PDA

View Full Version : امریکی سرپرستی میں وکی لیکس کے روح فرسا انکشافات... ہمارے لیڈر اور حاکم اب ہی سنبھل ج



گلاب خان
12-08-2010, 07:54 PM
3 دسمبر ، 2010

وکی لیکس کی طرف سے جاریکردہ خفیہ دستاویزات کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملک میں سیاسی بحران حل کرنے کیلئے صدر آصف زرداری کو عہدے سے ہٹانے اور جلاوطن کرنے پر غور کیا تھا۔ اس سلسلہ میں سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی صدر زرداری کو جتنا ناپسند کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ انہیں نوازشریف کے بارے میں بداعتمادی ہے۔ ان خفیہ دستاویزات کے مطابق معزول ججوں کی بحالی کیلئے میاں نوازشریف کی تحریک کے دوران جنرل کیانی نے امریکی سفیر سے مسلسل چار ملاقاتیں کیں اور اشارہ دیا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو انہیں مجبوراً صدر زرداری کو مستعفی ہونے پر قائل کرنا پڑیگا۔ انہوں نے صدر زرداری کی جگہ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کو صدر کے منصب پر فائز کرنے اور سید یوسف رضا گیلانی کو بطور وزیراعظم برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا تھا جبکہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نومبر 2007ء میں امریکی سفیر کو اپنے عشائیہ میں مدعو کرکے ان پر زور دیا تھا کہ امریکہ انہیں وزیراعظم بننے کیلئے مدد دے۔ وکی لیکس کی جاریکردہ ان خفیہ دستاویزات میں سابق امریکی سفیر سے جنرل کیانی کے علاوہ صدر زرداری، میاں نوازشریف، ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا اور متعدد دیگر شخصیات کی ملاقاتوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ممبئی حملوں کے چھ ہفتے بعد صدر زرداری نے این ڈبلیو پیٹرسن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف پر الزام لگایا تھا کہ وہ جماعت الدعوۃ کو پیشگی اطلاع دے چکے ہیں کہ امریکہ اس پر پابندی لگانے والا ہے جس کے باعث جماعت الدعوۃ نے اپنے بینک اکائونٹس سے ساری رقوم نکلوالیں۔
یہ طے شدہ امر ہے کہ امریکی نجی ویب ادارے ’’وکی‘‘ نے امریکی دفتر خارجہ اور دیگر محکموں کی ٹاپ سیکرٹ دستاویزات میں موجود جن رازوں سے پردہ اٹھایا ہے وہ امریکی حکام کی آشیرباد کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوسکتا تھا جبکہ یہ راز زیادہ تر مسلم ممالک کے سربراہوں، دیگر حکومتی عہدیداروں اور سرکاری حکام سے متعلق ہیں اس لئے ان رازوں کے افشاء کا مقصد مسلمان ممالک میں غلط فہمیاں پیدا کرکے آپس میں لڑانے اور اس صورتحال سے امریکہ کو فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اسکی تصدیق امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے اس بیان سے بھی ہورہی ہے کہ وکی لیکس کی جانب سے معلومات کے افشاء سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ بہتری کیلئے کام کررہا ہے جبکہ پاکستان میں تعینات نئے امریکی سفیر کیمرون منٹر کا دعویٰ ہے کہ وکی لیکس کی جاریکردہ معلومات سے پاکستان امریکہ تعلقات متاثر نہیں ہوگے۔ گویا امریکہ اپنے مقاصد کیلئے ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو چاہے جیسے بھی استعمال کرتا اور انہیں ادھیڑتا رہے، ’’مردِ ناداں‘‘ پر کلامِ نرم و نازک بے اثر ہی رہے گا۔
