PDA

View Full Version : حیات طیبہ سنین کے آئینہ میں



محمداشرف يوسف
10-09-2012, 02:26 AM
حیات طیبہ سنین کے آئینہ میں

۲ / اپریل ۵۷۱ء۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ کی ولادت مکہ مںّ۔ تاریخ ولادت مںی اختلاف ہے۔ ریاضی کی جدید تحققﷺ کے مطابق ۹ ربعر الاول اور دو شنبہ کا دن تھا۔ عسولی تاریخ ۲۰ / اپریل ۵۷۱ء تھی مشہور اسکالر ڈاکٹر محمد حمدو اللہ کی تحققع کے مطابق ۱۷ / جون ۵۶۹ء بروز پیر ہے۔ جمہور اور عام مورخن ۱۲ ربع الاول ۱ عام الفیل تسلم کرتے ہںر۔ بعض مورخ روز پدلائش ابرہہ اشرم کے کعبۃ اللہ پر حملہ کے ۵۵ دن بعد بتاتے ہںم۔ دادا عبدالمطّلب نے محمدﷺ نام رکھا۔ حضورﷺ کو آپ کی والدہ سمتہ آٹھ عورتوں نے دودھ پلایا۔
۱۔ ۔ ۔ والدہ ماجدہ ۲۔ ۔ ۔ ثویبہ۔ ۳۔ ۔ ۔ خولہ بنت منذر۔ ۴۔ ۔ ۔ سعدیہ (حلمہع نہںک) ۵ تا ۷ تن عورتوں نے جن کا نام عاتکہ تھا اور آخر مں۔ ۸۔ ۔ ۔ حلمہہ سعدیہ۔ آپﷺ کو بغرض رضاعت قبلہ ہوازن کی حلمہ سعدیہ کے حوالہ کا گا ۔
۵۷۳ء۔ ۔ ۔ ایک روایت کی بموجب چار سال اور دوسری روایت کے مطابق پانچ سال بعد حلمہ نے حضورﷺ کو مستقلاً آپ کی والدہ حضرت آمنہ کے حوالہ کر دیا۔ جب حضورﷺ کی عمرہ چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ کو اپنے مرحوم شوہر حضرت عبداللہ کی قبر کی زیارت کا خاًل آیا۔ آپﷺ کے اکثر ننھیالی رشتہ دار یثربی تھے۔ ان سے ملنا بھی منظور تھا۔ چنانچہ آپ حضورﷺ اور ام ایمن کے ساتھ وہاں تشریف لے گئںظ اور بعد زیارت ایک ماہ بعد واپس ہوئںت۔ واپسی مںی ابواء کے مقام پر حضرت آمنہ بمایر ہوئں اور انتقال کر گئںآ۔ ان کی وفات کے بعد حضورﷺ اپنے دادا عبدالمطلب کی کفالت مں آئے۔
۵۷۹ء۔ ۔ ۔ دادا عبدالمطلب نے ۸۲ سال کی عمر مںں اور ایک اور روایت کی بموجب ۱۲۰ سال کی عمر مںب انتقال کاع اور آپﷺ اپنے چچا ابوطالب کی کفالت مںی آئے۔ ایک اور روایت ہے کہ عبدالمطلب کی وفات کے بعد ان کے بڑے بٹےں زبرب بن عبدالمطلب سردار قبلہ ہوئے اور حضورﷺ ان کی کفالت مںٹ آئے۔
۵۸۳ء۔ ۔ ۔ جب آپؓ بارہ سال کے ہوئے تو چچا نے آپ کو شام کے تجارتی سفر مںن اپنے ساتھ رکھا۔ اس سفر مںر بُصریٰ کے مقام پر بحرر ا نامی انجل کے عالم اور نصرانی راہب نے آپﷺ کو دیکھا اور کہا کہ مستقبل مںق آپﷺ نبی ہوں گے۔
۵۸۶ء۔ ۔ ۔ مکہ میں بنی کنانہ (جن کے ساتھ قریش تھے) اور قس۔ عیلان کے درما ن چوتھی حرب فجار ہوئی۔ آپﷺ نے اپنے چچاؤں کے ساتھ اس مںا شرکت کی مگر کسی پر ہاتھ نہںئ اٹھایا۔
۵۹۱ ء۔ ۔ ۔ چوتھی حرب فجار کے بعد بنو ہاشم کے سردار زبر بن عبدالمطلب اور بنو یتم کے سردار عبداللہ بن جدعان نے شہریوں کو اس حلف الفضول کے تازہ کرنے کی دعوت دی جو جرہمی دور مں طئے پایا تھا اور جس کے طئے کرنے والے تنا سرداروں کے نام مں فضل کا لفظ شامل تھا۔ (فضل بن فضالہ۔ فضل بن دواعتہ فضل بن حارث) چنانچہ عبداللہ بن جدعان کے گھر مںا جلسہ طلب کال گاف اور سرداروں نے حلف اٹھا کر اقرار کاچ کہ وہ حدود شہر مکہ مںہ کسی کو کسی پر ظلم نہ کرنے دیں گے اور مظلوم کو متحدہ امداد دے کر ظالم سے اس کا حق دلائںد گے۔ ابن ہشام نے آنحضرتﷺ کے اس با ن کی روایت کی ہے کہ ’’مںف عبداللہ بن جدعان کے گھر مںا حلف الفضول پر عمل در آمد کے وقت موجود تھا اور اگر کوئی اس معاہدہ کے بدلہ مجھے سرخ اونٹ بھی دے تو مں قبول نہ کروں اور اب بھی کوئی ایسا معاہدہ کرنا چاہے تو مںں تاور ہوں ‘‘۔
۵۹۵ء۔ ۔ ۔ حضورﷺ کی عمر پچسں سال کی ہو چکی تھی اور آپﷺ نے حصول معشتم کی خاطر تجارتی ملو ں مںک شرکت کی غرض سے نجد۔ یمن۔ بحرین اور شام کے سفر کئے تھے۔ اس دوران اپنی دیانت داری ، معاملہ فہمی اور خوش اسلوبی سے کام انجام دینے کی بدولت آپﷺ صادق اور امن کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ بی بی خدیجہ قریش کی ایک مالدار اور بورہ خاتون تھںے جنھوں نے اپنا تجارتی مال آنحضرتﷺ کے ذریعہ ایک قرییم کارواں کے ہمراہ شام روانہ کا اور ساتھ مںح اپنے غلام مسر ہ اور ایک رشتہ دار خزیمہ کو بھی روانہ کاہ۔ اس سفر مں بصریٰ کے مقام پر نسطورا راہب نے آپﷺ کو دیکھ کر کہا کہ آپﷺ نبی ہونے والے ہںا۔
شام کے تجارتی سفر مںط آنحضرتﷺ کے حسن انتظام اور دیانت سے بی بی خدیجہ کو توقع سے دوگنا نفع ملا۔ بی بی خدیجہ کے پہلے شوہر ہند بن بناش سے جو ابوہالہ کے نام سے مشہور تھے تنا بچے ہالہ۔ ہند اور طاہر تھے۔ ان کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح عتقم بن عاید مخزومی سے ہوا جن سے ایک لڑکی ہند پدنا ہوئی۔ دوسرے شوہر کا بھی انتقال ہو گاق۔ آنحضرتﷺ کی خوش معاملگی سے متاثر ہو کر بی بی خدیجہؓ نے اپنی ایک سہیعا نفسہک بنت منیہّ کے ذریعہ آپﷺ سے نکاح کی درخواست کی۔ اس وقت حضورﷺ کی عمر ۲۵ سال اور بی بی خدیجہؓ کی عمر ۲۸ سال تھی (۴۰ سال نہںو) چنانچہ آنحضرتﷺ کا نکاح بی بی خدیجہؓ سے ہو گیا۔ مہر بہ اختلاف روایات ۲۰ اونٹ ، ۴۰۰ دینار یا ۵۰۰ درہم باندھا گا ۔ بی بی خدیجہؓ کی زندگی مںل آنحضرتﷺ نے کوئی دوسرا عقد نہںا کال۔
۵۹۸ء۔ ۔ ۔ بی بی خدیجہؓ الکبریٰ کے بطن سے سد۔ نا قاسم پدرا ہوئے۔ ان کی نسبت سے ہی آپ ابوالقاسم کنتی فرماتے تھے۔ حضورﷺ کی اولاد مںی حضرت قاسم سب سے پہلے پد ا ہوئے اور سب سے پہلے فوت ہوئے۔
۶۰۰ء۔ ۔ ۔ بی بی خدیجہ الکبریٰ کے بطن سے حضرت زینبؓ پیدا ہوئںی۔ حضور کی بعثت کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ ہی ایمان لائںک۔
۶۰۳ء۔ ۔ ۔ بی بی خدیجۃ الکبریٰؓ کے بطن سے سد۔ہ رقہؓ پیدا ہوئںو۔ بعثت کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ ہی داخل اسلام ہوئںل۔
۶۰۴ء۔ ۔ ۔ بی بی خدیجہؓ الکبریٰ کے بطن سے حضرت اُم کلثوم کی ولادت ہوئی۔ بعضوں نے آپ کا نام آمنہ لکھا ہے۔ اور کنتا اُم کلثوم بتلائی ہے۔ بعثت کے بعد حضرت اُم کلثوم بھی اپنی والدہ کے ساتھ ایمان لائںب۔
