PDA

View Full Version : ملالہ يوسفزی – بہادری اور امن کی ايک علامت:



اذان
10-09-2012, 08:29 PM
چودہ برس کی ملالہ پر طالبان کا حملہ
http://urdulook.info/imagehost/?di=LQSOhttp://urdulook.info/imagehost/?di=0QDM
کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سوات سے تعلق رکھنے والی امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی منگل کو سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی ہیں۔
اسی بارے میں
گردن میں گولی لگنے کے بعد ملالہ ہسپتال میں
گل مکئی پر حملے کے بعد مینگورہ سکتے میں
ملالہ کے لیے دس لاکھ اور امن ایوارڈ
متعلقہ عنوانات
پاکستان
تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کے ملالہ یوسف زئی پر حملہ اس لیے کیا گیا کیوں کہ ان کے خیالات طالبان کے خلاف تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ملالہ اپنی طالبان مخالف فکر کا برملا اظہار بھی کرتی رہی ہیں لہٰذا ان پر حملہ کیا گیا ہے۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملالہ کے خیالات سیکولر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملالہ کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔
احسان اللہ احسان نے حملے کی وجہ بتاتے ہوئے مزید کہا کہ ملالہ بقول ان کے اپنے خیالات کے باعث اسلام مخالف خیالات رکھتی تھیں۔
مزید یہ کہ ایک موقع پر ملالہ یوسفزئی نے امریکی صدر براک اوباما کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ ’براک اوباما میرے آئیڈیل ہیں‘۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات میں ایک سکول وین پر فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی سمیت دو طالبات زخمی ہوئی ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن یوارڈ بھی دیا تھا۔ انہیں دو ہزار گیارہ میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔
ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔
ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے ڈائری لکھی جس میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔

انجم رشید
10-09-2012, 09:42 PM
اللہ تعالی ہی ان شیطانوں کو سزا دے
اللہ تبارک و تعالی بچیوں کو صحت کاملہ عطاء فرمائے اور ان کو اپنی امان میں رکھے ان شیطانوں سے محفوظ رکھے
آمین ثم آمین

pervaz khan
10-10-2012, 02:07 PM
اللہ تعالی ہی ان شیطانوں کو سزا دے
اللہ تبارک و تعالی بچیوں کو صحت کاملہ عطاء فرمائے اور ان کو اپنی امان میں رکھے ان شیطانوں سے محفوظ رکھے
آمین ثم آمین

آمین ثم آمین

گلاب
10-10-2012, 06:48 PM
میں تو اتنا کہوں گا یے پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کی ایک لڑی ہے اور نام ہر دفعہ طالبان کا لیا جاتا ہے جو کچھ ہوتا ہے طالبان کرتے ہیں کوی قتل ہوا تو طالبان کوئی خود کش بم پھٹا تو طالبان کا نام آخر یے کون ہیں طالبان ،، سوچنے کی بات ہے اگر ہیں تو ایجنسیوں سے پوشیدھ کیسے ہیں پھر پکڑے کیوں نھی جاتے ،،
سوچنے کی بات ہے میں تو کہتا ہو طالبان کا صرف ہوا کھڑا کیا گیا اصل مقاصد اصل لوگ اور ہیں باقی اللہ جانے کیا حقیقت ہے ہم لوگ تو صرف اپنے ذھن سے جو سوچتے ہیں بس وہ ہی کہتے ہیں ہمیں اصل حقیقت کا کیا پتا ِِِ۔۔۔ کاش اس کے اسباب معلوم کر سکیں،،
اللہ تعالی معصوم بچی کو صحت سے نوازے ،آمین ۔۔
http://awazepakistan.files.wordpress.com/2012/10/shot-pakistani-schoolgirl-malala-yousafzai-data.jpg?w=584&h=412

tashfin28
10-10-2012, 07:31 PM
ملالا یوسف زئی پر حملہ انسانیت کے خلاف ایک کھلا حملہ اور ايک بزدلانہ حرکت ہے

محترم ممبران،
السلام عليکم،

ہماری دلی مخلص تعزیت اور نيک دعائيں ملالا يوسفزئی کےخاندان اور دوستوں کے ساتھ ہيں کہ ٹی ٹی پی نے ایک 14 سالہ معصوم لڑکی کو سب سے زیادہ اپنے ايک پر تشدد،غیر انسانی اور سفاکانہ کارروائی کا نشانہ بنايا۔ اس میں کوئ شک نہیں،کہ یہ فعل ظلم، بربريت اور بزدلی کی ایک کھلی کاروائی ہے۔

ملالا یوسف زئی، بہادری کی ایک مثال،جو ٹی ٹی پی کے مظالم کے خلاف کھڑی ہوئی،اس پر طالبان کا حملہ ان کی حقیقی سیاہ چہرے،بری ذہنیت اور ان سے مجموعی طور پر تمام انسانیت کو لاحق سنگین خطرے کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔

یہ واقعی نہايت پریشان کن ہے کہ ملالا یوسف زئی سکول سے واپس آتے ہوۓ ان دہشتگردوں کے اس ظالمانہ غيرانسانی حملے ميں زخمی ہوئی۔ان طالبان دہشتگردوں کو انسان سمجھنا مجموعی طور پر انسانیت کی توہین کے برابر ہے۔

ميں فورم پر موجود ان ممبران سے ايک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جوطالبان کے پروپيگنڈے کا شکار ہوچکے ہيں اورجان بوجھ کر نام نہاد مقدس جنگ کے نام پر انسانیت کے خلاف طالبان کی سياسی عزائم کو حاصل کرنے کيلۓ جاری اس جيسے سفاکانہ جرائم کو نظر انداز کرتے ہيں۔ وہ کس طرح ایک معصوم 14 سالہ لڑکی کے خلاف اس انتہائی پر تشدد، سفاکانہ اور غیر انسانی فعل کا جواز پیش کر سکتے ہیں؟

معصوم لوگوں کے خلاف یہ باقاعدگی سے کی جانی والی دہشت گردی کی کارروائیاں واضح طور پر دہشت گردوں کی برائی، قتل اور دھمکیوں کے ذریعےاپنے سیاسی طاقت اور عزائم حاصل کرنے کے ایجنڈےکو ظاہر کرتی ہيں۔ يہ ذکر کرنا نہايت ضروری ہے کہ انتہا پسندوں کے خوفناک قتل کی کارروائیوں اور عسکریت پسندی کی وجہ سے پاکستان کی سالميت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

ملالا يوسفزئی پر اس حملے کا بڑے پیمانے پر پورے دنیا بھر میں لوگوں نے مذمت کی ہے۔ امريکی انتظاميہ اور دوسرے امن پسند اقوام سوات اور پاکستانی عوام کے ساتھ ان غیر انسانی درندوں کے خلاف ان کی جاری جنگ ميں ساتھ ساتھ کھڑے ہیں جو بلا امتیاز عورتوں اور بچوں سميت معصوم لوگوں کے قتل وغارت میں ملوث ہيں۔

بلاشک وشبہ،ان دہشت گردوں کو اپنے تشدد اور انتہا پسندی کے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے سے روکنے کےعلاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ ہی نہيں۔ ہم سمجھتے ہيں کہ اس وقت زیادہ سے زیادہ مل کر کام کرنےکی اشد ضرورت ہے تاکہ دہشتگردی کے خطرے کو ختم کرسکيں جو پاکستان بھرکے پرامن لوگوں کےليۓ ايک خطرہ بن چکی ہے۔

آخر میں، ميں يہ دوہرانا چاہتا ہوں کہ امریکی عوام اور امریکی حکومت سنجيدگی سے پاکستان کے عوام کو دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے مدد کریں گے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرينگےکہ مالا یوسف زئی جیسے بہادر لڑکیوں کو دوبارہ اس طرح کے درندے کبھی بھی نشانہ نہ بنا سکے۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu

انجم رشید
10-10-2012, 08:05 PM
محترم تاشفین جی کوئی بھی مسلم ایسی دہشت گرد کاروائی کی ہمایت نہیں کرتا اور نہ ہی اسلام ایسی دہشت گرد کاروایوں کی اجازت دیتا ہے میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ ان ظالموں کو انسان تو درکنار درندہ کہنا بھی درندوں کی توہین ہے یہ شیطان کے پیرو کار ہیں اسلام کے نہیں ۔
بات سوچنے والی ہے کہ یہ کون ہیں ان کی پشت پناہی کرنے والے کون ہیں کیوں کہ اتنا فنڈ ان کے اپنے پاس تو ہو نہیں سکتا اور نہ ہی ان کے پاس اتنے وسائیل ہیں آپ کے ملک کے قبضہ کرنے سے پہلے یہ دہشت گرد کاروایاں نہیں ہوتی تھیں اب کیوں ہو رہی ہیں کیا آپ کا ملک ان دہشت گردوں کو ختم کرنا چاہتا ہے یا آپ کا ملک پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے ان کو استمال کر رہا ہے آج خود وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ یہ دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں تو وہاں تو نیٹو اور آپ کے ملک کی فوج ہے پھر ان کو روکتے کیوں نہیں ۔
میں کل بھی کہتا تھا اور آج بھی کہتا ہوں یہ بھارت اور آپ کے ملک امریکہ کی ہمارے خلاف سازش ہے اور کچھ نہیں آپ آج علاقے سے نکل جایں یہ سب دہشت گردیاں ختم ہو جایں گی ۔

