PDA

View Full Version : 23 مارچ اور کامران خان شو



سید انور محمود
10-11-2012, 01:59 AM
از: سید انور محمود
23 مارچ پاکستان کے لیے اہم ترین دن ہے جسے ہم یوم پاکستان کہتے ہیں- مگر شاید جیو کے کامران خان کو یہ دن پسند نہیں اسلیے 23 مارچ کو انہوں نے سبز قمیض پہن کر اپنے پروگرام "آج کامران خان کے ساتھ" کو "آج ابوالکلام آزاد کے ساتھ" میں بدل ڈالا – اوریوم پاکستان کو اپنے طور پر یوم ابوالکلام آزاد میں بدلنے کی کوششں کی- ابوالکلام آزاد جو ایک مولوی بھی تھا اس کا پورا نام مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد تھا اور بنگال سے تعلق تھا – یہ 9 سال تک کانگریس کا صدر بھی رہا اور گاندی یا نہرو سے مسلمانوں کے حق میں ایک بات بھی نہیں منواسکا- قائد اعظم محمد على جناح اسکو کانگریس کا شو بواے کہتے تھے – یہ غدارے مسلم تھا اور ہندوں کا ساری عمر وفادار رہا حتکہ جب یہ وزیرتعلیم تھا اس وقت ہی سے ہندوستان کی تاریخ میں سے مسلمانوں کے اصل کردار غایب ہوتے رہے اور مسلمان حکمرانوں کو غاصب، لٹیرے اور حملہ آور لکھا گیا اور آج بھِی ہندوستان کی تاریخ میں یہ ہی لکھا ہوا ہے- کامران خان نے اپنے اس 37 منٹ کے پروگرام میں سے 25 منٹ قائد اعظم اور پاکستان کے دشمن ابوالکلام آزاد کی منافقانہ باتوں کو اپنی زبان سے دہراتے رہے- مگر شاید انکو اس پر ردعمل کا خیال بھی آیا ہوگا اسلیے اگلے 12 منٹ وہ ان پاکستانیوں کا ذکرکرتے رہے جن کے کارناموں سے پاکستان کا نام روشن ہوا ہے- شاید وہ اپنی بہودگی کو چھپا رہے تھے مگر شاید اتنا تو انکو پتہ ہوگا کہ ڈاکٹرعبدالسلام، ڈاکٹر قدیرخان کو سارے پاکستانی نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اڈاکٹر قدیرخان کو محسن پاکستان کہتے ہیں- کامران خان کو ابوالکلام آزاد کا ترجمان بننے کی ضرورت کیوں ہوی یہ شاید انکو ہی پتہ ہوگا- اللہ پاکستان کو قایم رکھے- آمین- پاکستان زندہ باد-

admin
10-11-2012, 10:20 AM
اللہ پاکستان کو قایم رکھے- آمین- پاکستان زندہ باد-

pervaz khan
10-11-2012, 03:09 PM
یا اللہ پاکستان تا قیامت قائم و دائم رہے اور پھولے پھلے ،آمین ثم آمین

محمداشرف يوسف
11-04-2012, 03:51 AM
بھائی صاحب
کاش تحریک آذادی ہیند کا مطالعہ کرتے
اس کے بعد تحریک پاکستان پڑھتے
مولانا ابوالکلام کے مشورہ پر غور کرتے
کہ مولانا ابوالکلام نے قائد اعظم محمد على جناح كو پاکستان کے بارے میں کیا مشورہ دیا تھا
پھر پاکستان بنے کے بعد پاکستان کے صوبہ سرحد صوبہ پجاب کے گورنر کون تھے
تینوں افواج پاکستان کے کمانٹر چیف کون تھے
ان سب کو پڑھنے اور غور کرنے کے بعد لکھتے
کہ مولانا ابوالکلام غدار پاکستان تھے یا وفادار مسلمان تھے
تو مزہ آتا
مگربھائی صاحب یہ خیال کرنا کہ مولانا ابوالکلام اب اس دنیا میں نہیں ہے
مولانا ابوالکلام کا مسلمانان ہیند سے حطاب
http://www.bhatkallys.org/index.php?option=com
یا اللہ پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہے اور پھولے پھلے ،آمین ثم آمین

سید انور محمود
11-04-2012, 04:14 PM
مولانا آزاد کو بھارت اور پاکستان میں ایک متنازعہ حیثیت حاصل ہے. آزاد کےسیکولرازم اور قوم پرستی کے خیالات کابھی سب کو پتہ ہیں – جو شخص قائد اعظم کے حوالے سے یہ سوال اٹھائے کہ کیا جناح ایک مسلم رہنما ہیں؟ جو9 سال کانگریس کا صدر کم اور نہرو اور پٹیل کا ذاتی ملازم زیادہ لگے، جو شخص پاکستان کی ساری زندگی مخالفت کرتا رہا ہو۔ آزاد جو ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کے دعوے دار تھے مگر ہندوستانی مسلمانوں نےقائد اعظم محمد علی جناح کی حمایت کی اور آزادکو ایک کونے میں لگادیا ۔ بنگلہ دیش بننے کے بعدلوگوں کوآزاد کی ایک پیشنگوئی کہ پاکستان کی عمر 25 سال ہے یاد آئی مگر یہ آزاد کی پیشنگوئی نہیں دلی خواہش لگتی ہے، جب ہی اندرا گاندھی نے کہا تھاکہ آج دو قومی نظریہ ختم ہوگیا، اصل میں وہ اپنے والد جواہر لال نہرو کے دوست آزاد کی زبان بول رہی تھی، بنگلہ دیش ضرور بنا اور آج بھی قائیم ہے، پاکستان بھی دنیا کے نقشے پر موجود ہے ، مگرآزاد کا اکھنڈبھارت 1947 میں جو ٹوٹا تو انشااللہ اب کبھی اکھنڈ نہیں ہوسکے گا-
پاکستان بنے کے بعد پاکستان کے صوبہ سرحد صوبہ اور پنجاب کے گورنر کون تھے، یا تینوں افواج پاکستان کے کمانڈر چیف کون تھے ان باتوں سے آزاد سے کیا واسطہ ہاں ہندوستان نے جو پاکستان کے حصے کا پیسہ دبا لیا تھا اسکا آزاد سے ضرور واسطہ تھا-
ہندوستان کا بال ٹھاکرے ایک متعصب لیڈر ہے مگر جو اس کے دل میں ہے وہ اسکی زبان پر بھی ہے- پاکستان اور مسمانوں کا کٹر دشمن ہے مگر اسلیے کانگریس سے بہتر ہے کہ "بغل میں چھری اور منہ میں رام رام " کے کانگریسی فلسفے پر عمل نہیں کرتا۔ اور خیر سے آزاد تو پکے کانگریسی تھے- اب آپ کہیں تو میں تاریخ پڑھ لیتا ہوں مگر میں وہ تاریخ نہیں پڑھونگا جو کامران خان 23 مارچ کو پڑھارہے تھے-

