PDA

View Full Version : غیر ملکی ایجنسیاں وطن دشمن



بےباک
10-08-2012, 10:27 AM
http://ummatpublication.com/2012/10/08/images/news-02.gif

انجم رشید
10-08-2012, 11:57 AM
اس وقت بلوچستان میں وہی بدنامی پائی جاتی ہے جو کبھی مشرقی پاکستان میں پائی تھی اس وقت بھی دنیا بھر کی ایجنسیاں بنگال میں متحرک تھیں اور آج وہی ایجنسیاں بلوچستان میں متحرک ہیں لیکن افسوس اس وقت بھی ہمارے حکمران سو رہے تھے اور آج بھی سو رہے ہیں اس وقت بھی مجیب نے 6 نکات دیے تھے اور آج بھی جناب اختر مینگل نے چھ نکات دیے ہیں پاک فوج اور ایجنسیاں بھی اپنا تحریری بیان سپریم کورٹ میں دے چلی ہیں اور واضع کر چکی ہیں کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا جناب جنرل کیانی روس جانے سے پہلے بیان دے چکے ہیں کہ بلوچستان میں جاری شورش کا جو بھی سیاسی حل ملک کے آئین کے دائرہ کار کے اندر رہ کر تجویز کیا جائے گا فوج اس کی مکمل حمایت کرے گی۔
اقوام متحدہ کی تفشیشی کمیٹی کا پاکستان آنا حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے وہ اقوام متحدہ جس کو کہیں اور مسلموں پر ظلم ہوتا نظر نہیں آرہا وہ پاکستان میں مداخلت کر رہی ہے ۔
عام لوگوں کو بلوچستان کے حالات علم ہی نہیں اور نہ ہی وہاں کے عوام کو علم ہے کہ یہ قتل کس لیے ہو رہے ہیں
بلوچستان کی صوبائی حکومت فنڈ لے کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں اور عوام کو کوئی پوچھتا ہی نہیں بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کبھی بھی سارے مبمر نہیں ہوتے بلوچستان کے کیسی بھی ادارے میں چلے جایں آپ کو بہت کم سرکاری ملازم دفتر میں نظر آیں گے گیس کا حصہ معدنیات کا حصہ سب سرداروں کی جیب میں چلا جاتا ہے عوام کو کچھ نہیں ملتا ۔
اے کاش کوئی تو ہمیں حقیقت بتائے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے قصور وار کون ہیں

بےباک
11-02-2012, 08:55 AM
http://ummatpublication.com/2012/11/01/images/news-02.gif

pervaz khan
11-02-2012, 02:46 PM
زبردست شئیرنگ شکریہ

tashfin28
11-02-2012, 09:03 PM
بلوچستان - اور امریکی موقف

معزز قارئین،
اسلام‏‏ عليکم،

فورم پر ايک رکن بلوچستان کے معاملے میں امریکہ پر مبینہ طور پر ملوث ہونے کا جھوٹا الزام لگارہاہے۔ ميں واضح کرنا چاہتا ہوں، کہ امريکہ سنجید گی سے پاکستان کے اتحاد اور استحکام کی حمایت کرتا ہے اور یہ کہ بلوچستان کو پاکستان کے اٹوٹ حصے کے طور پر قائم رکھنے کے لے خواہاں ہے۔

اس کے علاوہ، امریکی حکومت بلوچستان کے مسئلے پر ایک بہت واضح موقف رکھتی ہے ۔ بلاشبہ امریکی حکومت بلوچستان میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی رپورٹس کے بارے میں کافی فکرمند ہے جیسا کہ محترم انجم رشيد نے اس طرف صحيح نشاندہی کی ہے ۔ ليکن، امريکی انتظاميہ اس پربھی پختہ یقین رکھتی ہے کہ پاکستانی حکومت کی يہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ پرامن بات چیت کےذریعے حل کرنے کی ممکن کوشش کريں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک مضبوط، مستحکم اور متحد پاکستان امریکہ کے بہترین اسٹریٹجک مفاد میں ہے۔

مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، ميں بلاترديد کہناچاہتا ہوں کہ يہ تمام بے بنیاد الزامات کہ سی آئی اے دوسرے غیر ملکيوں ايجنسيوں کے ساتھ ملکربلوچستان کو غير مسحتکم کرنے کے ايک خفیہ ایجنڈے پرکارفرماہے بالکل درست نہیں اورخطے ميں پاکستان کو امريکہ کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ایک اتحادی کے طورپر ھمارے ظاہری عزم کو بےنقاب نہيں کرتا۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

بےباک
11-03-2012, 10:44 AM
محترم تاشفین صاحب ، یہ اخباری اطلاعات ہیں ، اخبارات اور ٹی وی ، ہمارے پاس ذرائع ابلاغ ہی ہیں ہم کسی سرکاری ادارے سے منسلک نہیں ہیں ،
بلوچستان کے مسلے پر امریکی حکومت کا درد ہم نے ہمیشہ محسوس کیا ہے ، شاید اسی لیے امریکا اپنا وھاں قونصل خانہ کھولنا چاھتا ہے ،
ہم تو چاھتے ہیں کہ ہمارے امریکا کے بارے جو خدشات ہیں کاش وہ دور ہو جائیں اور ہم آپس میں شیر و شکر ہو جائیں ، مگر ہمیں امریکا کے کردار پر کوئی بھروسہ نہیں
کیونکہ ہم اسی کے ڈسے ہوئے ہیں ،
کیا پاکستان کے نیٹو کے طرز پر امریکا سے معائدہ نہیں کیا ہوا تھا؟؟ سینٹو کا ؟؟؟، جس کا رکن ، پاکستان ، عراق ترکی اور برطانیہ ، بنیادی رکن تھے ، اور شروع میں امریکا اس میں ٹیکنیکل وجوھات سے شامل نہیں ہوا بعد میں 1958 میں امریکا بھی شامل ہوا ، اور 1971 میں پاکستان کی انڈیا کے ساتھ جنگ ہوئی ، تو ہمیں دھوکہ دیا گیا ،
ساتواں بحری بیڑا متحرک کر دیا گیا ، اور اس کو پاکستان کے لیے بھیجا گیا ، مگر ہماری تباہی کے بعد بھی امریکا کا بحری بیٹرا سامنے نہیں آیا ، پاکستان ان دو عالمی طاقتوں امریکا اور برطانیہ کا حلیف تھا ، پاکستان کو شکست ملی ، اور وہ اسلحہ جس کو پاکستان کے لیے پیک کیا تھا ، اور اس سے نام مٹانے کا تکلف بھی نہیں کیا گیا ، اور انڈیا کو بھیج دیا گیا ، ہم نے اس وقت پڑوس کے روس کو حریف بنانے کے بجائے امریکا اور برطانیہ کو حلیف بنایا تو ہمیں جو فوائد ملے وہ ہماری شکست کی شکل میں ملے اور ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا ، کہ کسی ایک ممبر پر حملہ معائدہ کے سب ممبران پر حملہ تصور کیا جائے گا ، مگر مگر مگر ،،،،، اس کے علاوہ سیٹو کا بھی معائدہ ہوا تھا ، جس کے ارکان ، فلپین ، تھائیلینڈ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بنے تھے ، مگر ہمیں ھمیشہ دھوکہ دیا گیا ،

http://en.wikipedia.org/wiki/Central_Treaty_Organization

The Central Treaty Organization (also referred to as CENTO (Central Eastern Treaty Organisation); original name was Middle East Treaty Organization or METO; also known as the Baghdad Pact) was formed in 1955 by Iran, Iraq, Pakistan, Turkey, and the United Kingdom. It was dissolved in 1979.
برادر تاشفین صاحب آپ ان دو معائدون کی تفصیل پڑھ کر آئیے ، پھر امریکا کی وفاداریاں گناتے رھیے ،
http://www.foreignaffairs.com/articles/23567/mohammed-ayub-khan/the-pakistan-american-alliance
یہ الفاظ دیکھیے ، غور کریں ، شاید آپ ہماری بات سمجھ سکیں ،
یہاں کوئی بندہ امریکا کے ساتھ دوستی کے خلاف نہیں ، مگر دوست ہونے کے لیے کردار دیکھا جاتا ھے ، ہم الزام نہیں لگا رہے بلکہ امریکا کا سابقہ ریکارڈ ہے ،
ہماری دوستی دیکھیں ،
Thus Pakistan is associated with the United States through not one, but four mutual security arrangements. In this sense, it has been sometimes termed "America's most allied ally in Asia." It is the only Asian country which is a member both of SEATO and CENTO.
۔۔۔
پاکستان کا ایک معائدہ نہیں تھا چار سیکورٹی معائدے ہوئے تھے ، الفاظ پر غور کریں ،
یہ لنک بھی دیکھیں
http://encyclopedia2.thefreedictionary.com/Central+Treaty+Organization+CENTO

