PDA

View Full Version : “کارونا" وائرس پھیلنے کا کوئی خدشہ نہیں : مصری وزارت صحت



عبیداللہ عبید
10-04-2012, 01:52 PM
ترجمہ اور ترتیب و تہذیب : عبیداللہ عبید

مصری وزارت صحت کے حفظ ماتقدم کے شعبے کے انڈر سیکرٹری ڈاکٹر عمرو قندیل نے کہا کہ کارونا اور سارس وائرسوں کی جنیاتی کوڈوں کے درمیان یکسانیت سائنسی طور پر آج تک ثابت نہیں ہوئی ۔اسی طرح کارونا وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے کا سائنسی ثبوت بھی نہیں ملا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کارونا وائرس کے پھیلنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے اور صرف دو کیس سامنے آئے ہیں جن میں ایک سعودی اوردوسرا قطری شخص اس وائرس کا شکار ہوگئے تھے ۔

ڈاکٹر قندیل نے کہا کہ کارونا ان وائرسوں میں سے ہے جن کی وجہ سے سردی کا زکام لاحق ہوتا ہے اور نظام تنفس کو متاثر کرتے ہیں کبھی کبھار نظام انہضام پر بھی برا اثر ڈالتے ہیں ۔

اس کی علامات انفلوئنزا سے مشابہ ہیں اور اکثر حالات میں اس کی علامتیں واضح ہوتی ہیں ، شاذو نادر پیچیدگیوں کا سبب بن جاتا ہے بالخصوص بڑی (پینسٹھ سال سے زائد) عمر کے افراد میں ، جبکہ وہ پھیپھڑوں کی سوزش ، دل کے امراض ، کم قوتِ مدافعت کے حامل اور پرانے امراض میں مبتلا ہوں۔

ملک بھرمیں وبائی انفلوئنزا پر نظر رکھنے کے لیے ایسا سسٹم قائم کیا گیا ہے جس میں چارسو پچاس سے زائد اسپتال ہفتہ وار رپورٹ وزارت صحت و آبادی کو ارسال کرتے ہیں ۔ وزارت صحت و آبادی کی مرکزی تجربہ گاہوں میں انفلوئنزا وائرس کی جانچ کے لیے مزید ضروری آلات بھی فراہم کیے جارہے ہیں ۔ اسی طرح پانچ صوبائی تجربہ گاہوں کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے ۔

بےباک
10-04-2012, 10:50 PM
شکریہ محترم ،آپ نے اس وائرس کے بارے بتایا ،



مصری وزارت صحت کے حفظ ماتقدم کے شعبے کے انڈر سیکرٹری ڈاکٹر عمرو قندیل نے کہا کہ کارونا اور سارس وائرسوں کی جنیاتی کوڈوں کے درمیان یکسانیت سائنسی طور پر آج تک ثابت نہیں ہوئی ۔اسی طرح کارونا وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے کا سائنسی ثبوت بھی نہیں ملا ہے ۔
بالکل ٹھیک بات ہے ، شکریہ اس معلومات کے شئیر کرنے کا۔


ملک بھرمیں وبائی انفلوئنزا پر نظر رکھنے کے لیے ایسا سسٹم قائم کیا گیا ہے جس میں چارسو پچاس سے زائد اسپتال ہفتہ وار رپورٹ وزارت صحت و آبادی کو ارسال کرتے ہیں ۔ وزارت صحت و آبادی کی مرکزی تجربہ گاہوں میں انفلوئنزا وائرس کی جانچ کے لیے مزید ضروری آلات بھی فراہم کیے جارہے ہیں ۔ اسی طرح پانچ صوبائی تجربہ گاہوں کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے ۔

چونکہ خبر مصر کے متعلق ہے اس لیے آپ بتائیے ، کہ یہ کس ملک میں ایسا سسٹم قائم کیا گیا ہے ، جس کا آپ نے ذکر کیا ہے ،
پانچ صوبائی تجربہ گاہوں کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے تو محسوس ہوتا ہے یہ خبر پاکستان کے متلعق ہے ، مگر ہمارے ملک میں مربوط نظام نہ ہونے سے کوئی ادارہ مکمل ذمہ داری نہیں لیتا ۔۔
محترم آپ کا شکریہ ، آپ ایسی خبریں جو معاشرے کے لیے مفید ہوں ، لکھتے رہیے گا ، اور اپنے بارے تعارف ضرور دیجیے ، تعارف کا سیکشن الگ بنایا موجود ہے ،
تاکہ آپ کے بارے مزید جان سکیں ،
شکریہ