وکی لیکس کے انکشافات میں جس طرح پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور مبینہ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں امریکی ڈرون حملوں کی اجازت سمیت ہمارے حکمرانوں کی تابعداری کو فوکس کیا گیا ہے اور ہماری عزت مآب سیاسی حکومتی شخصیات کی حرص و ہوس کو بے نقاب کیا گیا ہے اس پر پوری قوم سخت تشویش میں مبتلاہے کیونکہ بعض سیاسی شخصیات سے متعلق انکشافات کی براہ راست یا بالواسطہ تصدیق بھی ہوگئی ہے۔ قوم کو بجا طور پر یہ فکر لاحق ہے کہ اپنے اقتدار کے تحفظ یا اپنے اقتدار کی خاطر اسکی نمائندہ سیاسی شخصیات امریکی تابعداری کی جس انتہا تک پہنچتی رہی ہیں ان سے ملکی اور قومی مفادات کے تحفظ کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔ وکی لیکس کے انکشافات میں موجود یہ بات اگر درست ہے کہ امریکہ کی خصوصی فورسز القاعدہ اور طالبان کیخلاف کارروائی کیلئے پاکستان میں موجود ہیں جن کے یہاں قیام کا ایک مقصد ڈرون حملوں کیلئے رابطہ کار کے طور پر کام کرنا بھی ہے تو کیاایک غیرت مند، آزاد، خودمختار اور ایٹمی قوت کے حامل پاکستان کی قیادتوں کیلئے یہ ڈوب مرنے کا مقام نہیں؟ کوئٹہ میں امریکی افواج کی موجودگی کی خبریں تو وکی لیکس کے اجراء سے بھی پہلے آگئی تھیں جن کی پاکستانی حکام نے تردید اور امریکی حکام نے اس حوالے سے تصدیق کی کہ جب کسی آپریشن میں معاونت کیلئے ضرورت محسوس ہوتی ہے تو امریکی دستوں کو بھجوایا جاتا ہے۔ وکی کے انکشافات کے مطابق پاکستانی فوج نے کمانڈ 11 کور کے لیفٹیننٹ جنرل مسعود اسلم کی درخواست پر امریکی خصوصی فورسز کی تعیناتی کی منظوری دی تھی جبکہ 2008ء میں وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک اجلاس میں باجوڑ آپریشن کی تکمیل تک ڈرون حملے روکنے کی تجویز پیش کی جس پر وزیراعظم گیلانی نے اٹل انداز میں جواب دیا کہ ’’یہ حملے جاری رہتے ہیں تو بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ ہم قومی اسمبلی میں احتجاج کرینگے اور پھر اسے نظرانداز کردینگے‘‘۔
ڈرون حملوں پر متعلقہ حکومتی سرکاری حکام کی جانب سے جو رسمی ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے اور ان حملوں کو روک نہ پانے کی مجبوری ظاہر کی جاتی ہے، اس سے وزیراعظم سے منسوب وکی کے انکشافات کی ہی تصدیق ہوتی ہے جبکہ خود امریکی حکام بھی یہی دعویٰ کرتے ہیںکہ ڈرون حملے پاکستانی سرزمین سے حکومت پاکستان کی منظوری سے ہورہے ہیں۔ وکی کی جاریکردہ امریکی دستاویزات میں موجود اس انکشاف پر تو ہماری عسکری قیادتوں کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ اگر بھارت پاکستان کو ممبئی حملوں کی سزا دینے کیلئے اپنی کولڈ سٹارٹ کی پالیسی پر عمل کرتا ہے تو اسکے نتیجے میں ہیروشیما، ناگاساکی کے بعد پہلی مرتبہ جوہری بم کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سابق بھارتی آرمی چیف دیپک کپور پہلے ہی یہ دعویٰ کرچکے تھے کہ بھارت اپنی ایٹمی جنگی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اسلام آباد اور بیجنگ کو 96 گھنٹے میں بیک وقت ٹوپل کرسکتا ہے۔