بےباک
10-11-2012, 12:00 PM
ہم سب اس معصوم بچی پر حملہ کے دکھی ہیں اور ان سب ظالمین کے مکمل خلاف ہیں اور ان کے لیے کوئی کلمہ خیر ہمارے پاس نہیں ہے ، چاہے وہ مسلمان ہوں یا یہود ہوں ، اردو منظر کی طرف سے ھر ایسے فعل شنیع کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے ۔۔۔
لیں جناب اس بارے میں چند رپورٹیں پیش کرتا ھوں ، کہ کس طرح ان کی فنڈنگ ھوتی ہے اور کون ھے جو ان حملہ آوروں کے پیچھے کھڑا ھے ، اور کس کے مقاصد پورے ہوتےدکھائی دیتے ہیں ، اور حملہ آور کس کے مقاصد پورے کر رھے ھیں ،اور کون سی طاقتیں اس حملہ میں پروپیگنڈا کو ھوا دے کر وزیرستان پر حملہ کرنے کے پر تول رہی ہیں ، صرف ملالہ یوسف زئی کا معاملہ نہیں ہے ، کہ بیک وقت پوری دنیا کے انسانی حقوق کے نمائندے شروع ھو گئے اور فرانس ، برطانیہ اور امریکا کے صدور بھی صرف اسی حملے پر ترکیز کرکے پروپیگنڈا مہم کا مرکزی مقصد کہ وزیرستان پر حملہ کیا جائے یا پھر افواج پاکستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ وزیرستان پر حملہ کر دے ، ذبیح اللہ کون ہے اور کیا وہ امریکنوں کی پہنچ سے دور ھے ، اور ملا فضل اللہ کون ھے جو ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہاہے ، کیا سوات پر افواج پاکستان کے حملوں کے وقت خود امریکہ کے ہیلی کاپٹروں پر اسے افغانستان نہیں لے جایا گیا ،
کیا اس نے وھان کیمپ نہیں بنا رکھے ،
کیا ان کو کراچی میں روزانہ پندرہ بیس قتل ہوتے دکھائی نہین دیتے ، کیا وہ انسان نہیں ، کیا وہاں بھی معصوم بچیاں اور کئی خاندان مارے جارے رہیں ،اور یہ سلسلہ لگاتار چل رہا ہے ،صرف ایک ملالہ ہی کیوں ، ہم ان سب حملوں کی مذمت کرتے ہیں ، یہ ذلیل کام مسلمان ھرگز نہین کرتے ، ایسا کام یہود کرتے ہیں جو آج بھی فلسطینیوں کو قتل کر رھے ھیں ۔ کیا آپ نے ان معصوم فلسطینی بچیوں کو نہین دیکھا تھا جو ساحل پر کھیل رہیں تھی اور ان پر اسرائیلی ہیلی کاپٹروں سے حملہ کیا گیا ، تو کیا اسرائیلی کی ناکہ بندی کر دی گئی تھی ۔ یا اسرائیل کی فوجی اور معاشی امداد بند کر دی گئی تھی ،۔بالکل نہیں
یہ رپورٹ دیکھیں ، http://www.chaaban.info/wp-content/uploads/2009/01/palestinian_children_killed_by_israeli_fire_in_gaz a.jpg
ایسی بے شمار تصاویر ہیں ،کس کو دکھاؤں ،کیسے کیسے نازک پھولوں کو کچل دیا گیا ،
یہ لنک دیکھیں ،ایسی بے شمار رپورٹیں موجود ہیں http://veracityvoice.com/?p=14188

اب پاکستان کے اخبار کی چند روپورٹوں کو تفصیل سے پڑھیے ، جو مولوی فضل اللہ کے پس پردہ کاشت کار ہیں ان کا چہرہ دکھائی دے گا۔
http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/08/120804-s2.gif
http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/08/120804-s2a.gif

بےباک
10-11-2012, 12:04 PM
http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/07/120724-s8.gif

http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/07/120724-s8a.gif

بےباک
10-11-2012, 12:08 PM
http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/07/120729-s1.gif
http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/07/120729-s1a.gif

