PDA

View Full Version : ہماری اردو پیاری اردو



انجم رشید
09-29-2012, 04:47 PM
اردو

اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا
تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔

اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے.

اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی ، اُردو سے نکلی۔


1 بولنے والے اور جُغرافیائی پھیلاؤ 1.1 ممالک جہاں اُردو اصل بولنے والے بڑی تعداد میں آباد ہیں:2 دفتری حیثیت3 فقرہ کی ساخت4 دیگر متعلقہ صفحات5 بیرونی روابط6 حوالہ جات

بولنے والے اور جُغرافیائی پھیلاؤمعیاری اُردو (کھڑی بولی) کے اصل بولنے والے افراد کی تعداد 60 سے 80 ملین ہے. ایس.آئی.ایل نژادیہ کے 1999ء کی شماریات کے مطابق اُردو اور ہندی دُنیا میں پانچویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے. لینگویج ٹوڈے میں جارج ویبر کے مقالے: 'دُنیا کی دس بڑی زبانیں' میں چینی زبانوں، انگریزی اور ہسپانوی زبان کے بعد اُردو اور ہندی دُنیا میں سب سے زیادہ بولے جانی والی چوتھی زبان ہے۔ اِسے دُنیا کی کُل آباد کا 4.7 فیصد افراد بولتے ہیں۔

اُردو کی ہندی کے ساتھ یکسانیت کی وجہ سے، دونوں زبانوں کے بولنے والے ایک دوسرے کو عموماً سمجھ سکتے ہیں. درحقیقت، ماہرینِ لسانیات اِن دونوں زبانوں کو ایک ہی زبان کے حصّے سمجھتے ہیں۔ تاہم، یہ معاشی و سیاسی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں. لوگ جو اپنے آپ کو اُردو کو اپنی مادری زبان سمجھتے ہیں وہ ہندی کو اپنی مادری زبان تسلیم نہیں کرتے، اور اِسی طرح اِس کے برعکس۔

اُردو کو پاکستان کے تمام صوبوں میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مدرسوں میں اعلٰی ثانوی جماعتوں تک لازمی مضمون کی طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اِس نے کروڑوں اُردو بولنے والے پیدا کردیئے ہیں جن کی زبان پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، کشمیری، براہوی، چترالی وغیرہ میں سے کوئی ایک ہوتی ہے. اُردو پاکستان کی مُشترکہ زبان ہے اور یہ علاقائی زبانوں سے کئی الفاظ ضم کررہی ہے۔ اُردو کا یہ لہجہ اب پاکستانی اُردو کہلاتی ہے. یہ اَمر زبان کے بارے میں رائے تبدیل کررہی ہے جیسے اُردو بولنے والا وہ ہے جو اُردو بولتا ہے گو کہ اُس کی مادری زبان کوئی اَور زبان ہی کیوں نہ ہو. علاقائی زبانیں بھی اُردو کے الفاظ سے اثر پارہی ہیں. پاکستان میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جن کی مادری زبان کوئی اَور ہے لیکن وہ اُردو کو بولتے اور سمجھ سکتے ہیں. پانچ ملین افغان مہاجرین، جنہوں نے پاکستان میں پچیس برس گزارے، میں سے زیادہ تر اُردو روانی سے بول سکتے ہیں. وہ تمام اُردو بولنے والے کہلائیں گے۔ پاکستان میں اُردو اخباروں کی ایک بڑی تعداد چھپتی ہے جن میں روزنامۂ جنگ، نوائے وقت اور ملّت شامل ہیں۔

بھارت میں، اُردو اُن جگہوں میں بولی اور استعمال کی جاتی ہے جہاں مسلمان اقلیتی آباد ہیں یا وہ شہر جو ماضی میں مسلمان حاکمین کے مرکز رہے ہیں۔ اِن میں اُتر پردیش کے حصے (خصوصاً لکھنؤ)، دہلی، بھوپال، حیدرآباد، بنگلور، کولکتہ، میسور، پٹنہ، اجمیر اور احمد آباد شامل ہیں. کچھ بھارتی مدرسے اُردو کو پہلی زبان کے طور پر پڑھاتے ہیں، اُن کا اپنا خاکۂ نصاب اور طریقۂ امتحانات ہیں۔ بھارتی دینی مدرسے عربی اور اُردو میں تعلیم دیتے ہیں. بھارت میں اُردو اخباروں کی تعداد 29 سے زیادہ ہے۔