ہمارے حکومتی اور عسکری قائدین کو وسیع تر قومی اور ملکی مفادات میں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ اگر ہم اپنی عسکری قوت اور وسائل امریکی مفادات کی جنگ میں اپنے ہی شہریوں کیخلاف استعمال کرکے ضائع کرتے رہیں گے تو چاروں جانب سے خطرات میں گھرے پاکستان کے دفاع کے تقاضے کیسے پورے ہوپائینگے۔ باوصف اسکے کہ امریکی ویب ادارے وکی نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی درپردہ سیاسی امور میں مداخلت کی سچی جھوٹی کہانیاں بیان کی ہیں، وہ بطور آرمی چیف اپنی دوسری ٹرم کے آغاز پر بھی ایک پروفیشنل جرنیل کی حیثیت سے فوج کو سول معاملات سے دور رکھنے اور سیاسی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کے عزم کا اعادہ کرچکے ہیں اس لئے ملکی اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی توجہ صرف اور صرف دفاع وطن پر ہی مرکوز ہونی چاہئے اور بے شک وہ آئینی طور پر سول حکومت کے احکام کی تعمیل کے پابند ہیں مگر امریکہ، بھارت اور اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کی جانب سے ملک کی سالمیت اور اس کے ایٹمی پروگرام کو لاحق خطرات کی روشنی میں کیا ڈرون حملوں اور ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے نیٹو ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ کا فوری اور موثر جواب دینا اور بروقت توڑ کرنا ضروری نہیں؟ اور اپنے ہی علاقوں میں فوجی آپریشن جاری رکھنا اور اسے وسعت دینے کا سوچنا کیوں ضروری ہے جبکہ امریکی مفادات کی اس جنگ میں ہم اپنے ہزاروں شہریوں کی قیمتی جانوں سے ہی محروم نہیں ہوئے ،ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا بیٹھے ہیں۔ اس موقع پر تو سیاسی، حکومتی اور عسکری قیادتوں کو باہم مل بیٹھ کر دفاع وطن کی ٹھوس پالیسی مرتب کرنی اور قومی اتحاد و یکجہتی کی فضا سازگار بنانی چاہئے چہ جائیکہ ذاتی اغراض و مقاصد کی تکمیل اور جاہ و حشمت کیلئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کر اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے اور اسے ہڑپ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والی مسلم دشمن طاغوتی طاقتوں کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا موقع فراہم کیا جائے۔
وکی کی جانب سے بے شک یہ راز امریکی مفادات کے تابع ہی افشا کئے گئے ہیں تاہم ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں اور عسکری قائدین کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے ماضی میں جو ہو چکا سو ہو چکا۔ ہماری محترم قیادتیں اب ہی سنبھل جائیں اور ان غلطیوں کا اعادہ نہ کریں جو سسٹم کیلئے ہی نہیں، ملک کیلئے بھی ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتی رہی ہیں۔
