PDA

View Full Version : ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم۔۔اور مغرب کے اوباش



محمداشرف يوسف
10-09-2012, 04:40 PM
________________________________________
شیخ الاسلام احمد بن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں بیان کرتے ہیں:
”لاتعداد مسلمانوں نے ،جو کہ ثقہ راوی ہیں اور علم وفقہ سے بہرہ منداور آزمودہ کار، ہم سے بیان کیا کہ شام کے ساحل پر واقع قلعوں اور شہروں کے محاصرے کے دوران ایک زبردست بات وہ متعدد بار آزماچکے ہیں ۔یہ ہمارے اپنے (ابن تیمیہ کے) زمانے کی بات ہے۔ اہل اسلام ان خطوں میں گوروں کا محاصرہ کئے ہوتے تھے تو اس سلسلہ میں ان (ثقہ عینی شاہدوں) نے ہم سے بیان کیاکہ کسی قلعے یا شہر کا محاصرہ کئے ہوئے ہمیں مہینہ مہینہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر جاتا مگر وہ قلعہ یا شہر فتح ہونے کا نام نہ لیتا۔حتی کہ ہم قلعہ لینے کی آس بھی قریب قریب کھو چکے ہوتے۔ یہاں تک کہ جب وہ لوگ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کے مرتکب ہوتے اور آپ کی ذات و ناموس کے متعلق کچھ گستاخی کر بیٹھتے تو ان کا مفتوح ہو جانا ہمیں بہت قریب لگنے لگتا۔ صورت حال یک بیک ہمارے حق میں تبدیل ہونے لگتی اور قلعہ کا زیر ہونا دن دو دن کی بات رہ جاتی۔ پھر ہمیں بھرپور فتح ملتی اور دشمن کا خوب ستیاناس ہوتا۔ ان راویوں کا کہنا ہے کہ یہ بات ہماری اس قدر آزمودہ رہی کہ جب کبھی ہم ان بد بختوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں زبان درازی کرتے سنتے تو اگرچہ اسے سن کر ہمارا خون کھول رہا ہوتا مگر ہم اس کو فتح کی بشارت سمجھتے۔
ایسی ہی روایت مجھ سے ثقہ راویوں نے غرب (شمالی افریقہ و اندلس) کی بابت بیان کی کہ وہاں بھی مسلمانوں کو نصاریٰ کے ساتھ یہی معاملہ پیش آتا رہا ہے“ (الصارم المسلول ج 2 ص 233۔234)
تو کیا زمانہ جو اب ایک نئی کروٹ لے رہا ہے اور یہ امت جو ایک زبردست انداز میں زمین کے اندر اپنا کردار ادا کرنے کی جانب واپس آرہی ہے اور اس کے اس واپسی کے راستے میں مجرمینِ ارض جم کر بیٹھے ہیں اور فی الوقت اس کا مقابلہ اسی میدان میں ہےتو کیا اس راستے میں اس امت پر خدا کی نصرت کا وقت خود ہمارے اور ہمارے دشمن کے اندازے سے بڑھ کر قریب آرہا ہے؟
*********
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص طبقے کے لئے نہیں جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ”رحمۃ مھدۃ“ بنجر انسانیت کے لئے ہدایت کا برستا مینہ۔ بانجھ زمین کے لئے خدا کا لامحدود فضل اور لطف وعنایت کی بے حدو حساب خیرات۔ کوئی چٹیل اور مسام بند زمین اس سے سیراب نہیں ہوسکتی، باران کی پھوار سے کچھ نہ کچھ خوشگوار تو ضرور ہی ہو سکتی ہے ! اور یہ ماحول کی خوش گواری تو پچھلے چودہ سو برس سے ہی سب اہل زمین کے حصے میں آرہی ہے!
