PDA

View Full Version : میں نے کیا خطا کی تھی؟



سید انور محمود
10-13-2012, 05:20 AM
ازطرف: سید انور محمود
گل مکئی ملالہ یوسف زئی نے 15 جنوری کو بی بی سی کےلیے اپنی ڈائری میں لکھا:
"آج پندرہ جنوری تھی یعنی طالبان کی طرف سے لڑکیوں کے سکول نہ جانے کی دھمکی کی آخری تاریخ مگر میری کلاس فیلو کچھ اس اعتماد سے ہوم ورک کر رہی ہےجیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
آج میں نے مقامی اخبار میں بی بی سی پر شائع ہونے والی اپنی ڈائری بھی پڑھی۔ میری ماں کو میرا فرضی نام’گل مکئی‘ بہت پسند آیا اورابو سے کہنے لگیں کہ میرا نام بدل کر گل مکئی کیوں نہیں رکھ لیتے۔ مجھے بھی یہ نام پسند آیا کیونکہ مجھے اپنا نام اس لیے اچھا نہیں لگتا کہ اسکے معنی ’غمزدہ‘ کے ہیں"۔
گل مکئ کو اپنے نام کےمعنی معلوم ہیں اور شاید وہ اپنے نام کی مناسبت سے ہے، یہہی وجہ ہے کہ وہ بچیوں کے تعلیم میں روکاوٹ کی وجہ سے غمزدہ تھی۔اس نے سوات میں ان عناصر کا بہادری سے مقابلہ کیا جو مذہب کی آڑ لے کر عورتوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ اس کے والد جناب ضیاء الدین یوسفزئی اپنی بیٹی سے بہت پیارکرتے ہیں وہ خود ایک ماہرِ تعلیم ہیں اس لیے ان سے زیادہ تعلیم کی قدر کون کرے گا- اور گل مکئ نے اپنے والد کی رہنمائی میں تعلیم کی قدر کو پہچانا-
2009 میں طالبان نے سوات کے زیادہ تر حصے پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں شریعت کی سخت ترین تشریح کا نفاذ کر دیا، طالبان نے اعلان کردیا کہ 15جنوری کے بعد بچیاں اسکول نہیں جاینگی۔ طالبان کے زیرِ اثرگزرنے والے زندگی کے واقعات بیان کرتے ہوئے اُس نے تین جنوری دو ہزار نو اپنی ڈائری میں لکھا:
"میں خوفزدہ ہوں: ’کل پوری رات میں نے ایسا ڈراؤنا خواب دیکھا جس میں فوجی، ہیلی کاپٹر اور طالبان دکھائی دیے۔ سوات میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد اس قسم کے خواب بار بار دیکھ رہی ہوں۔ ماں نے ناشتہ دیا اور پھر تیاری کرکے سکول کے لیے روانہ ہوگئی۔ مجھےسکول جاتے وقت بہت خوف محسوس ہو رہا تھا کیونکہ طالبان نے اعلان کیا ہے کہ لڑکیاں سکول نہ جائیں۔
آج ہماری کلاس میں ستائیس میں سے صرف گیارہ لڑکیاں حاضر تھیں۔ یہ تعداد اس لیے کم ہوگئی ہے کہ لوگ طالبان کے اعلان کے بعد ڈرگئے ہیں۔
ایک بجکر چالیس منٹ پر سکول کی چھٹی ہوئی۔گھر جاتے ہوئے راستے میں مجھے ایک شخص کی آواز سنائی دی جو کہہ رہا تھا: ’میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا‘۔ میں ڈرگئی اور اپنی رفتار بڑھادی۔جب تھوڑا آگے گئی تو پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کسی اور کو فون پر دھمکیاں دے رہا تھا، میں یہ سمجھ بیٹھی کہ وہ شاید مجھے ہی کہہ رہا ہے۔‘"
میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں ، مرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی اور تو نہیں ہے پس ِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ، ہمیں قتل کر رہے ہیں
طالبان نے 1000 سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ طالبان نے اپنے حملوں کے دوران سکولوں کے بچوں، بچیوں اور اساتذہ کو بھی نہین بخشا۔ طالبان کے مذید حملوں کے خوف کی وجہ سے صوبہ کے پرائمری سکول بند کر دئیے گئے جس سے ہزاروں بچیاں تعلیم سے محروم ہو گئیں۔
کسی بھی قوم نے بغیر علم و تعلیم کے آج تک ترقی نہ کی ہے۔ دنیا کے جن ممالک نے تعلیم و تحقیق کو ترچیح دی وہ آج ہر لحاظ سے پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ قرآن میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ “علم” ہے ۔ اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی۔ غارحرا میں سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیتیں ہیں ،جن میں نبی صلعم کو کہا گیا :