بےباک
10-11-2012, 12:17 PM
آخر ان طالبان کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں کہ وزیرستان پر ایک تباہ کن حملہ کیا جائے ، یہ نوائے وقت کی رپورٹ دیکھیں ۔وہ کس کے مقاصد پورے کر رہے ہیں ، کیا وہ پاکستان کے مقاسد پورے کر رہے ہیں ،یا اسلام کے مقاصد ،،بالکل نہیں ، وہ یہود اور نصاری کے مقاصد پورے کر رہے ہیں اور اس کی آڑ میں وہ ہمارے ملک پر غیر ملکی طاقتوں کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں ، برائے کرم غور فرمائیے اس بات پر ۔سوچیے ،کیوں کیوں اور کیوں ؟؟؟؟
لاہور (اشرف جاوید/ دی نیشن رپورٹ) ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملہ پر جہاں پوری قوم غم و غصہ کی کیفیت میں ہے اس کے ساتھ حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کا دروازہ بھی بند ہو گیا ہے۔ اعلیٰ ترین ذرائع نے دی نیشن کو بتایا کہ ملالہ یوسفزئی پر طالبان کے اس حملہ سے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے اعلیٰ کمانڈروں میں بھی مایوسی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق طالبان اور القاعدہ کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں کارروائی کے امکانات ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس حملے سے سیاسی قیادت بھی بہت ڈسٹرب ہوئی ہے اور اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ مکمل اور بھرپور آپریشن ضروری ہے یا پھر شدت پسندوں کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کیا جائے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد کی صورتحال بھی زیربحث ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ اگر ملالہ بچ گئیں تو اس پر پھر حملہ کرینگے اس بیان نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے بڑی سنجیدگی سے لیا گیا ہے وزارت دفاع کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ملک کے حق میں بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقوام متحدہ کے کمشنر مہاجرین کی ایک روپورٹ کے مطابق ۱۔۸ ملین آبادی کے علاقہ مین ۳ سال پہلے ۱۲۰،۰۰۰ لڑکیاں سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تھین جو ، اب کم ہو کر صرف ۴۰،۰۰۰رہ گئین۔ ۳۰ فیصد سے زیادہ لڑکیاں سن ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۷ مین مولوی فضل اللہ کی دہمکی آمیز ریڈیو تقریروں کی وجہ سے سوات کے سکول چھوڑ گئیں۔ طالبان نے سوات میں سکول کی بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ2009 / Daily Times January 24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، ۷ سال عمر کے بچے ،خود کش بمبار بنانے کے لئے ۷۰۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰۰ ڈالر مین فروخت کئیے۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۰۹ مین انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد مین خود کش حملہ کیا جس مین ۶ افراد بشمول ۳ طالبات ہلاک ہو گئین۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۱۰ مین سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کو قتل کر دیا اور سوات طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ تحریک طالبان نے اسلامیہ یونیورسٹی، پشاور کے وائس چالسلر کو ستمبر ۲۰۱۰ مین اغوا کر لیا اور وہ ابھی تک طالبان کی قید میں ہین۔ طالبان نے ۱۹ جنوری 2011 کو پشاور کے ایک نجی سکول کے باہر دہماکہ کیا جس سے دو افراد ہلاک اور ۱۵ بچے زخمی ہو گئے۔۔ذرائع کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقہ کنڈاؤ خیل میں شدت پسندوں نے ۲۴ جنوری 2011 گرلز پرائمری سکول کو دھماکہ خیزمواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ ایجنسی بھر میں تباہ ہونیوالے سکولوں میں اب تک33 درسگاہیں شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہوچکی ہیں۔ یہ ہین ان طالبان کی قبیح حرکات و کرتوت جو پاکستان مین سکولوں کو تباہ کر کے،طلبا ،اساتذہ و دیگر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو قتل کرکے اسلامی نظام نافذ کرنے چلے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بےباک
10-11-2012, 12:28 PM
http://ummatpublication.com/2012/10/11/images/news-08.gif

بےباک
10-11-2012, 12:37 PM
http://ummatpublication.com/2012/10/11/images/story1.gif

بےباک
10-11-2012, 09:14 PM
آخر کار جو منصوبہ تھا اس کے نتائج فی الفور نکلنا شروع ہو گئے ، اور بی بی سی کی تازہ ترین خبر دیکھیے ،
عمران خان ڈارون حملوں کے خلاف مارچ کر رہے تھے ، پورا ملک ڈارون حملوں کے خلاف تھا اور ہے ،،مگر یہ ملالہ یوسف زئی پر کیا گیا حملہ ان سب مارچ اور ریلیوں کو بہا کر لے گیا ، اور امریکنوں اور وطن دشمن طاقتوں کا مقصد حل ہو گیا کہ پاکستان پر ڈارون حملوں کے خلاف پوری قوم یک زبان نہ رہے ، اور نیٹو سپلائی کے خلاف آواز نہ اٹھے ، اور اب وہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کی آڑ میں سب کچھ حاصل کر رہے ہیں جن کے حصول کے لیے امریکا ایڑیاں رگڑ رہا تھا ،
کیا وہ سب کچھ حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے ، سوچیے اور غور کیجیے ، اس میں کس نے کیا فوائد لپیٹے ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کی تازہ خبر
دو دن میں دوسرا ڈرون حملہ، بارہ ہلاک
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2012/10/06/121006023709_drone_protest_304x171_getty_nocredit. jpg
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ جمعرات کو بلند خیل کے علاقے میں ہوا اور ڈرون نے ایک مکان پر چار میزائل داغے۔
انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق حملے سے مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ وہاں کھڑی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
اس حملے سے مکان میں موجود بارہ افراد موقع پر ہی مارے گئے جبکہ چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
عسکری ذرائع نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ مرنے والے افراد کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے تھا۔حافظ گل بہادر گروپ عموماً شمالی وزیرستان کے علاقے میں سرگرم ہے۔
یہ دو دن میں پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ ہے۔ بدھ کو شمالی وزیرستان میں جاسوس طیارے کے حملے میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے دس اور گیارہ اکتوبر کو پاکستانی سرزمین پر ہونے والے ڈرون حملوں پر امریکی حکام سے احتجاج کیا ہے۔
بیان کے مطابق امریکی حکام کو بتایا گیا کہ پاکستانی علاقے میں ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین اور پاکستان کی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں اور پاکستان کو یہ حملے قبول نہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں۔ ان حملوں میں پاک امریکہ تعلقات کے دوران کمی یا وقتی تعطل آتا ہے تاہم یہ یہ حملے مکمل طور پر کبھی بند نہیں ہوئے۔
گزشتہ سال نومبر میں سلالہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد ان ڈرون حملوں میں تعطل آیا تھا تاہم کچھ عرصے کے بعد حملوں کا آغاز دوبارہ ہو گیا۔
پاکستان کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں۔ حال ہی میں سیاسی جماعت تحریکِ انصاف نے ان حملوں کے خلاف اسلام آباد سے قبائلی علاقہ جات تک ریلی بھی کی تھی۔