فضیلت اور قدروں کی موت دنیا کے کسی بھی خطے میں مکمل طور پر نہ ہوپائی تو اس کی وجہ یہی تو ہے کہ ایک آدھی دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جانے اور آپ سے فضیلت اور قدروںکے اسباق لئے جانے کی بازگشت پورے جہان میں گونجتی ہے اور دنیا کو اپنے تحریف شدہ صحیفوں میں اخلاق اور دیانت اور خدا کی تعظیم کے جیسے کیسے سبق تلاش کرنے اور عدالت و انصاف کے جیسے کیسے دستور گھڑنے کےلئے مہمیز بھی تاریخ کے ان آخری ادوار میں یہیں سے ملی ہے .... جس کا اعتراف کرنے پر خدا کا فضل ہے آج کا ہر مورخ مجبور ہے۔۔۔۔
خدا آگاہی کا یہ صاف شفاف ترین چشمہ اور خدا کی تعظیم اور خدا کی بندگی کی یہ خوبصورت اور روشن ترین اور نفیس ترین اور نادر ترین اور کامیاب ترین مثال محمد صلی اللہ علیہ وسلم .. جہانوں کے لئے خدا کی اس سب سے بڑی رحمت کو بارود کی رمز بنا کر جس بدبخت نے پیش آج کیا ہے اور جو اس رحمت کا بربادی اور تباہی کی علامت کے طور پہ چرچا کرنے پر ہی بضد ہے،وہ خدا سے اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے بھلا کس چیز کا تقاضا کررہا ہے!؟
انا عند ظن عبدی بی”میں اپنے بندے کے حق میں وہی کچھ ہوں جیسا وہ میری بابت گمان رکھ لے“! خدا نے اس سے بڑی رحمت زمین پر کبھی نہیں اتاری اور اس سے بڑھ کر فضل خدا نے اہل زمین پر کبھی نہیں کیا۔جو شقی القلب رحمت کی اس گھٹا میں بھی بم اور گرنیڈ ڈھونڈے بلکہ دنیا سے اپنی اس نکتہ وری پر داد چاہے، اس کے حصے میں خدا کی جانب سے کیا آنا چاہیے؟! الجزاءمن جنس العمل!!!
دنیا کو بم اور آگ کے یہ کھیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کی امت نے دیئے ہیں یا خود انہوں نے اور ان کے آباءنے جو تاریخ کا بدترین اور منظم ترین فساد اٹھانے کے لئے دنیا میں برپا ہوئے؟؟؟
بستے شہروں اور ہنستی بستیوں کو لمحوں کے اندر راکھ کا ڈھیر بنا دینے کی رِیت آخر کس نے چلائی ہے؟
سورج میں اندھیرے کا انکشاف کردینے کی صلاحیت بھی سچ ہے کہ خدا نے دنیا کے روسیاہوں کو وافر دے رکھی ہوتی ہے اور ایسا وتیرہ اختیار کر کے یہ لوگ دراصل یہ بتاتے ہیں کہ خدا کی عادلانہ تقسیم ہوتو روشنی کے منبع سے بھی ان کے حصے میں ظلمت اور سیاہی ہی آنی چاہیے اور یہ کہ بارانِ رحمت کو بھی ان کے حق میں صرف اور صرف عذاب ہی ہونا چاہیے۔
خدا نے اپنے آخری رسول کو بشیر اور نذیر اور سراج منیر اور بیک وقت نبی الرحمۃ(1) اور نبی الملحمۃ (2) بنا کر بھیجا ہے تو کیا ان لوگوں نے یہ تعین کرلیا ہے کہ اس تعلق سے خدا ان کو دے تو کیا دے؟!
*********
اس ”شگون“ کے ”حقیقت“بننے میں بھی آخر کیا رکاوٹ ہے؟ وماکان اﷲ معذبہم وھم یستغفرون۔
’کارٹون‘ اور ان کے بنانے والے’کارٹون‘تو خیر کیا وقعت رکھتے ہیں البتہ ’رموز‘ کی زبان واقعتا کسی وقت نقارہء خدا ٹھہرتی ہے اور کسی قوم کے ایک بدبخت کی زبان سے نکلی ہوئی کوئی جسارت یا اس کے روئیے سے ظاہر ہونے والا کوئی گستاخانہ اسلوب جو آفاق میں خبر بن کر پھیل جائے اور جس سے اس کی قوم کے سمجھدار اس کو باز نہ کرپائیں بسااوقات کسی بڑے واقعے کی پیشین گوئی بن جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہء دوئم کے عہد میں مسلم امیر الجیش سعد رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی وقاص نے اپنا ایلچی شہنشاہ فارس کے دربار میں بھیجا تو جواب میں فارس نے از راہ تحقیر مسلم ایلچی کو مٹی کا بھرا ہوا ایک توبڑا اٹھوا دیا کہ وہ اسے ’تحفے‘ کے طور پر اپنے بڑوں کے پاس لے جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان جانشینوں کے سامنے پیش کرے۔یہ ایک خاص پروٹوکول کی سطح کا واقعہ تھا اور نظراندازکردیا جانے والا ’عام سا لطیفہ‘ نہ تھا۔سعد رضی اللہ تعالی عنہبن ابی وقاص کا فطین ایلچی بڑی مستعدی کے ساتھ وہ ٹوکرا اٹھا کر چل دیا اور کمال سرعت کے ساتھ واپس مستقر پہنچ کر اپنی قیادت کو خاک کا توبڑا یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ مبارک ہو، اربابِ فارس نے اپنی مٹی آپ کو تحفہ کردی ہے! کچھ ہی دیر بعد دنیا ’رموز‘ کی اس زبان کو حقیقت بنتے دیکھ رہی تھی!
