PDA

View Full Version : آزاد پاکستان کا خواب



گلاب خان
12-08-2010, 08:01 PM
مجھے یقین ہے جس طرح پاکستان کا حصول آئینی اور جمہوری بنیادوں پر ممکن بنایا گیا تھا۔ اسی طرح اگر ہمارے ملک میں جمہوریت برقرار رہتی آئین کی حکمرانی کا تسلسل قائم رہتا۔ غیر آئینی قوتوں کو جنہیں ہمارے سیاسی محاورے میں اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ تسلط حاصل نہ ہوتا پے در پے مارشل لاءنہ لگتے۔ نہ پس پردہ تاریں ہلا کر سول حکومتوں کے زمانوں میں بھی فوجی سربراہوں کی کارفرمائی ہوتی۔ ان کی آڑ میں مملکت خداداد امریکہ کی طفیلی ریاست نہ بنتی۔ بدعنوان سیاستدانوں کو بھی دوسرے اور طاقتور ریاستی عناصر کے ساتھ مل کر لوٹ مار کا کھلا موقع نہ ملتا تو گذشتہ 63 برس کی مدت میں نہ صرف مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا بلکہ ہمارے عوام نے اپنی حاکمیت کی بدولت کشمیر کو بھارت کے قبضہ استبداد سے آزاد کرا لیا ہوتا.... اس کے برعکس آج پاکستان کے ایک حصے کو امریکہ کے ڈرون طیاروں کے پے در پے حملوں سے چھلنی کئے جا رہا ہے اور صورت حال اس حد تک شرمناک ہو گئی ہے جیسا کہ وکی لیکس کے انکشافات نے پردہ اٹھایا ہے۔ امریکہ کے فوجی دستے ہمارے قبائلی علاقے میں داخل ہو کر پاک فوج کے یونٹوں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ امریکی فوج کو سرزمین پاک میں داخل ہونے اور ہماری بچی کھچی حاکمیت اعلیٰ کو روند ڈالنے کی کس نے اجازت دی۔ کیا اس کا فیصلہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کے کسی اجلاس سے حاصل کیا گیا۔ کابینہ نے اس کی منظوری دی یا کابینہ کی دفاعی کمیٹی سے توثیق حاصل کی گئی یا جی ایچ کیو کی جانب سے اشیر باد ملی۔ پاکستانی قوم کو اتنا تو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی آزادی اور خود مختاری کے سودے کون کر رہا ہے۔ صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف تینوں علیحدہ علیحدہ امریکی سفیر سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے عمل میں مصروف رہے ہیں۔ اسی کھیل میں امریکہ نے اپنا الو سیدھا کر لیا۔ جو کام وہ پاکستانی عوام کے غصے کے ڈر میں کھل کرنہیں کر سکتا تھا اسے چپکے سے اپنے لئے آسان کر لیا ہمیں اس انجام تک پہنچانے والے سول اور فوجی دونوں حکمران ہیں۔ جنہیں عوام کی مرضی خواہشات اور ملک کی حقیقی آزادی کی کبھی پرواہ نہیں رہی۔ ان کیلئے امریکہ کی خوشنودی ہی سب سے مقدم ہے۔
میں نے سطور بالا میں عرض کیا اگر اس ملک میں جمہوریت کے تسلسل اور استحکام کی وجہ سے عوام کی حکمرانی صحیح معنوں میں قائم رہتی تو ہم نے کشمیر کو آزاد کرا لیا ہوتا میرے پاس اس کی ٹھوس وجوہ ہیں ہماری نصف صدی سے زائد تاریخ میں تین مرتبہ حقیقی طور پر منتخب حکومتیں قائم ہوئیں۔ پہلی قائداعظم اور لیاقت علی خاں کی حکومت تھی جس نے کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کرایا۔ جو آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سلامتی کونسل میں کشمیری عوام کے حق خود ارادی کےلئے قرادادیں منظور کرائیں۔ فوج کے ایک حصے نے لیاقت علی کی حکومت الٹا دینے کا منصوبہ بھی سوچا لیکن اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ایوب کو جلد اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے طشت ازبام ہو گیا۔ دوسری منتخب حکومت ذوالفقار علی بھٹو کی تھی جس نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے تعاون سے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے ایٹمی پروگرام شروع کیا۔ کیونکہ صدر اور کمانڈر انچیف جنرل یحییٰ کی فوجی اور سیاسی حکمت عملی نے ہمیں بھارت جیسے دشمن کے مقابلے میں شکست سے دوچار کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی جارحانہ عزائم کے مقابلے میں محض روایتی فوجی جنگوں سے پاکستان کو محفوظ رکھنا ممکن نہ رہا تھا۔ عوام کی منتخب کردہ تیسری حکومت نواز شریف کی تھی جس نے 1998ءمیں امریکہ کے دباو اور اس وقت کی فوجی قیادت کے مشورے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جرات سے کام لیا اور ملک کے باقاعدہ ایٹمی طاقت کا اعلان کرنے کیلئے ضروری دھماکہ کر دیا۔ تب سے اب تک بھارت کو ہزار خواہشوں کے باوجود حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہو سکی۔ اسی بنا پر مجھے یہ رائے قائم کرنے میں مدد ملی ہے کہ اگر لیاقت علی خاں کے قتل کے بعد اسٹیبلشمنٹ پر پاکستان کی حکمرانی کے دروازے نہ کھلتے عوام کی منتخب حکومتوں کا تسلسل جاری رہتا اور یہ ملک امریکہ کا تابع مہمل نہ بنتا تو آج کشمیر یقیناً آزاد اورخطے میں حقیقی امن قائم ہوتا۔ بھارت بھی پورے علاقے میں اپنی بالادستی کے خواب نہ دیکھ رہا ہوتا۔ پاکستان فی الواقع قائداعظم کے خواب کی عملی تعبیر بن کر اپنی چمک اور دمک دکھا رہا ہوتا۔
وکی لیکس سے جو مزید حقائق مترشح ہوتے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ ملک کی تمام مقتدر شخصیات میں سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی امریکی سفیر سے رابطہ قائم نہیں کیا۔ امریکہ ان کی بحالی کا مخالف تھا۔ جسٹس چودھری نے بھی اپنے بارے میں اسے کسی قسم کی یقین دہانی دلانے کی کوشش نہیں کی۔ آج ان کے دم قدم سے ہی پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی کا بھرم قائم ہے۔ نواز شریف کی سفیر امریکہ اور واحد سپر طاقت کے نمائندوں سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ لیکن انہوں نے ان کے حضور حاضریاں لگوانے کا شیوہ اختیار نہیں کیا۔ این پیٹرسن اور رچرڈ ہالبروک اکثر رائے ونڈ میں آکر یا اسلام آباد کے پنجاب ہاوس میں ان کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے رہے۔ نتیجہ یہ ہے نواز شریف نے واحد سپر طاقت کے نمائندوں کی بات نہیں مانی اور آزاد عدلیہ کو بحال کرا کے ہی دم لیا۔ عمران خاں کے بارے میں وکی لیکس نے شہادت دی ہے کہ وہ امریکی اثرات سے آزاد ہیں جو ان کے کردار کا مثبت پہلو ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا معاملہ بہت مشکوک ہے۔ انہوں نے انکشافات کے مطابق امریکی سفیر سے خود کو وزیراعظم بننے میں مدد کی درخواست بھی کی اور امریکہ بھی انہیں موصوف کے تمام دعووں کے برعکس اپنا حامی تصور کرتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو ان الائشوں سے پاک رکھا ہے۔ گذشتہ اتوار کو کارکنوں کی طاقت رکھنے والی اس جماعت نے کمر توڑ مہنگائی کے خلاف اور قومی مطالبات کے حق میں زبردست عوامی مظاہرہ کرکے ثابت کر دیا کہ اس کی سٹریٹ پاور باقی ہے۔ پاکستان کے بارے میں مسلمانوں کی ایک آزاد ریاست کا جو خواب علامہ اقبال اور قائداعظم نے دیکھا تھا اسے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ جانے کے باوجود عملی تعبیر کا جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ تمام آئین دوست اور جمہوریت پسند جماعتیں اکٹھی ہو جائیں اور آئندہ انتخابات میں ملکر اس ملک و قوم کو حقیقی آزادی کی شاہراہ پر گامزن کر سکیں۔

بےباک
12-13-2010, 07:25 PM
وکی لیکس نے ھمارے لیڈران کے چہرے کھول دیے م
اگر اب بھی ہم نہ سمجھیں
تو اس کے بعد کون ہمیں ہوش دلائے گا ،