”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم.
(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے ۔ پڑھ ، تیرارب بڑا کریم ہے۔ جس نے سکھایا علم قلم کے زریعہ۔ اس چیز کا علم دیا انسان کو جو وہ نہیں جانتا ۔ (العلق:۱-۵)
اتوار، چار جنوری کو گل مکئ نے اپنی ڈائری میں لکھا:
“کل سکول جانا ہے، میرا دل دھڑک رہا ہے :آج چھٹی ہے، اس لیے میں نو بجکر چالیس منٹ پر جاگی لیکن اٹھتے ہی والد صاحب نے یہ بری خبر سنائی کہ آج پھر گرین چوک سے تین لاشیں ملی ہیں۔اس واقعہ کی وجہ سے دوپہر کو میرا دل خراب ہو رہا تھا۔ جب سوات میں فوجی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی اس وقت ہم تمام گھر والے اتوار کو پِکنک کے لیے مرغزار، فضاء گھٹ اور کانجو چلے جاتے تھے۔ اب حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ ہم ڈیڑھ سال سے پِکنک پر نہیں جاسکے ہیں۔
ہم رات کو کھانے کے بعد سیر کے لیے باہر بھی جایا کرتے تھے۔اب حالات کی وجہ سے لوگ شام کو ہی گھر لوٹ آتے ہیں۔ میں نے آج گھر کا کام کاج کیا، ہوم ورک کیا اور تھوڑی دیر کے لیے چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلی۔ کل صبح پھر سکول جانا ہے اور میرا دل ابھی سے دھڑک رہا ہے۔“
سارا شہر بلکتا ہے
پھر بھی کیسا سکتہ ہے
گلیوں میں بارود کی بو
یا پھر خون مہکتا ہے
جب سوات میں موجود طالبان شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ہوا تو ملالہ اور اس کا خاندان مقامی آبادی کی طرح نقل مکانی کر گیا۔ آپریشن میں فوج کی جزوی کامیابی کے بعد ملالہ تقریباً ایک سال سے زائد کے عرصے کے بعد مینگورہ لوٹ سکی۔ اس عرصے میں گل مکی کی ڈارَی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرچکی تھی - دو ہزار نو میں ملالہ پر ایک دستاویزی فلم Class-dismissed بنی http://www.nytimes.com/video/2012/10/09/world/asia/100000001835296/class-dismissed.html ، دستاویزی فلم بنانے والے ایڈم بی ایلک کو اس نے بتایا تھا ’میں بہت بور ہو رہی ہوں کیونکہ میرے پاس پڑھنے کے لیے کتابیں نہیں‘۔ دو ہزار نو کے دوران ملالہ نے ٹی وی پروگراموں میں شرکت اور عوامی سطح پر خواتین کی تعلیم کے لیے مہم شروع کر دی تھی۔ اُس نے کہا کہ "اگر آج بچیاں تعلیم حاصل نہیں کریں تو کل نہ تو کوئی خاتون ڈاکٹر ہوگی اور نہ ہی کوئی خاتون استاد، پھر ہمارےَ ملک کا کیا ہوگا" اپنے مستقبل کے حوالے سے اس نے رواں برس کے اوائل میں پاکستانی اخبار ڈان کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ تعلیم کی ترویج کے لیے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس عوامی پہچان کے نتیجے میں ملالہ ’سوات کا ترقی پسند چہرہ‘ بن کر سامنے آئی۔ وادی سوات کو اُس نے اجڑتے اپنی آنکھوں دیکھا تھا – سوات میں طالبان کے ظلم سے وہ پوری طرح واقف تھی اسلیئے وہ طالبان کو دہشت گرد کہتی ہے – وہ کہتی ہے تو کیا ہوا یہ تو پوری دنیا کو معلوم کہ طالبان نام ہے دہشتگردوں کا چاہے وہ افغانی طالبان ہوں یا پاکستان طالبان یا انکی نئی قسم پنجابی طالبان سب ایک ہیں اور سب کا کام بھی ایک - مگر وادی سوات کی معصوم گل مکئ کو یہ بلکل معلوم نہ تھا کہ دہشت گرد اُس کے مشن سے ڈرے ہوے ہیں بقول کشور ناہید:
وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
وہ جو علم سے بھی گریز پا
کریں ذکررب کریم کا
وہ جو حکم دیتا ہے علم کا
کریں اس کے حکم سے ماورا یہ منادیاں
نہ کتاب ہو کسی ہاتھ میں
نہ ہی انگلیوں میں قلم رہے
کوئی نام لکھنے کی جانہ ہو
نہ ہو رسم اسم زناں کوئی
چنانچہ اپنی جاہلانہ سوچ کو بندوق کی زور پر منوانے والایہ تشدد پسند طالبان دہشتگرد گروہ کھلی قتل و غارت گری پر اتر آیا ہے اور منگل 9 اکتوبر کو مینگورہ میں 14 سالہ قومی امن ایوارڈ یافتہ معصوم مگر حوصلہ مند ملالہ یوسف زئی کو اسکول سے گھر آتے ہوئے فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا- ان دہشتگردوں کے ہاتھ پہلے ہی معصوم و بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں مگر اس طالبانی دہشتگردی نے سوات کے باسیوں کو حیرت و افسوس سے گنگ کرکے رکھ دیا ہے، جبکہ پورے ملک کے عوام ذہنی صدمے سے دوچار ہیں، پوری دنیا حیران ہے کہ ایک معصوم نہتی لٹرکی سے دہشتگرد گروہ کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے- فہمی الہویدی ایک مصری صاہفی نےملا عمرسےجب وہ افغانستان کا صدرتھا اپنی ایک ملاقات کے بعد اپنے ایک عربی مضمون "ملا عمر اور ورتاریخی یاد گاریں" )شرق الوسط ، جدہ( میں لکھا تھا ملا عمرجس کی اپنی تعلیم مکمل نہیں وہ کیسے اپنی قوم کیلیے کچھ کر پاےَ گا- ملا عمران دہشتگردوں کا امیرالموین ہے-
اس پرتشدد واقعہ کا ایک افسوس ناک پہلوہمارے سامسی اور مذہبی قیادت کا شرمناک رویہ ہے- اس واقعے کے ملکی اور غیر ملکی نشریاتی ادارے لحمے لحمے کی خبر نشر کررہے تھے- صرف اےاین پی اور ایم کیو ایم جنہوں نے اس حادثہ کے فوری بعد طالبان دہشتگردوں کا نام لیکر اس کی پرزور مذمت کی۔ جبکہ حکومت، شریف برادران کو شام کو مذمت کا خیال آیا، جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن بھی آٹھ بجے کے قریب جاگے، عمران خان کی جماعت نے ایک مذمتی بیان میں رات کے دس بجا دیےَ، مگر مجال ہے ان میں سے کسی نے طالبان کی مذمت کی ہو مگر دوسرےَ دن پاکستانی عوام کا رویہ اور سیاسی ریٹنگ بڑھانے کے اس موقعے کو کسی نے بھی ہاتھ نہیں جانے دیا، مگر طالبان کا نام لیکر اُسکی مذمت کرنا اپنے لیے حرام قرار دے دیا- ذرا غور کریں کہ یہ سیاسی اور مذہبی لیڈر کیا کہہ رہے ہیں، عمران خان صاب نے فرمایا طالبان سے مذاکرات کیے جایں، جبکہ جماعت اسلامی کے سابق امیرقاضی حسین احمد نے تو فرمادیا کہ یہ معلوم کیا جاےَ کہ اس بچی کو کس نے استمال کیا ہے، قاضی صاب کی صابزادی نے طالبان کو ظالمان کہہ کر معصوم ملالہ پر الزام لگایا کہ اُس نے اوباما کو اپنا آیڈیل قرار دیا ہے بلکہ امریکی گلوکارا میڈونا نے اپنے ایک کنسرٹ میں اپنے جسم پر ملالہ کا نام لکھوایا، معصوم بچی موت سے لڑرہی ہے اُسے اپنا ہوش نہیں مگر راحیلہ قاضی کو اُس سے شکایت ہے، آخر میں مولانا فضل الرحمان، اُن کو آج ہی تین دن بعد فرصت ملی بہت مصروف تھے ایم ایم کی بحالی کے سلسلے میں، فرمایا ہاں یہ غلط ہے مگر طالبان کا ذکر اُن پر بھی حرام ہے- آج پوری قوم نے ملالہ یوسف زئی کی صحت یابی کے لیے پاکستان اور پاکستان سے باہر بڑے پیمانے پر دعائیہ تقریبات کیں۔ انشااللہ کل جب گل مکئ ملالہ یوسف زئی روبصحت ہوجاےَگی اور جب اُسے اپنی سیاسی اور مذہبی قیادت کےاس شرمناک رویہ کا پتہ چلے گا تو اُس پر کیا گذرےَگی- شایدپھر وہ اپنی سیاسی اور مذہبی قیادت سے پوچھے گی:
میں نے کیا خطا کی تھی؟

اس تحریر کو پڑھنے پر میں آپکا شکرگذار ہوں۔
___________________________________
نوٹ: کشور ناہید صاحبہ نے خاصکر" وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے" نظم ملالہ یوسف زئی کےلیے لکھی ہے-

بےباک
10-13-2012, 10:12 AM
میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں ، مرے لوگ مر رہے ہیں
کوئی اور تو نہیں ہے پس ِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں ، ہمیں قتل کر رہے ہیں

انا للہ و انا الیہ راجعون ،
ہم ہی قتل ہو رہے ہیں اور ہمیں ہی قتل کیا جا رہا ہے ، کتنا تلخ سچ ہے ،