کہا جاتا ہے فارس کے کچھ سمجھدار اپنے طاغوت کی اس حرکت کا، جس سے اس کا مقصد اہل اسلام کی محض تحقیر اور توہین تھا،فوری تدارک کرنے کے لئے مخل ہوئے بھی بلکہ خسرو کو یہ ’بے وقوفی‘ واپس کرلینے میں کامیاب ہوئے بھی ، مگر ’ذرا‘ تاخیر کے ساتھ۔
تب فارس کے ہرکارے مسلم ایلچی کے تعاقب میں خوب دوڑائے گئے کہ کسی صورت بدشگونی کی یہ ’رمز‘ واپس ہو جائے مگر مسلم ایلچی ان سے زیادہ تیز ثابت ہوا اور فارس کو اس کی یہ ’مہنگی بے وقوفی‘ واپس لے لینے کا موقعہ نہ دیا۔
آج کی مغربی تہذیب کے کچھ ترجمانوں نے خدا کے آخری پیغمبر کو اپنی ہرزہ سرائی کا موضوع بناتے ہوئے خدا کی اس بے مثال رحمت میں خود اپنے ہاتھوں اپنے لئے تباہی اور بربادی کی ایک تصویر بنائی ہے۔ اپنے تئیں اس کو بھیانک بنانے کی کوشش کی ہے اور ازراہ تضحیک اس کو دنیا میں جی بھر کر نشر کیا ہے۔ ان کی قوم کے ان لوگوں کو جو ان سے اسے واپس لے لینے کے ملتمس ہوئے منہ کی کھانی پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند بدبختوں کی آواز میں ہزاروں بدبختوں کی آواز شامل ہوگئی جن میں ہرقسم کے اور ہر سطح کے صاحب نفوذ طبقے شامل رہے۔ سب نے دیکھا کہ خدا کے سب سے برگزیدہ نبی کے ساتھ اس ٹھٹھے اور مذاق کو ان کے ہاں ایک دوسرے سے بڑھ کر سراہا گیا۔
تو کیا یہ خدا کی کوئی حجت تھی جو ان پر خود ان کے ذریعے پوری کی جارہی تھی؟
مغرب کے سمجھ دار کیا اپنے کچھ روسیاہوں کو یہ بے ہودگی واپس لے لینے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوپائے؟ معاملہ سب کے سامنے ہے اور وقت ہے کہ شاید گزر گیا ہے۔
یہ تصویر جس پر ایک فاسق مسلمان تک کا خون کھولتا ہے اپنے بنانے اور نشر کرنے والوں کے حق میں اور پھر اس کی آڑ میں نبی کے ساتھ ٹھٹھہ کی اس کھلی آزادی دینے والی تہذیب کے لئے وکالت کرنے والوں کے حق میں کیا کسی حقیقت کی پیشین گوئی ہے؟ ہم جو غیب کا علم نہیں رکھتے کیا کہہ سکتے ہیں اور پھر خدا کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا مجاز تو خود اس کا اپنا رسول نہ تھا ، البتہ مانگنے والوں نے خدا سے اس کا عذاب یقینا مانگ لیا ہے۔
********
خود آپ کی زندگی کے اندر آپ کی شان سے فروتر بات کرنے والے کو جواب آپ کی طرف سے نہیں بلکہ کسی امتی کی طرف سے ملتا تھا اور نہایت خوب مناسب جواب ملتا تھا۔ پھر آج تو یہ حق ہے ہی امت پر کہ وہ اپنے نبی کے اس مقام اور ناموس کا تحفظ کرے کہ کوئی بدزبان اس کو پہنچنے کی جسارت نہ کرے۔
یہ حسان بن ثابت ہیں جو ابو سفیان کو جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔یہ ایک امتی ہے جو اپنے نبی کے حق میں بولنے کے لئے اٹھا ہے اور اس کا صلہ صرف اور صرف خدا کے ہاں پانے کا امیدوار ہے:
ھجوت محمداً فاحببت عنہ وعند اللہ فی ذاک الجزاء‘
”تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کی۔سنو اس کا جواب میں دیتا ہوں۔ اس پر میرا صلہ کسی کے دینے کا ہے تو وہ خدائے رب العالمین کی ذات ہے“
شاعر صلے اور داد کی طلب سے بے پرواہ نہیں ہوسکتے۔یہ شاعر بھی ’صلے‘ سے بے فکر نہیں۔مگر ممدوح کی عظمت کا تقاضا ہے کہ داد پانے کے لئے خدائے رب العالمین سے کم کہیں نگاہ نہ ٹکے!