وزارتوں کی صوبوں کو منتقلی بوجھ عوام پر پڑے گا
وفاقی کابینہ نے 5وزارتیں صوبوں کو منتقل کرنے کی حتمی منظوری دے دی ہے ۔ ان میں زکوۃ و عشر، امور نوجوانان، بہبود آبادی خصوصی اقدامات اور بلدیات و دیہی ترقی کی وزارتیں شامل ہیں۔ پانچ وزارتوں کے بجٹ کی رقم ساڑھے پانچ ارب روپے ہے ساڑھے تین ہزار سے زائد ملازمین کی خدمات صوبوں کو منتقل کی جائیں گی۔
5وزارتیں صوبوں کو منتقل کرنے سے کافی مسائل جنم لیں گے۔ فنڈز کی تقسیم، ملازمین کی تنخواہیں اسکا سارا بوجھ صوبوں پر آئے گا جبکہ دوسری طرف وفاقی وزرا کی تعداد میں توسیع کردی گئی ہے۔ دو نئے وزراء کی شمولیت سے وفاقی وزراء کی تعداد71ہوگئی ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ وفاقی کابینہ کا حجم کم کیاجائے گا۔ کیا یہ اپنے بنائے ہوئے قانون کی توہین نہیں کی جارہی۔ وزارتوں میں اضافہ نہ صرف عوام سے زیادتی ہے بلکہ جمہوریت کے منہ پر بھی طمانچہ ہے حکمران طبقہ اپنی شاہ خرچیاں کم کرکے مسائل پر کنٹرول کرے۔ کرپشن پر قابو پایاجائے۔ عیش و عشرت کم کرے۔
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے حکم پر عوام کو زندہ درگور مت کیاجائے ملکی حالات پہلے ہی گھمبیر ہیں ساڑھے تین ہزار ملازمین جو پہلے اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں صوبوں میں انکی رہائش کے انتظام پر کتنے اخراجات آئینگے انکے بچوں کی تعلیم میں خرچ الگ سے ہوگا۔
وزارتوں کا جوسسٹم چل رہا تھا اسی کو چلتے رہناچاہئے تھا۔ حکمران طبقہ اپنے ملازموں کو مشکلات میں ڈال رہا ہے ۔ اس سے کئی نئے مسائل ابھریں گے جن پر قابو پانا مشکل ہوگا کوئی دوسری حکومت آئے گی وہ قانون میں ترمیم کرکے وزارتیں مرکز میں لے جائے گی جو صرف اور صرف وقت کا ضیاع اور عوامی کاموں سے توجہ ہٹانے والی بات ہے۔ جو دو تین مہینے وزارتوں کی منتقلی میں لگیں گے اس دوران افسران تنخواہیں تو لیں گے لیکن کام نہیں کرینگے کبھی دفتر کی منتقلی کا عذر پیش ہوگا کبھی سامان کی عدم دستیابی کا رونا رویا جائیگا۔اس لئے حکمران عوام کو کسی آزمائش سے دوچار مت کریں بلکہ اپنی ناکامیوں پر قابو پاتے ہوئے اصلاح احوال کریں۔
ریلویز کی زبوں حالی
انجنوں کی عدم دستیابی کے باعث ریلوے آپریشن جمو د کا شکار ہونے لگا، کوئٹہ ایکسپریس تیرہ گھنٹے تاخیر سے لاہور پہنچی، ریلوے ملازمین کا یہ حال ہے کہ وہ تنخواہ کا چیک بینک میں لے کر جاتے ہیں تو ریلوے کے اکائونٹ میں کچھ موجود نہیں ہوتا اور چیک لوٹا دئیے جاتے ہیں۔