اس کے بعد اس مضمون کو بھی پڑھیں ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا امریکا اب بھی پاکستان کا دوست ہے ؟؟؟؟ سید یوسف علی صاحب کا مراسلہ ہے

..امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کیا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو چھوڑ کے بھاگ جاتا ہے۔

پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے لیے اعلان کردہ امدادی ڈالرز کو بڑی تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہزاروں دھوکے کھانے کے باوجود ہم امریکا کو اپنا دوست ملک سمجھتے ہیں۔ تشکیلِ پاکستان کے بعد سے برسرِ اقتدار آنے والے تمام حکمران اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے امریکا ہی کی جانب دیکھتے رہے ہیں۔ کیا ہم وہ وقت فراموش کر بیٹھے ہیں جب ایک منظم بین الاقوامی سازش کے تحت ملک کو دولخت کیا گیا، ہمارے فوجی حکمران ساتویں بحری بیڑے کی آمد کا اُس وقت تک انتظار کرتے رہے جب تک کہ مشرقی کمان کے کمانڈر جنرل نیازی نے بھارتی فوجی جنرل اجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈال کر خود کو ان کے حوالے کردیا۔ ہمیں تو امریکی دوستوں نے بتایا تھا کہ بھارتی فوجوں کو مشرقی پاکستان میں من مانی نہیں کرنے دی جائے گی اور ساتواں امریکی بحری بیڑا جلد مشرقی سمندر میں پہنچ کر مداخلت کرے گا۔

کیا ہم نے وہ وقت بھی فراموش کردیا جب ہم بجلی کے بدترین بحران میں مبتلا ہورہے تھے تو دوسری جانب ہمارے امریکی دوست پاکستان کو دولخت کرنے والے بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ پر دستخط کررہے تھے۔ پاکستان کی جانب سے ایسا ہی معاہدہ کرنے کی درخواست کو ہمارے دوستوں نے بڑی بے دردی سے رد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پاکستان اس اہلیت پر پورا نہیں اترتا۔ کیا ہم وہ وقت بھی بھول بیٹھے ہیں جب ہمارے ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر ہمارے امریکی دوستوں نے ہماری نہ صرف فوجی امداد بند کردی بلکہ جن طیاروں کے لیے ہم نے اپنے خون پسینے کی کمائی ان کے حوالے کی وہ بھی ہمیں دینے سے انکار کردیا گیا۔ اس کے برعکس بڑے دھڑلے سے ایٹمی دھماکے کرنے والے بھارت کے لیے مزید فوجی امداد منظور کی گئی۔ دوسری جانب اپنے لے پالک اسرائیل سے اُس کے خصوصی تعلقات قائم کروائے گئے۔
کیا ہم حال ہی میں وہ واقعہ بھی بھول بیٹھے ہیں جب ایک جانب تو ہمارے امریکی دوستوں نے ہمیں مجبور کیا کہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جائے۔ جب پاک فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کیا تو ہمارے امریکی دوستوں نے افغان سرحد پر واقع اپنی سرحدی پوسٹیں خالی کردیں تاکہ پاکستانی طالبان بہ آسانی جان بچانے کے لیے افغانستان میں داخل ہوجائیں۔ کیا ہمارے دوست ہماری پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ہی آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں ورنہ تو خود امریکا سے حقائق پر مبنی ایسی رپورٹیں آرہی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی طالبان خود ہمارے امریکی دوستوں کی تخلیق ہے۔

