PDA

View Full Version : پاکستان اور چین کا نئے پانچسالہ منصوبے پر اتفاق علاقائی اور عالمی امن کی پاک چین دوست



گلاب خان
12-08-2010, 08:20 PM
4 دسمبر ، 2010

پاکستان اور چین نے نئے پانچسالہ ترقیاتی منصوبے پر اتفاق کرلیا ہے‘ جس کے تحت چین پاکستانی برآمدات کے فروغ کیلئے آزادانہ تجارتی معاہدے کی بنیاد پر ٹیرف میں کمی لائے گا۔ اس سلسلہ میں وزیر خارجہ پاکستان عبدالحفیظ شیخ اور چین کے نائب وزیر تجارت اور نمائندہ برائے بین الاقوامی تجارت گائوجوچنگ نے گزشتہ روز پاک چین مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور چین نے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پانچسالہ مشترکہ ترقیاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے جس میں زراعت‘ پانی و بجلی‘ مواصلات اور صنعتوں سمیت اہم شعبوں کے 31 ارب 28 کروڑ ڈالر مالیت کے 36 منصوبے شامل کئے جائینگے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی مصنوعات کو چینی منڈیوں تک بہتر اور بارعایت رسائی دینے کیلئے آزادانہ تجارت کے معاہدے پر پیشرفت کے علاوہ پاکستانی برآمد کنندگان کو چین میں ہونیوالے تجارتی میلوں میں شرکت کی سہولت اور پاکستانی مصنوعات کی استعداد کار میں اضافے کیلئے تکنیکی مشاورت فراہم کی جائیگی۔ گائوجوچنگ کے بقول دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کی دل کھول کر مدد کی ہے‘ انہوں نے متاثرین سیلاب کی بحالی کیلئے چین کی جانب سے پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا‘ بعدازاں چینی وفد نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقات کی۔
یہ اٹل حقیقت ہے کہ اس خطہ میں چین یہ ہمارا ایسا دوست پڑوسی ملک ہے جس نے نہ صرف ہر کڑے وقت میں ہمارا بے لوث ساتھ دیا ہے‘ مالی‘ اقتصادی‘ اخلاقی اور حربی امداد فراہم کی ہے بلکہ وہ ہمارے کمینے ہمسایہ دشمن ملک بھارت کی ہماری سالمیت کیخلاف سازشوں کا توڑ کرنے کیلئے ہمیشہ ہمارے کندھے سے کندھا ملائے کھڑا رہا ہے اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس نے ہمارے اصولی موقف کی دوٹوک تائید کی ہے۔ چین کی بے لوث دوستی پر ہمیں اعتماد ہی نہیں‘ فخر بھی ہے اور امریکی ریاکاری کے مقابلہ میں چین کی حقیقت پسندی مختلف قومی‘ ملکی اور عالمی ایشوز پر ہمارے لئے تقویت کا باعث بنتی رہی ہے۔
اس وقت جبکہ سابق سوویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد دنیا کی واحد سپرپاور ہونے کے زعم میں امریکہ بھارت اور اپنے بالشتیئے اسرائیل کی معاونت سے اس خطہ سمیت پوری دنیا کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچوانے اور باطل قوتوں کو اپنے صہیونی کروسیڈی عزائم کی بنیاد پر غالب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کیلئے اس نے ہمارے خطہ میں دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں اپنے مفادات کی جنگ شروع کرکے علاقائی اور عالمی امن غارت کیا ہوا ہے اور اسکی لگائی آگ کی حدت چین تک بھی پہنچ رہی ہے‘ اس لئے چین کی صورت میں دنیا کو امریکہ کے مقابلہ کی سپرپاور کی سخت ضرورت محسوس ہو رہی ہے‘ تاکہ نہ صرف امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھا جا سکے‘ بلکہ امریکہ کی سرپرستی میں بھارت کو بدمست ہاتھی بننے سے بھی روکا جا سکے۔ اس سلسلہ میں اگر پاکستان اور چین ایک دوسرے کے علاقائی‘ اقتصادی‘ دفاعی اور تجارتی معاون بن کر اس خطہ کی منڈیوں پر قبضہ جمانے کی امریکی بھارتی سازشوں کو ناکام بنا دیتے ہیں تو نہ صرف علاقائی اور عالمی امن کو لاحق خطرات ٹل جائینگے بلکہ ہر شعبہ میں باہمی تعاون سے ہم اپنی ترقی و خوشحالی کی منزل بھی حاصل کر سکتے ہیں اور ترقی کے اس سفر میں ہمیں امریکہ اور اسکے زیر اثر عالمی مالیاتی اداروں کا دستِ نگر بھی نہیں ہونا پڑیگا جبکہ چین کی منڈیوں میں رسائی حاصل ہونے سے ہماری برآمدی مصنوعات کیلئے دوسری عالمی منڈیوں تک رسائی کا راستہ بھی نکل آئیگا۔