۶۰۵ء۔ ۔ ۔ بی بی خدیجہؓ الکبریٰ کے بطن سے حضرت فاطمہؓ پیدا ہوئں۔۔ وہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ ایمان لائںخ۔ اس سال قریش نے کعبہ کی از سر نو تعمرا کی۔ جب دیواریں تقریباً ڈیڑھ گز اونچی ہو گئں تو حجر اسود کو دیوار مں اییر جگہ نصب کرنے کا سوال پدےا ہوا کہ طواف کرنے والوں کو وہ نظر آئے اور اس کا بوسہ بھی لے سکں ۔ حجر اسود ایک مقدس پتھر ہے۔ اس کی تنصب ایک بڑا اعزاز تھا۔ اس لئے قبائل آپس مںے جھگڑنے لگے اور مرنے مارنے کے لئے تا ر ہو گئے۔ انھوں نے ایک خون بھرے پاھلہ مںگ ہاتھ ڈبو کر حلف لا۔ کہ وہ اس اعزاز سے دستبردار نہ ہوں گے۔ تعمرا کام کام رک گاگ۔ ایک بوڑھے اُمہ بن مغرھہ نے مشورہ دیا کہ اس کام کو اللہ ہی پر چھوڑ دو۔ کل صبح جو شخص سب سے پہلے باب بنی شبہُ سے حرم مںر داخل ہوا سے اپنا ثالث مان لو۔ سب نے اسے مان لاپ۔ صبح مںہ سب سے پہلے آنحضرتﷺ حرم مںو آتے نظر آئے جنھںس دیکھتے ہی سب لوگ چلانے لگے۔ یہ تو امنن آ رہا ہے۔ ہم اس کے فصلہ سے راضی ہںب ’’قضہک آپ کے سامنے پش ہوا۔ آپﷺ نے ایک چادر مںھ حجر اسود رکھ کر جملہ قبائل کے نمائندوں سے خواہش کی کہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائںر۔ جب وہ مقام تنصبئ کے قریب پہنچا تو آپﷺ نے اسے اپنے دست مبارک سے اٹھا کر دیوار مںس نصب کر دیا۔ اس طرح ایک خونریز جھگڑے کا خاتمہ ہو گا ۔
۶۰۷ء تا ۶۰۹ء۔ ۔ ۔ آنحضرتﷺ کا یاد خدا مں انہماک۔ تخلہج پسندی۔ غار حرا مں مجاہدہ۔ ریاضت اور مراقبہ مںت مشغول رہنا۔ سچے خوابوں کا ظہور۔
۹/ فروری ۶۱۰ء۔ ۔ ۔ آفتاب رسالت کا طلوع۔ مکہ سے تین ملن کے فاصلہ پر جبل نور واقع ہے جسے قدیم زمانہ مں۔ جبل حرا کہتے تھے۔ اسی پہاڑ کے ایک غار مںق آنحضرتﷺ ریاضت مںم مصروف رہا کرتے تھے۔ قمری سال کے حساب سے آپﷺ کی عمر چالس سال ایک دن ہو چکی تھی۔ رمضان کے دن تھے۔ غار حرا مںن آپ سو رہے تھے کہ جبریل امن خدا کا پغاوم پہنچانے پہلی وحی لے کر آئے۔ اس پہلی وحی کے ذریعہ ’’اقرا باسم ربک الذی خلق ‘‘ کی آیات کا نزول ہوا۔ اس کے بعد جبریل نے زمنہ پر پاؤں مارا جس سے پانی نمودار ہوا۔ انھوں نے رسول اللہﷺ کے سامنے خود وضو کار۔ حضور اکرمﷺ نے بھی اسی طرح وضو کال۔ اب جبریل نے دو رکعت نماز چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی اور اور آپﷺ نے اقتداء فرمائی۔ اس وقت سے آپﷺ پر دو وقت فجر اور عصر کی دو دو رکعت نمازیں فرض ہوئںو۔ گھر آ کر آپﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ فوری اس پر ایمان لائںک اور جو کچھ خدا کی طرف سے آپ پر نازل ہوا تھا اس کی تصدیق کی۔ آنحضرتﷺ کی نبوت کی عساکئی عالم ورقہ بن نوفل نے شہادت دی۔ حضرت خدیجہؓ کے بعد حضور صلعم کے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ جن کی عمر دس سال تھی آپ پر ایمان لائے۔ پھر آپ کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بٹےے حضرت زیدؓ بن حارثہ ایمان لائے۔ آپﷺ کے جگری دوست حضرت ابو بکرؓ بن ابی قحافہ نے اسلام قبول کاح جو قبلہ۔ بنوتم سے تھے۔
آنحضرت صلعم نے خفہت دعوت کا آغاز کار جو تنی سال تک جاری رہی۔ اس تنر سالہ خفہض دعوت و تبلغپ کے دوران جن لوگوں نے اپنے اسلام کو ظاہر کا وہ سات اشخاص ہںہ پھر دارِ ارقم مںد خفہ طور پر دیی تعلما دی جانے لگی۔ اس عرصہ مںی کم و بشت چالسی افراد داخل اسلام ہوئے۔
۶۱۴ء۔ ۔ ۔ تین سال کی خفہد دعوت کے بعد اللہ تعالیٰ کی جانب سے علانہو تبلغی کا حکم نازل ہوا۔
’’(اے نبی) جو حکم تم کو اللہ کی طرف سے ملا ہے وہ لوگوں کو سناؤ اور مشرکوں کا ذرا خازل نہ کرو ‘‘ (قرآن ۱۵:۹۴) چنانچہ آپ صلعم نے کوہ صفا ء کی چوٹی سے علانہ تبلغی کا آغاز کا ۔ خاندان بنی ہاشم کو گھر پر جمع فرما کر اسلام کی دعوت دی۔ گلی کوچوں اور ملوآں مںخ جا کر حق کی تبلغر فرماتے۔ قریش نے مخالفت شروع کی اور آپﷺ کو اور آپ صلعم کے پریوؤں کو ایذائںی دینا شروع کںت۔ روساء قریش نے ابوطالب کے پاس پہنچ کر آپ صلعم کے دین کی مخالفت کی۔ ابوطالب نے آپ صلعم کو نصحتی کی لکن آپ نے دعوت حق ترک کرنے سے انکار کر دیا۔ عتبہ بن ربعے نے قریش کی طرف سے آنحضرت صلعم کو دولت ، حکومت اور حسن لڑکی کی پیشکش کی جسے آپ نے مسترد فرمایا اور دعوت حق کو جاری رکھا۔
جب قریش کا ظلم مسلمانوں پر حد سے بڑھ گاا اور انھوں نے کچھ مسلمانوں اور رسولﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو ایسے مںر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہجرت کا اشارہ ملا اور سورہ عنکبوت کی آیات ۵۶، ۵۷ مںن فرمایا گام۔ ’’اے مر ے بندو جو ایمان لائے ہو مروی زمن وسع ہے ’ پس مرنی بندگی بجا لا ؤ۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، پھر تم سب ہماری طرف پلٹ کر لائے جاؤ گے ‘‘ (قرآن ۲۹: ۵۶۔ ۵۷)
ہجرت کا اشارہ پا کر رسول اللہﷺ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ تم روئے زمنل پر منتشر ہو جاؤ ، یناً اللہ تعالیٰ تم سب کو عنقریب جمع کریگا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ، کہاں جائںر ؟ آپ صلعم نے حبشہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ چنانچہ پہلی بار (۱۱) مردوں اور (۴) عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی جس مںب حضور صلعم کی صاحبزادی حضرت رقہؓ۴ اور داماد حضرت عثمانؓ بن عفان شریک تھے۔ قریش کے سفرو حبشہ پہنچ کر شاہ حبش نجاشی کے پاس مسلمانوں کی شکایت کئے۔ جب نجاشی نے حضرت جعفرؓ بن ابی طالب سے دریافت کام تو انھوں نے اسلام سے متعلق تفصیلات پشھ کں ۔ اور سورہ مریم کی تلاوت فرمائی جس کو سن کر نجاشی اتنا رویا کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور اس نے کہا۔ ’’بے شک یہ چزر اور وہ چزر جو عیٰؑا لائے تھے ایک ہی طاق سے نکلی ہوئی روشنی ہے ،’ تنا چار ماہ بعد یہ قافلہ واپس ہوا۔
۶۱۵ء۔ ۔ ۔ اس کے کچھ دن بعد مسلمانوں کے دوسرے قافلہ نے جس میں ۸۳ مرد اور ۱۸ عورتں شامل تھںر حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ اس مںی بھی حضور صلعم کی صاحبزادی حضرت رقہؓب اور داماد حضرت عثمانؓ بن عفان شریک تھے۔
