PDA

View Full Version : گلگت بلتستان پاکستان کا ہائیڈل بجلی گھر بن سکتا ہے



گلاب خان
12-08-2010, 08:17 PM
گلگت بلتستان حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اسے لاہور چیمبر کے سابق صدر میاں شفقت کی شکل میں ایک کامیاب سرمایہ کاری کا مشیر ملا ہے جس کی وجہ سے اس نئے صوبے کو بہت سے فائدے مل رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سرمایہ کاری لینے کے لئے لاہور کے دورے پر آئے تو یہاں ان کے اعزاز میں متعدد تقاریب کا انعقاد ہوا جس میں بزنس مین فورم کے چیئرمین افتخار علی ملک کی طرف سے ہائی ٹی ، لبرٹی میں لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق نائب صدر شیخ عرفان کی طرف سے استقبالیہ اور لاہور چیمبر آف کامرس میں ایک خاص تقریب۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے سرمایہ کاروں میاں منشا، میاں انجم نثار، شیخ رمضان، شیخ عادل، عرفان اقبال شیخ، میاں زاہد، سہیل لاشاری اور افتخار علی ملک سے ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی۔
وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نے اعلان کیا کہ دس سال کے لئے ٹیکس ہالیڈے کی سہولت دستیاب ہے۔ پہلے ون ونڈو آپریشن رکھا گیاتھا لیکن اب آپ لوگوں کی تجاویز کی روشنی میں ون ونڈو بھی ختم کردی گئی ہے اور اگر کسی سرمایہ دار کو کوئی مسئلہ ہو یا کوئی رکاوٹ ہو تو وہ براہ راست میرے موبائل فون پر رابطہ کرسکتا ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے انسٹرومینٹل لینڈنگ سسٹم کی اجازت دیدی ہے جس سے تمام موسموں میں لینڈنگ بارہ مہینے ہوسکے گی۔ یہی نہیں بلکہ اب ایک قدم آگے بڑھ کر کھٹمنڈو سے گلگت اور کاشغر سے سکردو ایئرپورٹ پر جہاز آجا سکیں گے۔ ان دو فلائٹوں سے ٹورازم کو زبردست فروغ ملے گا کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی چوٹی ماﺅنٹ ایورسٹ کے لئے کھٹمنڈو (نیپال) کا ایئرپورٹ استعمال ہوتا ہے اور سکردو میں دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے ٹو سمیت ایک درجن انتہائی بلند چوٹیاں ہیں۔ درحقیقت ٹورازم سے سرمایہ کاری اور بزنس کوزبردست فروغ ملتا ہے۔
بزنس مین پینل کے چیئرمین اور سارک چیمبر آف کامرس کے نائب صدر افتخار علی ملک نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا ”اس وقت پنجاب کی انڈسٹری اورتجارت کے لئے بجلی اور گیس دو بڑے مسائل ہیں۔ “وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ سے تفصیلی گفتگو میں انکشاف ہوا کہ تھوڑی سی سرمایہ کاری اور محنت سے گلگت اور بلتستان پاکستان کا ہائیڈل بجلی گھر بن سکتا ہے اور اس ذریعہ میں بہت کم سرمایہ کاری سے جو بجلی پیدا ہوگی اس کی قیمت ایک سے دو روپے فی یونٹ ہوگی جس سے تیل سے چلنے والے مہنگے بجلی گھروں پر خرچ ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بھی بچ سکے گا۔ صرف ایک روز پہلے چترال میں گرم چشمہ کے مقام پر دو پن بجلی گھروں کا افتتاح ہوا ہے۔ دونوں سو سو کلو واٹ کے ہیں۔ آغا خاں رورل سپورٹ پروگرام نے ان کے لئے اسی فیصد سرمایہ فراہم کیا ہے جبکہ بیس فیصد مقامی طور پر مہیا کیا گیا ہے۔ ایک بجلی گھر پر لاگت ساڑھے تنتالیس لاکھ روپے آئے گی۔ اس لئے یہ وقت ہے کہ پنجاب بجلی میں خود کفیل ہونے کے لئے گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کرے اور حکومت اس میں آغا خاں رورل سپورٹ پروگرام کی طرح 80 فیصد سرمایہ فراہم کرے بیس فیصد پنجاب کے سرمایہ دارادا کریں گے۔ خوش قسمتی سے اب قانونی طور پر اجازت ہے کہ پنجاب وہاں بجلی پیدا کرکے نیشنل گرڈ کے ذریعہ سے پنجاب میں جہاں چاہے استعمال کرسکتا ہے اس لئے اتنی اچھی پیشکش سے سرمایہ داروں کو فائدہ اٹھا کر پنجاب کو بجلی میں خود کفیل کرنا چاہئے۔ گیس کی تقسیم بھی برابری پر کی جائے۔

بےباک
12-09-2010, 11:09 AM
اچھی معلومات ہیں ،پاکستان میں اللہ کا کرم ہمیشہ سے رہا ہے ، اسی لئے بےشمار مصائب کے ہوتے یہ وطن قائم ہے،

کام کیا جائے تو انشاء اللہ یہ ملک جنت کا نمونہ ہے ،