PDA

View Full Version : توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلم امہ کی خاموشی



محمداشرف يوسف
10-09-2012, 04:38 PM
توہین آمیز فلم دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ حالانکہ یورپ اور دنیا بھر کے اسلام دشمن ممالک کو اس بات کا تجربہ ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کے جذبات کو اس طرح مجروح کرنے کا نتیجہ کبھی خوشگوار نہیں ہو سکتا ۔ حقیقی بات یہ ہے کہ مغربی ممالک نے صیہونی لابی اور امریکی شہ پر اسلام ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف مذموم تہذیبی جنگ شرو ع کر رکھی ہے ۔

کبھی یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ سلمان رشدی نے نہایت توہین آمیز اور ناپاک کتاب لکھ کر پوری دنیا میں شمع رسالت کے پروانوں کے دل چھلنی کر دئیے ، چنانچہ مسلمانوں نے ہڑتالوں ، مظاہروں اور جلسوں کے ذریعے اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ اس کتاب کا جواب نوک قلم سے نہیں نوک خنجر سے دیا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ حالات نے اس کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔ وہ ہر روز جی جی کر مر رہا ہے اور مر مر کر جی رہا ہے ۔ ” لا یموت فیھا ولا یحییٰ “ اس گستاخ رسول کی حفاظت کے لئے اس کے آقاؤں نے بہت سے انتظامات کر رکھے ہیں ۔ مگر وہ شیطان کئی موذی امراض کا شکار ہو چکا ہے ۔

آپ کو یہ بھی علم ہے کہ کچھ عرصہ قبل گوانتا موبے میں قرآن حکیم کی بے حرمتی کی گئی ۔ پھر ڈنمارک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں توہین آمیز خاکے شائع ہوئے ۔ اس اخبار کے ایڈیٹر کا جو حشر ہوا وہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ کس طرح آگ میں جل کر مر گیا ۔ اب پھر ڈنمارک میں توہین آمیز خاکے شائع ہوئے ہیں ۔ ہماری رائے میں اگر امت مسلمہ کے حکمران بیدار ہوتے اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا تو ڈنمارک کو دوبارہ توہین رسالت کی جرات نہ ہوتی ۔ اب ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ ڈنمارک کے ساتھ تمام سفارتی ، تجارتی اور ثقافتی تعلقات منقطع کر لیں ۔ اور عالمی سطح پر مسئلے کو اٹھائیں ۔ عالم کفر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نبی مکرم ، محترم و محتشم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و عزت پر مر مٹنا اور اپنی جان دینا ہر مسلمان باعث سعادت سمجھتا ہے ۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تمام رشتوں اور پوری دنیا سے زیادہ عزیز اور محبوب نہ ہو جائیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ ہماری تمام متاع ہی ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہے ۔
در دل مسلم مقام مصطفی است آبروئے ما زنام مصطفی است

وہ لوگ جو انسانی حقوق ، جمہوریت اور تکریم انسانیت کے بڑے دعوے دار تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ کسی مذہب اور عقیدے سے وابستگی کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ سب کا احترام ان کا شیوہ ہے ۔ وہ کہاں ہیں ؟ اب اس صلیبی و تہذیبی جنگ نے ان کے مکروہ چہرے سے نقاب الٹ دی ہے اور ان کے ہاتھ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے آلودہ ہیں ۔ چغلی ، جھوٹ حسد ، بدعت ، شرک وغیرہ سے توبہ ہو سکتی ہے مگر شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جرم ناقابل معافی ہے ۔ پوری امت کا اجماع ہے اور اسلام کی تعلیمات کی رو سے وہ واجب القتل ہے ۔

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتے ہیںان پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ۔ اور ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ دنیا شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ذلت و رسوائی سے دوچار کیا ۔ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوجہل غزوہ بدر میں کس طرح واصل جہنم ہوا اسی طرح ابولہب جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا مگر آپ کا انتہائی گستاخ اور شدید دشمن تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ” تبت یدیٰ ابی لھب وتب “ یعنی ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے ۔ اور وہ ( خود ) ہلاک ہو گیا ۔ یہ بددعا ان الفاظ کے جواب میں ہے ۔ جو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے ۔ بددعا کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر دے دی ۔ چنانچہ جنگ بدر کے بعد ایک خطرناک بیماری سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ تین دن تک اس کی نعش یوں ہی پڑی رہی حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہو گئی ۔ بالآخر لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے اس کے جسم پر دور سے پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفن کر دیا ۔ اسی طرح کعب بن اشرف ، امیہ بن خلف ، ابو رافع یہودی ، ابن خطل و دیگر گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خوفناک انجام ہوا وہ ایسے لوگوں کے لئے عبرت کا نشان ہے ۔

زفلم پر پاکستان میں عوامی طور پر کسی حد تک احتجاج ہوا ہے مگر دوسرے مسلمان ممالک کی طرح حکومت پاکستان نے کسی شدید رد عمل کا اظہار نہیں کیا ۔ ہم تمام مسلمان حکومتوں سے عموماً بالخصوص حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ملک سے فوری طور پر اپنے سفیر کو واپس بلا لے اور اس ملک کے سفیر کو واپس جانے کے احکامات جاری کرے ۔ وہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب ملک سے یہ یقین دہانی حاصل کرے کہ اس گستاخانہ حرکت کے مرتکب مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلا کر اس ملک سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے ۔ مولانا ظفر علی خاں رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا ہے
نماز اچھی ، روزہ اچھا ، حج اچھا ، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ کٹ مروں جب تک خواجہ بطحا کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا

بےباک
11-24-2012, 07:49 AM
نماز اچھی ، روزہ اچھا ، حج اچھا ، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ کٹ مروں جب تک خواجہ بطحا کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا
سبحان اللہ ، کیا ہی خوب بات کہی مولانا ظفر علی صاحب نے

محمداشرف يوسف
11-24-2012, 03:24 PM
گستاح یہودیو اور عیسا ئیو