یہ ریلوے ہے یا کھیل وے، کہ وزیر ریلوے اس سے مسلسل کھیلتے چلے جارہے ہیں وہ ذرا آس پاس کی دنیا پر بھی نظر ڈالیں کہ کہیں بھی ریلویز کا یہ حال ہے جو ہمارے ہاں ہے اگر اُن کے سفر کیلئے انجن ایک کی جگہ دو دو دستیاب ہیں تو پھر عوام کا کیا قصور ہے۔ کیا ریلویز اس حد تک دیوالیہ ہوچکا ہے کہ اُس کے ملازمین کی تنخواہوں کے چیک تک کیش نہیں ہورہے اگر کوئی ایک آدھ ٹرین چل بھی رہی ہے تو چیونٹی کی چال کہ تیرہ تیرہ گھنٹے لیٹ ہوتی ہیں، حکومت اس محکمے پر خاطر خواہ توجہ دے اور اسے حسبِ سابق سفر وسیلہ ظفر بنائے، انجنوں کی دستیابی کو ممکن بنائے، ریلویز کی موجودہ صورتحال دیوالیہ پن سے مشابہ ہے اگر ریلوے آپریشن جمود کا شکار ہے تو اس کا کوئی حل نکالناچاہئے، وزارت ریلوے کے حکام بالا اور وزیر سے پوچھا جائے کہ آخر ریلویز کیوں رسوائے زمانہ وسیلۂ سفر بن کر رہ گیا ہے اگر اس کا کوئی علاج نہیں کیا جاتا تو اسے ٹھیکے پر دے دیاجائے یا اس نہ ہونے کے برابر محکمے ہی کو ختم کردیاجائے تاکہ جہاں عوام سے اور کئی سہولتیں چھین لی گئی ہیں وہاں ٹرین پر سفر کرنے کی سہولت بھی باقی نہ رہے، آخر اُن ملازمین کا کیا قصور ہے جو اس چھکڑے کو چلا رہے ہیں اور انہیں تنخواہ تک نہیں ملتی کیا یہ اُن کے ساتھ دھوکہ نہیں کہ انہیں تنخواہ کے چیک دے دئیے جاتے ہیں جو بائونس ہوجاتے ہیں، ریلویز سے متعلق خبریں شرمناک حد تک مایوس کن ہیں اب بھی اگر اس کی مینجمنٹ میں اصلاح اور ردوبدل کیاجائے اور اس کو زندہ کرنے کیلئے کسی ملک سے معاہدہ کیاجائے تو یہ محکمہ پھر سے اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکتا ہے، کبھی انجن دستیاب نہیں کبھی انجنوں کیلئے تیل فراہم نہیں کیاجاتا، اس سلسلے میں وزیراعظم کو ایک کمیشن تشکیل دیناچاہئے جو نہ صرف وزیر ریلوے کی کارکردگی کا جائزہ لے بلکہ پورے شعبے کی اصلاح کیلئے ایسی تجاویز پیش کرے جو قابل عمل ہوں، حکومت کو یوں ایک کمائوپتر محکمے کو ڈوبتے نہیں دیکھناچاہئے۔
روزنامہ نواے وقت[hr]
پاکستان ایک ملک ایک قوم ایک پہچان!
ریاض الرحمن ساغر ـ 14 گھنٹے 32 منٹ پہلے شائع کی گئی
رہتی دنیا تک قائم یہ پیارا پاکستان رہے
ایک ہی مرکز پر دائم یہ سارا پاکستان رہے
دکھ اور سکھ کی سانجھ رہے اور سارے چہرے سنگ رہیں
ہمدم اور ہمراز رہیں سب باہم اور ہمرنگ رہیں
ہر دل کی دھڑکن‘ آنکھوں کا تارا پاکستان رہے
رہتی دنیا تک قائم یہ پیارا پاکستان رہے
مل کر محنت اور دیانت سے ہم سارے کام کریں
اک دوجے کا نام نہ جھوٹی تہمت سے بدنام کریں
ہم اسکے عاشق‘ معشوق ہمارا پاکستان رہے
رہتی دنیا تک قائم یہ پیارا پاکستان رہے
ہم میں کوئی سندھی پنجابی اور پختون بلوچ نہ ہو
اک دوجے سے کرے الگ جو ایسی کوئی سوچ نہ ہو
ایک ترانہ سب گائیں‘ اکتارہ پاکستان رہے
رہتی دنیا تک قائم یہ پیارا پاکستان رہے
الگ الگ یہ ذاتیں فرقے قومیں اور قبیلے کیوں
ایک وطن میں کام نہ آئیں سب کے سبھی وسیلے کیوں
چارگنی ہو قوت گر یہ یکجا اور یکجان رہے
رہتی دنیا تک قائم یہ پیارا پاکستان رہے
قائداعظمؒ نے ہم سب کو ایک کیا یہ ملک دیا
ہم نے اک ہو کر بھی خود کو پھر فرقوں میں بانٹ لیا
آو ایک ہوں اور قائد کا یاد ہمیں فرمان رہے
ایک ہی مرکز پر دائم یہ سارا پاکستان ہے
رہتی دنیا تک قائم یہ پیارا پاکستان ہے