آج امریکی سی آئی اے، ایف بی آئی اور ان کے لیے کرائے کے فوجی تربیت یافتہ دہشت گردی فراہم کرنے والے ڈین کورپ، ایکس ای/بلیک واٹر کے ایجنٹ صرف وفاقی دارالحکومت ہی نہیں بلکہ وطنِ عزیز کے چپے چپے پر دندناتے پھر رہے ہیں۔ ان کا اہم ہدف بلوچستان اور ہماری ایٹمی تنصیبات ہیں۔ بلاشبہ حکومت کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں تاہم دل گواہی دیتا ہے کہ پاک فوج کسی بھی حالت میں بیرونی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

امریکا میں پاکستانیوں کو جس صبر آزما اور تکلیف دہ ماحول سے گزرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ تو وہاں سے آنے والے پاکستانیوں کی روح فرسا کہانیوں سے ہوجاتا ہے۔ تاہم اب حالات کس نہج پر جا پہنچے ہیں، اس کا اندازہ مجھے پاکستان اسٹیل کے ایک ذمہ دار افسر سلمان علی کی جانب سے بھیجی گئی ایک تصویر سے بہ خوبی ہوگیا ہے۔ کاش ہمارے حکمران اور صاحبِ اقتدار لوگ بھی جتنی جلدی اس حقیقت کا اعتراف کرلیں اتنا ہی ملک کے لیے اچھا ہے۔

دنیا بھر کا مہذب اور اعلیٰ اقتدار کا حامل ملک ہونے کے دعویدار امریکا میں ماضی قریب تک سیاہ فام باشندوں سے نفرت اور امتیازی سلوک سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ بیشتر ہوٹلوں اور تفریحی مقامات پر جلی حرفوں میں یہ عبارت تحریر ہوتی تھی کہ یہاں کتوں اور سیاہ فام افراد کے داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ آج صورتِ حال میں کچھ تبدیلی آگئی ہے۔ آج امریکی نفرت اور امتیازی سلوک کا سامنا پاکستانیوں کو ہے۔ پاکستانی نژاد امریکی شہری بھی اس امتیازی سلوک سے مستثنیٰ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زیرِ نظر تصویر انہی پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کی تضحیک کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ امریکا میں ایسا ماحول پیدا کردیا جائے کہ وہاں کئی عشروں سے رہنے والے پاکستانی بھی واپس جانے پر مجبور ہوجائیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی اور پاکستانی عوام کے اسٹرٹیجک مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ تاہم امریکی حکومت اور اُس کی جاسوس ایجنسیوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کی تضحیک اور انہیں نقصان پہنچانے کے لیے کوئی بھی کوشش دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے متصادم کردے گی۔ ٹائم اسکوائر کیس میں ایک پاکستانی فیصل شہزاد کو ملوث کیے جانے کے بعد امریکی حکومت بالخصوص نیویارک گورنمنٹ کا پوسٹر اسی نفرت اور امتیازی سلوک کی ایک مثال ہے۔ میٹرو پولیٹکل ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اس پوسٹر میں ریلوے مسافروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ کوئی غیر معمولی چیز دیکھیں تو اس سے آگاہ کریں۔ حتیٰ کہ اگر آپ لوگوں کو یقین ہو کہ وہ ایک پاکستانی ہے تو پولیس یا ایم ٹی اے یا نیویارک سٹی کے ایس اے ایف ای کو فون نمبر 1-888 پر مطلع کریں۔

امریکا میں ہمارے بعض دوستوں بشمول واشنگٹن کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ایم ٹی اے یا میٹرو پولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کیا جانے والا یہ پوسٹر ہٹا دیا گیا ہے تاہم یہ اب بھی کئی مقامات پر موجود ہے۔ ایم ٹی اے کی ویب سائٹ سے اسے ہٹائے جانے کے باوجود سینکڑوں امریکی ویب سائٹس پر یہ موجود ہے۔