جنوبی ایشیاء سے باہر اُردو زبان خلجِ فارس اور سعودی عرب میں جنوبی ایشیائی مزدور مہاجر بولتے ہیں۔ یہ زبان برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، ناروے اور آسٹریلیاء میں مقیم جنوبی ایشیائی مہاجرین بولتے ہیں۔
اردو زبان،،تاريخ كے جہروكے سے
ساخت كے اعتبار سے ،،اردو،،،ايك مخلوط قسم كى زبان ہے ـاس كا ذخيرہ الفاظ نحوى اور حرفىقواعد،آوازيں مختلف زبانوں سے مستعار لى گئى ہيں ـ چنانچہ افعال كا طريقہ انسلاك تو مقامى ہے ليكن بہت سے اسماء باہرسے آئے ہيں ـ اصوات ميں بھى مقامى اور غير مقامى زبانوں سے استفادہ كيا گيا ہے ليكن ان سب سے اعلى' پا'يے كاعمل يہ ہے كہ ان كا مايہ خميراس طرح تيار كيا گيا ہے كہ يہ زبان اب اپنى ايك آزادانہ اور خود مختار حثيت ركھتى ہےاور اس كے بولنے اور سمجنے والے دنيا كے بہت سے حصوں ميں موجود ہيں ـ اس كى داخلى خوبى يہ ہے كہ يہ زبان شگفتہ اور لچك دار ہےاور فصاحت وبلاغت ميں بھى اس كا انداز منفرد ہے ـ
برصغير كى ايك اھم زبان ہونے كے باوجوداس كى تاريخ پر دبيز پردے پڑے ہوے ہيں ـ بعض محققين نے اس زبان كا عہد وار تحقيقى جائزه زبان سازى كے قوائد وضوابط ميں ليااور كسى نتيجے تك سائنسى اندازميں بھی جا نچنے كى كوشش كی ہے ـ كچھ اديبوں نے مسلے كو ذياده گہرائى سے جانچے بغير اردو كى جنم بھومى اور عہد پيدائش كا تعين كر ديا ـ اس ضمن ميں اوّلين اہميت مولانامحمد حسين آزاد كو حاصل ہےجنہوں نے ،،آب حيات،،ميں لكھاہمارى اردو زبان برج بھاشا سے نكلى ہےليكن وہ ايسى زبان نہيں كہ دنياكے پردے پر ہندوستان كے ساتھـ ائى ھوـ اس كى عمر آٹھـ سو سال سے ذيادہ نہيں ہےـ اسے صرف مغل شہنشاہ شا جہان كا اقبال كہنا چاھيے كہ يہ زبان خاص و عام ميں اس كے عہد سے منسوب ھو گئی ـ عبدالغفورنساح نے بھى اس رائے كى توثيق كی اور لكھا ك11058ميں شاہ جہان آباد (موجودہ دہلى)آباد ہوا تواطراف وجوانب سےعالم ھر قسم كےذى علم اور صاحب استعداداور قبل لوگ جمع ہوے ـ قديم ہندى متروك ہونے لگى ـ محاورے ميں فرق ہونے لگاـ زبان اردو كى ترقى شروع ہوى ـ
سر سيد احمد خان كے خيال ميں اردو كا ہيولہ خلجى سلاطين كے عہد ميں تيار ہو گيا تھاليكن اس ہيولے نے زبان كى شكل عہد شاہ جہانى ميں اختيار كى انشاءاللّہ خان انشاءدريائے لطافت ميں اردو كى ابتداكو شاہ جہان كے عہد سے ہى منسوب كيا ہے ـ
ان كى آراءكے برعكس مير امن دہلوى نے باغ وبہار كے ديباچے ميں لكھاكہ جب مغل شہنشاہ اكبر تخت پر بيٹھےتوچاروں طرف كے ملكوں سے سب قوموں كے لوگ قدردانى اور فيض رسانى اس خاندان لاسانى كا سن كراس كى خدمت ميں جمع ہوئےليكن ہر ايك كى گويائىاور بولى جداجدا تھى ـ اكٹھا ەٕہونے سے آپس ميں لين دين،سودا سلف سوال وجواب كركےايك زبان اردو بھى مقرر ہوى ـ
