نمازیوں کو گولیاں ماردینے سے اسلام اور پیغمبر اسلام کی اہانت نہیں ہوتی؟
کیا بیت المقدس پر یہودیوں کے قبضے اورفلسطینیوں کی در بدری کے باوجود سعودی شہزادوں کے ،صہیونی نیزامریکی و یورپی آقاوں کے ساتھ جام چھلکانے سے اسلام اور پیغمبر اسلام اہانت نہیں ہوتی؟
کیا اپنے آپ کو طالبانِ اسلام کہنے والوں کے ہاتھوں بچیوں کے سکول بند کرانے اور عورتوں کو مجمع عام میں پیٹنے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی رسوائی نہیں ہوتی؟
آپ جس بھی مذہب اور جس بھی مکتب سے تعلق رکھتے ہوں اپنے ضمیر سے پوچھئے کہ عورتوں اور بچوں کی چیخ وپکار کے درمیان، " کلمہ گو مسلمانوں کو" کلمہ پڑھتے ہوئے ، بسوں سے اتار کر موت کے گھاٹ اتار دینے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی شان میں اضافہ ہوتاہے یا توہین ہوتی ہے۔۔۔؟
امریکی پادری ٹیری جونز اور اس کے ہمنواوں کو یہ جرات صرف اسی لئے ہوئی ہے کہ وہ ہمارے دوہرے معیار اور دوہرے پن سے آگاہ ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ جب مسلمان خودہر روز پیغمبرِ اسلام کی توہین کرکے "مجاہد اسلام" طالبانِ اسلام " اور "خادم حرمین شریفین" رہ سکتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتاتو پھر انہیں مسلمانوں کے احتجاجات اور جلوسوں کو خاطر میں لانے کی کیا ضرورت ہے۔


السلام علیکم .
بہت خوب لکھا آپ نے جناب حافی صاحب یہی ہیں ہم مسلم اچھا نقشہ کھنچا ہے آپ نے جزاک اللہ .
اگر میں یہاں کچھ لکھوں تو بات بہت دور تک جائے گی لیکن میں انشاءاللہ ضرور کچھ لکھوں گا ..
کافی عرصہ سے ایک فلم چل رہی ہے پاکستان میں کیبل پر حضرت یوسف علیہ اسلام کی زندگی پر یہ فلم یوسف علیہ السلام کی زندگی پر بنائی گئی ہے ایک لفظ بھی ان کی توہین نہیں کرتا بلکہ ہر لفظ یقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام نبوت ثابت کرتا ہے لیکن ِ
کیا یہ توہین کا پہلو نہیں کہ ایک عام انسان یوسف علیہ السلام کا کردار ادا کر رہا ہے کیا یہ یقوب علیہ السلام کی توہین نہیں کہ ایک عام بندہ اس فلم میں ان کا کردار ادا کر رہا ہے .
یہاں آپ کی بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ہم مسلم دوہرے میار کے حامل ہیں اور بھی بہت ساری فلمیں بنی ہیں جن پر ہمیں احتجاج کرنا چاہیے تھا لیکن ہماری زبان خاموش رہی اور دکھ اس بات کا ہے کہ بنانے والے یا چلانے والوں میں مسلم بھی ہیں اور کافی فلمیں مسلم ملکوں میں بھی چلی ہیں ،
جزاک اللہ آپ نے بہت کچھ لکھ دیا بہت سارے پہلو اجاگر کر دیے ہیں
وسلام