اتھجوہ ولست لہ بکفئٍ فشرکما لخیر کما الفداء‘
”تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ آتے ہو۔ کیا تم ان کے برابر کوئی چیز ہو سہی؟ تم اور وہ، جو کمتر ہے وہی بہتر پر وارا جائے گا“
چاند پر تھوکنے والے کو ہمیشہ آئینہ دیکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ اپنی یہ تصویر دیکھنا اس کا حق ہے:
اتھجوہ ولست لہ بکفئٍ!!!
تم میں اور ان میں کوئی نسبت بھی تو ہو! اس شخص کے بارے میں جو ڈیڑھ ہزار سال سے ایک آدھی دنیا کو خدائے وحدہ لاشریک کے آگے پوری بصیرت کے ساتھ سجدہ ریز کرانے کا ذریعہ بنا آیا ہے اور تہذیب انسانی پر جس کے نشاناتِ انگشت سب سے نمایاں ہیں اور مشرق تا مغرب ہر محقق کو اس کی عظمت کے نئے سے نئے پہلو تلاش کرنے کی بابت تجسس دلاتے ہیں اس برگزیدہ ہستی کی بابت تم جو ہرزہ سرائی کرنے جارہے ہو تمہاری ان کے سامنے کوئی اوقات بھی تو ہو!
ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر جہاں خاندانی قدریں تباہ ہوچکی ہیں اور آدھی قوم اپنے والد سے شرفِ تعارف کا ذریعہ نہیں پاتی اور جہاں شجرہء نسب ’ہسپتال‘ سے آگے نہیں بڑھتے اور جہاں خون کے رشتے ’ڈی این اے‘ میں تلاش کرنا پڑتے ہیں اور جہاں اکثر پائے جانے والے انسان ’غلطی‘ یا ’چوک‘ کا نتیجہ باور ہوتے ہیں اور یا پھر کسی ’حادثے‘ کا اور جہاں سے دنیا کو انارکی و برہنگی کے علاوہ عالمی جنگوں اور تباہ کن بارودوں کے تحفے مل چکے ہیں ایک ایسے ماحول سے اٹھ کر تم خدا کے نبیوں کو تہذیب اور امن کا طعنہ دینے چلے ہو!؟
آج ہمیں ان شاعروں اور ادیبوں کی ضرورت ہے جو صرف ’نعت‘ کہنا نہیں بلکہ وقت کے زندیقوں کو اپنے نبی کی جانب سے ’جواب‘ بھی دینا جانتے ہوں اور جواپنے ادب کے اس رجزومعرکہ پرصلہ محض خدا سے پانے کے متمنی ہوں۔
********
دنیا کی سب قومیں ہی اپنے لئے ان قدروں کا تعین کرتی ہیں جو ان کے لئے زندگی موت کا مسئلہ سمجھی جائیں
مغرب کے تنگ نظر مفکرین آخر یہ کیوں سمجھ بیٹھے ہیں کہ دنیا ان پر ختم ہو جاتی ہے اور یہ کہ جس نعمت سے ان کے معاشرے محروم ہیں اس کادنیا میں کہیں وجود تسلیم کیا ہی نہیں جاسکتا اور یہ کہ خدا کے نبیوں اور خدا کی کتابوں کی تعظیم و تقدیس سے یہ خود اگر تہی دامن ہیں تو کسی اور کو بھی اس کی پھر کیا ضرورت ہوسکتی ہے! چاہتے ہیں قومی سطح پر غیرت اور فخرکی کسی کے ہاں کوئی بنیاد ہوتو صرف وہ جسے یہ جانتے ہیں اور جو کہ لے دے کر گھسی پٹی وہی چند باتیں ہیں جو کسی بھی ملک کے قومی ترانے کے چند بولوں میں پوری ہو جاتی ہیں!
آسمان سے رشتہ منقطع کرلینے والے ان بے سمت معاشروں کو حقیقی مقدسات کا مفہوم کون سمجھائے؟
ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تو ہیں کہ خدا کے بعد جن پر ہم فخر کرتے ہیں
خدا اور اس کا رسول نہیں تو پھر دنیا میں یہاں فخر کے لئے رکھا کیا ہے؟ بطور ایک موحد مسلمان، ملک وہ چیز نہیں جس پرمیں فخر کروں یا جس کے لئے میں کسی وقت آپے سے باہر ہونے لگوں .. ہر شخص کا ہی کوئی نہ کوئی ملک ہے جہاں زندگی کے کچھ سال اسے رہنا ہے اور پھر مر کر ہمیشہ کے لئے دفن ہو جانا ہے، اس میں ’فضیلت‘ کی کیا بات؟ میں اگر کسی اور ملک میں ہوتا تو اس کی عظمت کے گیت گاتا۔ ایسی ناپائیداربنیاد، اس انسان کے لئے جو موت کے بعد بھی زندگی پانے پر یقین رکھتا ہو، کیا وجہ افتخار ہوسکتی ہے؟؟؟
قوم،نسل،رنگ،زبان .. کون سی چیز ہے جو اس جہانِ محدود سے پرے دیکھنے والے کسی انسان کی نگاہ میں ’تقدس‘ کا درجہ رکھ سکتی ہے؟ہر انسان ہی حیات فانی کے اس مرحلہ میں کوئی نہ کوئی قوم اور کوئی نہ کوئی وطن رکھے گا اور کوئی نہ کوئی زبان بولے گا۔فخرکی بات ہوسکتی ہے تو وہ جو اس ’کوئی نہ کوئی‘ سے بڑھ کر ہو۔ یہ ایک خدا کی ذات ہے جس کے سوا ہر’کوئی‘ باطل ہے اور ایک رسول کی ہستی ہے جس کے سوا ہر ’کوئی‘ ہدایت سے تہی دامن۔
ظالم باربارپوچھتے ہیں کہ ایک ’شخص‘ جو چودہ صدیاں پیشتر سرزمین حجاز میں ہوگزرا ہے وہ آج کے سوا ارب زندہ انسانوں کے لئے ،حتی کہ اس امت کے گناہگار انسانوں تک کے لئے،اتنا اہم کیوں ہے کہ اس کے معاملے میں ایک ’چھوٹی سی‘ بات ہو جانے پر یہ یوں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ! بے شک یہ لوگ’معلومات‘ اور’تحقیقات‘ کا بڑا اہتمام کرتے ہیں لیکن ان کا یہ سوال واقعتا اگر ’تجسس‘ پر مبنی ہے تو یہ انتہائی قابل ترس لوگ ہیں۔
عجب دَور ہے کہ لوگ خدا کے ایک نبی کے لئے انسانوں کی جاں نثاری پر حیران ہیں ! یہ دنیا جس میں لوگ گھٹیاگھٹیا مقاصد پر جان دے لیتے ہیں خدا کے ایک خاص فرستادہ نبی کے ساتھ اس امت کی ایمانی و جذباتی وابستگی پر انگشت بدنداں ہیں! اس پر سوال کی ابھی باقاعدہ ضرورت سمجھتے ہیں کہ آخر ہوا کیا ہے جو زمین کے کئی ایک براعظم مسلم غم و غصہ کے باعث یوں تھرانے لگے ہیں!
یہ تو ان انسانوں کی خوش نصیبی ہے جو خدا کے رسول کی توقیر کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ورنہ اصل میں تو یہ خدا ہے جو بصیرت کے اندھوں کو دکھاتا ہے کہ اس کو اپنے رسول کاکتنا پاس ہے اور یہ کہ اس کا رسول زمین میں آج بھی کتنا معزز ہے! کہیے تو کوئی اور بھی شخص ہے جس کی ذات اور ناموس کے سوال پر زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک انسانوں کے سمندر یوں ٹھاٹھیں مارنے لگیں؟!
