PDA

View Full Version : “جواب حاضر ہے "ملالہ کے نظریات"“



سید انور محمود
10-15-2012, 05:22 AM
از طرف: سید انور محمود
"ملالہ کے نظریات (http://urdulook.info/portal/showthread.php?tid=6499)" کے نام سے اردو منظر فورم کے فورم سیاست سےمیں پوسٹ کیا گیا ۔ یہ مضمون "جواب حاضر ہے ملالہ کے نظریات" اسکاجواب سمجھ لیں-
ہر انسان کی اپنی اپنی سوچ اور پسند ہوتی ہے- لیکن جب ہم اپنی سوچ کا اور پسندکااظہار دوسروں سے شیر کرتے تو دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا کہ اپنی سوچ اور پسند اسطرح بیان کریں کہ وہ مدلل اور حقیت پر مبنی ہوں- ملالہ کے نظریات کے بارے میں محترم مضمون نگارنے سب سے پہلے بات کچھ یوں شروع کی:
"احوال - برقعہ پتھر کے دور کی نشانی ہے اور داڑھی والے دیکھ کر فرعون یاد آتا ہے۔ ملالہ کی یادگار ڈائری سے دو ورق ۔۔۔ دیکھیں
http://www.ahwaal.com/index.php?option=c...=4&lang=ur
احوال - ملالہ سے اظہار یکجہتی کے لئے مشہور امریکی رقاصہ میڈونا نے ملالہ کا نام اپنی کمر پر لکھوایا دیکھیں ۔
http://madonnaonline.mtv.uol.com.br/wp-c...malala.jpg
۔۔۔۔۔۔۔۔
http://madonnaonline.mtv.uol.com.br/wp-c...ur_044.jpg

http://www.ahwaal.com/index.php?option=c...=4&lang=ur

محترم مضمون نگار نے جواپنی سوچ کی مطابق دو ڈائری والے لنک دیے ہیں وہ تو نہیں کھلے ہاں اُنکی پسند میڈونا والے لنک فوری کھل گے- سوچ اُنکی کیسی بھی ہو مگر اُنکی پسند بہت پسند آئی- لہذا مضمون نگار جب کوئی لنک ڈالیں تو خود بھی چیک کرلیا کریں- جب انکے لنک جھوٹے نکلے تو مضمون نگار کی مدد کرنے کےلیے ہم خود http://www.ahwaal.com پہنچ گے ۔ وہاں مضمون نگار کی مدد تو نہ ہو پائی مگر ایک اور جھوٹ وہاں بھی ملا، ویسے انکی سوچ سے بہت قریب ہے، ایک مضمون جس کا لنک موجود ہے، عنوان اور دو پیرگراف کا کچھ ایسےہے " ملالہ کی ڈائری بی بی سی کا مقامی رپورٹر لکھا کرتا تھا۔حملے کے بعد سے روپوش ہے (http://www.ahwaal.com/index.php?option=com_content&view=article&id=22941%3A2012-10-14-11-33-08&catid=40%3Aahamkhabrain&Itemid=46&lang=ur)"
"سوات میں طالبان کا نشانہ بننے والی لڑکی ملالہ کی مشہور ڈائری کا معمہ حل ہو گیا ہے اور پاکستان کے سرکاری ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ بی بی سی کا ایک مقامی رپورٹر ہی ملالہ کی ڈائری لکھا کرتا تھا اور پھر اسے گل مکئی کے نام سے شائع کردیا جاتا تھا۔ ………………………………………… …… اہم قومی ادارے اس بات پر تحقیق کررہے ہین کہ آخر وہ کون تھا جو ملالہ کے منہ میں الفاظ ڈال رہا تھا۔ اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے ملالہ سے اوباما کو آئیڈل قرار دینے کے الفاظ کہلوائے کیونکہ چوتھی جماعت کی بچی کو اوباما کے بارے میں علم ہونا ممکن نہیں ہے۔"
"تازہ ترین رپورٹس یہ ہیں کہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر ملالہ پر حملے کے بعد سے روپوش ہین اور ان کے تمام فون نمبر مسلسل بند جا رہے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کا دعوی ہے کہ انہوں نے ملالہ کے والد کو متنبہ کرنے کے لئے کئی بار اخبار میں بھی اشتہار شائع کرایا تھا مگر وہ کوئی بات سننے پر تیار نہ تھے اور لڑکی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے تھے جس کےبعد انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔"
پہلی بات اس مضمون کا کوئی لکھاری نہیں یعنی خودساختہ ہےیا سیدھا سیدھا جھوٹ کا پلندہ کہہ لیں اور دوسرے بی بی سی کے نمایندے کا نام بھی نہیں ۔ ذرا غور کریں پہلے پیراگراف کے آخرمیں لکھا ہے:
" اہم قومی ادارے اس بات پر تحقیق کررہے ہین کہ آخر وہ کون تھا جو ملالہ کے منہ میں الفاظ ڈال رہا تھا۔ اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے ملالہ سے اوباما کو آئیڈل قرار دینے کے الفاظ کہلوائے کیونکہ چوتھی جماعت کی بچی کو اوباما کے بارے میں علم ہونا ممکن نہیں ہے۔"
مضمون نگار اوران سب کی اطلاع کے لیے عرض ہے جو ملالہ کے دشمن بنے ہوے ہیں کہ قومی ادارے کیا اتنے بیوقوف ہیں کہ اُنہیں یہ نہ پتہ ہو کہ ملالہ چوتھی جماعت کی نہیں بلکہ نویں جماعت کی طالبہ ہے، آگے دوسرے پیراگراف لکھا ہے:
" ملالہ کے والد کو متنبہ کرنے کے لئے کئی بار اخبار میں بھی اشتہار شائع کرایا تھا مگر وہ کوئی بات سننے پر تیار نہ تھے اور لڑکی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے تھے جس کےبعد انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔"
سمجھ گے ہونگے آپ کیا فیصلہ ہوا، ایک معصوم اور نہتی بچی پر دہشتگردی کا کھلاوار- چلیں واپس اصل مضمون کی طرف۔
مضمون نگار کا اپنے مضمون میں یہ بھی کہنا ہے کہ بی بی سی کایہ کہناکہ:
"کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملالہ کے خیالات سیکولر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملالہ کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔
احسان اللہ احسان نے حملے کی وجہ بتاتے ہوئے مزید کہا کہ ملالہ بقول ان کے اپنے خیالات کے باعث اسلام مخالف خیالات رکھتی تھیں۔
مزید یہ کہ ایک موقع پر ملالہ یوسفزئی نے امریکی صدر براک اوباما کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ ’براک اوباما میرے آئیڈیل ہیں‘"۔
مضمون نگار کا کہنا کہ بی بی سی جھوٹ بول رہا ہے اور پھر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوےَ فرمایا " کیا سوات میں ایسے جہلا نہیں جو کسی جاہل کی باتوں میں آکر کہ یہ لڑکی سکول کیوں جاتی ہے، حملہ کر دیا ہو اور الزام طالبان پر لگا دیا ہے، ہم نےبھی بس جیو اور بی بی سی کو سندِ حدیث سمجھا ہوا ہے،نہ طالبان کی طرف سے کوئی ویڈیو ، نہ کوئی بیان، اگر آ بھی جائے تو کیا لاذمی وہ طالبان ہی ہوں گے یا پھر گاؤں کے چند جاہل اکھٹے ہو کر اور پگڑی باندھ کر بیان دیا ہو گا"۔
اس کو ہم منطق تو کہہ سکتے ہیں دلیل نہیں مگر چلیے بی بی سی کی کہانی ختم کیونکہ فرماتے ہیں " مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ صرف ایک یہودی چینل بی بی سی کی خبر کو لے کر آپ طالبان کو بدنام کر رہے ہیں"، چلیں ہم سب بھی ملکر بی بی سی اور وائس آف امریکہ کو کافر، جھوٹا کہہ لیتے ہیں نہیں مانتے یہودی چینل کو ، مگر ایک مسلمان، وزیرستان کے رہنے والے صحافی جناب سلیم صافی جو جزوی طور پر طالبان کے ہمدرد نظر آتے ہیں کا کہنا بھی نہیں مانیگے، سلیم صافی نے روزنامہ جنگ کے مورخہ 13 اکتوبر بروز ہفتہ ایک کالم بعنوان " ملالہ‘ ملالے اور ان کا ملال" لکھا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :
"ملالہ‘ ملالے اور ان کا ملال... جرگہ…سلیم صافی (http://jang.com.pk/jang/oct2012-daily/13-10-2012/col1.htm)