ایم-ایم
09-23-2012, 08:56 PM
السلام علیکم .
بہت خوب لکھا آپ نے جناب حافی صاحب یہی ہیں ہم مسلم اچھا نقشہ کھنچا ہے آپ نے جزاک اللہ .
اگر میں یہاں کچھ لکھوں تو بات بہت دور تک جائے گی لیکن میں انشاءاللہ ضرور کچھ لکھوں گا ..
کافی عرصہ سے ایک فلم چل رہی ہے پاکستان میں کیبل پر حضرت یوسف علیہ اسلام کی زندگی پر یہ فلم یوسف علیہ السلام کی زندگی پر بنائی گئی ہے ایک لفظ بھی ان کی توہین نہیں کرتا بلکہ ہر لفظ یقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام نبوت ثابت کرتا ہے لیکن ِ
کیا یہ توہین کا پہلو نہیں کہ ایک عام انسان یوسف علیہ السلام کا کردار ادا کر رہا ہے کیا یہ یقوب علیہ السلام کی توہین نہیں کہ ایک عام بندہ اس فلم میں ان کا کردار ادا کر رہا ہے .
یہاں آپ کی بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ہم مسلم دوہرے میار کے حامل ہیں اور بھی بہت ساری فلمیں بنی ہیں جن پر ہمیں احتجاج کرنا چاہیے تھا لیکن ہماری زبان خاموش رہی اور دکھ اس بات کا ہے کہ بنانے والے یا چلانے والوں میں مسلم بھی ہیں اور کافی فلمیں مسلم ملکوں میں بھی چلی ہیں ،
جزاک اللہ آپ نے بہت کچھ لکھ دیا بہت سارے پہلو اجاگر کر دیے ہیں
وسلام


آپ نے ماشاء اللہ اچھی بات کی طرف نشاندہی کی مگر شاید آپ نے ایک بات پر غور نہیں کیا کہ اگر غیر مسلم توہین آمیز باتوں کے لئے میڈیا کا استعمال کر سکتے ہیں تو اسلام اتنا جامد مذہب نہیں کہ میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دے اسلام اپنے دور کے بہترین وسائل سے مثبت انداز میں فائدہ اٹھانے کے مکمل حق میں ہے. رہی بات فلم میں کسی شخص کو نبی یا رسول دکھانا تو اگر تو اس فلم میں وہ کردار کوئی بُرا فعل انجام دے رہا ہے تو یقیناً انتہائی توہین آمیز بات ہے لیکن اگر وہ اس نبی یا رسول کی عظمت و بزرگی کا باعث بن رہا ہے تو یاد رہے کہ وہ شخص خود اس نبی یا رسول کی مانند نہیں ہو گیا بلکہ اس نے کوشش کی کہ اس نبی یا رسول کی نقل کر سکے اور اس کی عظمت و بزرگی کی کچھ داستان زمانے کو دکھا سکے.... جیسے بعض احادیث مبارکہ میں امت محمد (ص) میں علماء حق کو انبیاء کے درجہ میں قرار دیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ علماء حق مکمل طور پر نبی یا رسول بن گئے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ تبلیغ کے لحاظ سے وہ فرائض انجام دیتے ہیں جو انبیاء علیھم اسلام کا کام تھا....
ہاں البتہ یہ احتیاط ضرور کر لینی چاہیے تھی کہ چہرے ظاہر نہ کئے جاتے...... میڈیا کا مثبت استعمال برا نہیں اور اسے استعمال کئے بغیر بہت سے لوگوں کو اصل حقیقت سے آگاہ بھی نہیں کیا جا سکتا