۶۱۶ء۔ ۔ ۔ حضور اکرم صلعم کے چچا حضرت حمزہؓ نے اسلام قبول کیا۔ وہ اس طرح کہ ایک روز حضرت حمزہؓ جب شکار سے گھر لوٹے تو لونڈی نے کہا کہ ابوجہل نے حضور اکرم صلعم کو گالاوں دیں ، ان کے دین پر آوازیں کسںہ اور آخر مںل انہںا پتھر سے زخمی کار۔ یہ سنتے ہی حضرت حمزہؓ حمیت خاندانی سے مشتعل ہو کر ابوجہل کی تلاش مںی نکلے۔ دیکھا کہ وہ بنی مخزوم کے حلقہ مںح بٹھا ہے سدٹھے وہںا پہنچے اور کمان اس کے سر پر دے ماری۔ اس کے بعد حضور اکرم رﷺ کے پاس گئے اور کلمۂ شہادت پڑھ لاد۔
اس کے بعد حضرت عمرؓ بن خطاب نے بھی اسلام قبول کاے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک روز حضرت عمرؓ حضور اکرم صلعم کے قتل کے ارادہ سے تلوار ہاتھ میں لئے نکلے۔ راستہ مںہ بنی زہرہ کے نعمل بن عبداللہ الخام سے ملاقات ہوئی جنھوں نے بتلایا کہ ان کی بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہںی۔ سدبھے اپنی بہن کے گھر گئے جہاں ان کے بہنوئی حضرت سعدؓئ بن زید اور بہن فاطمہؓ بنت خطاب قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ وہ گھر مںل داخل ہوئے اور بہن اور بہنوئی کو بے تحاشہ زد و کوب کاا۔ جب غصہ تھما تو انھوں نے پوچھا ’’وہ کا چزت تھی جو تم لوگ پڑھ رہے تھے ‘‘ انھوں نے کہا ’’کلام اللہ۔ حضرت عمرؓ نے کہا۔ پڑھ کر سناؤ۔ چنانچہ انھوں نے سورہ طہٰ کی آیات تلاوت کںھ۔ پھر کہا کہ مجھے حضور اکرم صلعم کے پاس لے چلو۔ حضورﷺ کی خدمت مں گئے اور مسلمان ہو گئے۔ حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمان دارِ ارقم مںں نماز پڑھا کر تے تھے لکنر آپ کے اسلام لانے کے بعد مسلمان حرم مںِ با جماعت نماز ادا کرنے لگے۔
۶۱۷ء۔ ۔ ۔ دانشوران کفر نے جو گرگ باراں دیدہ تھے بہت غور و فکر کے بعد جنگ کا خطرہ مول لئے بغرد ایک حل ڈھونڈ ھ نکالا اور بنی ہاشم کے بائکاطٹ کا فصلہو کاو۔ مقاطعہ کا تحریری عہد نامہ مختصر اور جامع الفاظ مںک چمڑے کے ورق پر لکھا گار اور کعبہ مںو اس اعلان کے ساتھ آویزاں کاف گان کہ جب تک بنی ہاشم محمد بن عبداللہ کو حوالہ نہں کریں گے یہ لٹکا رہے گا۔ ابوطالب مجبور ہو کر بنی ہاشم کی حفاظت کی خاطر مکہ سے قریب ایک گھاٹی شعب ابی طالب مںب پناہ گزین ہو گئے ہر چند کڑی ناکہ بندی اور نگرانی تھی پھر بھی چند نیک نفس انسان صلہ رحمی کرتے۔ حکمن بن حزام جو حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے تھے اور ہشام بن عمرو بن حارث راتوں مںو چوری چھپے غلہ پہنچایا کرتے تھے۔ محصورین صرف ایام حج مںت شعب سے نکل سکتے تھے۔
۶۱۸ء۔ ۔ ۔ جنگ بُعاث۔ اوس و خزرج کے درمیان بُعاث کے مقام پر ایک خونریز لڑائی ہوئی جو جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے جس مںث ان کے روساء اور سردار مارے گئے۔
۶۱۹ء۔ ۔ ۔ تین سال بعد معاشی مقاطعہ کا خاتمہ ہوا۔ بنی ہاشم شعب ابی طالب سے مطعم بن عدی کی امان مں مکہ واپس ہوئے۔ شعب سے نکلنے سے کچھ دن پہلے حضرت عبداللہؓ بن عباس کی ولادت ہوئی۔ ان کی والدہ اُم الفضلؓ ، اُم المومننل حضرت ممو نہؓ کی بہن تھں ۔ شعب سے نکلنے کے چھ ماہ بعد ابوطالب نے وفات پائی۔ ان کی وفات کے تنن دن بعد اور ایک دوسری روایت کی بموجب ۳۵ دن بعد حضرت خدیجہؓ الکبریٰ نے داعی اجل کو لبک کہا۔ اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نہں آیا تھا۔ ان کی قبر مںد حضور صلعم خود اترے۔ اس سال کو عام الحزن یین۔ غم کا سال قرار دیا گاو۔ کمسن بچونں حضرت فاطمہؓ اور حضرت اُم کلثومؓ کی خبر گرسی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ حضور صلعم نہایت غمگنح رہا کرتے تھے۔ آخر حضرت عثمانؓ بن مظعون کی زوجہ حضرت خولہؓ بنت حکیم نے پہل کی اور حضورﷺ سے دوسرا نکاح کرنے کی درخواست کی۔ چنانچہ حضور صلعم نے حضرت سودہؓ بنت زمعہ سے نکاح فرمایا۔ اس کے بعد حضور صلعم نے حضرت ابو بکرؓ صدیق کی صاحبزادی حضرت عائشہؓ سے نکاح فرمایا جبکہ ان کی عمر ۱۵ یا ۱۶ سال کی تھی۔ ۹ سال کی نہںئ۔ (ابدی پغارم کے آخری پغاتمبر) جب مسلمانوں پر قریش کے مظالم بڑھنے لگے تو حضور صلعم نے تبلغن کے لئے طائف کا سفر فرمایا تاکہ بنی ثقفت سے مدد لںب اور وہ آپ کو ظلم و ستم سے بچائںئ۔ طائف ، مکہ سے پچاس ملو کے فاصلہ پر ہے۔ طائف والوں نے نہ صرف یہ کہ آپ کی باتںی نہ سنںک بلکہ آپ صلعم کے ساتھ انتہائی برا سلوک کاآ اور آپ صلعم پر سنگباری کی جس سے آپ صلعم کا جسم اطہر لہولہان ہو گاا۔ آپ مطعم بن عدی کی امان مں طائف سے مکہ واپس ہوتے ہوئے نخلہ کے مقام پر مقمی ہوئے جہاں جنات نے آپ سے ملاقات کی اور اسلام قبول کائ۔ یمن کے قبلہے دوس کے سردار طفل بن عمر دوسی نے اسلام قبول کاپ۔
۶۲۰ء۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ کو معراج ہوئی۔ ایک رات جبکہ حضورﷺ سو رہے تھے جبریل علہن السلام آئے اور آپ صلعم کو براق پر سوار کروا کر مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئے۔ وہاں سے آپ آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ اور سدرۃ المنتہی تک پہنچے۔ حضورﷺ کو جنت و دوزخ کا نظارہ کرایا گار۔ اس سے آگے ایک مقام پر حضرت جبرئیلؑ رک گئے۔ پھر حضور صلعم کو اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی نصب ہوا۔ اُمت کے لئے روزانہ پانچ نمازیں فرض کی گئںل۔
٭۔ ۔ ۔ یثرب کے باشندہ حضرت ابو ذرؓ غفاری نے اسلام قبول کاق۔
٭۔ ۔ ۔ مدینہ مں اسلام کا آغاز۔ حج کے زمانہ مں حضور صلعم ایک ایک خمہز پر تشریف لے جاتے اور انہںں توحدز کا پیغام سناتے۔ ایک دن جبل نور اور منیٰ کے درما ن مکہ سے کوئی تنک ملم پر عقبہ کی گھاٹی مں پہنچے تو چھ لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کا تعلق بنی خزرج سے تھا۔ آپﷺ نے انہںح اسلام کی دعوت دی جسے انھوں نے قبول کا اور مدینہ واپس جا کر اپنے ایمان لانے کا ذکر کاا۔
