PDA

View Full Version : امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی



tashfin28
10-01-2012, 05:52 PM
امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی

کچھ مبصرين نے امريکی حکومت کو ناحق تنقيد کا نشانہ بنايا ہے اور کہتے ہيں کہ امريکہ ميں مختلف مذاہب اور عقائد کے حوالے سے امريکی حکومت مبينہ دوہرے معيار کے پاليسی پر عمل پيرا ہے۔ جہاں تک اس عمومی تاثر کا تعلق ہے کہ امريکہ ميں يہوديوں سميت کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کچھ کہنے کی اجازت نہيں ہے تو حقائق اس کے بالکل منافی ہيں۔

امريکی آئين کے مطابق امريکہ ميں رہنے والے ہر شہری کوکسی بھی سياسی يا مذہبی معاملے پر سوالات اٹھانے يا راۓ زنی کرنے کی قانونی اجازت ہے۔ ليکن ذکر کرنا نہايت ضروری ہے کہ يورپ کے کچھ ممالک ايسے ضرور ہيں جہاں مروجہ قوانين کے تحت ہالوکاسٹ يا دوسرے مذہبی معاملوں کے حوالے سے راۓ کا اظہار کرنے پر پابندی پر ہے۔ ليکن ميں واضح کر دوں کہ ان قوانين کا اطلاق امريکہ ميں بالکل نہيں ہوتا۔

يہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہيے کہ امريکی حکومت نہ تو مغربی ممالک ميں رائج قوانين کے لیے ذمہ دار ہے اور نہ اس ضمن میں امريکہ کو مورد الزام ٹھہرايا جا سکتا ہے۔ ايسے بہت سے مغربی اور غير مسلم ممالک ہيں جہاں پر قانونی فريم ورک، آئينی اصول اور آزادی راۓ کے حوالے سے قوانين امريکی معاشرے ميں متعين کردہ بنيادی جمہوری اصولوں سے متصادم ہيں۔

ميں معزز ممبران کو ياددلانا چاہتاہوں کہ ايک فلم 1988ء ميں "مسیح کا آخری فتنہ" کے نام سے فلمايا کیا گیا تھا جس ميں حضرت عيسی عليہ السلام کی زندگی ميں شک، ڈپریشن،ہوس اور ہچکچاہٹ سمیت مختلف اقسام کے ساتھ ان کی خوف کے ساتھ ذاتی جدوجہد کو دکھايا گيا ہے۔ فلم کی حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں متنازعہ مواد کی وجہ سے دنیا بھر کے عیسائیوں نے اس پر زیادہ تنقید کيں۔ دنيا کےچند ممالک میں کئی سالوں تک اس فلم کو ‎سنسر یا اس پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ جولائی 2010 تک، دنیا میں کئی ممالک میں اس فلم پر پابندی عائد ہے۔

تاہم اس بات پر غور کرنا نہايت ہی اہم ہے کہ اس فلم کی ريليز کے وقت اسےتمام امریکی تھیٹر میں دکھایا گیا تھا- اس وقت،يہ فلم رینٹل جگہوں پرکرایہ کيلۓ دستیاب ہے اورساتھ ہی امریکہ میں گاہےبگاہے کیبل ٹی وی پربھی دکھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ امريکہ کے اندر ايسے کئ افراد اور تنظيميں موجود ہيں جو عوامی سطح پر ہالوکاسٹ کی حقيقت کے حوالے سے کھلم کھلا سوالات بھی اٹھاتے رہتے ہيں اور اس بات پر بھی بضد ہيں کہ اس قسم کا کوئ واقعہ سرے سے ہوا ہی نہيں تھا، جو امریکی میں رہنے والے یہودیوں کيلۓ بہت جارحانہ ہے-

بہت واضح طور پر،حقيقت ميں یہ دعوی کرنا درست نہيں ہے کہ صرف مسلمانوں کوہی امريکہ ميں آزادی راۓ کے قانونی اور آئينی حق کی آڑ ميں اس طرح کے جارحانہ مواد کا نشانہ بنايا جاتا ہے۔

تاشفيں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

admin
10-01-2012, 09:03 PM
جناب ہمیں نہ تو ہالوکاسٹ سے دلچسپی ہے اور نہ دیگر کسی بات ہے ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ توہینِ انبیاء پر قانون سازی ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ آزادی اظہار کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ ایسی توہین سے 1 ارب سے زائد مسلمانوں کو اخلاقی طور پر قتل کرنے کے مترادف ہے اور قتل کرنا یا ارادہِ قتل دونوں آزادی اظہارِ رائے کے زمرے میں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔ اگر یہ دونوں اظہارِ رائے کی آزادی میں آتے ہیں تو امریکہ سے کہیں کہ قتل یا اقدامِ قتل کے جرم کو معاف کر دیا جائے پھر دیکھتے ہیں امریکہ میں کون اس آزادی اظہارِ رائے کے تحت بچتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انجم رشید
10-02-2012, 11:41 AM
یعنی تاشفین جی آپ یہ ماننتے ہیں کہ امریکہ میں پیسے کمانے کے لیے سب کچھ کیا جا سکتا ہے خواہ کیسی کی توہین ہو یا دل آزاری اور آپ ہمیشہ حق راے آزادی کا ڈھول بجاتے رہیں گے تاشفین جی قانون انسان بناتا ہے جرائم کی روک تھام کے لیے اور ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ تمام انبیاء علیہ اسلام کی توہین کے بارے میں تمام دنیا میں قانون سازی ہونی چاہیے لیکن آپ کا ملک یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں مجھے علم ہے کہ آپ کے ملک میں عیسی علیہ اسلام کے بارے میں کتنی توہین آمیز فلمیں بنی ہیں اور کئی ملکوں کے قوموں ہیرو کو آپ کے ملک کے فلم سازوں نے کس شرمناک حد تک بدنام کیا ہے جیسے ایک مثال اسکندر دی گریٹ ہے کیسی کیسی شرمناک فلمیں بنی ہیں اس پر امریکہ میں لیکن آپ کی حکومت پھر بھی یہی کہے گی کہ ہر کیسی کو راے کا حق ہے تاشفین جی آپ صرف میری ناک تک آزاد ہیں یعنی آپ کے ہاتھ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے یہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے لیکن آپ کے ملک کی آزادی شروع ہی وہاں سے ہوتی ہے یہاں سے دوسرے کی ناک ہے ۔
آپ اور آپ کے صدر صاحب اور آپ کی وزیر خارجہ صاحبہ ہر روز ہمیں نئے قصے سنا رہے ہیں حالنکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ توہین انبیاء علیہ اسلام کا قانون پاس کیا جائے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا کیوں کہ آپ لوگوں کو پیسہ عزیز ہے آپ کے ملک کی فلمیں تمام دنیا میں دیکھی جاتی ہیں آپ کا ملک ان فلموں سے زر مبادلہ کماتا ہے تو پھر کیسے کوئی قانون سازی کرے گا ویسے بھی یہودی لابی آپ کو ایسا کرنے نہیں دے گی
ایک اور بات بھی ہے یہاں آپ کے ملک زک پہنچی ہے وہاں آپ کے ملک نے فلمیں بنا کر ان میں اپنے آپ کو ہیرو پیش کیا ہے اور دوسروں کی ہمیشہ دل آزاری کی ہے جنہوں نے آپ کے ملک کو زک پہنچائی ہے مثال کے طور پر آپ کے ملک نے ویتنامیوں سے سخت ترین شکست کھائی اور آپ کی فلمیں نے آپ کے ملک کو وہاں ہیرو بنا دیا
تاشفین جی میں پھر بات وہی کہوں گا کہ آپ یہ طوطوں کا والا راگ اب چھوڑ دیں ہمارے مطالبے پر غور کریں ہم تمام انبیاء علیہ اسلام کی بات کر رہے ہیں صرف محمد ً کی نہیں اس قانون سے عیسائی کی دل آزاری کی روک تھام ہو جائے گی