ھو الذی ایدک بنصرہ وبالموءمنین (الانفال : 62)
”(اے نبی)وہی تو ہے جس نے تیری مدد کی ،اپنی مدد سے ،اور مومنوں کے ذریعے“
خدا کے ایک نبی پر جاں نثار ہونا تو تعجب نہیں فخر ہی کی بات ہے البتہ تعجب کی کوئی بات ہے تو وہ یہ کہ فخر کرنے اور جاں نثار ہونے کے لئے ایک قوم کے پاس کوئی بنیاد نہ ہو اور اگر ہو تو وہ وہی جو ہر ایک کے پاس ہے!
*********
یہی وہ بند ذہنی اور تنگ نظری ہے جو بار بار ادھر سے ہمیں اپنی ہی قدروں کے راگ سنائے جاتے ہیں اور انہی کی عظمت کے واسطے دیئے جاتے ہیں
خدا کے نبی کی توہین سے کسی ’آزاد شہری‘ کو روک دینا’تہذیب‘ کے منافی ہے! مگر یہودی ہولوکاسٹ کا ’استہزا‘ کرلینے پر تم فرانس میں چند سال پیشتر اسلام قبول کرلینے والے فلسفی روجیہ جارودی کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرلیتے ہو۔ اس لئے کہ تمہارا قانون یہودیوں کے قومی جذبات مجروح کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔تمہاری اس آوارہ خیال ’آزادی اظہار‘ کو آخر ایک ’یہود‘ سے ہی کیوں پردہ ہے؟
مسئلہ اصل قدروں کا ہے۔ ہولو کاسٹ کا تقدس بھی چونکہ تمہارے ہاں پائی جانے والی ایک قدر ہے لہٰذا یہاں ’آزادی اظہار‘ پر قدغن عائد ہونا عین ’تہذیب‘ ہی کا تقاضا ہے! اس ’آزادی‘ کی دہائی تب مچے گی جب تمہارے ہاں اسلام کا تقدس مجروح ہو!
دنیا میں تمہارے علاوہ گویا کوئی اور رہتا ہے اور نہ کوئی اپنی مستقل بالذات قدریں رکھتا ہے۔ تمہاری نگاہ میں سب سے زیادہ کوئی اس وقت کھٹکتا ہے جب وہ آپ اپنی قدروں کا تعین کرنے لگے۔فاشزم اس کے علاوہ کیا ہے؟ ’دوسرے‘ کا وجود برداشت نہ کرنے کا الزام پھر بھی مسلمانوں پر !!؟
’دوسرے‘ کا وجود ان کو پوری طرح تسلیم ہے اگر ’دوسرا‘ فکرو تہذیب کے باب میں اپنے وجود کے لئے انہی سے حوالے لے اور انہی کے مدار میں گردش پر آمادہ ہو! یہ سادہ لوحی کی انتہا ہے یا مکاری کی؟ یہ تو ’دوسرے‘ کا وجود نہیں ’اپنا‘ ہی وجود تسلیم کرنا ہے!
ہم بھی تو ’آزادی اظہار‘ کا دائرہ وہیں تک تجویزکرتے ہیں جہاں یہ قدروں کی پائمالی کا باعث نہ ہو۔ اختلاف اور اعتراض پھر ہے کہاں پر ؟ یہ کہ اس امت کی قدریں بھی ایک عالمی حوالے کے طور پرجانی پہچانی جائیں اور جو کہ اپنی فطرت میں دنیا کی سب قدروں سے منفرد اور متمیز ہیں۔ اِن کے سوا ’کوئی دوسرا‘ بھی معتبر ہو اور اسلامی شرعی قدریں آج کسی بھی سطح پر وقت کا ایک معتبر حوالہ ٹھہریں‘ یہ بات کب آسانی سے تسلیم ہو سکتی ہے؟

محمداشرف يوسف
10-18-2012, 01:20 AM
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی خاص طبقے کے لئے نہیں جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں

بےباک
10-18-2012, 04:49 PM
جزاک اللہ جناب محمد اشرف یوسف صاحب ،

سیرت رسول صلی اللہ پر بہت پیارا مضمون پڑھا۔
شاتم رسول پہلے کے دور میں بھی اور آج کے دور میں بھی قابل گردن زنی رہا ہے ،
اور آئیندہ بھی وہ قابل گردن زنی رہے گا ، ان شاءاللہ