۶۲۱ء۔ ۔ ۔ حج کے موسم میں بارہ افراد دیدار رسولﷺ کے لئے روانہ ہوئے جن مں۱ سے پانچ تو انھں چھ مںا سے تھے۔ ان کے علاوہ چھ نئے افراد تھے۔ یہ سب لوگ عقبہ کے مقام پر حضور صلعم سے ملے اور آپ صلما کے ہاتھ پر بعتس کی جو بعت عقبہ اولیٰ کہلاتی ہے۔ اس بعتل کو بعت تو بہ یا بعتئ نساء کے نام سے بھی یاد کا جاتا ہے اس لئے کہ بعد مں سورہ ممتحنہ کی آیت ۱۲ مںہ مسلمان عورتوں سے بعتع لنے کے لئے جو الفاظ نازل ہوئے تھے وہ اسی بعتا سے ملتے جلتے تھے۔ اس بعتی کے الفاظ یہ تھے :
۱۔ ۔ ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہںت کریں گے۔
۲۔ ۔ ۔ ہم چوری نہںت کریں گے۔
۳۔ ۔ ۔ ہم زنا نہںو کریں گے۔
۴۔ ۔ ۔ ہم اپنی اولاد کو قتل نہںی کریں گے۔
۵۔ ۔ ۔ ہم کسی پر کوئی بہتان نہںے باندھں۔ گے۔
۶۔ ۔ ۔ ہم کسی معروف مں آپ صلعم کی نافرمانی نہں کریں گے۔
۷۔ ۔ ۔ ہم آپ کا حکم سنںو گے اور مانںص گے۔
۶۲۲ء۔ ۔ ۔ حج کے موسم میں یثرب کے زائرین حرم کا قافلہ مکہ روانہ ہوا۔ ان مںر سے ۷۳ مردوں اور ۲ عورتوں نے عقبہ کے مقام پر حضور صلعم سے ملاقات کر کے بعت کی۔ یہ بعتن عقبہ ثانہع کہلاتی ہے۔ جب تمام لوگ بعت کر چکے تو ارشاد ہوا۔ موسیٰ علہو السلام نے بنی اسرائلہ سے بارہ نقبہ منتخب کئے تھے ، تم بھی اپنی جماعت مںو سے بارہ آدمی چن لو۔ حکم کی تعملی مںب قبلہ خزرج سے (۹) اور قبلہی اوس سے (۳) کل بارہ نقبی منتخب کئے گئے۔ حضرت اسعدؓ بن زرارہ کو نقیب النقباء یین سب کا صدر منتخب کان گا ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کو قرآن کی تعلما دینے کلئے مدینہ بھجاا۔ وہ وہاں گئے اور حضرت اسعدؓ بن زرارہ کے مکان میں ٹھہرے۔ وہاں حضرت اسعدؓ بن زرارہ نے با جماعت نماز کا انتظام کیا۔ جب مسلمانوں کی تعداد چالسر ہو گئی تو اہل یثرب نے یہودیوں کے سبت (ہفتہ) اور نصرانویں کے اتوار کی طرح اجتماعی عبادت کلئےر جمعہ کا دن اختاحر کا جو عہد جاہلتا مں یوم عروبہ کہلاتا تھا۔ سب سے پہلے جمعہ حضرت اسعدؓ بن زرارہ نے بنی بااضہ کے علاقہ مںؓ پڑھا یا۔ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہونے والے انصار کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ تمام مسلمانوں پر جمعہ فرض کر دیا گاک۔ ہجرت نبوی سے کچھ پہلے نماز جمعہ کا حکم آیا تو رسول اللہﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کو تحریری حکم بھجان کہ زوال کے بعد مسلمانوں کو دو رکعت نماز پڑھا ؤ۔
بعتب عقبہ ثانہو کے بعد مشرکنی مکہ نے مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ اذیںعت دینے کا حلف اٹھایا۔ دارالندوہ مں سرداران قریش نے مشورہ کر کے آنحضرت صلعم کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہﷺ نے صحابہؓ کو یثرب کو ہجرت عام کا حکم دے دیا۔ چنانچہ مسلمان دو دو ، چار چار چھپ چھپا کر ٹولالں بنا کر مکہ سے نکلنے لگے۔ اب صرف تنو افراد یینو حضرت علیؓ۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق اور رسول اللہ صلعم مکہ مںف باقی رہ گئے۔ آخر مںچ حضور اکرم صلعم حضرت علیؓ کو مکہ میں چھوڑ کر سورہ یٰس کی تلاوت فرماتے ہوئے حضرت ابو بکرؓ صدیق کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیؓ کو چھوڑنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ اہل مکہ کی مانتںی لوٹا کر آئںت۔ حضور اکرم صلعم ۲۷ / صفر م ۱۲ ستمبر ۶۲۲ ء میں مکہ سے روانہ ہو کر غار ثور پہنچے جو مکہ سے تنل چار ملر کے فاصلہ پر ہے۔ وہاں تن۱ دن ٹھہرنے کے بعد غار ثور سے یکم ربع الاول م ۱۶/ ستمبر مدینہ کی جانب روانہ ہوئے۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق۔ عامرؓ بن فہیرہ کے علاوہ عبداللہ بن اریقط (اس وقت تک مسلمان نہںو ہوئے تھے)بہ حتمہ رہبر ساتھ تھے۔
کفار مکہ نے آپ صلعم کی گرفتاری کے لئے ۱۰۰ اونٹوں کا انعام مقرر کاث تھا۔ اس انعام کی لالچ مںآ بنی مدلج کے سردار سراقہ بن جعشم نے آپﷺ کا تعاقب کار لکن اس کے گھوڑے کے پاؤں زمنپ مںی دھنس گئے۔ اس نے معافی چاہی اور آپ صلعم نے اسے تحریری امان دی۔
٭۔ ۔ ۔ راستہ مںں آپ صلعم بنی خزاعہ کی اُم معبد کے خمہک پر پہنچے جن کا نام عاتکہ بنت خالد تھا۔ یہاں آپ صلعم نے کچھ دیر قاےم فرمایا اور دودھ نوش فرمایا۔ آپﷺ کی روانگی کے بعد جب ان کے شوہر ابومعبد اکنم بن ابی الخیون ریوڑ چرا کر واپس آئے تو اُم معبد نے آپﷺ کا حلہد باکن کاب۔ اُم معبد کا بادن کردہ حلہُ سرگت کا انمول خزانہ ہے۔ ہجرت کے بعد دونوں مںے ما ں بوےی مدینہ آئے اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ وہاں سے آپﷺ مقام جحفہ تشریف لائے جہاں سورہ قصص کی آیت ۸۵ نازل ہوئی جس مںج آپ صلعم کو تسکین دی گئی۔ آگے بڑھنے کے بعد بنی اسلم کے سردار بریدہ بن حسبح اسلمی نے آپ صلعم کا تعاقب کاہ۔ آنحضرتﷺ سے ہم کلامی کے بعد بریدہ نے (۷۰) ساتھومں کے ساتھ اسلام قبول کر لاس۔ بریدہ کی خواہش پر حضور صلعم نے اپنا عمامہ ان کو عطا فرمایا۔ بریدہ نے اس کا پرچم بنایا۔ راستہ مںا حضرت زبرؓا بن العوام سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے سفدک کپڑے تحفتاً پشہ کئے۔
٭۔ ۔ ۔ ۸/ ربعع الاول م ۲۳ / ستمبر ۶۲۲ء بروز جمعہ آپ قباء پہنچے۔ مکہ سے قباء تک کا سفر آٹھ دن میں طئے ہوا۔ قباء مںل حضورﷺ قبلہن اوس کے سردار حضرت کلثومؓ بن ہدم کے مہمان ہوئے۔ یہاں آپﷺ کا قامم چودہ روز رہا۔ وہاں آپﷺ اور صحابہؓ نے مل کر مسجد بنائی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے جس کا سنگ بنا د حضور اکرمﷺ نے رکھا اور جس کی تعریف قرآن مجدﷺ مںہ سورہ توبہ کی آیت ۱۰۸ مں کی گئی ہے۔ ۲۲/ ربعا الاول ۷/ اکٹوبر ۶۲۲ء بروز جمعہ قباء سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں قبلہص بنی سالم بن عوف کے محلہ مںو پہنچے تو نماز جمعہ کا وقت ہو چکا تھا۔ آپﷺ نے وہاں نماز جمعہ ادا فرمائی یہ آنحضرتﷺ کا پہلا جمعہ تھا۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق شرکاء کی تعداد (۱۰۰) تھی۔
٭۔ ۔ ۔ ۲۲/ ربعک الاول کو آپﷺ مدینہ مں وارد ہوئے اور حضرت ابو ایوبؓ انصاری کے مہمان ہوئے۔ آپﷺ نے حضرت زیدؓ بن حارثہ اور ابو رافعؓ کو مکہ روانہ کیاتاکہ خانوادۂ نبوت کو لے آئں ۔ حضرت سودہؓ اور دونوں صاحبزادیوں حضرت اُم کلثومؓ اور حضرت فاطمہؓ کے علاوہ حضرت زیدؓ اپنی بو ی اُم ایمن اور بٹےت اسامہ کو ساتھ لائے۔ حضرت ابو ایوبؓ انصاری کے پاس آپﷺ کا قابم سات ماہ رہا۔ مدینہ مںت آپ اﷺ اور صحابہ کرامؓ نے مسجد نبوی تعمری کی اور ساتھ ساتھ آپ کے قارم کے لئے حجروں کی تعمر کی گئی۔ مسجد نبوی جہاں تعمری کی گئی وہ زمنح بنی نجار کے دو یم بچوں سہل اور سہلی کی تھی جو رافع بن عمرو کی اولاد تھے۔ یہ جگہ دس دینار مںا خریدی گئی۔
٭۔ ۔ ۔ ظہر۔ عصر اور عشاء کی نمازوں مںح دو دو رکعتوں کا اضافہ ہوا۔
٭۔ ۔ ۔ یہودی عالم حضرت عبداللہ بن سلام نے اسلام قبول کاں۔
٭۔ ۔ ۔ عسا۔ئی راہب عرفہ بن ابی انس نے جو نہایت فصحر شاعر ، واعظ اور الہٰییات کے فاضل تھے اسلام قبول کاک۔ حضرت سلمانؓ فارسی نے جو ایران کے رہنے والے تھے اور تلاش حق مںق سرگرداں تھے حضورﷺ کے پاس آ کر اسلام قبول کاف۔ ان کا مجوسی نام ماہ بہ تھا۔ (آپﷺ کی مدینہ مںل آمد کے پانچ دن بعد) جب تمام مہاجرین مدینہ آ گئے تو آپﷺ نے مہاجرین مکہ و انصار مدینہ کے مابنت مواخات کروائی۔ یین دونوں مںے بھائی چارگی قائم کی۔ ہجرت کے پانچویں مہنہ حضرت انسؓ بن مالک کے قیام گاہ پر تمام انصار و مہاجرین کو طلب فرما کر ان مںی مواخات کروائی۔
٭۔ ۔ ۔ برےونی جملوں سے دفاع اور امن و امان کے قاام کلئے آپﷺ نے یہود مدینہ (بنو قینقاع۔ بنو نضرم اور بنو قریظہ) سے معاہدہ فرمایا جسے صحفہک (دستور العمل اور فرائض نامہ) اور کتاب ، کے نام سے مورخوں نے موسوم کا ہے۔ اسے میثاق مدینہ اور میثاق النبی بھی کہا جاتا ہے۔ نقبآ النقباء حضرت اسعدؓ بن زرارہ نے وفات پائی۔
٭۔ ۔ ۔ اُم المومننن حضرت عائشہؓ کی رخصتی عمل مں۔ آئی۔
۲ ھ م ۶۲۳ء۔ ۔ ۔ ہجرت کے بعد پہلی بار محرم آیا تو آپﷺ نے دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہں ۔ دریافت کاع کہ وہ ایسا کو ں کرتے ہںت۔ عرض کاب گاا ، اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علہد السلام کو بنی اسرائل پر فتح دی تھی اس لئے شکرانہ مںہ وہ روزہ رکھتے ہں فرمایا، ہم موسیٰؑ کے تم سے زیادہ حق دار ہںن اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو یہ اہتمام ختم ہو گاؑ۔
٭۔ ۔ ۔ جہاد کی اجازت : اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورہ حج کی آیت ۳۹ کے ذریعہ قتال کی اجازت آئی۔
٭حسب ذیل غزوات و سرایا ہوئے :
غزوہ ابواء یا وداّن (صفر) غزوہ بواط (ربع الاول) غزوہ ذی العشیرہ (جمادی الآخر) غزوہ بدراولیٰ یاسفوان (رجب) سریہ عبداللہ بن جحش (رجب)
٭ تحویل قِبلہ۔ ۔ ۔ یینّ بتر المقدس کی بجائے کعبہ قبلہ قرار دیا گا ۔ تحویل قبلہ کی تاریخ اور مہنہ مںع اختلاف ہے۔ ابن جوزی نے منگل ۱۵/ شعبان ۲ ھ لکھی ہے لکنی مورخنب اور محدثن۔ کا زیادہ رجحان رجب کی طرف ہے۔ جب حضورﷺ محلہ بنو سلمہ کی مسجد مںث نماز ظہر پڑھا رہے تھے تو تحویل قبلہ کا حکم سورہ بقرہ کی آیت ۱۴۴ کے ذریعہ نازل ہوا اور نماز کے دوران ہی حضورﷺ اور مقتدی کعبہ کی طرف اپنا رخ کر لئے۔ یہ مسجد ’’مسجد قبلتین ‘‘ کہلاتی ہے۔
٭۔ ۔ ۔ اذان کی ابتداء : جب نماز کا وقت ہوتا تو مسلمان خودبخود جماعت کے لئے جمع ہو جاتے۔ ایک رات حضرت عبداللہؓ بن زید نے خواب مںج وہ الفاظ سنے جو اذان مںت بولے جاتے ہںک۔ آپ نے حضورﷺ سے ذکر فرمایا۔ حضور صلعم نے حضرت بلالؓ کو یہ کلمات بلند آواز سے کہنے کلئے فرمایا۔ جب حضرت بلالؓ نے اذان دی تو حضرت عمرؓ تیزی سے مسجد مںل آئے اور عرض کام۔ یا رسول اللہ! مںت نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے اور یی الفاظ سنے ہںا۔ اس دن سے اذان کا یہ طریقہ رائج ہوا۔
٭۔ ۔ ۔ انصار مںا پہلے نومولود : یہود نے مشہور کر دیا کہ ہم نے حضورﷺ کے اصحاب پر جادو کر دیا ہے اس لئے ان مں اولاد نرینہ نہںک ہوتی۔ ہجرت کے کوئی چودہ مہنہپ بعد ربعے الآخر مںں حضرت بشرؓہ انصاری کے گھر نعمان پدکا ہوئے۔
٭۔ ۔ ۔ مہاجرین مںد پہلے بچہ کی ولادت: جب حضرت نعمانؓ بن بشیر پددا ہوئے تو بات بدلنے والے یہودیوں نے کہا کہ ہم نے مہاجرین پر جادو کر دیا ہے۔ حضرت نعمانؓ کی ولادت کے چھ ماہ بعد حضرت اسماء بنت ابو بکرؓ صدیق کے بطن سے جو حضرت زبرؓن ابن عوام کی شریک حا ت تھںج حضرت عبداللہؓ بن زبرد پداا ہوئے۔
٭۔ ۔ ۔ رمضان کے روزے فرض ہوئے : ماہ شعبان کے آخری عشرہ مںت رمضان المبارک کے روزے فرض کئے گئے سورۃ بقرہ کی آیت ۱۸۳ کے ذریعہ۔ رمضان کے ختم ہونے پر پہلی عدرالفطر منائی گئی۔ زکوٰۃ فرض ہوئی۔ فرضت زکوٰۃ کے بارے مںہ علماء مں اختلاف ہے۔ عام خارل یہ ہے کہ رمضان کے روزوں کے بعد فرض ہوئی۔ بعض مورخنپ لکھتے ہںے کہ ۸ ھ میں فتح مکہ کے بعد فرض ہوئی۔
٭۔ ۔ ۔ مکہ والوں کی پہلی شرارت : مکہ والوں نے شرارت شروع کی۔ کرز بن جابر فہری مدینہ سے موییا لوٹ کر لے گاں۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ بدر: ۱۷!رمضان المبارک م ۱۳ مارچ ۶۲۴ء بروز جمعہ غزوہ بدر ہوا۔ یہ پہلا معرکہ ہے جس مںں مسلمان غالب اور کافر مغلوب ہوئے۔ اس سے قبل لڑائی کی نوبت نہں آئی تھی۔ غزوہ بدر مںا مسلمان مجاہدین کی تعداد صرف (۳۱۳) تھی جن کے مقابلہ مںی کافروں کی تعداد (۱۰۰۰) تھی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصبر فرمائی۔ اس جنگ کے پہلے شہد۱ مہجع ہںد۔ قریش مںب ابوجہل کے علاوہ دیگر سردار مارے گئے۔ جنگ بدر مںے حضرت خنسیںؓ بن خدافہ سہمی زخمی ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد مدینہ مں انتقال ہوا۔ حضرت حفصہؓ بن عمرؓ ان کے نکاح مںم تھںے۔
٭۔ ۔ ۔ فتح بدر کے روز ہی آنحضرتﷺ کی صاحبزادی حضرت رقہؓ زوجہ حضرت عثمانؓ نے وفات پائی۔
