PDA

View Full Version : آج ہی کمانا ہے! آج ہی کھانا ہے!



گلاب خان
12-08-2010, 08:04 PM
خالد احمد ـ 14 گھنٹے 42 منٹ پہلے شائع کی گئی
آسٹریلوی صحافی، ناشر اور انٹرنیٹ ایکٹوسٹ جولین ایسانج JULIAN ASSANGE انٹرپول کی ریڈ نوٹس فہرست.... Red Notice List پر نمایاں ترین نام کے طور پر 30 نومبر 2010ءکے دن طلوع ہوئے! اور آخری خبریں آنے تک برطانوی پولیس نے انہیں سویڈن کے جاری کردہ ’ریڈ وارنٹ‘ کے تحت تحویل میں لے لیا ہے!
جناب جولین ایسانج انسانی حقوق، آزادی رائے، آزادی صحافت اور تحقیقی تفتیشی رپورٹنگ کے بہت بڑے مبلغ ہیں! ذاتی طور پر وہ کینیا میں ماورائے عدالت سلسلہ قتل سامنے لانے، افریقی ساحلوں پر انتہائی زہریلے صنعتی فضلے کی ڈمپنگ اور اس غیر انسانی عمل کے انسانی صحت اور سمندری حیات و ماحولیات پر انتہائی گہرے مضر اثرات کی تفصیلات سامنے لانے پر ایوارڈز کے مستحق قرار پائے تھے، وہ سویڈن میں انسانی گوشت کے کاروبار پر بھی ایک تحقیقی اور تفتیشی رپورٹ تیار کر رہے تھے کہ یاروں کے کان کھڑے ہو گئے اور وہ ان کی آنکھوں میں آ جانے سے پہلے سویڈن سے کھسک لئے! وکی لیکس کے حالیہ اقدام کے بعد ان کی تصاویر عام ہو جانے کی بنا پر، وہ ان لوگوں کی پہچان میں بھی آ گئے، جن کے کان ان کی آہٹ کے عادی تھے اور بہت دنوں سے ان کی چاپ کی تلاش میں تھے!
سویڈن کا عدالتی نظام کچھ یوں ہے کہ الزام ثابت ہونے پر ’سزا‘ سنا دی جاتی ہے! اور پھر ’مجرم‘ سے معلوم کیا جاتا ہے کہ وہ یہ سزا کب کاٹنا پسند کرے گا؟ مجرم اپنی مصروفیات اور پہلے سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے بعد دفتر سے درکار مدت کی رخصت منظور کروا کر عدالت کے روبرو بیان دیتا ہے کہ وہ فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک ’جیل میں رہ سکتا ہے! اور عدالت اسے بتاتی ہے کہ وہ یہ ’دستاویزات‘ ساتھ لے کر فلاں ’ذہنی اصلاح خانے‘ کے دروازے پر فلاں تاریخ کی صبح 9 بجے تک پہنچ جائے! اور وہاں آج تک کوئی ’مجرم‘ اپنے کئے ہوئے ’وعدے‘ سے نہیں مکرا اور نہ ہی پولیس کو عدالت سے سزا یافتہ شخص کی تلاش میں سرگرداں ہونا پڑا!
اگر سویڈن کے ان حالات کے بارے میں کوئی ’مسلم عالم‘ پریشان ہو جائے تو اس کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ’سویڈن‘ موجودہ نظام عدل تک ترکی کے عثمانیہ دور کے نظام عدل سے اکتساب کرتے کرتے پہنچا ہے! خیر یہ داستان ہم آپ تک کسی دن پہنچائیں گے! فی الحال بڑی خبر یہی ہے کہ جناب جولین ایسانج سویڈن کے جاری کردہ ریڈ وارنٹ کے تقابل میں برطانوی پولیس کی تحویل میں ہیں!
’وکی لیکس‘ کی بندش کے لئے فرانسیسی حکومت کی درخواست ایک فرانسیسی عدالت نے مسترد کر دی ہے اور ’وکی لیکس‘ کی نمائش پورے زور شور کے ساتھ جاری ہے!
ہیلری کلنٹن کا اندازہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ آئی ایس آئی کا رابطہ ابھی تک بحال ہے! سعودی خفیہ ادارے پاکستانی خفیہ اداروں کے ساتھ اپنی معلومات کا تبادلہ کرنے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں!