بےباک
10-12-2012, 09:57 AM
http://ummatpublication.com/2012/10/12/images/news-01.gif
ہمارے انٹیلجنس اور ذمہداران اداروں کا کام ہے کہ وہ احسان اللہ احسان اور اس طرح کے ان ظالموں کو پکڑیں ، جو ان کی پشت پناہی بھی کرتے ہیں ، اور ان کا بھی محاسبہ کریں
جو ہمارے ملک کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں ، کیا وزیرستان یا سوات اور گلگت ،یا بلوچستان میں ایک عرصے سے سرگرم این جی اوز اور غیر ملکی ایجنٹوں کو پکڑ کر لٹکا دینا چاھیے ، جو ہمارے ملک میں ڈاکٹر شکیل افریدی جیسے غدار پیدا کرتے ہیں اور ان تک کروڑوں ڈالر پہنچاتے ہیں ۔ اس اگلی فوٹو میں آپ ان امریکن اور سی آئی اے کے ٹرینرز اور ہنڈلرز کو بلوچ رھنماؤں سے ملتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جن کو بار بار روکا جاتا ہے اور یہ ریمنڈ ڈیوس جیسے ایجنٹ ہیں ، اس جیسے بہت سارے ایجنٹ ہیں جو این جی اوز ، اور اقوام متحدہ کے شیڈو میں کام کرتے ہیں یا امدادی تنظیموں میں یا فلاحی کاموں میں یا اخبار نویسوں کی شکل میں یہ کسی ملک میں گھس جاتے ہیں اور پھر اس ملک کے اندر اپنا نیٹ ورک بنا لیتے ہیں ، ان جیسوں سے نپٹنا ہمارے جاسوسی اداروں کا کام ہے ،اور عوام کو چاھیے کہ ان جیسے لوگوں کے عزائم کو سمجھیں ۔

http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/04/120425-s1.gif
http://ummatpublication.com/story/wp-content/uploads/2012/04/120425-s1a.gif

انجم رشید
10-12-2012, 05:45 PM
بے باک بھئی ان رپورٹوں سے لگتا تو یہی ہے کہ ملالہ پر حملہ ایسے ہی نہیں کیا گیا یہ ایک اور سوچی سمجھی امریکی سازش ہے جس میں ڈورن حملوں کا جاری رہنا پاکستان کو مجبور کرنا کہ وہ شمالی وزیر ستان میں فوجی آپریشن کرے توہین رسالت ( ص) پر جو احتجاج پاکستان میں ہو رہا تھا اس کو ختم کرنا اسلام کو بدنام کرنا پاکستان کو کمزور کرنا ڈورن حملوں کے خلاف احتجاج کو روکنا اور نہ جانے کون کون سے امریکی مفاد ہیں جو وہ ملالہ کو نشانہ بنوا کر حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
اے کاش اللہ تعالی ہمیں عقل کے ناخن دے اور ہم سوچنے کے قابل بنائے اور یہ طالبان حماتیوں کو ہدایت عطاءفرمائے آمین ثم آمین