سرحدی
09-24-2012, 12:11 PM
السلام علیکم!
اُمید کرتا ہوں کہ تمام احباب بخیر و عافیت ہوں گے۔
آپ حضرات نے اپنا نقطۂ نظر بڑے اچھے انداز میں پیش کیا ہے، سوچھا اس اہم موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرلوں
محترمین! اگر دیکھا جائے تو اسلام کسی ایسے فعل کی اجازت نہیں دیتا جو انسانیت کے لیے تکلیف کا باعث بنے، اسلام ایک اعتدال پسند دین ہے اور اس کے احکامات انسان کو اعتدال میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کے وہ بہترین طریقے سکھاتا ہے جس کے ذریعہ انسان ،انسانیت کی معراج پر پہنچ جاتا ہے۔
فرقہ پرستی، تعصب،لسانیت اور قومیت یا وطنیت کے جذبہ میں ڈوبے ہوئے لوگ اکثر اُن حدود و قیود کو پار کر جاتے ہیں جو اسلام نے قائم رکھے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے اور اس کے ہر حکم میں انسانیت کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ لیکن! اگر کوئی شخص فرقہ پرستی ، وطنیت، صوبائیت یا قومیت کی بنیاد پر آکر کسی کو کافر کہے اور اس کے قول و فعل کو پرکے بغیر اسلام کے حدود و قیود پر رکھے بغیر اس کو کافر یا مرتد کہہ دیتا ہے تو اس کرنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ البتہ اگر کسی شخص کے افعال، اعمال ، اقوال اور کردار شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے سے مختلف ہے اور وہ بنیادی عقائد کا انکار کرتا ہے تو ایسا شخص اسلام سے خارج کہلایا جاتا ہے۔
رہی بات اجتماعیت کی تو حقیقتا مسلمانوں کے درمیان آپس کے اختلافات نے کفریہ طاقتوں کو ان پر مظالم کرنے اور ان کے ساتھ گھناونا کھیل کھیلنے شروع کردئیے ہیں۔ یہ بات افسوس ناک ہے اور قابل غور بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر جمع ہونا اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت، ناموس کی حفاظت کے لیے بغیر کسی جھنڈے کے صرف ایک اسلام کے جھنڈے تلے جدو جہد کرنا یقینا کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کردینے والا عمل ہوگا۔ لیکن اگر اپنی تنظیم، پارٹی، یا فرقہ کی بنیاد پر الگ الگ جدو جہد کی جائے تو یہ اُس سطح پر کارگر نہیں ہوسکتی جس کی ہم اُمید کررہے ہیں۔ یہ وقت اجتماعیت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر یکجا ہونے کا ہے۔
یہاں پر کچھ دوستوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق بنائی جانے والی فلم کا تذکرہ کیا ہے اور اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے کچھ اس طرح کہا کہ میڈیا کے ذریعہ اگر ہم مسلمانوں کا ایمان تازہ کرسکتے ہیں یا اس میں ترقی ہوسکتی ہے تو اس کا سہارا لینا برا نہیں۔ محترم! فلم بنانے والے چودھویں صدی کے محقق ہیں، ان کی عقل اور فہم اکابرین علماء اور مفسرین کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے واقعہ کو اللہ کی کتاب نے بہت اچھے انداز میں پیش کردیا ہے۔ مسلمانوں کو براہِ راست اللہ کے کلام سے مدد لینی چاہیے نہ کہ میڈیا پر اعتماد کیا جائے۔ اور اگر کوئی مسلمان قرآن فہمی سے دور ہے اور قرآن کے مطالب اور معانی کو سمجھنے سے قاصر ہے تو یہ قصور بھی مسلمان ہی کا ہے کہ اُس کو اللہ کے کلام سے شغف اور انسیت ہی نہیں۔ ہم نے اپنے دین کو سمجھا ہی نہیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کی ہے، ہر کام میں ہم نے دورِ حاضر کے محققین پر اعتما کیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے اصل دین سے بہت دور ہوتے چلے گئے ۔ اس لیے کوشش یہ کرنی چاہیے کہ قرآن کو پڑھنا اور اس کلامِ الٰہی کو سمجھا جائے جس کے لیے اہل علم حضرات موجود ہیں ان سے مدد لی جائے تو بہتر ہوگا۔ باقی رہی بات میڈیا کی تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ حضرات انبیأ کرام علیہم السلام‘ جیسے مسلمانوں کے ہاں قابل احترام ہستیاں ہیں‘ اسی طرح عیسائیوں کے ہاں بھی قابل احترام ہستیاں ہیں‘ اور عیسائی ان ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول تسلیم کرتے ہیں‘ بایں ہمہ عیسائیوں کو ایسی حرکتیں کرنا قطعاً زیب نہیں دیتا‘ ان انبیأ کرام علیہم السلام کو مقدس اور قابل احترام جاننے اور ماننے کے دعوے کے بعد عیسائیوں کی‘ا س طرح کی نازیبااور سوقیانہ حرکتیں کرنا‘ انتہائی شرمناک‘افسوس ناک اور ناقابل فہم ہے۔