٭۔ ۔ ۔ حضورﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کا عقد حضرت علیؓ سے ہوا۔
٭۔ ۔ ۔ حضرت عثمانؓ بن مظعون کی وفات۔ جنت البقیع مںت دفن ہونے والے پہلے مسلمان ہںر۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ بنی قینقاع ہوا (شوال)
٭۔ ۔ ۔ غزوہ سویق ہوا (ذی الحجہ) اس غزوہ سے مدینہ لوٹنے کے دوسرے دن حضورﷺ نے مسلمانوں کو عدو الاضحیٰ کی دو رکعت نماز پڑھائی۔ یہ پہلی عدں الاضحیٰ تھی۔
٭۔ ۔ ۔ ۳ ھ م ۶۲۴ء۔ ۔ ۔ غزوہ قرقرۃ الکدر۔ غزوہ غطفان (محرم) غزوہ نجران یا نبی سُلیم (ربعع الثانی)
٭۔ ۔ ۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل۔ ۔ ۔ کعب بن اشرف ایک فتنہ پرداز یہودی تھا جسے مسلمانوں سے سخت عداوت تھی۔ اسے بڑی حکمت عملی سے ابونائلہ نے قتل کاا۔ سریہ ابوسلمہ (قطن کی طرف) سریہ عبداللہ بن انسر (وادی عرفہ کی طرف)
٭۔ ۔ ۔ ماہ ربعس الاول مںل حضرت عثمانؓ نے حضور کی صاحبزادی حضرت اُم کلثوم سے عقد فرمایا۔ رخصتی جمادی الآخر مںط ہوئی۔
٭۔ ۔ ۔ سریہ زید بن حارثہ یا سریہ قردہ (جمادی الآخر)
٭۔ ۔ ۔ قانون وراثت کا نزول۔
٭۔ ۔ ۔ دشمن اسلام و گستاخ رسول ابورافع عبداللہ سلام بن ابی الحققو (حضرت صفہؓ کے پہلے شوہر کا بھائی) کا قتل۔
٭۔ ۔ ۔ ماہ شعبان مںک حضور اکرمﷺ نے حضرت حفصہؓ بنت حضرت عمرؓ سے عقد فرمایا۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ احد ہوا۔ (شوال) اس کے بعد غزوہ حمراء الاسد ہوا۔ (شوال)
حضورﷺ نے حضرت زینتؓ بنت خزیمہ سے نکاح فرمایا (ذی الحجہ)
٭۔ ۔ ۔ شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔
٭۔ ۔ ۔ حضور صلعم کے نواسہ حضرت حسنؓ کی ولادت ہوئی۔
۴ھ م ۶۲۵ء۔ ۔ ۔ سریہ ابی سلمہ بن عبدالاسد مخزومی (محرم)
٭۔ ۔ ۔ اُم المومنن حضرت زینبؓ بنت خزیمہ کی وفات (محرم)۔
٭۔ ۔ ۔ واقعہ رجعم : ماہ صفر مںب عصل وقارہ سے سات آدمی حضور اکرمﷺ کی خدمت مںو حاضر ہوئے اور عرض کاص کہ ان کے قبلہ کے لوگ مسلمان ہو چکے ہںم جنہں دین کا علم سکھانے کے لئے چند معلموں کی ضرورت ہے۔ آپﷺ نے چھ آدمو ں کو روانہ فرمایا۔ جب یہ لوگ رجعے پر پہنچے تو ان لوگوں نے بنی ہذیل کی مدد سے تنم آدمو ں کو قدھ کر لاو اور تنہ کو شہد کر دیا۔
٭۔ ۔ ۔ سریہ عبداللہ بن انسع۔
٭۔ ۔ ۔ واقعہ برعمعونہ۔ ۔ ۔ صفر کے مہنہئ مںع قبلہن کلاب کا سردار ابوبراء عامر بن مالک آپﷺ کی خدمت مں حاضر ہوا اور عرض کاے کہ اگر آپﷺ اصحاب کی ایک جماعت کو نجد روانہ فرمائں تو وہاں کے لوگ اسلام قبول کر لںے گے۔ اس نے ان صحابہؓ کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ آپﷺ نے اصحاب صُفہّ مںس سے (۷۰) قراء کو روانہ فرمایا اور ایک خط حرام بن ملحان کو دے کر کہا کہ وہ سردار قوم عامر کو دینا۔ جب وہ خط انھوں نے عامر کو دیا تو عامر نے خط پڑھنے سے پہلے اپنے کسی آدمی کو اشارہ کان جس نے حرام بن ملحان کو شہدد کر دیا۔ صرف کعب بن زید بنی النجار زخمی ہو کر بچ گئے جنہںے مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا گاص۔ باقی سب شہدی ہوئے۔ عمرو بن امہو نے اطلاع دی۔ حضورﷺ کو اس واقعہ کا بے حد قلق ہوا۔ یہ واقعہ بر۔ معونہ کہلاتا ہے۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ بنو نضرس ہوا (ربعخ الاول)
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ کے نواسے حضرت حسنؓع کی ولادت ہوئی (شعبان)
٭۔ ۔ ۔ حضرت علیؓ کی والدہ فاطمہ بنت اسد کا انتقال
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت زیدؓ بن ثابت کو عبرانی اور سُریانی زبانوں کے سکھنے کا حکم دیا اس لئے کہ سرکاری خطوط ان زبانوں مںے آتے تھے جس کے لئے یہودیوں کی خدمات حاصل کرنی پڑتی تھںن۔
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت ام سلمہؓ سے نکاح فرمایا (شوال)
٭۔ ۔ ۔ غزوہ بدر ثانی ہوا۔ یہ غزوہ بدر الموعد بھی کہلاتا ہے (ذیقعدہ)
٭۔ ۔ ۔ ۵ ھ م ۶۲۶ء۔ ۔ ۔ غزوہ ذات الرقاع (محرم)
٭۔ ۔ ۔ غزوہ دومۃ الجندل(ربع۔ الاول)۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ بنو مصطلق یا مریسیع (شعبان) ہوا۔ اس غزوہ سے واپسی کے وقت ایک اہم فتنہ نے سر اٹھایا۔ جس کی وجہ سے خانوادہ نبوی ایک مہنہق تک سخت کرب اور اضطراب مں مبتلا رہا۔ یہ واقعہ افک کہلاتا ہے جس مںے منافقنو اور غرل ذمہ دار مسلمانوں کی جانب سے اُم المومننا حضرت عائشہؓ اور معزز خواتین اسلام کے خلاف بے بناود افواہںے پھیلائی گئں ۔ قرآن مجدا نے ان افواہوں کو بہتان عظمہ قرار دیا ہے۔ (قرآن ۲۴:۱۲)
ان کی تفصیلات کی حد تک روایات موضوع ہں ۔
٭۔ ۔ ۔ تممی کا حکم نازل ہوا۔ (شعبان) قرآن ۴: ۴۳)
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت جویریہؓ سے نکاح فرمایا (شعبان)
٭۔ ۔ ۔ غزوہ احزاب یا خندق ہوا (ذیقعدہ)
٭۔ ۔ ۔ سریہ حضرت ابوعبدنہ بن الجراحؓ
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت زینبؓ بن جحش سے نکاح فرمایا (شوال)
٭۔ ۔ ۔ غزوہ بنو قریظہ ہوا (ذی الحجہ)
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت ریحانہؓ سے نکاح فرمایا۔
٭۔ ۔ ۔ حضرت سعدؓ بن معاذ غزوہ خندق میں ایک ترا لگنے سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انھوں نے وفات پائی۔
٭۔ ۔ ۔ پردہ کا حکم سورہ احزاب کی آیت ۵۹ کے ذریعہ نازل ہوا (ذیقعدہ)
٭۔ ۔ ۔ مدینہ مںذ زلزلہ آیا۔
٭۔ ۔ ۔ چاند گرہن ہوا۔ حضور اکرمﷺ نے صلوۃ خسوف پڑھی۔
٭۔ ۔ ۔ حضرت سعدؓ بن عبادہ کی والدہ کی وفات۔
٭۔ ۔ ۔ قبلہ مزنہ کے افراد ایمان لائے۔
۶ ھ م ۶۲۷ ء سریہ محمد بن مسلمہ۔ نجد کی طرف (محرم)
٭۔ ۔ ۔ غزوہ بنو لحا ن (ربعس الاول)
٭۔ ۔ ۔ غزوہ ذی قردیاغانہ (ربعا الآخر)
٭۔ ۔ ۔ سریہ عکاشہ بن محصن۔ سریہ محمد بن مسلمہ (ذوالقصہ کی طرف) سریہ زید بن حارثہ (بنو سلمض کی طرف)۔ سریہ زید بن حارثہ (بنو سلمو مقام عیص کی طرف) سریہ زید بن حارثہ (مقام طرف) سریہ زید بن حارثہ (بنو جزام کی طرف)۔ سریہ دومۃ الجندل۔ سریہ فدک۔ سریہ عبداللہ بن عتیک۔ سریہ عبداللہ بن رواحہ۔ سریہ عمرو ابن اُمہس۔ سریہ کرزین جابر فہری (قباء کی طرف)۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ حدیہمض (ذیقعدہ)۔