محترمہ ہیلری کلنٹن طالبان سے مکالمہ بھی چاہتی ہیں اور یہ مکالمہ آغاز بھی پاکستان کے ذریعے کرنا چاہتی ہیں مگر اس کے لئے بھی، وہ یہ پسند نہیں کرتیں کہ اس مکالمے کے لئے پاکستان کے کسی بھی خفیہ ادارے کا طالبان کے ساتھ کوئی رابطہ ’زندہ‘ ہو! حالانکہ مکالمے کے لئے کوئی ’زندہ رابطہ‘ ہی ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر پہنچا سکتا ہے!
محترمہ اینی پیٹرسن کے وزارت خارجہ کے نام بھیجی گئی رپورٹس میں جہاں اور بہت سی باتیں ہیں وہاں انہوں نے صدر زرداری اور سینیٹر جان کیری کی ملاقات کا اختصاریہ بھی رقم فرمایا ہے! اس اختصاریئے کے مطابق صدر زرداری نے 16 فروری 2010ءکے دن جناب جان کیری سے ملاقات کے دوران فرمایا، ’میرے صدر بننے کے بعد سے اب تک پاکستانی عوام کو ’مہنگائی‘ کے سوا کچھ نہیں ملا!‘ لہٰذا مائی باپ سے ’ڈیل‘ کے نام پر کچھ نہ کچھ لے مرنے کی کوشش بھی کی گئی! یہ الگ بات ہے کہ جان کیری کا دل ’پسیجا‘ بھی؟ یا نہیں؟
’تماشا‘ یہ ہے کہ ہم گزشتہ کے حالات پڑھ پڑھ کر گزشتہ سے پیوستہ حالات دیکھنے، سوچنے اور سمجھنے میں لگے ہیں اور ادھر مولانا حامد سعید کاظمی ’سپریم کورٹ آف پاکستان‘ کے روبرو فرما رہے ہیں کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت کہیں کم کرپشن ہوئی لیکن وہ یہ کہتے ہوئے یہ بتانا بھول گئے کہ گزشتہ سال بھی وزیر مذہبی امور کا تاج مولانا کے ہی سر تھا مگر وہ اس وقت بھی دم مارنے کی پوزیشن میں نہیں تھے! اب جب کہ یار لوگ دم پر دم مار رہے ہیں! اور ہر طرف ’دم مارو دم‘ کی صدا گونج رہی، ہم سوچ رہے ہیں کہ ہمارا چہرہ کس نے مسخ کیا؟ ہم نے خود؟ یا، دشمنوں نے؟
جناب پرویزالہی وزیراعظم بننے کے چکر میں ہمیں خوار کر گئے جب کہ مولانا فضل الرحمان وزیراعظم بننے کی درخواست لکھوانے کے چکر میں ہمیں خوار کرتے پھر رہے ہیں! اب یوں ہے کہ جناب وزیراعظم، جناب پرویزالٰہی اور جناب فضل الرحمان سے بھی ہوشیار ہوشیار پھر رہے ہیں اور جناب نواز شریف سے بھی علیک سلیک کے لئے تیار نہیں کہ مبادا ٹانگ کی جگہ ہاتھ کھینچ کر نیچے نہ اتار لیں! کل کس نے دیکھا ہے؟ لہٰذا جو کمانا ہے آج ہی کھانا ہے، جو کھانا ہے آج ہی کھانا ہے! چاہے نوالہ حلق میں پھنس کے رہ جائے یا دنیا ہنس کے رہ جائے!

بےباک
12-09-2010, 11:41 AM
اب یوں ہے کہ جناب وزیراعظم، جناب پرویزالٰہی اور جناب فضل الرحمان سے بھی ہوشیار ہوشیار پھر رہے ہیں اور جناب نواز شریف سے بھی علیک سلیک کے لئے تیار نہیں کہ مبادا ٹانگ کی جگہ ہاتھ کھینچ کر نیچے نہ اتار لیں! کل کس نے دیکھا ہے؟ لہٰذا جو کمانا ہے آج ہی کھانا ہے، جو کھانا ہے آج ہی کھانا ہے! چاہے نوالہ حلق میں پھنس کے رہ جائے یا دنیا ہنس کے رہ جائے!
............
کیا خوب لکھا ہے ، ھاھاھاھاھاھا

تانیہ
12-10-2010, 03:36 PM
ہاہا ...زبردست