PDA

View Full Version : بات بازی لے جانے کی ہے!



گلاب خان
12-08-2010, 08:16 PM
بات بازی لے جانے کی ہے!
خالد احمد ـ 3 دسمبر ، 2010

پاکستان میں امریکہ کے سفیر جناب کیمرون منٹر نے پاکستان کے وزیراعظم عزت مآب سید یوسف رضا گیلانی سے شرف ملاقات حاصل کرکے انہیں یقین دلایا ہے کہ ”پاک۔ امریکہ تزویراتی شراکت داری“ بدستور جاری رہے گی! اور جواباً جناب سید یوسف رضا گیلانی نے جناب کیمرون منٹر پر صاف صاف الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ انہیں ان کی بات پر پہلے کی طرح پورا پورا یقین آگیا ہے!
اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان ملاحظہ فرمائیے کہ وہ تمام باتیں جنہیں ہم ایک زمانے سے ”چنڈو خانے کے باوثوق ذرائع کی روایات“ جان کر کبھی زبان پر بھی نہیں لائے‘ وہ اس کے لامتناہی کرم سے ”سچ“ نکل آئیں! برطانیہ سے جو کوئی آتا‘ جناب آصف علی زرداری کا قصیدہ پڑھتا نظر آتا! ہم حیران تھے کہ بار الہٰ یہ کیا معاملہ ہے؟ اب معلوم ہوا ہے کہ یہ رائے تو درحقیقت برطانوی فضائیہ کے سربراہ کی تھی‘ جسے ہم وہاں سے آنے والے پاکستانی قائدین کی آرا بلکہ پاکستان سے ان کی وابستگی اور پاکستان کے لئے ان کی پریشانی کی حیران کن داستان سمجھ کر سنتے اور انہیں طفل تسلیاں اور دم دلاسے دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہتے!
”جناب آصف علی زرداری‘ جناب پرویز مشرف کے لئے معافی تلافی اور محفوظ رستے کا اہتمام کر کے ایوان صدر کی چوکھٹ تک اپنی ”رسائی کا راستہ“ ہموار کر سکے ہیں!“ یہ بات بھی ہمیں ”چرس کے ایک رسیا“ کی زبانی معلوم ہوئی اور ہم جناب میر تقی میر کا یہ مصرع پڑھ کر وہاں سے اٹھ آئے تھے‘ ”ناحق ہم مجبوروں پر‘ یہ تہمت ہے مختاری کی“ مگر اب یہ بات صد فیصد ”سچ“ قرار پا گئی ہے اور جناب زرداری کی زبانی ریکارڈ پر آگئی ہے! حتٰی کہ یہ بات بھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ”امریکی کلیئرنس سیل“ سے حاصل کردہ ملبوسات میں سج دھج کر پاکستانی سرزمین پر قدم رنجا ہوئی تھیں! جناب زرداری کی زبانی ہی ریکارڈ کا حصہ بن رہی ہے!
لاہور کے چنڈو خانوں میں یہ خبر ”انتہائی گرم خبر“ کے طور پر کانوں میں انڈیلی جاتی رہی کہ معزول چیف جسٹس بلوچستان کے گورنر متعین کئے جا رہے ہیں! مگر یہ بات کان سے زبان کا سفر طے نہیں کر پائی البتہ وکی لیکس کے مطابق جناب آصف علی زرداری نے تو جناب افتخار محمد چودھری کے لئے بلوچستان کے گورنر کی نشست خالی بھی کروا لی تھی تاکہ پاکستان نہیں تو کم از کم پاکستان کے ایک صوبے بلوچستان میں تو انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے! اور تمام عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کی چکی کے دونوں پاٹوں میں سے گزرنے کا راستہ بھی ہموار کیا جا سکے تاکہ دیکھا جا سکے کہ بلوچ سردار عام بلوچ کے لئے ”انصاف کی فراہمی“ برداشت کر لیتے ہیں؟ یا‘ نہیں؟
لاہور کے ایک بھنگڑ خانے کے مستقل ”بھنگ گھوٹووں“ اور ”بھنگ نوشوں“ کی زبان پر ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ پاکستان کے مقتدر ایوان درحقیقت امریکی مے نوشوں کی اشاراتی زبان کے ترجمان ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پاکستانی بھنگ پی کر پاکستان کی سرزمین پر کنکھجوروں کی طرح رینگتے نہ پھریں بلکہ امریکی شرابیں پی پی کر بڑھکیں ماریں اور پاکستانی عوام پر ”پاکستانی“ ہونے کا رعب جما سکیں!
”امریکی سفیر نے پاکستانی وزیراعظم کو بتایا کہ وہ ”وکی لیکس“ کی دستاویزات عام ہونے سے پہلے یہ ”خبریں“ پاکستانی ”چنڈو خانوں“ اور ”بھنگڑ خانوں“ میں عام ہو جانے پر زیادہ پریشان ہیں اور عن قریب اس سلسلے میں ایک تحقیقاتی ٹیم کے قیام کا مطالبہ کرنے والے ہیں!“ یہ خبر بھی ہمیں ایک ”چنڈ باز“ نے بتائی ہے! مگر اب کیا کیا جائے؟ زمانہ بازی لے جانے کا ہے!

بےباک
12-09-2010, 11:16 AM
ایک تو وکی لیکس والے ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں،جہاں پر امریکن سفیر گھس بیٹھیے کا کردار ادا کرتے ہیں ،