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت اُم حببہؓق سے نکاح فرمایا (ذی الحجہ)
٭۔ ۔ ۔ بن۔ الاقوامی سطح پر دعوت اسلام۔ ۔ ۔ ۶ ھ تک رسول اکرمﷺ کی تمام تر جدوجہد اندرون عرب مرکوز رہی۔ معاہدہ حدیہت نے سب سے بڑے دشمن مشرکنر مکہ کو پابند کر دیا تو بعثت کے ۱۹ سال بعد دعوت و تبلغے کا دائرہ وسع سے وسعا تر کر دیا گاہ۔ پغا م حق کو بر ون عرب پھیلایا گان اور بند الاقوامی سطح پر سفارتںن روانہ کی گئں ۔
٭۔ ۔ ۔ مہر نبوی۔ ۔ ۔ حضرت سلمانؓ فارسی نے عرض کاا کہ خط پر مہر نہ ہو تو سلاطنو اسے معتبر نہںر سمجھتے بلکہ پڑھتے تک نہںا۔ آپﷺ نے چاندی کی انگشتری مںے مہر بنانے کا حکم دیا۔
٭۔ ۔ ۔ کفار سے اہل اسلام کا نکاح حرام قرار دیا گاھ۔
٭۔ ۔ ۔ ۷ ھ م ۶۲۸ء : غزوہ خبر۔ ہوا (محرم) اس غزوہ کے دوران زینب بن حارث یہود یہ نے گوشت مںق زہر ملا کر حضورﷺ کو بھجا ۔ آپﷺ نے نہ کھایا لکنہ بشر نے کھایا تو وہ زہر سے مر گئے۔ حضور نے زینب کو قصاص مںر قتل کروا دیا۔
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت صفہؓہ سے نکاح فرمایا (محرم)
٭۔ ۔ ۔ مہاجرین حبشہ کی واپسی (محرم) فتح خبرم کے روز مہاجرین حبشہ واپس ہوئے جن مں۔ حضورﷺ کے چچازاد بھائی حضرت جعفرؓ بن ابی طالب اور حضرت ابوموسیٰؓ اشعری شامل تھے۔ حضورﷺ نے حضرت جعفرؓ کی دونوں آنکھوں کے درمابن بوسہ دیا اور سنہہ سے چمٹا کر فرمایا : یہ دو خوشابں ہںؓ۔
٭۔ ۔ ۔ واقعہ فدک : مدینہ سے دو یا تنا دن کی مسافت پر شمالی حجاز مںل خبرر کے قریب ایک بستی تھی جس کا نام فدک تھا۔ خبرم سے حضورﷺ نے حضرت محیصہؓ بن مسعود انصاری کو اسلام کی دعوت دینے فدک روانہ فرمایا جنہںض اہل فدک نے روک رکھا۔ ان لوگوں کو جب فتح خبر کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے آپﷺ سے صلح کر لی۔ یہ سریہ فدک بھی کہلاتا ہے۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ وادی القریٰ ہوا۔ مسلمانوں کو یہودیوں کے مقابلہ مںس فتح ہوئی۔
٭۔ ۔ ۔ تماو کا معاملہ : تمال ، خبرہ سے کچھ دور واقع ہے۔ وہاں کے یہودیوں نے جب خبر۔ ، فدک اور وادی القریٰ کے حالات سنے تو خوف زدہ ہو کر صلح کی درخواست کے ساتھ حاضر ہوئے اور صلح ہو گئی۔ آپ نے یزید بن ابوسفاتن کو جو اسی دن مسلمان ہوئے تھے تمائ کا حاکم مقرر کر دیا۔
٭۔ ۔ ۔ سریہ کدید(صفر) سریہ حمی ، سریہ تربہ ، سریہ بنو کلاب (جمادی الآخر) ہوئے۔
٭۔ ۔ ۔ وفد اشعرئنر نے اسلام قبول کای۔
٭۔ ۔ ۔ عمرۃ القضاء(ذیقعدہ) حضور اکرمﷺ نے عمرہ ادا فرمایا جسے عمرۃ القضاء عمرہ قصاص ، عمرہ الصلح اور عمرۃ الحدیہعد کے ناموں سے یاد کام جاتا ہے۔ ۶ ھ میں صلح حدیہ ک کے وقت کفار نے مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے روک دیا تھا۔
٭۔ ۔ ۔ سریہ خربہ ، سریہ بنی مرّہ ، سریہ بشرا بن سعد الانصاری ، سریہ ابن ابی العوجا ، سریہ بشر بن سعد ، سریہ غالب بن عبداللہ ہوئے۔
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ نے حضرت ماریہؓ قبطیہ سے نکاح فرمایا جنہں مقوقس شاہ مصر نے بھجا تھا۔
٭۔ ۔ ۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے اسلام قبول کای۔ حضرت عمروؓ ابن العاص نے اسلام قبول کیا۔
٭۔ ۔ ۔ حضرت عثمانؓ بن ابی طلحہ نے اسلام قبو ل کاو۔
٭۔ ۔ ۔ حضور ا کرمﷺ نے حضرت مموانہؓ سے نکاح فرمایا جو حضورﷺ کی آخری منکوحہ تھںب (ذیقعدہ) غزوہ ذات الرقاع ہوا۔
٭۔ ۔ ۔ ۸ ھ م ۳۰۔ ۶۲۹ء۔ سریہ موتہ (جمادی الاول)
٭۔ ۔ ۔ سریہ ذات السلاسل (جمادی الآخر) سریہ سفر الجر (رجب)۔
٭۔ ۔ ۔ فتح مکہ (رمضان)۔ فتح مکہ کے روز ابوسفاہن اسلام لے آئے۔
٭۔ ۔ ۔ مکہ کے بت خانوں کا انہدام۔ عزیٰ کو خالدؓ بن ولید نے توڑا۔ سواع کو عمرؓو بن العاص اور منات کو سریہ سعد اشہل نے توڑا۔
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ کے صاحبزادہ حضرت ابراہمؓا ، حضرت ماریہؓ قبطیہ کے بطن سے پد ا ہوئے۔
٭۔ ۔ ۔ سریہ حضرت خالدؓ بن ولید۔ سریہ شجاع بن ابی وہب الاسدی۔ سریہ کعب بن عمر۔ سریہ ابوعبددہؓ بن الجراح (وادی القریٰ کی طرف)۔
٭۔ ۔ ۔ سریہ ابوعبدوہؓ بن الجراح (جہینہ کی طرف) سریہ ابوقتادہ بن ربعی انصاری (خضرہ کی طرف) سریہ سعد بن زید اشہلی۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ حنین ہوا (شوال)۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ طائف ہوا (شوال)
٭۔ ۔ ۔ قبلہ ہوازن نے اسلام قبول کا (ذیقعدہ)
٭۔ ۔ ۔ سود کی قطعی حرمت یینو سود حرام قرار دیا گاو۔ (ذی الحجہ) آپﷺ نے سب سے پہلے حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب کا سود معاف فرمایا۔
٭۔ ۔ ۔ حضورﷺ کی صاحبزادی حضرت زینبؓکا انتقال ہوا۔
٭۔ ۔ ۔ ۹ھ م ۶۳۰ء۔ ۸ھ کے اواخر سے مدینہ مںو وفود کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ ابن ہشام نے ۹ ھ اور طبری نے ۰ ۱ ھ کو عام الوفود کا نام دیا ہے۔
٭۔ ۔ ۔ یہ سرایا ہوئے : سریہ یمینیہ بن حصن الغزاری بنو تمم کی طرف) سریہ قطبہ بن عامر (بنو خشعم کی طرف) سریہ ضحاک بن سفاین (بنی کلاب کی طرف)
٭۔ ۔ ۔ سریہ علقمہ بن مجزر المدلجی۔ سریہ الفلس۔
٭۔ ۔ ۔ فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کا پہلا حج۔ اس سال مسلمانوں نے اسعدؓ بن العیض کی امارت مںت حج ادا کا ۔ مسلمانوں اور مشرکن نے علحٰدہ علحٰدہ حج کاب۔
٭۔ ۔ ۔ تنظمم زکوٰۃ : زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کے لئے عمال کا تقرر کاو گاا (محرم)
٭۔ ۔ ۔ رئسم المنافقنا عبداللہ بن ابی بن سلول کی وفات۔
٭۔ ۔ ۔ وفود کی آمد : حسب ذیل وفود آئے :