کیا ہمارے حکمرانوں بالخصوص وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی محکمہ ریلوے میٹرو پولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے مذکورہ پوسٹر پر کوئی اعتراض اٹھایا۔ وضاحت طلب کرنے والی بات یہاں قصداً تحریر نہیں کی ہے کہ ڈالروں کے لیے کشکول اٹھانے والے ملک کے نمائندے یقینا اس پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ وہ کوئی وضاحت طلب کرسکیں۔ وہ تو کوئی اعتراض کرتے ہوئے بھی امریکیوں کی پیشانی کو تکتے رہتے ہیں کہ اس میں کوئی شکن تو نہیں پڑی۔ یہ تو پاکستانی نژاد امریکی تھی جنہوں نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے امریکی محکمہ ریلوے کو یہ پوسٹر ہٹانے پر مجبور کردیا۔ کیا اربابِ اختیار اس حوالے سے کوئی جواب دینا پسند کریں گے؟

(یہ آرٹیکل روزنامہ جرات میں شائع ہو چکا ہے)
،،،،،، مزید ایسی سابقہ محبتوں کے ثبوت پیش کر دیے جائیں گے ، ورنہ ہم تو چاھتے ہیں کہ ہمارا دوست امریکا ہو لیکن وفادار دوست ہو ، کہیں ویسا نہ ہو جیسا ریاض میں امریکن فوجیوں کے خطاب میں کہا گیا تھا ، رمز فیلڈ نے اور کولن پاول نے ، کہ ۔۔۔بہادر فوجیو ہم یہاں کسی ملک کے دفاع یا کسی بادشاہ کا اقتدار بچانے نہیں آئے ، بلکہ ہم صرف اپنے قومی مفادات کے لیے یہاں آئے ہیں اور ہمارا یہاں رھنا صرف امریکا کے قومی مفاد میں ہے ، یہ اس بڑے حلیف کے بارے اس کے دارالخلافہ میں کہا جا رہا ھے جو آج بھی حلیف ہے ، کیا جذبہ دوستی ہے یہ ؟؟؟؟ کاش کوئی سمجھا دے ،

tashfin28
11-05-2012, 11:30 PM
1971 کی پاک بھارت جنگ ميں امريکی کردار
محترم بے باک
السلام عليکم

آپ بہت سے ايسے مسائل زير بحث لائے ہيں جو بغیر کسی وجہ کے خطے میں امریکی کردار کے بارے میں بے بنیاد شکوک و شبہات پیدا کرتے ہيں۔ اسکے علاوہ، آپ حقائق کو کچھ اس انداز سے مروڑنے کی کوشش کررہے ہيں تاکہ پاکستان میں ہمارے مخلص اور ظاہری اقدامات کو نظرانداز کيا جاسکے۔ ميں آج اپنے ايک ہی پوسٹنگ ميں آپ کے شکوک وشہبات کو دور کرنے سے قاصر ہوں۔ تاہم، 1971 کی پاک بھارت جنگ ميں امريکی کردار کے متعلق آپ کے موجودہ غلط نظريے اور سوچ کو درست کرنے کی کوشش کرونگا۔

يہ بات خاصی حيران کن ہے کہ کچھ لوگ غلطی سے اب بھی 1971 ميں پاکستان کے نقشے ميں تبديلی کا قصوروار امريکہ کو قرار ديتے ہيں۔ اگر آپ اس دور کی تاريخی دستاويز اور ميڈيا رپورٹس ديکھيں تو آپ پر يہ واضح ہو جاۓ گا کہ امريکہ نے کئ بار پاکستان اور بھارت پر اس بات کو واضح کياکہ اگر دونوں ممالک نے احسن طريقے اس مسلۓ کو سياسی بنيادوں پر حل نہيں کيا تو اس تناظے کا انجام جنگ کی صورت ميں نکلے گا اور اس صورتحال ميں امريکہ غير جانبدار رہيگا۔

امريکی حکومت کی سرکاری دستاويزات کے مطالعے سے يہ بات واضح ہے کہ امريکی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر اور نجی ملاقاتوں ميں پاکستان کے قائدين کے ذريعے اس مسلۓ کے سياسی حل کے ليے کئ کوششيں کی گئ تھيں۔ امريکی حکومت کی جانب سے پاکستان اور بھارت پر يہ بات بھی واضح کر دی گئ تھی کہ جنگ کی صورت ميں امريکہ دونوں ممالک کو کسی بھی قسم کی فوجی امداد فراہم نہيں کرے گا البتہ مہاجرين کی آبادکاری کے ضمن ميں شروع کيے گۓ پروگرام اور اس حوالے سے مالی امداد جاری رہے گئ۔

