PDA

View Full Version : گل مکئی ملالہ یوسف زئی اللہ تعالی تمیں سلامت رکھے



سید انور محمود
10-11-2012, 05:27 PM
از: سید انور محموُد
علامہ محمد اقبال نے بچوں کے لیے ایک دعایہ نظم " لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" لکھی تھی – آج مجھے اِیسا لگ رہا ہے کہ اقبال نے شایدیہ نظم گل مکئی جیسے بچوں کیلے لکھی تھی-
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
دعا خدا كے نزدیك سب سے پسندیدہ عمل٬ میں پوری پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ملالہ یوسف زئی کے لیے اُس کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا کریں-
پیاری بیٹی ملالہ اللہ تعالی تم کو جلد مکمل صحتیابی عطا کرے ، آمین اور تم پوری قوم کو علامہ اقبال کی نظم " لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" زور زور سےسنانا اور اتنی زور سےسنانا کہ دہشتگرخوف سے نیست ونابود ہوجایں- کیونکہ اب ہم پاکستانیوں کو تم جیسے بچوں میں ہی روشنی کی کرن نظر آتی ہے- گل مکئی پوری قوم تماری مکمل صحتیابی کے لیے دعاگو ہے-
طالبان دہشت گردوں اور اُن کے حواریوں تم بہت بزدل ہوایک نہتی اور معصوم بچی پر حملہ کرتے ہو پھر بزدلوں کی طرح چھپ جاتے ہو- آج پوری قوم تمارے خلاف سراپا احتجاج ہے- تم مسلمان تو کیا انسان بھی کہلانے کے لایق نہیں ہو- ایک پیغام تمارے لیے ہے کہ تم کچھ بھی کرلو اس قوم کو نہیں ہراسکتے جہاں ملامہ جیسی بچییاں موجود ہوں- پاکستان زندہ باد

admin
10-11-2012, 06:36 PM
بہت خوبصورت شئیرنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید انور محمود
10-11-2012, 06:54 PM
اسلام علیکم
ہمت افزای پر آپ کا بے انتہا شکرگذارہوں-

بےلگام
10-11-2012, 06:59 PM
بہت خوب جناب

بےباک
10-11-2012, 09:24 PM
سبق آموز دعا لکھنے پر آپ کے لیے ستائش اور محبت کے جزبات اور ہماری طرف سے آپ کا بے حد شکریہ ،
محترم ایسے ہی لکھتے رہیے گا ،:photosmile:

سید انور محمود
10-11-2012, 10:34 PM
از: سید انور محموُد
پاکستان کی 14 سالہ ستارہ جرات یافتہ طالبہ، بہادر بیٹی ملالہ یوسف زئی طالبان دہشتگردوں کی دہشت گردی کا شکار ہوکر اس وقت ہسپتال میں ہے اور پاکستان کا ہر شخص اُسکے لیے دعا گو ہے- برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھنے والی اس طالبہ ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سروس کےلیے ڈائری لکھی جس میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔ ہالینڈ کی بین الاقوامی تنظیم’ ِکڈز رائٹس‘ کی طرف سے۔ انہیں دو ہزار گیارہ میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ وہ پہلی پاکستانی کم سن لڑکی ہیں جنھیں اس ایوارڈ کےلیے نامزد کیا گیا ہے۔حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان دہشت گردوں کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور ستارہ جرات بھی دیا تھا۔ سوات میں 2009 میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد ملالہ یوسف زئی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُس وقت خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ’’زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ طالبان کے اعلٰی کمانڈر ابھی زندہ ہیں اور وہ دوبارہ منظم ہو سکتے ہیں۔ ابھی زیادہ خوف نہیں ہے لیکن کبھی کبھی ہم ڈر جاتے ہیں کہ کہیں ایسا نا ہو کہ طالبان پھر آ جائیں‘‘ اور طالبان دہشتگردوں کے آج کے ان پر ہونے والے حملے نے اس خدشہ کو درست ثابت کردیا۔ آخر کیا قصور تھا اس معصوم، کیا یہ قصور کہ وہ بچیوں کی تعلیم کےلیے عملی جہدوجہد کررہی ہے - گل مکئی کا کہنا تھا کہ اگر لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کریں گی تو نہ ہی کوئی لیڈی ڈاکٹر ہوگی اور نہ استانی۔ مگر اُس کی خواہش ہے کہ وہ ایک سیاست دان بنیں۔ اسکا سب سے بڑا قصوریہ ہے کہ وہ طالبان دہشت گردوں کو دہشت گرد ہی کہتی ہے- آج جب پاکستانی سیاست میں منافقت عام ہے اور ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے کے بعد پاکستان کی کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے مذمتی بیان سامنے آئے ہیں لیکن صرف عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور متحدہ قومی موومنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کھل کر اس حملے کی فوری طور پر اور شدید الفاظ میں مذمت کی- باقی صدر، وزیراعظم، شریف برادران، عمران خان اورباقی سب کو طالبان کا اسقدر خوف ہے کہ صرف مذمت سے ہی کام چلالیا- باقی رہ گی جمات اسلامی وہ کیوں بولے گی اسکی تو طالبان دوستی سب کو معلوم ہے- مولانا فضل الرحمان کا کہیں دور دور پتہ نہیں- عافیہ صدیقی پر اگر امریکہ نے ظلم کیا تو غلط، جی ہاں بلکل غلط مگر اے مصلحت پسند سیاستدانوں ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے پر طالبان کی مذمت کرنے پر کیا مصلحت ہے۔ کا لعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘۔اول تو یہ الزام ہی جھوٹا ہے اور اس الزام کی سزا ایک چودہ سالہ بچی کےلیے یہ ہے تو پھر وقت آ گیا ہے طالبان دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان دہشت گردوں کو کھلا چھوڑنا پاکستان کے ہر گز مفاد میں نہیں- آیےَ ہم سب ملکر دعا کریں کہ اللہ تعالی ملالہ یوسف زئی کو جلد از جلد مکمل صحتیابی عطافرماےَ۔ آمین

pervaz khan
10-12-2012, 01:18 PM
عمدہ شئیرنگ کے لئے بہت شکریہ

انجم رشید
10-12-2012, 06:01 PM
اللہ تبارک و تعالی ملالہ کو صحت کاملہ عطاءفرمائے آمین ثم آمین

سید انور محمود
10-12-2012, 09:56 PM
اللہ تبارک و تعالی آپکی اور ساری قوم کی دعا کو قبول فرماے اور بیٹی ملالہ کو جلد از جلد صحت کاملہ عطاءفرمائے آمین ثم آمین - آپ یقین کریں جب سے اس بچی پر ظلم ہوا دل بہت اداس ہے- آپکا بہت بہت شکریہ۔