PDA

View Full Version : احادیث میں توہین رسالتﷺ کے واقعات



محمداشرف يوسف
10-11-2012, 03:16 PM
ان دنوں اہانت ِرسولﷺ پر دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا ہے، اور عالم کفر اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر یہ ’حق‘ چھیننے پر تلا بیٹھا ہے کہ وہ دنیا کی مقدس ومتبرک ترین شخصیت کی من مانی توہین کی اجازت حاصل کرے۔ اس مسئلہ کی دیگر تفصیلات سے قطع نظر ذیل میں ان احادیث کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں دورِ نبویؐ میں توہین رسالت کرنے والوں کے واقعات درج ہیں کہ رحمتہ للعالمین1 نے ایسے گستاخان کے ساتھ خود کیا سلوک روا رکھا؟ یہ احادیث جہاں ایک مسلمان کے ایمان وایقان کو تازہ کرتی ہیں، وہاں اسلام کے اہانت انبیا پر غیر متزلزل موقف کی بھی عکاس ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اپنے نبی کے حقوق پورے کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَبَّ نَبِیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَہُ جُلِدَ (الصارم المسلول، ص ۹۲)
’’جس نے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے کسی صحابی کو گالی دی، اسے کوڑے مارے جائیں گے۔‘‘ ( احکام اہل الذمہ لابن قیم ۱؍۲۷۵)
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
’’اگر اس حدیث کی صحت ثابت ہوجائے تو یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کریم کو گالی دینے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے گا، نیز یہ کہ قتل اس کے لئے حد ِشرعی ہے۔‘‘
اس سلسلے میں مختلف صحابہ کرامؓ کے فرامین حسب ِذیل ہیں:
حضرت ابو بکرؓ کا فرمان ہے :
لا واﷲ ما کانت لِبَشر بعد محمد ﷺ (سنن ابوداؤد: ۴۳۶۳’صحیح‘) مختصراً
’’اپنی توہین کرنیوالے کو قتل کروا دینا محمد ﷺ کے علاوہ کسی کے لئے روا نہیں ہے۔‘‘
حضرت عمرؓکے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبی ﷺ کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا:
من سبَّ اﷲَ أو سبَّ أحدا من الأنبیاء فاقتلوہ (الصارم المسلول: ص۴۱۹)
’’جس نے اللہ کویا انبیاے کرام ؑ میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کردیا جائے۔‘‘
حضرت علیؓ نے حکم دیاکہ ’’جس نے رسول اللہ1 کی توہین کی، اس کی گردن مار دی جائے۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق: ج۵؍ص ۳۰۸)
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا فرمان ہے :
أَیُّمَا مُسْلِمٍ سَبَّ اﷲَ وَرَسُولَہُ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَائِ فَقَدْ کَذَبَ بِرَسُولِ اﷲِ ﷺ وَہِیَ رِدَّۃٌ یُسْتَتَابُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلاَّ قُتِلَ وَأَیُّمَا مُعَاہِدٍ عَانَدَ فَسَبَّ اﷲ َأَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَائِ أَوْ جَہَرَ بِہِ فَقَدْ نَقَضَ الْعَہْدَ فَاقْتُلُوہُ(زاد المعاد ۵؍۶۰)
’’جس مسلمان نے اللہ یا اس کے رسول یا انبیا میں سے کسی کو گالی دی، اس نے اللہ کے رسولﷺ کی تکذیب کی، وہ مرتد سمجھا جائے گا اور ا س سے توبہ کروائی جائے گی، اگر وہ رجوع کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا اور جو معاہدہ کرنے والا شخص خفیہ یا اعلانیہ، اللہ یا کسی نبی کو بُرا کہے تو اس نے وعدے کو توڑ دیا، اس لئے اسے قتل کردو۔‘‘
اسی حوالے سے دورِ نبویؐ کے واقعات اور ان پر نبی کریم 1 کا ردّ عمل ملاحظہ فرمائیں:
1 واقعہ کعب بن اشرف
مسلم۱۸۰۱،بخاری ۴۰۳۷)
’’حضرت جابرؓکا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں؟ آپ ؐ نے فرمایا: ہاں! محمد بن مسلمہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے میں اس سے کچھ بات کروں (یعنی میں ا س سے مصلحت کے مطابق باتیں کروں، جن سے آپؐ کی برائی تو ہوگی، لیکن اس سے وہ میرااعتبار کرلے گا) آپﷺ نے فرمایا کہہ! (جو مصلحت ہو)۔ وہ کعب کے پاس آئے، اس سے باتیں کیں، اپنا اور محمدﷺ کا معاملہ بیان کیا اور کہا کہ اس شخص (یعنی رسول اللہﷺ) نے صدقہ لینے کا ارادہ کیا ہے اور ہمیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ جب کعب نے یہ سنا توکہنے لگا: بخدا ابھی تم کو اور تکلیف ہوگی۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: اب تو ہم نے اس کی اتباع کرلی ہے اور اس کو اس وقت تک چھوڑنا بُرا معلوم ہوتا ہے، جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لیں۔ محمد بن مسلمہ ؓنے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے ایک وسق یا دووسق قرض دے دو۔ کعب نے کہا: تم کیا چیز گروی رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے پوچھا: توکیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو میرے پاس گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ ؓنے کہا: تم تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں کیونکر تیرے پاس گروی رکھ دیں؟ کعب نے کہا: اچھا! اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ محمد نے کہا:ہمارے بیٹے کو لوگ طعنہ دیں گے کہ کھجور کے ایک وسق کے لئے گروی رکھا گیا تھا۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے۔ کعب نے کہا: ٹھیک ہے! پھر محمد بن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ میں حارث (بن اوس)، ابوعبس بن حبیب اور عباد بن بشر کو لے کر آؤں گا۔ یہ آئے اور رات کو اسے بلایا۔ جب وہ ان کی طرف جانے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: مجھے ایسے لگتا ہے جیسے اس آواز سے خون ٹپک رہا ہو۔کعب نے کہا واہ! یہ تو محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اور باہمت مرد کا کام یہ ہے کہ اگر رات کو بھی اسے لڑائی کے لئے بلایا جائے تو چلا آئے۔ محمد (بن مسلمہ)نے (اپنے ساتھیوں سے)کہا کہ جب کعب آئے گا تو میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا اور جب وہ میری گرفت میں آجائے تو تم اپنا کام کرجانا۔ پھر کعب خوشبو لگائے ہوئے آیا تو اُنہوں نے کہا: تم سے کتنی عمدہ خوشبو آرہی ہے۔ کعب نے کہا: ہاں! میرے ہاں فلاں عورت ہے جو عرب کی سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے۔ محمدبن مسلمہ نے کہا اگر تم اجازت دو تو میں تمہارا سر سونگھ لوں۔ کعب نے کہا: ہاں اجازت ہے ! محمد نے اس کا سرسونگھا، پھر پکڑا پھر سونگھا پھر کہا: اگر اجازت دو تو دوبارہ سونگھ لوں ؟ اور اسے اچھی طرح تھام لیا پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: اس کا کام تمام کردو! اُنہوںنے اسے قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو خبر دی۔ ‘‘
2نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا
ذَکَرْتُکَ فَوَقَعَتْ فِیکَ قُمْتُ اِلَی الْمِغْوَل فَوَضَعْتُہُ فِی بَطْنِہَا فَاتَّکَأْتُ عَلَیْہَا حَتَّی قَتَلْتُہَا فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ ﷺ أَلاَ أَشْہِدُوا إِنَّ دَمَہَا ہَدْرٌ
’’حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ1 کے زمانہ میںایک نابینا شخص تھا، اس کی ایک (امّ ولد) لونڈی تھی جس سے اس کے دو بچے تھے، وہ اکثر اللہ کے رسولﷺ کو بُرا بھلا کہتی۔ نابینا اسے ڈانٹتا لیکن وہ نہ مانتی، منع کرتا تو وہ باز نہ آتی۔ ایک رات اس نے نبی کریمﷺ کا ذکر کرتے ہوئے بُرا بھلا کہا، وہ شخص کہتا ہے: مجھ سے صبر نہ ہوسکا، میں نے خنجر اٹھایا اور ا س کے پیٹ میں دھنسا دیا، وہ مرگئی۔ صبح جب وہ مردہ پائی گئی تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبیﷺ سے کیا۔ آپﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں اسے خدا کی قسم دیتا ہوں جس پر میرا حق ہے (کہ وہ میری اطاعت کرے) جس نے یہ کام کیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو، یہ سن کر وہ نابینا گرتا پڑتا آگے بڑھا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول1! یہ میرا کام ہے، یہ عورت میری لونڈی تھی اور مجھ پر بہت مہربان اور میری رفیق تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیرے جیسے بچے ہیں، لیکن وہ اکثر آپﷺ کو بُرا کہتی تھی، میں منع کرتا تو نہ مانتی، جھڑکتا تو بھی نہ سنتی، آخر گزشتہ رات اس نے آپ 1کا تذکرہ کیا اور آپؐ کی گستاخی کی، میں نے خنجر اٹھایا اور اس کے پیٹ میں مارا، یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سب لوگو گواہ رہو، اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے۔‘‘ (صحیح سنن نسائی: ۳۷۹۴، سنن ابو داود: ۴۳۶۱ ’صحیح‘)
3عمیر بن اُمیہ کا اپنی گستاخ بہن کو قتل کرنا
عَنْ عُمَیرِ بْنِ أُمَیَّۃَ أَنَّہُ کَانَتْ لَہُ أُخْتٌ فَکَانَ إِذَا خَرَجَ إِِلَی النَّبِیِّ ﷺ آذَتْہُ فِیہِ وَشَتَمَتِ النَّبِیَّ ﷺ وَکَانَت مُشْرِکَۃً فَاشْتَمَلَ لَہَا یَوْمًا عَلَی السَّیْفِ ثُمَّ أَتَاہَا فَوَضَعَہُ عَلَیْہَا فَقَتَلَہَا فَقاَمَ بَنُوہَا فَصَاحُوا وَقَالُوا قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَہَا أَفَتُقْتَلُ أُمُّنَا وَ ہَؤُلاَئِ قَوْمٌ لَہُمْ آَبَائٌ وَأُمَّہَاتٌ مُشْرِکُون فَلَمَّا خَافَ عُمَیْرٌ أَنْ یَقْتُلُوا غَیرَ قَاتِلِہَا ذَہَبَ إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: أَقَتَلْتَ أُخْتَکَ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: إِنَّہَا کَانَت تُؤْذِینِی فِیکَ فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ ﷺ إِلَی بَنِیہَا فَسَأَلَہُمْ، فَسَمُّوا غَیرَ قَاتِلِہَا، فَأَخْبَرَہُمُ النَّبِیُّ ﷺ وَأَہْدَرَ دَمَہَا
’’حضرت عمیر بن اُمیہؓ کی ایک بہن تھی۔ جب یہ نبی کریمﷺ کے پاس جانے کے لئے نکلتے تو یہ اُنہیں آپﷺ کے بارے میں اذیت دیتی اور نبی کریمﷺ کو گالی دیتی، وہ مشرک تھی۔ ایک دن عمیر نے اس کے لئے تلوار لپیٹ کرساتھ اٹھا لی اور اس کے پاس آئے اور اس سے قتل کردیا۔ اس عورت کے بیٹے کھڑے ہوگئے اور چیخنے لگے اور کہنے لگے: ہمیں معلوم ہے، اسے کس نے قتل کیا؟ یہ کیسے ہوا کہ ہماری ماں قتل کردی گئی جبکہ ان لوگوں کے ماں باپ بھی مشرک ہیں؟ جب عمیرؓ کو خطرہ لاحق ہوا کہ وہ کہیں اس کے قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو قتل نہ کردیں تو وہ نبی کریم1 کے پاس آئے اور سارے معاملے کی خبر دی، آپ1 نے فرمایا: کیا تو نے اپنی بہن کو قتل کردیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! نبی کریمﷺ نے پوچھا: تو نے اسے کیوں قتل کیا ہے؟ عمیرؓنے جواب دیا: وہ آپﷺ کو بُرا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف دیتی تھی۔ آپﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیج کر، ان سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کسی اور کا نام لیا۔ آپﷺ نے انہیں صحیح قاتل کے بارے میں بتایا اور اس عورت کا خون رائیگاں قرار دیا۔‘‘ (مجمع الزوائد ۶؍۲۶۰ ،رواتہ ثقات)
4بنو خطمہ کی گستاخ عورت کا قتل
تَسْرِی فِی طَاعَۃِ اﷲِ فَقَالَ: لاَتَقُلِ الأَعْمَی، وَلَکِنَّہُ الْبَصِیرُ۔ فَلَمَّا رَجَعَ عُمَیرُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اﷲِ ﷺ وَجَدَ بَنِیہَا فِی جَمَاعَۃٍ یَدْفَنُونَہَا فَأَقْبَلُوا إِلَیہِ حِینَ رَأَوْہُ مُقْبِلًا مِنَ الْمَدِینَۃِ فَقَالُوا: یَاعُمَیرُ أَنْتَ قَتَلْتَہَا فَقَالَ: نَعَمْ۔ فَکِیدُونِ جَمِیعًا ثُمَّ لاَتُنْظِرُون۔ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْقُلْتُمْ بِأَجْمَعِکُمْ مَا قَالَتْ لَضَرَبْتُکُمْ بِسَیفِی ہَذَا حَتَّی أَمُوتَ أَوْ أَقْتُلَکُمْ فَیَوْمَئِذٍ ظَہَرَ الإِسْلاَمُ فِی بَنِی خُطَمَۃَ وَکَانَ مِنْہُمْ رِجَالٌ یَسْتَخْفُونَ بِالإِسْلاَمِ خَوْفًا مِنْ قَوْمِہِمْ
’’حضرت عبداللہ بن حارث بن فضل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عصما بنت ِمروان جو بنو اُمیہ بن زید خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور یزید بن زید بن حصین خطمی کی بیوی تھی۔یہ نبی1کو ایذا پہنچاتی، اسلام پر عیب جوئی کرتی اور لوگوں کو نبی کریمﷺ کے خلاف اُبھارتی تھی اور اکثر یہ اشعار پڑھا کرتی تھی: ’’بنو مالک، نبیب اور عوف کی سرین اور بنو خزرج کی سرین کی تم پیروی کرتے ہو۔کیا وہ تمہیں دوسرے سے پناہ دیتی ہے، جبکہ نہ اس سے مراد پوری ہوتی ہے اور نہ بچہ جنم لیتاہے۔تم سروں کے کٹنے کے بعد اس سے ایسے ہی امید کرتے ہو جیسے گو شت بھننے کے لئے لگائی گئی سلاخ سے شوربے کی اُمید کی جائے۔‘‘
عمیر بن عدی خطمی کہتے ہیں: جب اس عورت کے یہ اشعار اور نبی کریمﷺ کے خلاف ترغیب مجھ تک پہنچی تو میں نے نذر مان لی کہ اے اللہ! اگر تو نے اپنے رسول ﷺ کو مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو ضرور قتل کروں گا۔ اس روز رسول اللہﷺ بدر میں تھے۔ جب رسول اللہﷺ واپس آئے تو عمیر بن عدیؓ رات کی تاریکی میں اس کے گھر میں داخل ہوگئے۔ اس وقت اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے جن میں سے ایک کو وہ اپنا دودھ پلا رہی تھی۔ جب اس نے اپنے ہاتھ سے چھوکر دیکھا تواس کو لگا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچہ اس سے علیحدہ کیا اور اپنی تلوار اس کے سینے پر رکھی اور اس کے پیٹ کے پار اُتار دی۔ پھر وہ وہاں سے نکلے اور نبی کریمﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ نبی کریمﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے اور عمیر کی طرف دیکھا تو فرمایا: کیا تو نے مروان کی بیٹی کو قتل کردیا ہے؟ عمیر نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسولﷺ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ عمیر کو ڈر محسوس ہواکہ کہیں اس کے قتل کی وجہ سے اللہ کے رسولؐ ناراض نہ ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا اس کا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں۔ میں نے رسو ل اللہﷺ کی زبان سے یہ محاورہ پہلی مرتبہ سنا تھا۔ عمیر کہتے ہیں! پھر نبی کریمﷺ اپنے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر تم کسی ایسے آدمی کو دیکھنا پسند کرو جس نے غیب میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نصرت کی ہے تو عمیرؓ بن عدی کو دیکھ لو۔ عمر بن خطاب ؓنے کہا کہ اس نابینے کی طرف دیکھو جو کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت میں چلتا ہے، آپؐ نے فرمایا: اسے نابینا مت کہو یہ تو بینا ہے۔ عمیرؓ جب رسول اللہﷺ کی خدمت سے واپس لوٹے تو اپنے بیٹوں کو لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر اسے دفن کرتے ہوئے پایا، جب ان لوگوں نے انہیں مدینہ کی جانب سے آتے ہوئے دیکھا تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: اے عمیرؓ! کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ عمیرؓ نے جواب دیا: ہاں! چاہو تو تم سب میرے خلاف تدبیر کرلو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم سب بھی وہی بات کہو جو اس نے کہی تھی تو میں تم سب کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا یا خود مرجاؤں گا۔ یہی وہ دن تھا کہ بنو خطمہ قبیلے میں اسلام غالب ہوا ورنہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی قوم کے ڈر سے اسلام کو حقیر سمجھتے تھے۔‘‘
(المغازی للواقدی ۱؍۶۴،۱۷۳؛ الصارم المسلول علی شاتم الرسول۹۴، ۹۵، مجمع الزوائد : ۶؍۴۶۰)
5عبد اللہ بن خطل اور عبد اللہ بن ابی سرح کا واقعہ
یہ شخص پہلے مسلمان ہوگیا تھا، آپ نے اسے عاملِ زکوٰۃ بنا کر بھیجا تو صدقات وصول کرنے کے بعد راستے میں اپنے غلام سے ناراض ہوکر اسے قتل کردیا اور خود مرتد ہوگیا۔ صدقات کے اونٹ ساتھ لے گیا اور جاکر مشرکین مکہ سے مل گیا۔ یہ نبی کریمؐ کی شان میں ہجوگوئی کیا کرتااور اپنی دو لونڈیوں کو کہتا کہ ان اشعار کو گا کر لوگوں کو سناؤ۔ قرتنی اور قریبہ اس کی لونڈیوں کے نام تھے۔ جن میں سے ایک ماری گئی اور دوسری نے امان کی درخواست کی جسے امان دے دی گئی۔ (الصارم المسلول: ۱۳۲، زرقانی شرح موطا: ۲؍ ۳۱۵، ۳۱۴، المغازی: ۲؍ ۸۶۰، ۸۵۹)
جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو نبی کریمﷺ نے چار اشخاص اور دو عورتوں کے ماسوا سب کو امان دے دی۔ مُصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم1 نے فرمایا:
اقتلوہم وإن وجدتموہم متعلقین بأستار الکعبۃ : عکرمۃ بن أبي جہل وعبد اﷲ بن خطل ومقیس بن صبابۃ وعبد اﷲ بن سعد بن أبي السرح فاستبَق إلیہ سعید بن حُریث وعمار بن یاسر فسبق سعید عمارًا وکان أشب الرجلین فقتلہ… وأما عبد اﷲ بن أبي سرح فإنہ اختبأ عند عثمان بن عفان فلما دعا رسول اﷲ ﷺ الناس إلی البیعۃ جاء بہ حتی أوقفہ علی النبي۔ قال: یا رسول اﷲ بایع عبد اﷲ۔ قال فرفع رأسہ فنظر إلیہ ثلاثًا کل ذلک یأبٰی۔فبایعہ بعد ثلاث ثم أقبل علی أصحابہ فقال: أما کان منکم رجل رشید یقوم إلی ہذا حیث رأني کففت یدي عن بیعتہ فیقتلہ فقالوا: وما یدرینا یا رسول اﷲ ! ما في نفسک ھلا أومأت إلینا بعینک؟ قال إنہ لا ینبغي لنبي أن یکون لہ خائنۃ أعین (سنن نسائی:۴۰۷۲،بخاری: ۱۸۴۶)
’’ان افراد کو جہاں بھی پائو حتیٰ کہ کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے بھی ملیں تو ان کو قتل کردو:عکرمہ، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح۔ چنانچہ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر نے عبد اللہ بن خطل کو (بیت اللہ کے پردوں پر لٹکا) پالیاتو سعید نے زیادہ جوان ہونے کی وجہ سے عمار پر سبقت کرکے اسے قتل کردیا… جبکہ عبد اللہ بن سرح نے حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لے لی۔ پھر جب نبی کریمؐ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان نے عبداللہ کو وہاں پیش کردیا اور نبی کریمﷺ کو سفارش کی کہ اس سے بیعت فرما لیجئے۔ آپ نے تین بارسر اُٹھا کر عبد اللہ بن سرح کو دیکھا لیکن اس کا اسلام قبول نہ کیا، آخرکار تیسری باراس سے بیعت کرلی۔ پھر اپنے صحابہ سے گویا ہوئے : کیا تم میں کوئی سمجھ دار شخص نہیں تھا کہ جب میں عبد اللہ کی بیعت قبول کرنے سے انکار کررہا تھا تو وہ عبد اللہ کو قتل کردیتا؟ صحابہ ؓنے جواب دیا: ہمیں کیسے اس بات کا پتہ چلتا (کہ اس کو قتل کردیا جائے) ؟ آپ ہمیں آنکھ سے ہی اشارہ فرمادیتے تو نبی کریمﷺ نے جواب دیا کہ کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ آنکھوں سے اشارے کرے۔‘‘
فتح الباری میں عبد اللہ بن ابی سرح کا جرم ارتداد ذکر کیا گیا ہے۔(۱۲؍۹۵) جبکہ بعض دیگر کتب ِسیرت میں اس کو توہین رسالت کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔
بعض دیگر واقعات
6 عن البراء بن عازب قال بعث رسول اﷲ إلی أبي رافع الیہودي رجالا من الأنصار فأمّر علیہم عبد اﷲ بن عتیک وکان أبو رافع یؤذي رسول اﷲ ویعین علیہ (صحیح بخاری: ۴۰۳۹)
’’ رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع یہودی کوقتل کرنے کے لئے چند انصار کا انتخاب فرمایاجن پر عبد اللہ بن عتیکؓ کو امیر مقرر کیا گیا۔ اور یہ ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔‘‘ (مزید تفصیل دیکھیں: فتح الباری: ۷؍۳۴۲، ۳۴۳، تاریخ طبری: ۳؍۶)
7 عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِلْقِین: أَنَّ امْرَأَۃً سَبَّتِ النَّبِیَّ ﷺ فَقَتَلَہَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ(السنن الکبریٰ از امام بیہقی ۸؍۲۰۳)