بھارت نے امریکی سرپرستی میں اپنی ایٹمی جنگی دفاعی صلاحیتوں کے زعم میں ہماری سلامتی کیلئے ہی خطرات پیدا نہیں کئے‘ چین کی خودمختاری کو بھی چیلنج کیا ہے‘ اس لئے یہ نادر موقع ہے کہ چین کی معاونت سے اپنے اس مکار دشمن کا غرور توڑا جائے۔ امریکہ بے شک اپنے مفادات کی بنیاد پر ہمیں اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتا ہے‘ مگر دوستی کے بھیس میں وہ ہمارے ساتھ بدترین دشمنی کر رہا ہے جو خود بھی ڈرون اور ہیلی کاپٹر حملوں کی صورت میں ہماری خودمختاری پر حملہ آور ہو چکا ہے اور ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی پر نظرِبد گاڑے ہوئے بلکہ اس نے بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دیتے ہوئے اسکے ساتھ ایٹمی تعاون کے متعدد معاہدے کرکے اسکے ہاتھوں بھی ہماری سالمیت کو سخت خطرات سے دوچار کر دیا ہے اس لئے پاک چین دفاعی‘ صنعتی‘ تجارتی اور زرعی تعاون ہی اس خطہ میں امریکہ بھارت اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کے جارحانہ عزائم کے آگے بند باندھ سکتا ہے اور علاقائی امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔
چین بھارت کی شاطرانہ چالوں سے بھی بخوبی واقف ہے اور 60 کی دہائی میں اپنے علاقے اروناچل پردیش پر قبضہ کرنے کی بھارتی سازش کو اپنی عسکری قوت سے ناکام بھی بنا چکا ہے‘ اس لئے وہ بھارت کی جانب سے کھڑے کئے گئے کشمیر کے تنازعہ پر پاکستان کو بھی حق بجانب سمجھتا ہے‘ اس تناظر میںبھارت کے جارحانہ عزائم کے حوالے سے چین اور پاکستان کی دوستی اہم ہی نہیں‘ فطری بھی نظر آتی ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ ہماری دوستی کی کوئی بنیاد ہی موجود نہیں۔ اسے پہلے افغان جنگ میں لاجسٹک سپورٹ کیلئے ہماری ضرورت تھی جبکہ اب افغانستان سے انخلاء کیلئے وہ ہمارا کندھا استعمال کرنا چاہتا ہے‘ ہم نے افغان جنگ میں بھی امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرکے اپنا امن و سکون غارت کیا اور ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچایا جبکہ افغانستان سے واپسی کی منصوبہ بندی میں بھی امریکہ ہماری تباہی و بربادی کا سامان پیدا کرتا نظر آرہا ہے۔
اس تناظر میں ہماری حکومتی سیاسی اور عسکری قیادتوں کو ملک کی سالمیت کی فکر اور حقائق کا ادراک کرتے ہوئے امریکہ کی بے فیض دوستی سے دامن چھڑا کر خود کو اسکے مفادات کی جنگ سے فی الفور باہر نکال لینا چاہیے‘ امریکی صدر اوبامہ اپنے گزشتہ ماہ کے دورۂ بھارت میں نہ صرف مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنے کردار کی ادائیگی سے پہلو بچا گئے ہیں بلکہ وہ بھارت کو تھپکی دے گئے ہیں جو پہلے ہی ہماری سالمیت کیخلاف شروع دن سے سازشوں میں مصروف ہے‘ اس لئے اپنی اپنی ضرورت کے تحت بھی پاکستان اور چین ایک دوسرے کے معاون بن کر امریکہ اور بھارت کی علاقائی اور عالمی تھانیداری کا توڑ کر سکتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک پہلے ہی باہمی ایٹمی تعاون کے معاہدے میں بندھ چکے ہیں‘ جس کے تحت چین ہمیں ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی بجلی گھر فراہم کرنے پر آمادہ ہوا ہے جبکہ اب پاکستان اور چین تجارتی‘ زرعی اور صنعتی شعبوں میں تعاون کے پانچسالہ ترقیاتی منصوبے پر متفق ہوئے ہیں تو یہ انتہائی خوش آئند صورتحال ہے۔ دوستی و تعاون کی اس خوشگوار فضاء میں چین کے وزیراعظم وین جیابائو اس ماہ 17 دسمبر کو اپنے چار روزہ دورۂ پاکستان پر آرہے ہیں‘ جس سے پاک چین دوستی کے اٹوٹ رشتے میں مزید نکھار پیدا ہو گا‘ باہمی تعاون کے مزید راستے کھلیں گے اور شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے بلند پاک چین دوستی ہی بالآخر علاقائی اور عالمی امن اور ترقی و خوشحالی کی ضمانت بنے گی۔
وکی لیکس رپورٹس‘ صدر امریکی
غلامی کا طوق اتار پھینکیں