بےباک
10-03-2012, 08:12 AM
آپ کے ملک نے ویتنامیوں سے سخت ترین شکست کھائی اور آپ کی فلمیں نے آپ کے ملک کو وہاں ہیرو بنا دیا
تاشفین جی میں پھر بات وہی کہوں گا کہ آپ یہ طوطوں کا والا راگ اب چھوڑ دیں ہمارے مطالبے پر غور کریں ہم تمام انبیاء علیہ اسلام کی بات کر رہے ہیں صرف محمد ً کی نہیں اس قانون سے عیسائی کی دل آزاری کی روک تھام ہو جائے گی

بہت خؤب جناب انجم رشید صاحب ۔

pervaz khan
10-03-2012, 10:48 AM
یہ طوطے والے راگ کو کیسے چھوڑیں۔اس راگ کے ہی تو ان کو ڈالر ملتے ہیں۔میں نے کہیں مرتبہ ان سے پوچھا ہے کہ کیا یہ مسلمان ہیں یا مسلمان نام صرف آئی ڈی رکھا ہوا ہے۔ان کی تحریر سے ایک بات تو ظاہر ہوگی ہے کہ یہ امریکی ہیں۔اگر انھوں نے صرف آئی ڈی ہی مسلمان نام کا رکھا ہے تو یہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں اور اگر یہ مسلمان ہیں تو انھوں نے باقی جو مسلمان امریکی پیٹھو ہیں ان کی طرح اپنا دین اور آپنا آپ ڈالر کے بدلے بیچ دیا ہے۔اور اسی لئے یہ ایک ہی راگ گا رہے ہیں امریکہ جو کچھ کر رہا ہے سب صیح ہے باقی سب غلط ہیں۔میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ صیح ہے نا تاشفین صاحب

tashfin28
10-04-2012, 07:23 PM
ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم

محترم پرويز خان
السلام عليکم،

ميں يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ الحمدللہ ميں مسلمان ہوں اور یہاں آن لائن دنیا میں صرف اپنا کام کر رہا ہوں- لیکن اصل میں میرا مذہب يہاں مسئلہ نہیں ہے.

آپ کی معلومات کے لئے، آن لائن دنیا میں آپ کے ساتھ بات چیت کرنا ہی حقیقت میں میرا کام ہے- امریکی حکومت اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ آپ جیسے لوگوں کے ساتھ ایک آن لائن تعلقات بنانے کے لئے ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم کيطرح لوگوں کا ہونابہت ضروری ہے-

میرا کام مختلف مسائل پر امریکی حکومت کی واضح پوزیشن کو ظاہر کرنا ہے اور ان ايشوز کے بارے ميں مختلف سازش فروشوں کی طرف سے پھیلائی گئی جھوٹی خبروں سے نمٹنا ہے ۔ یہ تجویز کرنا بالکل غلط ہے کہ ہم کسی بھی قسم کے مبینہ پروپیگنڈہ کارروائی میں ملوث ہیں.

ہمارا کام بہت ظاہر اور ہمارا مقصد بہت واضح ہے کہ مختلف معاملات پر امریکی واضح نقطہ نظر کو اجاگر کريں، آپ کے نقطہ نظر کو سمجھ سکيں اور انٹرنیٹ پر انتہا پسندوں کی پرتشدد آواز کو روکا جاسکے۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu

pervaz khan
10-05-2012, 05:35 PM
وعلیکم اسلام ایک بات کا تو پتہ چل گیا ہے کہ آپ مسلمان ہیں۔اس دور میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی سے چھپی رہ سکے۔آپ امریکی حکومت کے ملازم ہیں اور آپ صرف یک طرفہ باتیں اور جو امریکی حکومت چاھتی ہے اس کے مطابق ہی بات کریں گے لیکن ساری دنیا اور خاص طور پر اسلامی ممالک کے متعلق امریکی پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ مجھ جیسے لوگوں کو آپ کی انفارمیشن کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں امریکی پالیسیوں کے متعلق آپ سے بہتر جانتا ہوں۔ ہم لوگ امریکی پراپیگنڈا کو سچ مان کر حقیقت سے کیسے نظریں چرا سکتے ہیں۔اور جس نے بھی امریکہ پر اعتبار کیا اس کا جو حشر ہوا ہے وہ بھی ساری دنیا جانتی ہے۔ لحاظہ ہمیں آپ کے اس سبق کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔شکریہ