PDA

View Full Version : دہری شہریت



سید انور محمود
10-10-2012, 01:44 PM
از: سید انور محمود - کراچی
دہری شہریت
اب سے کوی پانچ سال پہلے پی آی اے کی پرواز جو جدہ جارہی تھی میں بھی اُس میں سفر کررہا تھا – پرواز کے ایک گھنٹے بعد ایرہوسٹس نے کھانا دینا شروع کیا اور جب وہ میرے برابر والے صاب کے کھانے کی میز کھولنے لگی تو اُن صاب نے ایرہوسٹس کو بتایا کہ وہ کھانا نہیں کھاینگے اور وہ دل کے مریض ہیں اور اِس وقت اُن کی طبیت بہت خراب ہورہی ہے، ایرہوسٹس نے اپنے سپروازر کو اطلاع کری وہ صاب میڈیکل میں اچھی معلومات رکھتے تھے، باتوں سے پتہ چلا کہ وہ اپنے گاوں سے تین دن پہلے کراچی آگے تھے اور ڈاکٹر کو دکھایا تھا اور ڈاکٹر نے اُن کو کچھ ٹیسٹ بتاے تھے مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ جہاز میں بیٹھ گے- سعودی عرب کے ایک شہر قسیم میں ایک بقالہ میں 1200 ریال یعنی 40 ریال روزانہ پر کام کرتے ہیں یا تھے- ہر ماہ 1200 ریال میں سے 1100 ریال پاکستان بھیج رہے تھے۔ یہ صاب صرف پاکستانی تھے اور سعودی عرب میں تھے اور اُنکو دہری شہریت کا بخار بلکل نہیں تھا۔ یاد رہے سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پاکستانی تارکین کام کرتے ہیں اور جہاں تک باہر سے رقوم بھيجنے کا معاملہ ہے تو سعودي عرب ميں مقيم پاکستاني تارکين سرفہرست ہيں۔ گذشتہ سال کل آنے والی رقم 10.2 ارب ڈالر میں سے سعودي عرب سے 2987.9 ملين ڈالر (27.5فيصد)، امريکا سے 1922.4 ملين ڈالر (17.7 فيصد)، برطانيہ سے صرف 1263.7 ملين ڈالر (11.6فيصد) ہے۔ مشرق وسطي، دیگر عرب اور افریقی ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی دہری شہریت کا بخارسرے سے نہیں ہے۔ سب کو نہیں ایک مخصوص ٹولے کو جو برطانیہ اور امریکہ میں رہتا ہے اُسکو دہری شہریت کا بخار آجکل شدت سے چٹرھا ہوا ہے- کیونکہ انکے مفادات پر عدالت عظمٰی نے چوٹ لگای ہے۔ اب تک دوہری شہریت کے حامل قومی اسمبلی کے چار، سینیٹ کے ایک اور صوبائی اسمبلیوں کے چار اراکین کی رکنیت معطل کر چکی ہے، ان میں سے اکثریت کا تعلق حکمران پیپلز پارٹی ہے۔ جن اراکین پارلیمان کی رکنیت معطل کی گئی ہے ان میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور صدر زرداری کی میڈیا کوارڈینیٹر فرح ناز اصفہانی بھی شامل ہیں۔ اور یہ زرداری کے عزیز ترین ساتھی ہیں۔
معاملہ يہ ہے کہ دہري شہريت کے حامل افراد ميں سے اکثر بيرون ملک رہائش رکھتے ہيں يا پھر محض پاکستان ميں اہم حکومتي عہدوں کا حصول کرنے کیلے آتے ہیں مگر بنيادي طور پر اپنے تعلقات امريکا، کينيڈا، برطانيہ جيسي رياستوں يا يورپي ممالک سے منقطع نہيں کرنا چاہتے۔ اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے چند اور عناصر ہيں جو يہ دليل ديتے ہيں کہ اگر پاکستان طالبان اور عرب باشندوں کو اپنے اندر رہنے اور تخريب کاري کي اجازت دے سکتا ہے تو پھر انہيں دہري شہريت کي اجازت دينے ميں کيا مسئلہ ہے؟ واہ کیا بات ہے یعنی پاکستان دہشت گردوں کو بھی اجازت دے دے کہ وہ بھی وزیر سفیر بن جایں جبکہ پاکستاني باشندے دہشت گرد عناصر کا سامنا کررہے ہيں اور بے شمار قربانياں پيش کررہے ہيں، پاکستاني باشندے اور سکيورٹي فورسز ان دہشت گردوں اور غير ملکي عناصر سے لڑ رہے ہيں-
روزنامہ جنگ بتاریخ 6 جولای میں احمد نوراني نے دُہري شہريت والوں کا اصل مسئلہ کيا ہے؟ کے عنوان سے لکھا ہے ایک جگہ وہ لکھتے ہیں " دہري شہريت کے بيشتر حامي جو کچھ پاکستان ميں اور کچھ غير ممالک ميں مقيم ہيں ہر قيمت پر امريکي موقف کي حمايت اور اسلام آباد کے اقدامات کي مخالفت کررہے ہيں خواہ يہ کيري لوگر بل کا معاملہ ہو، دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا معاملہ ہو ، وزيرستان آپريشن اور نيٹو سپلائي کي بحالي کا معاملہ، ريمنڈ ڈيوس کا معاملہ ہو يا کچھ اوروہ اپني تحريروں اور دلائل ميں واشنگٹن کے موقف کي کھلي حمايت کرتے ہيں"۔
امید ہے آپ سمجھ گے ہونگے کون ہیں جو عدالت عظمٰی کے فیصلے پر بلبلا رہے ہیں ان کی بدقسمتی کے زرداری کے پاس صرف ایک شہریت ہے ورنہ عدالت عظمٰی کے اس فیصلے پربھی اسپیکر قومی اسمبلی کہہ دیتی میں نہیں مانتی، میں نہیں مانتی۔

انجم رشید
10-10-2012, 08:31 PM
جناب اصلی مسلہ یہ ہے کہ یہ لوگ جن کے پاس دوہری شہریت ہے یہ کیسی اور ملک کے لیے حلف اٹھا چکے ہیں اور حلف نامے میں یہ ضرور لکھا ہوتا ہے کہ آپ اس ملک کے وفادار ہیں اور آپ کو اس ملک کے لیے اسلہ بھی اٹھانا ہو گا جب انسان اپنی وفا داری کیسی اور کو دے دے تو اس کی وفا داری مشکوک ہو جاتی ہے ۔
دوسری اہم اور خاص بات یہ ہے کہ ہمارے آئین میں دوہری شہریت والوں کا زکر موجود ہے دوہری شہریت والا کبھی بھی اسبملی میں نہیں جاسکتا اب قصور کیا عدالت کا ہے عدالت نے تو آئین پر عملدرامت کروانا ہے ۔
اب اگر ماضی میں کچھ لوگ ملک کے سربراہ بھی دوہرہ شہریت والے رہ چکے ہیں جیسے شوکت عزیز تو یہ ہماری بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے ۔
بہت بہت شکریہ انور صاحب

سید انور محمود
10-11-2012, 12:20 AM
محترم جناب انجم رشید صاب سب سے پہلے تو میں آپکا شکریہ ادا کرونگا تبصرہ کرنے پر- میں آپکی بات سے پوری طرح متفق ہوں- آئین اور قانون پر عمل نہ کرنا ہمارے ہاں ایک عام بات ہے اور خاصکر موجودہ حکومت نے تو اپنا ایک وزیراعظم تک قربان کردیا- ایک اور ضروری بات کہ یہ سب وقتی طور پر آتے اور ایک ایجینڈساتھ لاتے ہیں اور ایجینڈہ کی تکمیل ہوتے ہی یہ واپس چلے جاتے ہیں چاہے وہ معین قریشی ہوں یا شوکت عزیز یا پھر رحمان ملک- ہم ایک ایسے سسٹم میں پھنس گے ہیں کہ جس سے ایک عوامی انقلاب کے زریعے نجات پاسکتے ہیں مگر یہ انقلاب کب؟ معلوم نہیں۔ ایک مرتبہ پھر آپکا شکریہ۔