جس روز ملالہ یوسفزئی کے سر میں گولی ماری گئی‘ اس شام کوجیونیوز کے پروگرام ”آپس کی بات“ میں بوجھل دل کے ساتھ اس سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ تو مجھے اپنی دعاؤں کی قبولیت کی زیادہ امید نہیں ‘ اس لئے اپنی والدہ سے خصوصی درخواست کی ہے کہ وہ ملالہ کی صحت یابی کیلئے دعا کریں جو وہ تسلسل کیساتھ مانگ رہی ہیں۔ جونہی پروگرام ختم ہوا تو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا فون آیا۔ انہوں نے طعنہ دیا کہ تم لوگ کیوں اس فلاں فلاں ملالہ یوسفزئی کیلئے اتنے دکھی ہو اور پھر اپنا موقف بیان کرنا شروع کیا۔ میں نے کہا کہ اس واقعے کا نہ صرف خود انہیں بے تحاشہ نقصان ہوگا بلکہ اس پورے معاملے میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا۔ میں نے سوال کیا کہ آخر ایک عورت اور وہ بھی معصوم بچی کو کیوں نشانہ بنایا گیا ؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ شرعی جواز پر مبنی تفصیلی ای میل بھیج رہے ہیں اور پھر فون بند کردیا ۔ رات گئے ان کی وہ ای میل موصول ہوئی جس میں انہوں نے اس کارروائی کا شرعی جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پاکستانی عوام کی اکثریت اس تاویل کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ حتیٰ کہ قاضی حسین احمد اور عمران خان بھی شدید الفاظ میں مذمت پر مجبور ہیں۔ گزشتہ روز میں لاہور جارہا تھا اور جہاز کے عملے سے لے کر مسافروں تک‘ جو بھی ملتا ‘ پہلا سوال ملالہ یوسفزئی کی صحت سے متعلق کرتا ۔ لاہور میں دیکھا کہ پورے مال روڈ کو اس پختون بیٹی کی تصویروں اور ان کے لئے دعائیہ کلمات سے سجا دیا گیا ہے ۔ یہ عزت‘یہ شہرت‘ یہ ہمدردی ‘ یہ پیار ‘ یہ محبت ‘ جو ملالہ یوسفزئی کو نصیب ہورہی ہے ‘ ناقابل تصور ہے۔"
اب یہ فیصلہ کرنا کہ کون جھوٹا اور کون سچا آسان لگتا ہے- مگر مضمون نگار نے دوسروں کے تبصروں پر ایک اعتراف یوں کیا:
"میرے بھائی میں طالبان کی قطعاً حمایت نہیں کر رہا، اور آپ کی اطلاع کے لیے پہلے سے عرض کردوں کہ ماشا اللہ میں عقیدہ اہل سنت مسلمان ہوں"۔
پاکستان میں رہنے والا ہر شہری چاہے وہ کسی بھی عقیدہ کا ہو یا کوئی غیر مسلم سب برابر ہیں اسلیے آپ سنی ہیں ، شعیہ ہیں، بریلوی یا دیوبندی کسی کو آپ پر اعتراض نہیں ہاںمگراچھی بات یہ ہےکہ آپ طالبان دہشتگرد نہیں ہیں۔
مضمون نگار نے کچھ سوال بھی اٹھاےَ کہ:
"اگر ملالہ ہماری بہن ہے تو سادہ سوال ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کن کی بہن ہے؟اگر ملالہ کا خون اتنا قیمتی ہے کہ زخمی ہونے پر اس قدر افسوس اور عالمی دنیا سے فون پر رابطے اور تو جامعہ حفصہ میں شہید ہونے والی کون اور ان کو شہید کرنے والے کون؟کراچی میں دن دیہاڑے دم توڑتی روحوں کے مجرم کون؟ اور ان سے ہمارا رشتہ کیا؟"
جہاں تک جامعہ حفصہ اور کراچی کے معاملات ہیں تو عرض ہے کہ جامعہ حفصہ میں انتہا پسندی اور مولانا عبدالعزیز کا برقعے میں ناکام فرار بہت بڑی وجہ ہیں، کراچی جو کبھی امن اور روشنیوں کا شہر تھا اُسکی بربادی کی ذمداری ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت ہے- رہا سوال ملالہ اور ڈاکٹر آفیہ صیدیقی کا ، تو دونوں قوم کی بیٹیاں اور بہن ہیں مگر دونوں کے کیس علیدہ ہیں – ملالا صرف عورتوں کی تعلیم کی مانگ کرتی ہے اور وحشی طالبان دہشتگردوں کے خلاف بولتی ہے- جبکہ ڈاکڑ آفیہ کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے اُس پر پوری قوم نے احتجاج کیا ہے بشمول ایم کیو ایم جو جماعت اسلامی کےبہت بڑے مخالف ہیں- جبکہ آفیہ صدیقی کے بارے میں انکی ہمدرد ویب سایٹ پر آپ کو کچھ یوں بھی لکھا مل جاے گا:
" ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تصویر کا ایک ہی رخ دکھایا جاتا ہے اور لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اسی کو سچ مانیں ، خواہ وہ رخ کتنا ہی بھیانک اور مسخ شدہ کیوں نہ ہو۔ایسا ہی کچھ عافیہ صدیقی کیس میں بھی ہوا ہے ۔یہ کیس بیک وقت خوفناک بھی ہے اور المناک بھی!"
" ڈاکٹر امجد نے عافیہ کو طلاق دے دی ۔ طلاق کے دو ہفتے بعد ان کا تیسرا بیٹا سلیمان پیدا ہوا۔ 25دسمبر 2002ء کو عافیہ صدیقی نے اپنے تینوں بچوں (بشمول تین ماہ کے سلیمان)کو اپنی ماں کے پاس چھوڑا اور دوبارہ امریکہ چلی گئی اور 2003 میں کراچی واپس آ گئیں۔ 10روز پر مشتمل اس دورے کے دوران عافیہ نے ایک اور مشکوک کام کیا ۔ عافیہ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے امریکہ میں ماجد خان (القاعدہ کا مبینہ کارکن جس کے بارے میں فرض کیا گیا تھا کہ اس نے بالٹی مور میں پٹرول پمپ اڑانے کا منصوبہ بنایا تھا) کے نام کا ایک پوسٹ بکس کھولا تھا تاکہ ماجد خان کا امریکہ میں داخلہ آسان بنایا جا سکے ۔ اس سنسنی خیز کہانی میں ایک اور موڑ اس وقت آیا جب عافیہ نے اپنی طلاق کے چھ ماہ بعد خالد شیخ محمد کے بھتیجے عمّار ال بلوچی سے شادی کر لی ۔{واضح رہے کہ خالدشیخ مبینہ طور پر 9/11کا ماسٹر مائینڈ ہے- خالد شیخ محمد کو راولپنڈی سے یکم مارچ، 2003 کو پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی نے حراست میں لیا اور مارچ 2007 میں امریکی حراست میں دیا گیا- خالد شیخ محمد نے 11 ستمبر کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ کا اعتراف کیا۔ دوران انکوائری خالد شیخ محمد نے عافیہ صدیقی کا نام القاعدہ کے ہمدردکےطور پر لیا-}"۔
مگر دوسری طرف ہمدرد یا مخالف جو الزام یا تعریف میں ہے وہ یہ ہی ہے کہ ملالا یوسف ذئی خواتین کی تعلیم کی بات کرتی ہے یا پھر وہ طالبان دہشتگردوں کے خلاف ہے- بقول اقبال کے :
نور ِحق شمع الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون…؟
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون؟
آیےَ ملکر دعا کیں کہ اللہ تعالی گل مکئی ملالا یوسف ذئی کو جلد از جلد صحتیاب کرے اور ہمارے اس پاک وطن کو امریکہ کی غلامی اور دہشت گردی سے جلد از جلد نجات دلاےَ۔ آمین

اس تحریر کو پڑھنے پر میں آپکا شکرگذار ہوں۔
___________________________________
نوٹ: میں اپنے تمام ان قاریوں سےمعذرت خواہ ہوں جن کو یہ پورا مضمون یا اسکا کوئی حصہ پسند نہ آیا ہو، اور ان کا شکر گذار ہوں جن کو یہ مضمون پسند آیا۔

محمداشرف يوسف
10-15-2012, 03:54 PM
یہاں دو مسئلے ہیں
1۔ ملالہ (یا کوئی اور صاحب ڈائری ) کے نظریات پر تنقید کرنا
2۔ ملالہ پر کیے گئے حملے کی مذمت یا تائید کرنا ۔
یہ دونوں مسئلے الگ الگ ہیں ۔ میں نے تو ان غلط نظریات پر تنقید کی ہے اور کسی پر تنقید کرنا یا اس کو غلط قرار دینا اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ آپ اس پر حملہ یا اس کے قتل کو جائز قرار دے رہے ہیں ۔
کیونکہ ہر غلطی یا گناہ سبب ارتداد نہیں ہوتی کہ آپ اس کا خون حلال قرار دے دیں ۔
باقی رہی بات کہ حملہ طالبان نے کیا ہے یا ظالمان (امریکی پٹھو ) نے ؟ میں نے اس حوالے سے بھی کسی جگہ اپنی رائے دینے کی کوشش نہیں کی ، لہذا یہاں بھی مجھے کسی فریق کا حمایتی نہ سمجھا جائے ۔
میں نے تو بس اسلامی شعائر کا تمسخر اڑانے والی ایک دو باتوں کے حوالے سے کچھ لکھا ہے ۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ اسی صورت میں ہے اگر یہ باتیں کسی نے کہی ہیں اگر کسی نے نہیں کہیں تو وہ گفتگو کا ہدف بھی نہیں ہے ۔
بہر صورت ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ ہمارا اختلاف اس بات پر ہونا چاہیے کہ ملالہ (یا بواسطہ ملالہ ) اسلامی شعائر کی جو تضحیک کی گئی ہے کیا اس پر ملالہ کو یہی سزا ملنی چاہیے تھی ؟
نہ کہ ہم ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اسلامی شعائر کی تضحیک کے اس فعل کو تعاویلات کے ذریعے برحق ثابت کرنا شروع کردیں
ملالہ کے نظریات پر محاذ تو آپ کے سامنے ہے خيرايسا هوتا رهتا هے مگر شکوہ جواب شکوہ کے طور ہوتو اچھا لگتا ہے اور اچھی کوشش ہے آپ کی بہت بہت شکریہ