ڈاكٹر وائٹ برجنٹ نے جنكے انگريزى مقالے كا ترجمہ اقبال نے كيا ہے خيال ظاەر كيا كہ اردوزبان كى ابتداشہنشاہ اكبر كے عہد سے ہوى اگرہ اور دھلى شہروں كے درميان اضلاع كى زبان مغربى ہندى كى ايك شاخ تھی جس كو برج بھاشا كے نام سے موسوم كيا جاتا ہے ـ ڈاكٹركلكرائسٹ كا خيال تھا كہ ہندوستان پر تيمور كے حملے كے وقت اردو زبان كى بنياد پڑى ـ اديب ونقاد سجاد ظہير نے اس كى ابتدامحمود غزنوىكے عہد سے وابستہ كى ہے
ڈاكٹر موہن سنگہ مستانہ كا خيال بھى يہی تھا كہ ہندى اور فارسى كى اميزش سے اردوزبان محمود غزنوى كےدور ميں پيداہوئی ـ حكيم شمس اللّہ قادرى كے خيال ميں مسلمانوں كےاثر سےبرج بھاشا ميں عربى اور فارسى كے الفاظ داخل ہونے لگےجس كے باعث اس ميں تغير شروع ہواجو روزبروزبڑھتا چلا گيا اور ايك عرصے كے بعد اردو زبان كى صورت اختيار كر گيا ـ يہ سب آراءاگرچہ سرسرى اور قدرے جذباتى ہيں ليكن ان ميں يہ جزوى صداقت موجود ہے كہ اردو كى ابتدا ميں مسلمانوں كا عمل دخل ذيادہ ہے اور يہ مقامى لوگوں اور زبانوں كے اختلاط سے پيدا ہوئی ـ
1928 ميں حافظ محمود شيرانى كى كتاب پنجاب ميں اردو شائع ہوئی جس ميں تاريخى عوامل لسانى تجزيےاور داخلى شواہدكى اساس پر لكھا گيا كہ اردو كى داغ بيل اس دن پڑنا شروع ہوگئی تھی جس دن سے مسلمانوں نے ہندوستان ميں آكر توطن اختيار كيا.........ـ
سندھ ميں مسلمانوں اور ہندوؤں كے اختلاط سے اگر كوئى نئى زبان بنى تھى توغزنوى دور ميں جو ايك سو ستر سال پر حاوى ہےايسى مخلوط يا بين الاقوامی زبان ظہور پزير ہو سكتى ہے ـ اوراردو چونكہ پنجاب ميں بنى ہے اس لئے ضرورى ہے كہ وہ يا تو موجودہ پنجابى كے مماثل ہو يا اس سے قريبى رشتہ دار ہو ـ بحرحال قطب الدين ايبك(غزنوى دور كا ايك سلطان) كے فوجى اور ديگر شہرى پنجاب سے كوئى ايسى زبان لے كر روانہ ہوتے ہيں جس ميں خود مسلمان قوميں ايك دوسرے سے تكلم كر سكيں ـ چناچہ زبانوں كا طويل اختلاط اسى خطے ميں عمل ميں آيا يہيں سے اس زبان نے وسطى اور جنوبى ھند كى طرف سفر كيا ـ بلاشبہ يہ زبان بين الاقوامى ضرورتوں كى بنا پر وجود ميں آى تھى جو بہت جلد ہى مقامی مسلمانوں كى عام زبان بن گئى ـ

انکل سیانہ
09-29-2012, 05:05 PM
بہت عمدہ تحریر ، بالکل ، کیونکہ اردو رسم الخط قرآنی رسم الخط ہے ، اس لئے مسلمانون اور ہندوں کی کئ بار اس معاملے میں جنگیں ہو چکی ہیں ، وہ اسے مسلمانوں کی مذہبی زبان
خیال کرتے تھے ،
بہرحال بہت عمدہ اور دلچسپ بہت شکریہ

شاہنواز
09-29-2012, 06:25 PM
بہترین تحقیق عمده کاوش ہے

تانیہ
09-29-2012, 09:44 PM
بہت خوب
بہت عمدہ اور دلچسپ بہت شکریہ

pervaz khan
09-30-2012, 10:49 AM
بہت عمدہ