بےباک
10-12-2012, 06:33 PM
بھائی سچ کہا ، ان لوگوں کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیوں نظر نہین آتی ، اس کو کیون بھول گئے ، وہ بھی کسی کی بہن ھے کئی بچوں کی ماں ہے ، اور پھر پاکستانی ہے اور بے گناہ ہے ، اور امریکنوں کی قید میں ھے ۔۔پوری دنیا امریکا اور یورپین ایجنڈے پر چل رہے ہیں ، اور میڈیا پاکستان کا امیج تباہ کر رہا ہے ملک کی ذلت کا سبب بنا ہوا ہے ،
کاش ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی ملک کی بیٹی سمجھا جاتا ،،، کیونکہ وہ ان کی ہمنوا نہ بن سکی ، اس لیے وہ ان کی مجرم ہے ،کہ وہ ان سے زیادہ علم و عقل میں ذھین ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیں جناب ان کا مقصد پورا ہوتا دکھائی دیا،،
رحمان ملک صاحب اعلان فرما رہے ہیں کہ اگلے ھفتے وزیرستان میں اوپریشن شروع کرنے والے ہیں اور شمالی وزیرستان دھشت گردوں کا گڑھ ہے ۔۔
اور ملٹری کے چیف نے وزیرستان پر حملے کا صدر اور وزیر اعظم کو گرین سگنل دے دیا ،اب مشاورت باقی ہے کہ کب اور کس طرح اس کو شروع کیا جائے ۔
یعنی ان کو پوری قوت سے کچلنے کا فیصلہ کرنے کے لیے پروگرام طے کیا جا رہا ہے ،
وزیرستان میں حملے سے بچنے کی سب کوششیں اب بےکار ہو گئی ہیں ، اب ہمارے ملک میں جنگ لڑی جائے گی بلکہ جنگ مزید پھیلنے کے امکان ہیں اور امریکا اور اس کے حواری جو یہاں سے نکلنے کے چکر میں ہیں وہ ان کا مقصد کامیاب ھو گیا کہ پاکستان ایک فسادی ریاست ہے اور اس کا ایٹمی اسلحہ دھشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتا ھے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں سطحی سوچ کے لیڈران سے بچنے کی توفیق دے ،آمین

tashfin28
10-12-2012, 08:52 PM
"آو اس کی فوری صحت يابی کيلے دعا کريں"

http://www.youtube.com/watch?v=5ScOp8oCJ4o

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu

بےباک
10-13-2012, 01:14 AM
اللہ تعالی اسے شفائے عاجلہ اور نافعہ عطا فرمائے ، آًمین ۔ اردو منظر کے سب ممبران اس صدمے سے دوچار بچی کے لیے دعا گو ہیں ،،،،

بےباک
10-13-2012, 10:10 AM
http://ummatpublication.com/2012/10/13/images/news-07.gif

http://ummatpublication.com/2012/10/13/images/cartoon1.jpg

شاہنواز
10-13-2012, 04:58 PM
جب ہمارے وزیرداخلہ صاحب کو پتا ہے کہ کب آئے اور کب حملہ کیا تو آپ نے ان کو روکا کیوں نہیں اور پکڑا کیوں نہیں میری تو یہ بات سمجھ نہیں آتی جب بھی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو موصوف وزیرداخلہ صاحب یہ والا بیان داغ دیتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ یہ کارروائی کس نے کی اور کب کی بھئ تو جاؤ ان کو پکڑو اسلام آباد میں کیا کررہے ہو-

اذان
10-13-2012, 10:43 PM
جب ہمارے وزیرداخلہ صاحب کو پتا ہے کہ کب آئے اور کب حملہ کیا تو آپ نے ان کو روکا کیوں نہیں اور پکڑا کیوں نہیں میری تو یہ بات سمجھ نہیں آتی جب بھی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو موصوف وزیرداخلہ صاحب یہ والا بیان داغ دیتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ یہ کارروائی کس نے کی اور کب کی بھئ تو جاؤ ان کو پکڑو اسلام آباد میں کیا کررہے ہو-

جس وزیر کو سورہ اخلاص نہیں آتی اُس بےایمان کے اوپر اعتبار کیسا۔۔۔۔؟؟؟
پاکستان کےحکمرانوں کے اوپر اعتبار کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا بیوقوف انسان ہوگا
پاکستان کےحکمران تجارتی ہے اِن کے اندر ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں
یہ اپنے مطلب کے خاطر عوام کو بیوقوف بنا کر لوٹ رہے ہیں اور عوام بھی بیوقوف بنی ہوئی ہے

سیما
10-13-2012, 11:23 PM
اصل بات یہ ہے وہ یہ کام کرواتا ہی خود ہے:stop: تو ظاہر بات ہے ان کو پتا ہونا بھی چاہیے اگر ان کو پتا نہیں ہو گا تو کیا اس کے پڑوسیوں کو پتا ہوگا :vahidrk::vahidrk::vahidrk::vahidrk::vahidrk::vahi drk:

اذان
10-18-2012, 01:03 AM
ملالہ کی ڈائر ی بی بی سی کا مقامی رپورٹر لکھا کرتا تھا۔حملے کے بعد سے روپوش ہے
سوات میں طالبان کا نشانہ بننے والی لڑکی ملالہ کی مشہور ڈائری کا معمہ حل ہو گیا ہے اور پاکستان کے سرکاری ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ بی بی سی کا ایک مقامی رپورٹر ہی ملالہ کی ڈائری لکھا کرتا تھا اور پھر اسے گل مکئی کے نام سے شائع کردیا جاتا تھا۔ پاکستانی سیکورٹی ذرائع کا دعوی ہے کہ 2009 میں جب سوات میں پاکستانی حکومت اور فوج نے طالبان سے ایک امن معاہدہ کیا تھا تو اس کی مخالفت امریکہ اور یورپ نے کی تھی عین اسی دوران امریکہ نے پاکستان کے شورش زدہ علاقے خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کے تحت کئی مقامی ریڈیو اسٹیشن قائم کئے گئے تھے اور مقامی اخبارات اور میڈیا اداروں کے پروگرام بھی اسپانسر کئے گئےتھے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق 2009 میں اسی دوران بی بی سی کی جانب سے ایک پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا جس کے تحت سوات کی کسی مقامی لڑکی سے ایک ڈائری لکھوانی تھی جس میں وہ طالبان کے خلاف اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں کچھ باتیں نارمل انداز میں کرتی اس پروگرام کا جواز یہ بتایا گیا تھا کہ طالبان لڑکیوں کے اسکول تباہ کررہے ہیں اس لئےان پر پریشر ڈالنے کے لئے ایک طالبہ سے ڈائری لکھوائی جائے گی۔ اس پروگرام کے پروڈیو سر اور ایڈیٹر پاکستان کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور صحافی تھے جنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر لندن جا کر بی بی سی سے منسلک ہوگئے۔ تقریبا بیس برس لسندن میں گزارنے کے بعد وہ اب کراچی سے بی بی سی اردو کے سنیئر ترین عہدے دار کے طور پر کام کررہے ہیں اور خواتین کے حقوق کے لئے نمایاں طور پر آواز اٹھاتے رہتے ہین۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے ادھیڑ عمری میں حال ہی میں اپنے آبائی علاقے سے ایک نو عمر لڑکی سے شادی کی ہے۔۔پشاور پریس کلب کے کئی صحافی اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ ان دنوں بی بی سی کے ایک مقامی رپورٹر، جن کا تعلق پشتونوں کے اسی قبیلے سے ہے جس سے ملالہ کا تعلق ہے، کافی سرگرمی سے کسی ایسی طالبہ کو ڈھونڈ رہے تھے جو ایک بی بی سی کے لئے ایک ڈائری لکھ سکے۔ اسی دوران بی بی سی اس رپورٹر کی ملاقات سوات میں لڑکیوں کا ایک اسکول چلانے والے ضیا اللہ سے ہوئی۔ جب بی بی سی کے مقامی رپورٹر نے ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو انہوں نے فورا اپنی بیٹی کا نام لیا جو اسی اسکول میں زیر تعلیم تھی اور خاصی ایکٹو بھی تھی۔ واضح رہے کہ ضیا اللہ طالبان کے سخت مخالف اور اے این پی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ طالبان کے خلاف ایک لشکر بھی بنا چکے ہیں۔ اس طرح رفعت اللہ اور ضیا اللہ کے درمیان یہ طے پایا کہ بی بی سی کے رپورٹر ملالہ سے ملاقات کریں گے اور اس سے باتیں کریں گے اور پھر جو کچھ وہ بتائے گی، وہ اسے ڈائری کے طور پر لکھ کر بی بی سی کو بھیج دیں گے۔ اس وقت ملالہ کی عمر بہت ہی کم تھی اور وہ چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھی، اس وقت اسے اردو کے مشکل الفاظ اور جملے لکھنے نہیں آتے تھے۔ اس وقت ملالہ کی عمر صرف 9 سال تھی۔ رپورٹر کی رہائش پشاور میں تھی اس لئے وہ روز سوات نہیں آ سکتے تھے۔ اور سوات کے خراب کی حالات کی وجہ سے بھی ان کا سوات بار بار آنا خطرناک تھا۔ واضح رہے کہ مذکورہ رپورٹر سیکولر خیالات کی وجہ سے پشاور کے صحافتی حلقوں میں ٕمشہور ہیں اور انہیں نشانہ بنانے کے لئے طالبان نے 2010 مین پشاور پریس کلب پر ایک خود کش حملہ بھی کیا تھا جس میں وہ بچ گئے تھے مگر پریس کلب کا چوکیدار اور ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا۔ اس کے بعد پشاور کے صحافیوں اور طالبان کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے دوران یہ بات طے پائی تھی کہ بی بی سی کا مذکورہ رپورٹر پریس کلب کو اپنے دفتر کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔ پشاور پریس کلب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹر اس کے بعد کافی عرصہ خاموش رہے۔ جن دنوں بی بی سی کا مذکورہ رپورٹر ملالہ کی ڈائری لکھنے مینگورہ جایا کرتے تھے وہ اس دوران اپنے ساتھ گاڑی مین اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لازمی لے جایا کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ان پر کوئی شک نہیں کرے گا اور طالبان بھی اسے نقصان نہیں پہنچائین گے۔ یہ بات بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر نے بی بی سی ورلڈ سے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی بتائی کہ کس طرح وہ ملالہ سے ملنے سوات جایا کرتے تھے اور اس دوران ان کی بیٹی بھی ان کے ہمراہ ہوتی تھی اور کئی مسلسل ملاقاتوں کے باعث ملالہ اور ان کی بیٹی کی گہری دوستی ہوگئی تھی۔ بی بی سی ورلڈ کے پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملالہ سے اس کی ڈائری وصول کرنے جایا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا دعوی تھا کہ ملالہ بہت فعال تھی اور کمپیوٹر اور انٹر نیٹ بھی استعمال کرتی تھی مگر وہ بتانا بھول گئے کہ آخر ملالہ ان کو اپنی تحریر ای میل کیوں نہیں کرتی تھی اور وہ جان خطرے مین ڈال کر خود ہی کیوں جایا کرتے تھے۔
پشاور پریس کلب کے صحافیوں میں یہ ایک کھلا راز ہے کہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر ملالہ سے اپنی گفتگو کو ریکارڈ کر کے لایا کرتے تھے اور پھر اسے اپنے الفاظ میں تحریر کر کے بی بی سی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا کرتے تھے اور اسےگل مکئی کی ڈائری کا نام دیا جاتا تھا۔ بی بی سی کے مذکورہ پشتون رپورٹر ہی ملالہ کے والد ضیا اللہ اورملالہ کو امریکی صحافیوں سے بھی رابطہ کار کے فرائض انجام دیتے تھے۔ملالہ کے والد اس طرح اپنے اسکول کو ایک بڑے ادارے میں تبدیل کرنے کے خواہش مند تھے اور اس کے لئے فنڈنگ چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح بین الااقوامی طورپر پروجیکشن سے ان کے لئے اپنا کالج اور یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے فنڈنگ لینا آسان ہوگا۔ مگر انہیں بی بی سی اور امریکی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال تو کیا مگر بھاری فنڈنگ دینے کےبجائے چند لاکھ روپے دینے پر ہی اکتفا کیا۔ امریکی صدر کے نمائندہ خاص رچرڈ ہالبروک سے ملاقات میں بھی ملالہ اور اس کے والد فنڈز مانگتے دیکھے جاسکتے ہیں مگر حقیقت میں انہیں کبھی وہ مطلوبہ فنڈ نہیں مل سکے۔ سوات کے مقامی صحافتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملالہ پر حملے کے بعد اس کے خاندان میں بھی اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں اور اس کی والدہ جو کہ پہلے ہی بیٹی کو اس طرح باہر نکال کر نمائش کرنے کے حق میں نہیں تھیں، وہ اب کچھ حقائق سب کے سامنے لانے کے لئے بے تاب ہیں جب کہ اس کے والد بھی فنڈنگ نہ ملنے کی وجہ سے دل شکستہ ہیں اور اب بیٹی بھی ان کے ہاتھ سے جاتی دکھائی دےرہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی سے متعلق حکام نے بھی ملالہ کے والد پر نرمی سے واضح کردیا ہے کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو مغربی ذرائع ابلاغ نے استعمال کیا اور پھر ٹشو کی طرح پھینک دیا تاکہ طالبان انہیں قتل کردیں اور پھر مغربی میڈیا ان کی لاشوں پر نئی دکان سجا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملالہ کے جب پہلی بار انٹرویو لئے گئے تو وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے اور اس کی جدوجہد کا مرکز صرف ڈاکٹر بننا ہے۔ پہلے چند انٹرویو کے بعد اچانک اس نے یو ٹرن لیا اور کہنا شروع کردیا کہ وہ اب ڈاکٹر بننا نہیں چاہتی بلکہ سیاستدان بننا چاہتی ہے تاکہ سوسائیٹی کو تبدیل کرسکے۔ اور طالبائنزیشن کو روک سکے۔ اہم قومی ادارے اس بات پر تحقیق کررہے ہین کہ آخر وہ کون تھا جو ملالہ کے منہ میں الفاظ ڈال رہا تھا۔ اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے ملالہ سے اوباما کو آئیڈل قرار دینے کے الفاظ کہلوائے کیونکہ چوتھی جماعت کی بچی کو اوباما کے بارے میں علم ہونا ممکن نہیں ہے۔

تازہ ترین رپورٹس یہ ہیں کہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر ملالہ پر حملے کے بعد سے روپوش ہین اور ان کے تمام فون نمبر مسلسل بند جا رہے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کا دعوی ہے کہ انہوں نے ملالہ کے والد کو متنبہ کرنے کے لئے کئی بار اخبار میں بھی اشتہار شائع کرایا تھا مگر وہ کوئی بات سننے پر تیار نہ تھے اور لڑکی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے تھے جس کےبعد انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

گلاب
10-18-2012, 01:24 AM
خوب ازان بھای بھت شکریہ

گلاب
10-18-2012, 01:30 AM
tashfin28 ادھر بھی صفای دے اپنے آقا کی

بےباک
10-18-2012, 10:52 AM
http://ummatpublication.com/2012/10/16/images/story1.gif

بےباک
10-18-2012, 10:57 AM
http://ummatpublication.com/2012/10/17/images/story1.gif

گلاب
10-18-2012, 10:39 PM
شکریہ بے باک جی حقایق بتانے کا