عیسائیوں کی کسی تنظیم کی طرف سے حضرات انبیأ کرام علیہم السلام کے بارے میں اس طرح کی فحش اور گھٹیا فلمیں بناکر انبیأ کرام علیہم السلام کے روپ میں عام انسانوں کو نبی کے طور پر پیش کرنا‘ انبیأ کرام کی توہین وتنقیص ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خود عیسائی نادانستہ طور پر یہودی لابی کی سازشوں کا شکار ہورہے ہوں، جیساکہ کلام مقدس کے نام کی سی ڈی کے ڈیزائن میں یہودیوں کا مشہور ومعروف چھ کونوں والا ستارہ نمایاں طور پر دکھا یا گیا ہے‘ دختران پولوس نامی عیسائی تنظیم ان سی ڈیز کی نشر واشاعت کا کام کر رہی ہے‘ حالانکہ پولوس در پردہ کٹر یہودی تھا جو دین عیسوی کو بگاڑنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں شامل ہوا تھا اور اسی کی سازشوں سے دین عیسوی کو بہت زیادہ نقصان ہوا (اور اپنی اصلی صورت تھوڑا عرصہ گذرنے کے بعد کھو بیٹھا) غالباً موجودہ زمانے میں اسی پولوس کے نام پر یہ دختران پولوس نامی تنظیم اسی کے مقصدکو پورا کرنے کے لئے کام کررہی ہے‘ تاکہ انبیأ کرام علیہم السلام کا جو احترام عیسائیوں کے دلوں میں ہے اس کو ان کے دلوں سے اکھاڑ پھینکا جائے‘ بہرحال اس کے پیچھے محرکات جو بھی ہوں‘ انبیأ کرام علیہم السلام‘ مسلمانوں کے ہاں معصوم اور گناہوں سے پاک ہستیاں ہیں‘ جیسے نبی آخر الزمان ا کی توہین وتنقیص کفر اور موجب سزائے موت ہے‘ اسی طرح دیگر تمام انبیأ کرام علیہم السلام یا ان میں سے کسی ایک نبی علیہ السلام کے بارے میں فلمیں بنوانا اور عام گناہگار انسانوں کو انبیأ کرام جیسی معصوم اور مقدس ہستیوں کے طور پر پیش کرنا اور اللہ تعالیٰ کے معصوم اور مقدس انبیأ کرام علیہم السلام کو نازیبا حرکتیں کرتے ہوئے دکھانا‘ انبیأ کرام کی کھلی توہین وتنقیص ہے۔
لہذا حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ اس کفر وارتداد پھیلانے والی سی ڈیز کو ضبط کرکے ضائع کرے اور آئندہ کے لئے ایسا قانون پاس کرے ‘ جس سے ایسے کفریہ وتوہین آمیز کاموں کا سدِ باب ہوسکے، جیساکہ معلوم ہوا ہے کہ یہ سی ڈیز باہر سے در آمد کی گئیں ہیں، تو حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان ”سی ڈیز“ کے درآمد کرنے والوں اورتمام متعلقہ افراد کو عبرت ناک سزا دے اور ان سے سخت باز پرس کرکے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچائے۔
اس کے ساتھ علمأ کرام اور عوام کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ ان سی ڈیز کے خلاف آواز بلند کریں اور ان کی بندش وضبطی کی ہر ممکن کوشش کریں‘ اور تاجر حضرات ان کی خرید وفروخت سے کلیةً باز آئیں کہ ان کی خرید وفروخت ناجائز وحرام ہے۔
ان سی ڈیز میں توہین انبیأ کرام سے ہٹ کر بعض احکامات کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیساکہ ”عمل ختنہ“ کو حضرت یعقوب علیہ السلام سے منسوب کیاگیاہے‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم ان سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل کیا تھا‘ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح (قربان ہونے والا) دکھایا گیاہے‘ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام۔
اسی طرح اور بہت سی قابل اعتراض باتیں ہوتی ہیں جن سے بچنا چاہیے۔
آخر میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر صحیح صحیح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی کامل اتباع نصیب فرمائے۔ آمین

admin
09-24-2012, 07:29 PM
قربانی کے لئے حضرت اسماعیل علیہ اسلام کو پیش کیا گیا یا حضرت اسحاق علیہ اسلام کو اس سلسلے میں کچھ عرصہ پہلے ایک عیسائی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک آرٹیکل لکھا تھا جو فورم پر بھی لگا دیا ہے اس کا لنک درج ذیل ہے......

http://urdulook.info/portal/showthread.php?tid=6348

انجم رشید
09-24-2012, 08:39 PM
آمین ثم آمین
بہت بہت شکریہ سرحدی بھائی جزاک اللہ

pervaz khan
09-25-2012, 11:14 AM
جزاک اللہ