وفد مزنہ ۔ وفد بنی اسد۔ وفد بنی تمئ۔ وفد بنی عیس۔ وفد بنی سلمب۔ وفد صداء۔ وفد ہمدان وفد بنی منتفق وفد نجران۔ وفد بنی باہلہ۔ وفد ازد۔ وفد بنی فزارہ۔ وفد بنی بہراء۔ وفد بنی نہد۔ وفد بنی سعد ہذیم۔ وفد دارم۔ وفد بنی سعد۔ وفد بلی۔ وفد نجب۔۔ وفد بنی عذرہ۔ وفد بنی عامر بن صعصعہ۔ وفد عبدالقیس۔ وفد بنی مرّہ۔ وفد بنی کلاب۔ وفد بنی البکاء۔ وفد بنی کنانہ۔ وفد بنی صلال بن عامر۔
٭۔ ۔ ۔ جزیہ کے بارے مںی احکام نازل ہوئے (رجب)
٭۔ ۔ ۔ عورتوں سے لعان کا حکم آیا جس کی تفصل( سورہ نور مںد موجود ہے۔
٭۔ ۔ ۔ شاہ حبشہ نجاشی کی وفات : نجاشی کا انتقال ہوا۔ حضورﷺ نے کہا ’’آج تمہارے بھائی اصمحہ کا انتقال ہو گاف ‘‘۔ مدینہ سے باہر نکل کر سب نے چار تکبر وں سے حضورﷺ کی امامت مںق نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی۔
٭۔ ۔ ۔ حضرت اُم کلثومؓ بنت رسول اللہﷺ زوجہ حضرت عثمانؓ بن عفان نے وفات پائی۔
٭۔ ۔ ۔ غزوہ تبوک (رجب) (حالت نبوی کا آخری غزوہ) آخر رجب مںن تقریباً تس ہزار کا لشکر لے کر آپﷺ تبوک کی طرف روانہ ہوئے جو شام مںی ہے لکنا رومویں سے مقابلہ نہںس ہوا۔
٭۔ ۔ ۔ سریہ یمن۔
٭۔ ۔ ۔ مسجد ضرار جلادی گئی (شعبان) تبوک سے واپسی پر منافقنے کے مرکزی مقام مسجد ضرار کو جلا دیا گاا اس لئے کہ وہاں منافقنس جمع ہو کر مسلمانوں کے خلاف سازشںم کاا کرتے تھے۔
٭۔ ۔ ۔ حج فرض ہوا : (ذی الحجہ) لکنل حضور اکرمﷺ نے اس سال یہ فرض ادا نہںح کا ۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق کی امارت مںج حج ادا کاف گای۔ حضرت علیؓ نقیب مقرر ہوئے۔ انھوں نے کعبہ مںا جا کر منادی کی کہ آئندہ سے کوئی شخص عریاں ہو کر کعبہ کا طواف نہ کرے۔ اس حج کو حج اکبر کہتے ہںم۔ اس لئے کہ یہ سنت ابراہیار کے عنج مطابق ادا کا گا ۔ اس حج مںا اعلان براۃ کے تحت آئندہ سے مشرکنن کا داخلہ حدود کعبہ مںا بند کر دیا گام۔
٭۔ ۔ ۔ واقعہ ایلا و تخییر
٭۔ ۔ ۔ حضورﷺ گھوڑے پر سے گرے۔ آپﷺ کے پہلو مں چوٹ سے تکلف شرو ع ہو گئی۔ اس لئے حضرت عائشہؓ کے حجرے سے ملے ہوئے بالا خانہ میں ایک ماہ تک گوشہ نشین رہے۔
٭۔ ۔ ۔ کعب بن زہرہ : کعب بن زہرا ابوسلمیٰ مشہور ہجوگو شاعر (جو آپﷺ کی ہجو سرائی مںے بہت پشر پشح رہتے تھے اور ان چند افراد مں داخل تھے جن کے قتل کر دینے کا حکم آنحضرتﷺ نے فتح مکہ کے دن دیا تھا) حاضر خدمت ہوئے اور معافی مانگی۔ معاف کئے گئے۔ اسلام قبول کاح اور اپنا مشہور قداضہ پڑھا جس کی ابتدا بانت سعادً سے ہوتی ہے۔
۱۰ ھ م ۶۳۱ء۔ ۔ ۔ ٭ عام الوفود۔ مختلف وفود کی آمد اور قبول اسلام۔
٭۔ ۔ ۔ متعہ کو مذموم رواج قرار دے کر ممنوع قرار دیا گاد۔
٭۔ ۔ ۔ رمضان المبارک مںا حضورﷺ نے بسا دن اعتکاف فرمایا۔
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ کے صاحبزادہ حضرت ابراہمؓے کی وفات۔ اس روز سورج گرہن تھا۔ حضور صلعم نے فرمایا۔ چاند اور سورج اللہ تعالیٰ کی نشانارں ہں ۔ کسی کے مرنے یا جنےف سے اس کا کوئی تعلق نہں ۔ آپ نے صلوٰۃ کسوف پڑھی۔
٭۔ ۔ ۔ اُم المومننم حضرت ریحانہؓ کی وفات۔
٭۔ ۔ ۔ حجۃ الوداع : حضورﷺ نے حج ادا فرمایا۔ تاریخ نے اس یادگار حج کو چار ناموں سے موسوم کا ہے : حجۃ البلاغ۔ ۲ حجۃ الاسلام۔ ۳ حجۃ الوداع۔ ۴ حجۃ الاتمام و الکمال۔ اسے حجۃ الوداع کا نام اس لئے دیا گا۔ کہ آپﷺ نے صاف صاف فرمایا۔ ’’مجھ سے منا سک حج سکھح لو۔ مںر آئندہ سال شاید حج نہ کر سکوں ‘‘۔
٭۔ ۔ ۔ آپﷺ ۲۵/ ذیقعدہ ۱۰ ھ بروز جمعرات بعد نماز ظہر مدینہ سے روانہ ہوئے۔ ۴ ذی الحجہ کو مکہ معظمہ مں داخل ہوئے۔ آپﷺ کا یہ پہلا اور آخری حج تھا۔ یہ مسلمانوں کا پہلا اور آخری حج تھا جو حضور صلعم کی امارت مںر ہوا۔ روز جمعہ تھا۔ منا سک حج ادا کرنے کے بعد آپﷺ نے عرفات کے ایک مقام نمرہ مںت ایک کمبل کے خمہ مںو قاخم فرمایا۔ دوپہر ڈھل گئی تو ناقہ پر (جس کا نام قُصویٰ تھا) سوار ہو کر مد ان مںل آئے اور ناقہ کے اوپر ہی سے خطبہ پڑھا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے اور جس مں حضور اکرمﷺ کی ۲۳ سالہ دعوت و تبلغ کا خلاصہ موجود ہے۔ اس خطبہ کو انسانتں کا منشور اعظم کہا جا سکتا ہے۔ ۱۴/ ذی الحجہ کو مکہ سے واپسی عمل مں آئی۔
٭۔ ۔ ۔ ۱۱ھ م ۶۳۲ء : وفد قبلہ۱ نخع(حضورﷺ کی زندگی کا آخری وفد) کی آمد
٭۔ ۔ ۔ قبلہ۱ مزحج قبلہ۳ بنو حارث اور فارس کے روساء دییمت مرکبود اور وہب بن عتبہ کا اسلام قبول کرنا۔
٭۔ ۔ ۔ ۲۶ / صفر دو شنبہ کو رسول اللہﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جہاد روم پر جانے کی تااری کریں اور اپنے دست مبارک سے ایک پرچم تا ر کاب اور حضرت اُسامہ بن زید کے سپرد کر کے قایدت ان کے ہاتھ مںپ دے دی اس کے صرف ایک دن بعد حضورﷺ کی طبعتے اچانک ناساز ہوئی اور بماتری نے شدت اختابر کر لی۔ اس بمایری کی حالت مںک بھی آپ مسجد تشریف لائے اور ایک خطبہ دیا جس مںو فرمایا کہ ’’لوگو ں !اُسامہ کے لشکر کو بڑھاؤ اور اس مںھ جا کر ملو۔ مرض اپنی پوری شدت پر تھا۔ اس کے باوجود آنحضرتﷺ کی خواہش تھی کہ یہ لشکر جلد از جلد روانہ ہو۔ چنانچہ صحابہ جوف کی طرف روانہ ہو گئے۔
۲۸/ صفر چہار شنبہ آنحضرتﷺ قبرستان بقیع تشریف لے گئے اور دعائے مغفرت فرمائی۔ واپسی مںت درد سر شروع ہوا اور بخار بھی آ گیا۔ روز بروز مرض مںئ اضافہ ہوتا گا ۔ آپﷺ کی علالت کی وجہ حضرت ابو بکرؓ صدیق نے نمازوں مںں امامت فرمائی۔ وفات سے پانچ روز قبل آپﷺ نے آخری صلوٰۃ کی امامت فرمائی۔
تقریباً تر ہ روز کی علالت کے بعد ۱۲/ ربعق الاول بروز دو شنبہ بوقت چاشت جسم اطہر سے روح پاک کی عالم قدس کو روانگی۔ حجرۂ عائشہ مںش تدفن ۔ اناللہ وانالہم راجعون ٭۔ ۔ ۔ آپﷺ کی وفات کے بعد سقفہ۔ بنو ساعدہ مںت اجتماع ہوا اور حضرت ابو بکرؓ صدیق کی بعتس خلافت ہوئی۔
٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کی وفات٭۔ ۔ ۔ حضور اکرمﷺ کی وفات کے بعد اکثر عرب مرتد ہو گئے۔ بعض منکرین زکوٰۃ و صدقہ ہو گئے۔ بعض نے نبوت کا دعویٰ کار جن مںے دوسروں کے علاوہ مسلمہ کذّاب بھی تھا۔ اس کو قتل کان گاا۔

[undefined=undefined]:roseanimr::roseanimr::wind14: