PDA

View Full Version : سیاسی لٹیروں کا کیسا یہ دور ہے



سید انور محمود
10-11-2012, 08:56 PM
از: سید انور محمود
سیاسی لٹیروں کا کیسا یہ دور ہے
کرپشن، کرپشن، کرپشن کا دور ہے
بچپن میں کہانیاں بڑے شوق سے سنا کرتے تھے ۔ يہ کہانياں گو مبالغہ آميز ہوتيں ليکن اپنے اندر ايک سبق لئے ہوئے بچوں اور بڑوں کيلئے بھی تربيت کا ايک طريقہ ہوتی تھيں۔
ايک کہانی جو عام تھی يہ کہ ايک ملک کا بادشاہ مر گيا۔ شورٰی نے فيصلہ کيا کہ جو شخص فلاں دن صبح سويرے سب سے پہلے شہر ميں داخل ہو گا اُسے بادشاہ بنا ديا جائے گا ۔ اس دن سب سے پہلے ايک فقير داخل ہوا سو اُسے بادشاہ بنا ديا گيا۔ فقير کو حلوہ کھانے کا بہت شوق تھا۔ اس نے حلوہ پکانے کا حُکم ديا اور خوب حلوہ کھايا۔ دوسرے دن پھر حلوہ پکوايا اور خوب کھايا۔ فقير حلوہ پکوانے اور کھانے ميں لگا رہا۔ سلطنت کے اہلکار حلوے کا بندوبست کرنے ميں لگے رہے اور ملک تباہ ہو گيا۔ جب فقیرکو پتہ چلا کہ اب سلطنت اس قابل نہیں کہ اُسکو مزید حلوہ کہلاسکے اُس نے اپنا کشکول اٹھایا اور یہ کہتا ہوا کہ جس کا ملک وہ ہی رکھیں اور پھر بھيک مانگنے چل پڑا۔
اس کہانی کولکھنے کا مقصد تو يہ تھا کہ فيصلے عقل سے ہونے چاہئيں اور آیندہ حلوہ کھانے والے فقير سے بچاجاے۔ حد تو یہ ہے کہ اُنہيں بھی کوئی قصوروار نہيں کہتا جو ملک و قوم کو بھول کر حريص بادشاہ کی خوشامد ميں لگے رہے اور اپنے مناصب کا کام نہ کيا جس سے ملک تباہ ہوا اور قوم بدحال۔
لٹیروں کا ہی دور ہے لٹیروں کا ہی زور ہے
لٹیروں سے بندھی ہوی لٹیروں کی ڈور ہے
یہاں سیاست میں ملاوں کا بھی بڑا زور ہے
نشاں کوی بھی ہو لٹیروں کا ہی دور ہے
آج پورے ملک میں امن و امان کی حالت خراب ۔ کمر توڑ مہنگائی اور قومی دولت کی لُوٹ مار ہے ۔ لاکھوں گھروں میں نہ بجلی ہے نہ پانی اور نہ ہی گیس ۔ کارخانوں کے لاکھوں مزدور اور ہُنر مند دو وقت کی روٹی اور پانی بجلی گیس کے بلوں کی ادائیگیوں کیلئے ذلت کی انتہائی گہرائیوں میں گر چکے ہیں ۔ سرکاری دفاتر ميں بغیر رشوت دیئے جائز کام بھی نہیں ہوتے ۔ نہ گھروں میں لوگ چوروں ڈاکوؤں سے محفوظ ہیں اور نہ ہی سڑکوں بازاروں میں۔
کرپشن نے لکھی ہے ساری کہانی
بنا رشوت نہ بجلی ہے نہ پانی
یہاں سانس لینے کی قیمت لگے گی
گھروں سے نکلتے ہی رشوت لگے گی
غریب آدمی سے ملک کی موجودہ بد تر حالت کو تبدیل کرنے کیلئے باہر نکلنے کو کہیں تو وہ کہتے ہیں ہم میں تو طاقت ہی نہیں ہے۔ مڈل کلاس والوں سے کہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس تو وقت ہی نہیں ہے۔ اور امیر کو کوئی ضرروت ہی نہیں ہے۔ سب شائد یہ بھول گئے ہیں کہ جب آگ بھڑک اُٹھے اور سب مل کر اسے نہ بجھائیں تو وہاں رہنے والے سب برباد ہو جاتے ہیں۔ پھر نہ کوی غریب رہے گا اور نہ مڈل کلاس اور امیر۔ اٹھو اب بھی وقت ہے کہ اس علی بابا اور چالیس چوروں کے ٹولے کو حلوہ کھانے سے روکو ورنہ حلوہ تو کیا حلوہ کا برتن بھی نہیں بچے گا۔
نہ قاید کے اقوال سلامت رہے
نہ اقبال کے خواب سلامت رہے
لڑای ابھی ہم کو رکھنی ہے جاری
ہے آزادی اب تک ادھوری ہماری
اُمید نہِیں وہ اپنے گیرباں میں جھانکیں
دعا ہے اب عوام کی ہی کھل جایں آنکھیں
خدارا اب لازمی جلد عوامی انقلاب لاوُ
معیشت کے ان دہشت گردوں کا بھگاؤ
سیاسی لٹیروں کا کیسا یہ دور ہے
کرپشن، کرپشن، کرپشن کا دور ہے
--------------------------------------
پاکستان زندہ باد – پاکستان پایندہ باد

بےباک
10-11-2012, 09:22 PM
لٹیروں کا ہی دور ہے لٹیروں کا ہی زور ہے
لٹیروں سے بندھی ہوی لٹیروں کی ڈور ہے
یہاں سیاست میں ملاوں کا بھی بڑا زور ہے
نشاں کوی بھی ہو لٹیروں کا ہی دور ہے

بہت خؤب ابو نبیل جی ، زبردست اور شاندار

pervaz khan
10-12-2012, 01:22 PM
اچھی شئیرنگ کے لئے بہت شکریہ

انجم رشید
10-12-2012, 08:12 PM
بہت خوب