’’حضرت عروہ بن محمد بلقین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیںکہ ایک عورت نے نبی کریمﷺ کو برُا بھلا کہا توحضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے قتل کردیا۔‘‘
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِلْقِیْن أَو قَالَ أُلْفِیَنَّ: أَنَّ امْرَأۃً کَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ مَنْ یَکْفِیْنِيْ عَدُوِّيْ؟ فَخَرَجَ إِلَیْہَا خُالِدُ بْنُ الْوَلِیْدُ فَقَتَلَہَا
(مصنف عبد الرزاق: ۹۷۰۵، المحلی از ابن حزم: ۱۱؍۴۱۳، الشفائ: ۲؍۹۵۱)
’’ ایک عورت نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، تو آپ نے فرمایا: میرے اس دشمن سے کون میرا بدلہ لے گا۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ گئے اور جاکر اس کو قتل کردیا۔‘‘
8عَنْ عَلِیٍّ أَنَّ یَہُودِیَّۃً کَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ وَتَقَعُ فِیہِ فَخَنَقَہَا رَجُلٌ حَتَّی مَاتَتْ فَأَبْطَلَ النَّبِیُّ دَمَہَا
(السنن الکبریٰ از امام بیہقی ۷؍۶۰، سنن ابو داود: ۴۳۶۲’ضعیف‘)
’’حضرت علیؓسے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریمﷺ کو گالی دیتی تھی اور آپؐ کی شان میںگستاخی کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا تو نبی کریم1 نے اس کے خون کو رائیگاں قرا ردے دیا۔‘‘ (یعنی خون کا قصاص نہیں لیا)
9 عن عِکْرِمَۃَ مَولَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَبِیَّ ﷺ سَبَّہُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَقَالَ: مَنْ یَکْفِینِي عَدُوِّي؟ فَقَالَ الزُّبَیرُ: أَنَا۔ فَبَارَزَہُ الزُّبَیرُ۔ فَقَتَلَہُ فَأَعْطَاہُ النَّبِيُّ ﷺ سَلَبَہُ (مصنف عبد الرزاق ۵؍۲۳۷، ۳۰۷، رقم۹۴۷۷)
’’حضرت عکرمہ جو ابن عباسؓ کے غلام ہیں، ان سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کو ایک مشرک نے گالی دی، نبی کریمﷺ نے فرمایا: میرے دشمن سے میرا بدلہ کون لے گا؟ حضرت زبیرؓ نے کہا: میں! حضرت زبیرؓ نے اس مشرک کو للکارا اور اسے قتل کردیا، نبی کریمﷺ نے مشرک کا مال غنیمت اُنہیں عطا کردیا۔‘‘
اس کے علاوہ بھی چند واقعات علماے سیر نے درج کئے ہیں مثلاً
10حویرث بن نقیدکی ہجو طرازی:نبی کریمﷺ نے جب اس کا خون جائز قرار دیا تو حضرت علیؓ نے اس کا کام تمام کردیا۔
(المغازی از واقدی: ۲؍۸۵۷)
11 بنو عمرو بن عوف کے شخص ابو عفک کا قتل:یہ ۱۲۰ سالہ بوڑھا شخص مدینہ منورہ آکر لوگوں کو آپؐ کی عداوت پربھڑکایا کرتا، بالخصوص غزوئہ بد ر کے بعد اس نے صحابہؓ اور حضورؐ کی شان میں ہجویہ قصیدہ کہا چنانچہ سالم بن عمیر نے اسے قتل کردیا۔ (الصارم المسلول: ص ۱۰۴)
12انس بن زنیم دیلی نے معاہد ہونے کے باوجود آپ کی ہجو گوئی کی، چنانچہ خزاعہ قبیلہ کے ایک نوجوان نے اس پر حملہ کرکے اس کے سر پر لکڑی کی چوٹ ماری۔لیکن اس نے اپنے گناہ کی معافی، اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی شان میں مدح گوئی کی اور معافی کا طالب ہوا۔ رحمتہ للعالمین1 نے اس کا خون پہلے رائیگاں قرار دینے کے باوجود اُسے معاف کردیا۔ ( المغازی: ۲؍۷۹۱، الصارم المسلول: ص ۱۰۶)
13 ایک نصرانی شخص کے بارے میں ہے جس نے رسول اللہﷺ کو گالیاں دی تھیں جس پر اس کو قتل کردیا گیا تھا۔ (مصنف عبد الرزاق: ج۵؍ص۳۰۷)
14 سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضورﷺ کی تکذیب کی۔ آپ1 نے علی ؓ اور زبیرؓ سے فرمایا: جاؤ اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کردو۔ (ایضاً:ج۵؍ص ۳۰۸)
15قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب الشفاء میں ابن قانع سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہﷺ ! میں نے اپنے والد کو آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا، اس لئے میں نے اسے قتل کردیا۔ تو آپ نے اس سے بازپرس نہیں فرمائی۔٭ (الشفائ: ۲؍۴۸۹)
رسول اللہ ﷺپر جھوٹ باندھنے یا آپ کو جھٹلانے والے کی سزا
اسلام کی رو سے جہاں ذاتِ نبویؐ کو غیرمعمولی عصمت وتقدس حاصل ہے، وہاں فرمانِ نبوی کی حیثیت بھی انتہائی قابل احترام ہے اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ نبی کریمﷺ کے ذمہ کسی قول کا بھی الزام عائد کرتا پھرے۔ ایسی کوتاہی پر جہاں زبانِ رسالت سے جہنم کی وعید صادر ہوئی ہے، وہاں دنیا میں بھی یہ امر سنگین سزا کا مستوجب ہے۔ حتی کہ زیر نظر واقعہ میں تونبی کریمﷺ نے ایسے شخص کو قتل تک کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
عَنْ سعید بن جبیر قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی قَرْیَۃٍ مِنَ قُرَی الأَنْصَارِ فَقَالَ:إِنَّ رَسُولَ اﷲِ ﷺ أَرْسَلَنِی إِلَیکُمْ وَأَمَرَنِی أَنْ تُزَوِّجُونِی فُلاَنَۃَ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِہَا: جَائَنَا ہَذَا بِشَیئٍ مَانَعْرِفُہُ مِنْ رَسُولِ اﷲِ ﷺ أنْزِلُوا الرَّجُلَ وَأَکْرِمُوہُ حَتَّی آِتیکُمْ بِخَبَرِ ذَلِکَ فَأَتَی النَبِیَّﷺ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ ﷺ عَلِیًّا وَالزُّبَیرَ فَقَالَ: إِذْہَبَا فَإِنْ أَدْرَکْتُمَاہُ فَاقْتُلاَہُ وَلاَ أَرَاکُمَا تُدْرِکَانِہِ قَالَ: فَذَہَبَا فَوَجَدَاہُ قَدْ لَدَغَتْہُ حَیَّۃٌ فَقَتَلَتْہُ فَرَجَعَا إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَأَخْبَرَاہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَتَبَوَأ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ
(دلائل النبوۃ از بیہقی ۶؍۲۸۴… البتہ اس حدیث کا آخری حصہ صحیح بلکہ متواتر ہے ، اس حدیث کی سند میں عطاء بن سائب ہے جس کی قبل از اختلاط علما نے توثیق کی ہے۔ سیر اعلام النبلاء ۶؍۱۱۰)
’’حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی تھا، وہ انصار کی ایک بستی کی طرف آیا اور کہا: مجھے رسول اللہﷺ نے تمہاری طر ف بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم فلاں عورت کی مجھ سے شادی کروا د و۔ اس عورت کے خاندان کے ایک آدمی نے کہا کہ یہ ہمارے پاس ایسی خبر لایا ہے جس کی رسول اللہﷺ کی طرف نسبت کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس آدمی کو عزت سے بٹھاؤ، یہاں تک کہ میں رسول اللہﷺ سے اس کے بارے کوئی اطلاع نہ لے آؤں۔ چنانچہ وہ شخص نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ کیا، آپﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو حکم دیا کہ جاؤ، اگر تم اسے پاؤ تو قتل کردینا، میرا نہیں خیال کہ تم اُسے پالو گے۔ وہ دونوں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اسے ایک سانپ نے ڈس کر ہلاک کر دیا ہے۔ اُنہوں نے واپس آکر نبی کریمﷺ کو اس بات کی خبر دی، آپﷺ نے فرمایا: جو مجھ سے غلط بات منسوب کرتا ہے، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔‘‘
ایسے ہی جو مسلمان شخص نبی کریمﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے، تو اس کو قتل کردینے کا تذکرہ بھی زیر نظر حدیث میں ملتا ہے۔ راقم کے پیش نظر یہاں ان واقعات کی تفصیلی بحث پیش نظر نہیں، اس لئے یہ واقعہ بلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے :
عَنْ مکحول قَالَ: کَانَ بَیْنَ رَجُلٍ مِّنَ الْمُنَافِقِینَ وَرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مُنَازَعَۃٌ فِی شَيئٍ فَأَتَیَا رَسُولَ اﷲِ ﷺ فَقَضَی عَلَی الْمُنَافِقِ فَانْطَلَقَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ: مَاکُنْتُ لأَقْضِی بَینَ مَنْ یَرْغَبُ عَنْ قَضَائِ رَسُولِ اﷲِ ﷺ فَانْطَلَقَا إِلَی عُمَرَ فَقَصَّا عَلَیْہِ فَقَالَ عُمَرُ: لاَتَعْجَلاَ حَتَّی أَخْرُجَ إِلَیْکُمَا فَدَخَلَ فَاشْتَمَلَ عَلَی السَّیفِ وَخَرَجَ فَقَتَلَ الْمُنَافِقَ ثُمَّ قَالَ ہَکَذَا أَقْضِی بَینَ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَائِ رَسُولِ اﷲِ ﷺ فَأَنْزَلَ اﷲُ {فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ۔۔۔} فَسُمِّیَ الْفَارُوقُ (تفسیر درمنثور: ۲؍۱۸۱، تفسیر ابن کثیر:۱؍۷۸۹ )
’’حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی مسلمان اور منافق کے درمیان، کسی بات پر جھگڑا ہوگیا، وہ دونوں رسول اللہﷺ کے پاس آئے، آپﷺ نے منافق کے خلاف فیصلہ فرما دیا۔ پھر وہ دونوں حضرت ابوبکرؓ کی طرف چلے گئے، انہوں نے کہا: جو رسول اللہﷺ کے فیصلے کو نہیں مانتا، میں اس کے درمیان فیصلہ نہیںکرسکتا۔ پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور ان سے سارا واقعہ بیان کیا۔ عمرؓ نے کہا: میرے واپس آنے تک تم یہیں ٹھہرنا، حضرت عمرؓ گھر سے تلوار سونت کرآئے اور منافق کو قتل کردیا اور کہا: جو رسول اللہﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لئے میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کردی۔ {فَلاَ وَرَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوک} اسی وجہ سے حضرت عمرؓ کا لقب ’فاروق‘ پڑ گیا۔ ‘‘
یہی واقعہ ایک اور حدیث میں یوں بھی بیان ہوا ہے کہ
عن أبي الأسود قَالَ: اِخْتَصَمَ رَجُلاَنِ إِلَی رَسُولِ اﷲِ ﷺ فَقَضَی بَیْنَہُمَا فَقَالَ الَّذِی قُضِيَ عَلَیْہِ رُدَّنَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَتَیَا إِلَیْہِ فَقَالَ الرَّجُلُ: قَضَی لِی رَسُولُ اﷲِ ﷺ عَلَی ہَذَا،فَقَالَ رُدِّنَا إِلَی عُمَرَ فَقَالَ:أَکَذَلِکَ؟قَالَ نَعَمْ۔فَقَالَ عُمَرُ: مَکَانَکُمَا حَتَّی أَخْرُجَ إِلَیْکُمَا فَأَقْضِی بَیْنَکُمَا فَخَرَجَ إِلَیْہِمَا مُشْتَمِلًا عَلَی سَیْفِہِ فَضَرَبَ الَّذِي قَالَ: رُدِّنَا إِلَی عُمَرَ،فَقَتَلَہُ فَأَنْزَلَ اﷲُ {فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ۔۔۔} (لباب النقول ۱؍۹۰؛ درمنثور۲؍۱۸۰)
’’حضرت ابو اسود بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دو آدمی رسول اللہﷺ کے پاس ایک جھگڑا لے کر آئے، آپﷺ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، اس نے کہا کہ عمرؓ کے پاس چلتے ہیں۔ جب وہ دونوں حضرت عمرؓ کے پاس آئے تو دوسرے آدمی (جس کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا تھا) نے کہا کہ رسول اللہ1 نے اس آدمی کے خلاف میرے حق میں فیصلہ فرما دیا ہے، لیکن اس نے کہا: عمرؓ کے پاس چلئے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا: کیا ایسے ہی ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! حضرت عمرؓ نے کہا: تم دونوں یہیں ٹھہرو، میں ابھی آکر تمہارا فیصلہ کرتا ہوں۔ حضرت عمرؓ تلوار سونت کر آئے اور جس نے کہا تھا کہ عمرؓ کے پاس چلو، اسے قتل کردیا۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: {فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَیُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ۔۔۔} ’’تیرے ربّ کی قسم! یہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے، جب تک تجھے اپنے جھگڑوں میں قاضی تسلیم نہ کرلیں۔‘‘ (النساء ۴: ۶۵)
ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیرمیں (۳؍۹۹۴) اور دیگر اہل علم نے اس حدیث کو ابن لہیعہ کے طریق سے روایت کیا ہے لیکن یہ طریق ضعیف ہے۔ البتہ ابو مغیرہ اور شعیب بن شعیب کے طرق سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ لہٰذا حافظ ابن کثیر نے ان شواہد کی بنا پر اس روایت کو قوی شمار کیا ہے۔ (مسند الفاروق: ۲؍۸۷۶، بحوالہ أقضیۃ الخلفاء الراشدین: ۲؍ ۱۱۸۸)