بےباک
11-05-2012, 10:22 AM
محترم جناب سید انور محمود صاحب ،
کامران صاحب نے کوئی تاریخ نہیں لکھی ، کامران صاحب کا وہ ذاتی تبصرہ ہے ، یا جیو ٹی وی والوں کی پالیسی ہو سکتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں تک قیام پاکستان کی بات ہے تو اسوقت جناب سید مولانا مودودی مرحوم پر بھی قیام پاکستان کی مخالفت کا الزام لگا ،
تحریک پاکستان،علامہ اقبالؒ ،قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے حوالے سے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی مرحومؒ کی جدوجہد کے بارے بات کریں گے کہ مولانا مودودی ؒ پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے قائد اعظم ؒ کو کافر اعظم کہا تھا۔یہ بات کہنے والے آج تک اپنی بات کے حق میں کوئی شہادت پیش نہیں کرسکے ہیں اور نہ ہی کرسکتے ہیں کیوں کہ جب ایک بات ہوئی ہی نہیں ہے تو اس کے بارے میں شہادت کیسی۔ اصل بات جو کہ لوگوں کو کم ہی معلوم ہے اور جن کو معلوم بھی ہے تو وہ جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہیں ۔قائد اعظم ؒ کو مولانا مودودی ؒ یا جماعت کے کسی بھی لیڈر نے کبھی بھی کافر اعظم نہیں کہا بلکہ یہ جملہ اس وقت کے ایک مشہور احراری لیڈر مظہر علی اظہر تھے جنہوں نے لاہور کے ایک جلسۂ عام میں یہ کہا تھا ۔ منیر انکوائری رپورٹ میں اس واقعہ کا تذکرہ دیکھا جاسکتا ہے۔
مولانا مودودی اور دو قومی نظریہ :
1937 ء میں کانگریس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان خود علماء کرام کی بہت بڑی تعداد بھی ہندوؤں کے ساتھ مل گئی ۔کانگریس یہ کہتی تھی کہ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو سب مل کر ایک قوم ہیں ۔یہ ایک ایسی خطرناک بات تھی کہ اگر اسے مان لیا جاتا تو ہندستان میں مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت بالکل ختم ہوجاتی اور ان کا دین بھی خطرے میں پڑ جاتا ۔ کانگریس کے اس نظرئے کو ’’متحدہ قومیت ‘‘ یا ’’ایک قومی نظریہ ‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ سید مودودیؒ نے اس خطرے کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اس کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں ’’مسئلہ قومیت‘‘ اور ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ حصہ اول و دوم کے نام سے شائع ہوئے۔ ان مضامین میں سید مودودی نے زوردار دلیلوں سے ثابت کیا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں ۔کیونکہ دونوں کا تصورِ خدا،مذہبی عقیدہ،رہن سہن، اور طور طریقے سب جدا جدا ہیں، انہیں ایک قوم کہنا بالکل غلط ہے۔1940 ء کی قرارداد پاکستان کے بعد مسلمانوں کے بڑے بڑے رہنما اور مسلم لیگ کے دوسرے لیڈر بھی یہی بات کہنے لگے۔ اسے ’’ دو قومی نظریہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ سید مودودی نے مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کے نظرئے کو اتنے اچھے اور عمدہ طریقے سے ہیش کیا کہ کہ اس خوبی کے ساتھ اب کوئی اور شخص مسلمانوں کے علیحدہ قومی تصور کی مدلل وکالت نہیں کرسکا تھا۔سید مودودی نے قرآن و حدیث سے دلائل دیئے۔۔۔۔اس طرح سید مودودی پہلے شخص تھے جنہوں نے نظریہ پاکستان کو علمی سطح پر دلائل کے ساتھ پیش کیا اور پاکستان کے حق میں دو قومی نظریہ کے لئے زبردست عقلی اور اسلامی دلائل فراہم کئے ۔ ان دلائل کا کانگریس کے ساتھ وابستہ علماء کرام کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا۔اس کے بعد پاکستان کا تصور مسلمانوں میں پختہ ہوگیا اور مسلم لیگ کے علیحدہ اسلامی اور قومی وطن کی مہم کو سید مودودی کے ان دلائل سے زبردست تقویت ملی۔(اب یہ مضامین’’ تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘‘ حصہ اول و دوم کے نام سے چھپ چکے ہیں) پاکستان کے حق میں یہ سید مودودی کی یہ زبردست خدمت ہے جو انہوں نے علمی میدان میں سرانجام دی۔(سید مودودی از اسعد گیلانی صفحہ 53- 54)
اپنے ان مضامین کے بارے میں خود مولانا مودودی ؒ کے الفاظ ہیں کہ’’ 1937 ء میں مجھ کو حیدرآباد سے دہلی جانے کا اتفاق ہوا اس سفر کے دوران میں مَیں نے محسوس کیا کہ ہندستان کے چھ صوبوں میں کانگریس کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد مسلمانوں پر کھلی کھلی شکست خوردگی کے آثار طاری ہوچکے ہیں۔دہلی سے جب میں واپس حیدر آباد جارہا تھا تو ریل میں ایک مشہور ہندو لیڈر ڈاکٹر کھرے (ڈاکٹر کھرے 1937کے انتخابات کے بعد سی پی کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے ) اتفاق سے اسی کمپارٹمنٹ میں سفر کررہے تھے جس میں مَیں تھا اور بھی بہت سے مسلمان اس میں موجود تھے میں نے دیکھا کہ مسلمان ڈاکٹر کھرے سے بالکل اسی طرح باتیں کررہے ہیں جیسے ایک محکوم قوم کے افراد حاکم قوم کے فرد سے کرتے ہیں یہ منظر میرے لئے ناقابل برداشت تھا۔حیدر آباد پہنچا تو یقین کیجئے کہ میری راتوں کی نیند اُڑ گئی سوچتا رہا کہ یا اللہ ! اب اس سرزمین پر مسلمانوں کا کیا انجام ہوگا۔آخر کار میں نے وہ سلسلہ مضامین لکھا جو ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ حصہ اول کے نام سے شائع ہوا۔ (جماعت اسلامی کے 29سال صفحہ 17 ایڈیشن ستمبر 2009 )
مولانا مودودی اور تقسیم ہند
آج امن کی آشا،رواداری،وغیرہ کے نام پر ہندوستان کی تقسیم کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔میڈیا پر نام نہاد قسم کے دانشور حضرات بڑی شدو مد سے نظریہ پاکستان کی مخالفت میں گفتگو کرتے ہیں اور اس کو رواداری اور برداشت کا نام دیا جاتا ہے اگر کوئی فرد اس کے خلاف بات کرے تو اس پر انتہا پسندی اور عدم برداشت کا الزام لگادیا جاتا ہے۔ایسے دین بیزار و ملک دشمن لوگ تو آزادی اظہار رائے کے نام پر ہر قسم کی ہرزہ سرائی کرسکتے ہیں لیکن ظلم یہ ہے کہ جن لوگوں نے قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کی رہنمائی کی ان کے بارے میں منفی پروپگینڈہ کیا جاتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی اور مولانا مودوی پر پاکستان کی مخالفت کا الزام تو لگایا جات ہے لیکن یہ بات کہنے والے پتہ نہیں کیوں متحدہ کے قائد الطاف حسین کی انڈیا کے دورے میں کی گئی تقریر (جس میں انہوں نے واضح طور پر تقسیم ہند کو انسانی تاریخ کی ایک عظیم غلطی کہا تھا )کو بھول جاتے ہیں۔ نہ جانے کیوں لوگ سندھ کے موجودہ وزیر داخلہ اور پی پی پی کے اہم رہنما ذوالفقار مرزا کی یہ بات نظر انداز کردیتے ہیں کہ ’’ بی بی کے قتل کے بعد ہم نے پاکستان توڑنے کا منصوبہ بنا لیا تھا ‘‘ گویا کہ اگر ان لوگوں کے نزدیک پاکستان کا وجود صرف اپنے مفادات کے لئے ہی کارآمد ہے ورنہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لاحول ولا قوۃ۔ایسے تمام لوگوں اے این پی کے ماضی کو نظر انداز کردیتے ہیں جب عبد الغفار خان صاحب کو ان کے پاکستان مخالف نظریات کی بناء پر ’’سرحدی گاندھی ‘‘ کہا جاتا تھا۔
ان سب باتوں کو سامنے رکھیں اور پھر مولانا مودوی مرحوم ؒ کا کردار بھی سامنے رکھیں۔’’جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے کہا کہ ہندوستان کی تقسیم اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے کے کو کیسے گوارہ کیا جاسکتا ہے تو مولانا مودودی صاحب ؒ نے کہا کہ ’’ مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری نگاہ میں اس سوال کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہندستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے،تمام روئے زمین ایک ملک ہے انسان نے اس کو ہزاروں حصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ اب تک کی تقسیم اگر جائز تھی تو آئندہ مزید تقسیم ہوجائے تو کیا بگڑ جائے گا۔اس بت کے ٹوٹنے پر تڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہو۔مجھے تو اگر یہاں ایک مربع میل کا رقبہ بھی ایسا مل جائے جس میں انسان پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرے خاک کو تمام ہندستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا۔ (سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحہ 76-77)
اسی طرح 1948 ء میں صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے موقع پر مولانا مودودی نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ ’’ استصواب رائے صرف اس امر سے متعلق ہے کہ تم کس ملک کے ساتھ وابستہ رہنا چاہتے ہو ،ہندوستان سے یا پاکستان سے ؟ اس معاملے میں رائے دینا بالکل جائز ہے اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔لہٰذا جن جن علاقوں میں استصوابِ رائے کیا جارہا ہے وہاں کے ارکان جماعت اسلامی کو اس کی اجازت ہے کہ وہ اس میں رائے دیں۔۔۔البتہ شخصی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں خود صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ ( سہہ روزہ کوثر مورخہ 5جولائی 1947 ء بحوالہ تحریک آزادی ہند اور مسلمان حصہ دوم صفحہ 88)
ان سب باتوں کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر جماعت اسلامی کے بارے تحریک پاکستان کے حوالے سے منفی پروپگنڈہ کیوں کیا جاتا ہے ۔ تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جب جماعت اسلامی نے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا تو اس کے بعد ہی جماعت اسلامی کے بارے میں منفی پروپگینڈہ شروع کیا گیا۔’’ یو پی مسلم لیگ کی دعوت پر مولانا کی اجلاس میں شرکت تحریک پاکستان اور تاریخ پاکستان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے توجہ طلب بات ہے۔ اس سے پہلے 1937ء سے 1939 ء تک مولانا نے مضامین کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا جو کہ کتابی صورت میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش کے نام سے شائع ہوا۔ ان مضامین کو مسلم لیگ کے حمایتی پرچے مثلاً ’’ماہنامہ پیامِ حق ‘‘ پٹھان کوٹ ، ’’القاسم ،امرتسر ‘‘ ، ’’مشور‘‘ دہلی، ’’طلوع اسلام ‘‘ دہلی وغیرہ میں شائع کرکے لیگی کارکنوں میں مفت تقسیم کرتے رہے۔1937 ء سے 1947 ء تک مسلم لیگ کے صف اول کے سینکڑوں لیڈر ان پرچوں کے خریدار تھے لیکن کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئی کہ مولانا مودوی اور ان کی جماعت تحریکِ پاکستان کی مخالفت کررہے ہیں ۔اچانک اسلامی دستور کے مطالبے کا سن کر لیاقت حکومت نے یہ انکشاف کیا ہے کہ مولانا اور ان کی جماعت پاکستان کے مخالف تھے۔نہ کوئی دلیل نہ تحقیق نہ کوئی گواہ صرف جلسوں کو گرمانے کے لئے فرضی بیانات اور جھوٹی قسمیں ‘‘( عالمی تحریکِ اسلامی کے عظیم قائدین از افتخار احمد صفحہ 49-50)

اسی طرح پہلی جنگ عظیم کے بعد 1919 میں کئی ہم خیال سیاسی گروپوں سے مل کر علمائے دیوبند نے جمعیت العلمائے ہند کے نام سے ایک تنظیم قائم کر دی۔ سیاسی میدان میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کی حلیف جماعت تھی کیونکہ کانگریس اور جمعیت العلمائے ہند انگریز کو اپنا اولین دشمن سمجھتے تھے انگریز کے ساتھ ان کی یہی مشترکہ دشمنی ان کے اشتراک کا سبب بنا۔
محی الدین احمد ولد خیر دین جو ابوالکلام آزاد کے نام سے مشہور ہوئے ،1988 میں پیدا ہوئے ،اور 1958 میں دلہی میں وفات پائی ،چونکہ وہ ایک شاندار خطیب تھے ، اس لیے ان کا نام ابوالکلام مشہور ہوا ، اور وہ آزاد کا لقب اس لیے رکھا کہ وہ آزادی چاھتے تھے ، انہوں نے انگریزی اور فارسی میں مہارت حاصل کی انہوں کے قاھرہ ، ترکیا اور فرانس کا سفر بھی کیا ،انہوں نے حزب اللہ کے نام سے پارٹی بھی بنائی اور ایک مدرسہ کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس کا نام دار الرشاد تھا اور 1912 میں ایک مجلہ نکالا جس کا نام “الھلال “ تھا ، اس کی بندش کے بعد “البلاغ “نام کا رسالہ نکالا ، مولانا ایک علمی شخصیت تھے ،انہوں نے قرآن مجید کا اردو ترجمہ ترجمان القرآن کے نام سے کیا
اور انگریزوں نے ان کو تین سال جیل میں بھی رکھا ،جیل سے رھائی کے بعد مولانا نے خلافت عثمانیہ کے کام کیا اور مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ایک پارٹی تشکیل دی جس وقت خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے پر انگریز تلا ہوا تھا ، انگریزوں کے خلاف جدو جہد کرتے ہوئے مولانا نے کانگریس میں شمولیت کی ، اور انگریزوں کی مخلافت میں کھل کر سامنے آگئے ان کو تقاریر کرنے پر اور انگریزوں کے خلاف پمفلٹ تقسیم کرنے پر ایک سال کی سزا دی گئی ، اسوقت ان کے سامنے یہ تھا کہ کسی طرح انگریز ھندوستان سے رخصت ہو جائیں ، اور باقی معاملات بعد میں دیکھیں گے ،
مولانا آزاد مجموعیت میں اتحاد میں یقین رکھنے والے تھےلیکن اس ثابت قدم رہنے والے قوم پرست لیڈر کو کانگریس کے اہم رہنماؤں کی طرف سے تقسیم ملک کے معاملے میں مایوسی اٹھانی پڑی۔ ایک ایسی مایوسی جسے انہوں نے اپنی زندگی کے دوران ظاہر نہیں کیا لیکن انہوں نے ہدایت کی کہ ان کی موت کے بعد ان کی اپنی کتاب ‘انڈیا ونس فریڈم’ میں اسے شامل کردیا جائے۔
محمد علی جناح اور مولاناآزاد نے مختلف سیاسی راہیں اختیار کیں۔ دونوں قدآور مسلم سیاستدانوں نے اکثر ہندوستان کے مستقبل اور اس میں مسلمانوں کے مقام کے بارے میں سیاسی لڑائی لڑی ۔مولانا آزادکے مطابق، "جناح کے لئے پاکستان کے ایک سودے بازی کے کاؤنٹر"اور ہندوستان کی تقسیم، فرقہ وارانہ مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے ہندو اکثریت والے علاقوں میں مسلمانوں کو مستقل نقصان کی حالت میں ہونے کی وجہ سے اسے ایک صوبے سے دوسرے صوبے کی دشمنی میں تبدیل کر دیگا۔
مولانا آزاد نے تقسیم کے عمل کو تیز کرنے میں کانگریس قدآور لیڈروں کےکردار کے بارے میں خاموش رہنے کا فیصلہ کیا اور ہندوستان کی تقسیم کے لئے جناح کو مورد الزام ٹہرایا۔ ماضی میں پارٹی کے اتحاد کے نام پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے پٹیل جیسوں کے فریب کو سامنے لا کر زیادہ پر اثر ثابت ہو سکتے تھے۔

تقسیم ملک مولانا آزاد کو 1947 ء کے بعد بھی پریشان کرتا رہا۔ دور اندیشی سے مولانا نے خبردار کیا کہ مذہبی بنیادوں پر ہندوستان کی تقسیم فرقہ وارانہ تنازعہ کو بین ریاستی دشمنی میں تبدیل کر دیگا اور جو انسانی ترقی کی قیمت پر عسکریت پسندی کی جانب لے جائے گا۔ مولانا ٓزاد نے ان مسلمان کو یاد دہانی کرائی جو ہندوستان چھوڑ کر پاکستان کے لئے روانہ ہو رہے تھےاور کہا کہ مذہبی تعلق تارکین وطن اور مقامی لوگوں کے درمیان ثقافتی اختلافات کو ختم نہیں کرے گا۔ ان کے نزدیک جنوبی ایشیاء میں مذہبی اور ثقافتی تنوع کے مد نظر ایک ریاست کے لئے مشترکہ مذہب کی بنیاد ناکافی ہے۔ ان کے نزدیک اس سے پہلے بھی ھندوستان میں مسلمان حکمران رہے ہیں ،جہاں ھر قوم ان کے زیر سایہ رہی ہے ، مولانا آزاد انگریزوں سے آزادی چاھتے تھے ، اس لیے مشترکہ جدو جہد کر رہے تھے ، بالآخر پاکستان آزاد ہو گیا ، اور دین سے دور قیادت کے ھاتھ باگ دوڑ آ گئی ، تو وہ ملک جو مذھب کی بنیاد پر بنا تھا ، وھاں مذھب سے بیزار لوگ اقتدار میں آ گئے ،
آج بھی دین بیزار اور ملک دشمن عناصر جو نہیں چاہتے کہ اس ملک میں کسی بھی طرح اسلامی نظام نافذ ہو، جو لوگ اپنے آپ کو نہیں بدل سکتے اس لئے چاہتے کہ اسلام کو بدل دیا جائے، جو لوگ اللہ کے پیغام ( اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائے ) پر عمل نہیں کرسکتے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو از کارِ رفتہ مذہب ثابت کیا جائے۔ اسلام پسندوں کو انتہا پسند اور ملک دشمن و غدار ثابت کیا جائے.اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دشمنان دین و وطن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے اور حکمرانوں کو قیام پاکستان کے اصل مقاصد کو حاصل کرنے کی توفیق دے ۔ دعا کریں کہ ہم آپس میں اتحاد اور یکجہتی سے رہیں ،

سید انور محمود
11-05-2012, 12:48 PM
محترم بےباک صاب
اسلام علیکم
آپکے جواب اور مفید معلومات کا شکریہ- کافی ہوم ورک دے دیا ہے آپ نے، اپنی عرض کرنے کے لیے تھوڑا سا ٹا یم درکار۔ جلد ملاقات ہوگی آپ سے- آپکی دعا دہرا رہاہوں: اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دشمنان دین و وطن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے اور حکمرانوں کو قیام پاکستان کے اصل مقاصد کو حاصل کرنے کی توفیق دے ۔ دعا کریں کہ ہم آپس میں اتحاد اور یکجہتی سے رہیں“، آمین، ایک اور دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو یہاں سیکھنے کی توفیق عطا فرماے۔ اللہ حافظ

گلاب
11-05-2012, 11:27 PM
بھت شکریہ بے باک بھای آپ نے جھوٹ اور سچائی کو واضع کیا ،جیت سچائی کی ہوتی ہے

سید انور محمود
11-06-2012, 08:29 AM
از طرف : سید انور محمود

محترم بے باک صاحب
اسلام علیکم
آپنے بلکل ٹھیک کہا کہ "کامران صاحب نے کوئی تاریخ نہیں لکھی" مگر تاریخ بگاڑی ضرور، ذرا سوچیے آج ہمارا ملک کن حالات سے گذر رہا ہے، جس کو دیکھو باباے قوم کو جو چاہا کہہ دیا کامران خان کیا پیغام دینا چہارہے تھے کہ قائد اعظم غلط تھے، اب تو اتنی ہمت ہوگی ہے کہ نہ صرف قائداعظم بلکہ پاکستان کے بارے میں جس کا جو دل چاہے کہہ دیتا ہے، کچھ عرصہ قبل نجم سیٹھی کا فرمانا تھا کہ ڈھاکہ میں قائد اعظم نے زبان کے لیےجو کہا تھا وہ غلط تھا، پھر فرمایا سرحد کی خان حکومت کو ختم کرنا قائداعظم کا غلط اقتدام تھا، اصل حقایق سے آنکھیں بند کرکے بس قائد اعظم کی مخالفت کرو، آجکل اس سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھتی ہے-
اول تو یہاں آپکو مولانا مودودی کا ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ کہیں بھی زیربحث نہیں تھے اور آپکےلیے ضروری تھا تو پھر خود کچھ کہتے اور اگر آپ کہیں اور سے کاپی کررہے تھے تو اخلاقی طور پر حوالہ دینا ضروری ہوتاہے آپنے مندرجہ ذیل حصہ کاٹ دیا تھا میں مکمل کردیتاہوں:
--------------------
http://www.qalamkarwan.com/2012/03/maulana-maududi-and-pakistan-movement.html
مولانا مودودی اور تحریک پاکستان
تاریخ: مارچ 22, 2012 مصنف: سلیم اللہ شیخ
مارچ کا مہینہ تحریک پاکستان کے حوالے سے انہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ 23مارچ 1940کو ہی مسلمانانِ ہند نے قرار داد پاکستان کے ذریعے اپنی الگ وطن کی تحریک کو جِلا بخشی اور عملی جدوجہد میں ایک نئے ولولے نئے جوش سے حصہ لیا جس کے باعث سات سال مختصر عرصے میں ہی مسلمانانِ ہند اپنے لئے ایک الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی پر کئی جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں اگرچہ یہ الزامات گزشتہ باسٹھ سالوں سے لگائے جارہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے بالخصوص ایک لسانی ٹولہ جماعت اسلامی اور مولانا مودودی ؒ کی کردار کشی کی مہم چلانے میں پیش پیش ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ اور جماعت اسلامی پر الزام لگانے والے اپنے الزامات کے حق میں کوئی دلیل ،کوئی شہادت نہیں پیش کرتے[/b][/b] بس وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اسی کو درست مان لیا جائے۔ بہرحال ۔ہم کوشش کریں گے کہ یہاں [کاپی پیسٹ]
---------------------
محترم جماعت اسلامی پاکستان کی وہ جماعت ہے جسکا پروپگنڈا کرنے میں کوئی ثانی نہیں۔ اگر قائد اعظم ریل سے پاکستان آے ہوتے تو یقین کریں کہ جماعت اسلامی مولانا مودودی کو اگلے اور قائد اعظم کو پچھلے ڈبے کا مسافر ثابت کردتی اور پھر کہتی کہ اصل بانی پاکستان تو مولانا ہیں- لہذا آج تک جماعت پروپگنڈا کرکے اپنے عیبوں پر پردہ ڈال لیتی ہے – قلم کارواں کیا انٹر نیٹ پر صرف مودودی لکھیں 10000 ویب سایٹ پر جماعت اسلامی کا پروپگنڈا مل جائے گا-
مولانا مودودی قیام پاکستان کے خلاف تھے۔ چنانچہ لکھا کہ:۔ ’’پس جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں۔۔۔ اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہوگا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہوگی‘‘ (سیاسی کشمکش حصہ سوم صفحہ۱۳۲)۔
مولانا مودودی ایک مخصوص مکتبہء فکر و سوچ کے حامل تھے، یہی وجہ تھی کہ اوائل میں جب مودودی نے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء سے رابطہ کرکے ایک بڑا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ لہذا خود ہی 1941 میں جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت بنالی جوکہ شروع میں تو تحریک پاکستان کے بھی خلاف رہی اور پاکستان کے قیام کے بعد بھی جماعتِ اسلامی کی سیاسی حیثیت سب کے سامنے ہے۔ مولانا مودودی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ منکر حدیث تھے اس کے علاوہ مولانا مودودی نے ایک کتاب "خلافت اور ملوکیت" لکھی تھی، مولانا مودودی لاکھ قابل مگر کیا وہ اس مرتبہ کے تھے حضرت عثمان پرتنقید کریں- مندرجہ ذیل لنک حاضر ہیں آپ پڑھ لیں- اس کتاب کے بارے آجتک صفائی پیش کی جاتی ہے-

http://rahesunnat.files.wordpress.com/2009/03/sahaba-karam-par-tanqeed-q.pdf

منکر حدیث
http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/548/5/

پاکستان میں دو حادثاتی لیڈر ہیں ایک الطاف حسین اور دوسرے نواز شریف، جہاں تک الطاف حسین کا تعلق ہے وہ یہ کہ کہنے سے پہلے سوچنا انکو نہیں آتا اور پھر جہاں عقیدہ یہ ہو کہ پیر صاب کی شبہی درختوں پر اور پتھروں پر آجائے اور اس بات پر یقین بھی ہوپھر سوائے افسوس کے کچھ نہیں جاسکتا- موصوف نے انڈیا میں جو کچھ کہا اسکے بعد انکا پاکستان سے واسطہ ختم ہوجاتا ہے مگر ان کے چاہنے والے اتنے ہیں کہ وہ جسمانی طور پر تو نہیں ہیں مگر اللہ ٹیلیفون ایجاد کرنے والے کا بھلا کرئے- رہے پاچا خان جو فخریہ سرحدی گاندھی کہلوانا پسند کرتے تھے مگر سرحد میں دفن ہونا نہیں ، دفن نہ ہونے کہ باوجود پشاور ایرپورٹ اب پاچا خان ایرپورٹ کہلاتاہے، یہ بھی موجودہ حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے-

اب آیئے آزاد کی طرف جو اصل موضع ہے- آزاد نےانڈیا ونس فریڈم نامی ایک کتاب لکھی مگر اسکے کچھ ارواق 30 سال بعد چھاپنے کے لیے لاکر میں رکھ دئیے، ایسا آزاد نے کیوں کیا، بقول تاریخ داں ڈاکٹر صفدرمحمود کے کہ کانگریس کے اس شو بوائے نے گاندھی اور نہرو کے بارے میں لکھا تھا اور وہ جانتا تھا 30 سال بعد تینوں میں سے کوئی نہیں ہوگا- آزاد کی انڈیا ونس فریڈم سے صرف دو حوالے:

"I must confess that the very term Pakistan goes against my grain. It suggests that some portions of the world are pure while others are impure. Such a division of territories into pure and impure is un-Islamic and is more in keeping with orthodox Brahmanism which divides men and countries into holy and unholy - a division which is a repudiation of the very spirit of Islam. Islam recognises no such division and the prophet says, 'God has made the whole world a mosque for me۔

Further, it seems that the scheme of Pakistan is a symbol of defeatism and has been built up on the analogy of the Jewish demand for a national home. It is a confession that Indian Muslims cannot hold their own in India as a whole and would be content to withdraw to a corner specially reserved for them.
[India Wins Freedom, Orient Longman, 1997, pp. 150-152]

پڑھ لیے آپ نے آزاد کہہ رہے ہیں کہ میں مانتا ہوں کہ پاکستان میری سوچ کے خلاف ہے اور اسلام میں ممالک کی تقسیم اسلام کی روح کی ایک تردید ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی منصوبہ بندی یہودی کی درخواست پر تعمیر کیا گیا ہے۔

آخر میں آپسے ایک سوال قائداعظم یا آزاد میں کس کا موقف قابل قبول ہے۔ دونوں کا تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی رد کیا جاسکتا ہے – جواب آپ خود کو دے لیجیے گا-

اللہ تعالی پاکستان کو ہمیشہ قایم و دایم رکھے اور اسکی حفاظت فرمائے- اللہ تعالی ہمیں اچھے حکمراں عطا فرمائے-
شکریہ اللہ حافظ۔

بےباک
11-06-2012, 09:31 PM
محترم جناب سید انور محمود صاحب
بلاشبہ یہ مواد وہیں سے لیا تھا ،اور اس میں سے صرف وہ حصہ لیا جو قیام پاکستان کے متعلق تھا ،ان شاءاللہ آئیندہ حوالہ جات کے ساتھ لکھا جائے گا ،مطمئن رہیے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم یہاں ساری بات کا محور قیام پاکستان میں علماء کا کیا رول تھا ، اور کیا وجوھات تھیں ، کامران خان اور آزاد کے بارے میں اور اسی لیے مسلمانوں کی سیاسی کشمکش یا ،پاکستان کی آزادی کی تحریک پر مولانا سید ابوالاعلی مودودی کے حوالے دیے ۔
خلافت اور ملوکیت ، جس طرف آپ نے اشارہ کیا ، یہ بالکل موضوع سے ہٹا ہوا ہے ،اس کو قیام پاکستان سے نہیں جوڑا جا سکتا ،
منکر حدیث مولانا مودودی ھرگز نہیں تھے ، منکر حدیث غلام احمد پرویز تھا ، اور وہ ماھنامہ رسالہ طلوع اسلام نکالا کرتا تھا ، مولانا نے ھمیشہ منکر حدیث غلام احمد پرویز کی مخالفت کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم اس وقت ان علماء کے نزدیک متحدہ جد وجہد کرکے سب سے پہلے انگریز کو نکالنا مقصود تھا ، اور ساتھ ساتھ الگ ملک کے لیے جو کوششیں ھو رہی تھیں ،
علامہ اقبال مرحوم اور مولانا مودودی صاحب کے درمیان جو بات چیت ہوئی ،اس کے بارے یہ مضمون پڑھ لیجیے ،یہ اسوقت مسلمانون کے لیے کام کر رہے تھے ،
یہ جماعت اسلامی کا پہلا اجتماع تھا ۔
26اگست 1941ءکو لاہور میں پورے برصغیر پاک و ہند سے کچھ لوگ جو پہلے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر تھے اور ماہنامہ” ترجما ن القرآن “کے ذریعے ان کے افکار و نظریات اور ان کی ذات گرامی سے بخوبی واقفیت بھی رکھتے تھے ان کی دعوت پر جمع ہوئے اور ایک مختصر سی نئی جماعت وجود میں لائے جو” جماعت اسلامی“ کے نام سے قائم کی گئی ۔ اس جماعت کی پشت پر وہ فکری رہنمائی تھی جو کئی سال سے مولانا مودودیؒ انفرادی طور پر فراہم کر رہے تھے اور جس میں خود علامہ اقبال مرحوم کے مشورے بھی شامل تھے ۔ یہ بات کہ مولانا مودودیؒ اور علامہ اقبال ؒ کے درمیان کتنا تعلق تھا وہ اس امر سے واضح ہوجاتا ہے کہ جماعت اسلامی کا پہلا مرکز مشرقی پنجاب میں پٹھانکوٹ کے نزدیک ایک ”دارالاسلام “نام کی اس بستی میں قائم ہوا جو مولانا مودودیؒ نے اس زمین پر بسائی تھی ۔جو زمین علامہ اقبال ؒ کو پنجاب کے ایک زمیندار چوہدری نیاز علی صاحب مرحوم نے پیش کی تھی کہ اس پر وہ دین کا کام کرنے کے لئے کوئی مرکز بنائیں ۔ علامہ اقبال ؒ نے مولانا مودودیؒ کو دعوت دی کہ وہ اس پر ایسا مرکز بنالیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو نہ تو کوئی جھٹلا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی انکار کرسکتا ہے ۔ یہ تاریخی حقیقت ان تمام اعتراضات اور الزامات کی بھی تردید کردیتی ہے جو پاکستان کی مخالفت کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ پر لگائے جاتے ہیں ۔ مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒ نے خود پورے برصغیرہند و پاک میں مولانا مودودیؒ کو اس قابل سمجھا کہ وہ ایک ایسی بستی اور مرکز کی بنیاد رکھیں جہاں سے برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں کی ٹھیک اور درست رہنمائی ہوسکے ۔﴿حوالہ دیکھیئے﴾
http://urdu.jamaat.org/site/article_detail/186
اس کے علاوہ جناب مولانا مودودی کو قادیانیوں کے خلاف کتاب لکھنے پر موت کی سزا سنائی گئی جو اسلامی ملکوں کے دباؤ پر بعد میں قید میں تبدیل کر دی گئی ، اس کتاب کو آپ پڑھییے
http://urdulibrary.paigham.net/2011/10/22/qadyani-masla-by-molana-modode/
اب مزید دیکھیے ،،

بیسویں صدی کے نصف اول میں برصغیر کے مسلمانوں میں تجدید و احیائے دین کے دو ماڈل سامنے آئے۔ ایک ٹاپ ڈاؤن اور دوسرا باٹم اپ۔
ٹاپ ڈاؤن اپروچ

ان میں پہلا نقطہ نظر یہ تھا کہ معاشرے کی اصلاح اوپر سے کی جائے۔ اسے ہم Top-Down Approach کا نام دے سکتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مطابق حکمت عملی یہ وضع کی گئی کہ خدائی فوجداروں کی ایک جماعت بنائی جائے جو دین پر پوری طرح عمل کرنے والی ہو۔ یہ جماعت جیسے بھی ممکن ہو، اقتدار حاصل کرے اور حکومتی طاقت کے زور پر معاشرے کی اصلاح کا کام کرے۔
اس تحریک کو برصغیر میں مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال اور سید ابوالاعلی مودودی جیسے عبقری میسر آ گئے۔ مولانا آزاد اور علامہ اقبال کی کوششیں تو زیادہ تر نظریاتی محاذ پر مرکوز رہیں لیکن مودودی صاحب نے نظریاتی میدان کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں اتر کر باقاعدہ ایک جماعت بھی بنا ڈالی۔ معاشرے کی اصلاح کا پروگرام لے کر قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی سیاست کے میدان میں اتر آئی۔
http://www.mubashirnazir.org/PD/Urdu/PU05-0010-Model.htm
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولاناابوالکلام آزاد مرحوم کی علمی شخصیت اور ان کی اسلام کے لیے جد وجہد ہم نہیں بھلا سکتے ، نقطہ نظر سے اختلاف ہو سکتا ہے ، ان کے نزدیک پہلے انگریزوں سے آزادی تھا اور پھر ایک ھند و مسلم کی متحدہ حکومت ، ان کا مدعا یہ تھا کہ اگر زیادہ آبادی کی بنیاد پر مسلمانوں کو مل جائیں اور ھندو والے علاقے ھندووں کو مل جاءیں تو جہاں کم مسلمان رہتے ہیں اور یا جہاں کم ھندو رھتے ہیں ، وھاں خون خرابہ ضرور ہو گا ، سوچ مختلف ہو سکتی ہے ، مگر ان کا دینی مقام اپنی جگہ ہے ،ان کی یہ کتاب آپ پڑھیے پھر ان کی شخصیت کو سمجھیے ، مسلہ خلافت ،
http://urdulibrary.paigham.net/2012/07/27/masla-e-khilafat-by-molana-abul-kalam-azad/

پاکستان بننے کے بعد آج تک جماعت اسلامی کی کسی ایسی ملک دشمن سرگرمیوں کے بارے کہنا ایک بہتان عظیم ھے ، مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ،،البدر اور الشمش دو تنظیموں نے بھرپور مدد کی ،اور اپنے ہزاروں جوانوں کو مکتی باھنی کے مقابلہ کے لیے بھیجا ۔۔۔ آج بھی مشرقی پاکستان کے پروفیسر غلام اعظم صاحب بنگلہ دیش کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ پر قید بند اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ۔۔۔سوال یہ ہےکہ کیا
اختلافی سوچ میں یا نظریاتی سوچ پر اختلاف پر کیا ہم ان شخصیات کی محب الوطنی اور دینی کاوشوں کو نظر انداز کر کے ان کی کردار کشی کریں گے ،کیا ان کی کردار کشی مقصود ہے ؟؟؟؟؟؟؟

محمداشرف يوسف
11-07-2012, 03:24 PM
حقیت چپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصوال سے
خوشبوں آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھول سے

ماشاء الله بارك الله بے بارک بھائی آپ نے ہم سب کے طرف سےحق ادا کیا

سید انور محمود
11-07-2012, 05:54 PM
از طرف : سید انور محمود

محترم بے باک صاحب
اسلام علیکم
آپ کے جواب کا بے انتہا شکرگذار ہوں اور اس کے ساتھ ہی آپ کے تحمل اور برداشت کا بھی بہت بہت شکریہ ۔ سب سے پہلے تو میں آپ سے یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ آپ اصل میں کس موضوع پر بات کررہے ہیں-
۱- مولانا آزاد کی علمی خدمات پر یا انکی سیاست پر؟
۲- مولانا مودودی کی علمی قابلیت پر یا انکی سیاست پر؟
اگر موضع مندرجہ بالا دونوں حضرات کی علمی قابلیت ہے تو اس سے کوئی انکار نہیں دونوں بہت قابل تھے اسلیے یہ بحث ختم ہوجاتی ہے، لیکن اگر آپ انکی علمی قابلیت اور سیاست دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھ رہے ہیں تو دوسرے پلڑے میں محمد علی جناح کی شخصیت ہے، میں نے پہلے بھی آپ سے سوال کیا اور اب دوبارہ کررہا ہوں کہ قیام پاکستان کےنظریے میں مولانا آزاد صحیح تھے یا محمد علی جناح ؟

میں نے اپنے 7 لاین کے مضمون میں کہیں بھی مولانا مودودی کے بارئے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا تھا، اور صرف کامران خان اور مولانہ آزاد پر تنقید کی تھی ،اس سلسلے میں آپ سے پہلے محمد اشرف یوسف صاب نے لکھا اور میں نے انکو اپنی سوچ کے مطابق جواب دیا، لیکن آپ نے اس میں مولانا مودودی کو شامل کیا اسلیے میں نے مولانا مودودی کے بارئے میں آپکو جواب دیا، اب آپ کہہ رہے ہیں کہ خلافت اور ملوکیت کا ذکر مت کریں کیوں نہ کروں کیا یہ مولانا مودودی کی تحریر نہیں ہے، کسی کی تحریر اسکی پوری شخصیت کی آینہ دار ہوتی ہے- میں نے تو آپکو پہلے ہی لکھ دیا تھا " اول تو یہاں آپکو مولانا مودودی کا ذکر ہی نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ وہ کہیں بھی زیربحث نہیں تھے"۔ اب رہی بات کہ " قیام پاکستان میں علماء کا کیا رول تھا" تو عرض ہے کہ پاکستان 7 سال میں نہیں بن گیا، پاکستان 90 سال 1857سے 1947کی جہدوجہد کا نتیجہ ہے، اس میں مولانا محمد علی، مولانا شوکت علی، انکی والدہ اماں بی، سرسید احمد خان، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا حسرت موہانی، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی انکے علاوہ اور بہت سے ۔ یہ ہی میں نے پڑھا ہے البتہ مولانا مودودی قیام پاکستان کی تاریخ میں کہیں موجود نہیں ہیں- رہی جماعت کی سیاست کی تو وہ بھی یہاں موضوع نہیں ہے، ہاں اتنا ضرور عرض ہے کہ پاکستان میں ہیرون اور کلاشن کوف کا کلچر اسی جماعت اسلامی کی مہربانی ہے کیونکہ صرف جماعت اسلامی کو ہی ضیا کی بی ٹیم ہونے کا شرف حاصل تھا۔

آخر میں اپنے بہت ہی محترم بھائی محمد اشرف یوسف صاب کا خوبصورت اور بروقت شعر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ عرض کرونگا کہ واقعی " خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھول سے" اور یہ خوشبو صرف محمد علی جناح مرحوم میں ہی تھی ورنہ اس وقت کاغذ کے پھول بے شمار تھے- آپ کے لیے عرض ہے: گاندھی سے لیکر مولانا آزاد تک سب نے چاہا پاکستان نہ بنے مگر " جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹاسکتا ہے کون" پاکستان زندہ باد
آپکا دونوں محترم کا بے انتہا شکریہ