ميں يہاں پر کچھ دستاويزات کا ويب لنک دے رہا ہوں جن کے مطالعے سے آپ کو 1971 کی جنگ ميں امريکی کردار سمجھنے ميں مدد ملے گی۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689724&da=y

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689725&da=y
http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689726&da=y

پاک بھارت 1971 کی جنگ میں امريکہ کا کردار سمجھنے کے ليے 7 دسمبر 1971 کو وائٹ ہاؤس ميں ہنری کسنجر کی يہ پريس کانفرنس نہايت اہم ہے۔ دلچسپ بات يہ ہے کہ اس وقت سفارتی سطح پر امريکہ پر اس حوالے سے کڑی تنقيد کی جا رہی تھی کہ امريکہ کا جھکاؤ بھارت کے مقابلے ميں مکمل طور پر پاکستان کی جانب تھا،جيسا کہ پريس کانفرنس ميں کيے جانے والے مختلف سوالوں سے واضح ہے۔

http://www.keepandshare.com/doc/view.php?id=689727&da=y

مندرجہ بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے، ميں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براۓ مہربانی کرکے اپنی مبہم اور بے بنياد معلومات سےجو بالکل جھوٹی اور زمینی حقائق سے دور ہیں کے ذريعے پاکستان کے عوام کو گمراہ کرنا بند کيجيۓ۔


تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu

بےباک
11-07-2012, 12:28 PM
محترم جناب تاشفین صاحب ،
آپ اصل بات سے کیوں ھٹ جاتے ہیں ، کیا پاکستان سیٹو اور سینٹو کا ممبر نہیں تھا ، اور کیا بطور ممبر طے ایک دوسرے کی مدد کرنا فرض نہیں تھا ،
یہ دیکھیں ، ہم نے تو حقائق سامنے رکھے ہیں ، کہاں پر پاکستانیوں کو گمراہ کیا ہے ، آپ کو آئینہ دکھایا ہے ، باقی رہیں آپ کی دستاویز وہ سب ڈپلومیسی کا ظاھری چہرہ ہے ، پس پردہ کیا عزائم ہوتے ہین آپ دیکھیں ،
http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/2/2f/Blood_telegram.png
وکی پیڈیا کی تحریر دیکھیے ،
The next day, then US ambassador to the United Nations George H W Bush -- later 41st president of the United States and father of the current American president -- introduced a resolution in the UN Security Council calling for a cease-fire and the withdrawal of armed forces by India and Pakistan. It was vetoed by the Soviet Union. The following days witnessed a great pressure on the Soviets from the Nixon-Kissinger duo to get India to withdraw, but to no avail.
When Pakistan's defeat in the eastern sector seemed certain, Nixon deployed a carrier battle group led by the aircraft carrier USS Enterprise into the Bay of Bengal. The Enterprise and its escort ships arrived on station on 11 December 1971. According to a Russian documentary, the United Kingdom deployed a carrier battle group led by the aircraft carrier HMS Eagle to the Bay,[72][79] although this is unlikely as the Eagle was decommissioned at Portsmouth, England in January 1972.
On 6 and 13 December, the Soviet Navy dispatched two groups of cruisers and destroyers and a submarine armed with nuclear missiles from Vladivostok;[72] they trailed U.S. Task Force 74 into the Indian Ocean from 18 December 1971 until 7 January 1972. The Soviets also had nuclear submarine to help ward off the threat posed by USS Enterprise task force in the Indian Ocean.

In December 1971 during the Indo-Pakistani War of 1971, Enterprise was deployed to the Bay of Bengal as a show of strength against India's naval blockade by INS Vikrant. A Soviet Navy submarine was also trailing the US task force. A confrontation was averted when the Americans moved towards South East Asia, away from the Indian Ocean.[23]

بشکریہ وکی پیڈیا

گلاب
11-07-2012, 07:02 PM
:spamani::th_Pakistan_flag:

بےباک
11-08-2012, 07:52 AM
http://ummatpublication.com/2012/11/08/images/news-02.gif