وکی لیکس کیمطابق آصف علی زرداری نے اقتدار میں آنے پر واشنگٹن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکومت کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں‘ پاکستان کا چہرہ بدلنے کیلئے امریکی مشورے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے‘ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے صدر زرداری کو فون کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں وکی لیکس رپورٹس سے پاکستانی لیڈروں کو ہونیوالی شرمندگی پر افسوس ہے‘ ساتھ ہی ہلیری نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اس سے پاک امریکہ تعلقات پر اثر نہیں پڑیگا اور مستقبل میں اس امر کو یقینی بنایا جائیگا کہ ایسی دستاویزات کا افشا نہ ہو سکے۔ صدر پاکستان اپنے حلف میں صرف اور صرف ملک سے وفاداری کا عہد کرتا ہے‘ کسی اور سے وفاداری کا نہیں۔ اسکے قول و فعل اور کردار وعمل سے بھی ملک سے وفاداری اور قوم کے تحفظ کا اظہار ہونا چاہیے۔ پاکستان کا چہرہ بدلنے کیلئے صدر زرداری نے امریکہ کے مشوروں پر عملدرآمد کی جو یقین دہانی کرائی‘ صدر صاحب کا کردار و عمل اس کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے اس پر عمل بھی کیا‘ اسکے باعث آج پاکستان امریکہ کی جنگ کا ایندھن بن رہا ہے۔ امریکیوں کی طرف سے ہدایت اور حکم جاری ہوتے ہی اس پر عمل شروع کردیا جاتا ہے‘ ڈرون حملوں میں ہزاروں بے گناہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں‘ ان پر نہ صرف احتجاج کرتے ہوئے سخت موقف نہیں اپنایا جاتا بلکہ ان حملوں میں اضافہ اور توسیع بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے‘ پیپلز پارٹی کو اقتدار امریکہ کی کاسہ لیسی نہیں‘ انتخابات میں عوام کے ووٹ کے باعث ملا ہے۔ زرداری کو بھی پارلیمنٹ نے صدر چنا۔ صدر اور انکی پارٹی کو اپنی عزت کیساتھ ساتھ قومی وقار اور خودمختاری کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ صدر صاحب آئین سے انحراف کے مرتکب ہوئے یا نہیں‘ اس پر رائے آئینی ماہرین دے سکتے ہیں‘ البتہ صدر صاحب کی وکی لیکس کی رپورٹس سامنے آنے پر بدنامی ہو رہی ہے۔ اب تو ہلیری نے فون کرکے رپورٹس کے مندرجات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ خود صدر کے عہدہ کے وقار اور قومی خودمختاری کا تقاضا ہے کہ صدر امریکی غلامی کا طوق اپنے اور قوم کے گلے سے اتار پھینکیں‘ خود شرمندگی سے بچیں اور قوم کو بھی دنیا کے سامنے قابل فخر بنائیں۔ امریکہ کی طرف سے مشرف کو نیک نامی کا سرٹیفکیٹ ملا‘ نہ مشرف کے نقش قدم پر چلنے والے کسی اور کو ملے گا۔
مسئلہ کشمیر‘ ایٹمی جنگ آخری آپشن ؟
وفاقی وزیر امور کشمیر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ عالمی توجہ چاہتا ہے‘ اگر یہ حل نہ ہوا تو پاکستان بھارت کے مابین عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
مقبوضہ وادی کے مظلوم مکین 63 سال سے بھارتی مظالم برداشت کر رہے ہیں‘ آج انکی تحریک نے نئی کروٹ لی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں اور کشمیریوں نے اپنی پرامن جدوجہد سے بھارت کی سات لاکھ افواج کو بے بس کر دیا ہے۔ بھارتی آرمی چیف وی کے سنگھ اور وزیر داخلہ چدم برم اپنی حکومت پر واضح کر چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نکالا جائے۔ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل تو اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کشمیریوں کیلئے استصواب کی صورت میں تجویز کردیا ہے جس سے بھارت راہ فرار اختیار کر چکا ہے۔ عالمی دبائو ریلیز کرنے کیلئے بھارت مذاکرات کی میز پر اس رٹ کیساتھ آتا ہے کہ کشمیر اسکا اٹوٹ انگ ہے۔ ہمارے حکمران اور بیوروکریسی معصومیت یا منافقت کیساتھ مذاکرات کی میز پر جا بیٹھتی ہے‘ ایسے مذاکرات کا کیا فائدہ جس میں بھارت مقبوضہ وادی کو تنازع ہی تسلیم نہ کرے۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو بلاشبہ ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کیا صرف ایٹمی جنگ ہی آخری آپشن ہے؟ پاکستانی حکمران کیا مسئلہ کے حل کیلئے باقی تمام آپشن بروئے کار لا چکے ہیں؟ آج کشمیریوں کو اپنی جدوجہد کو ثمرآور بنانے کیلئے نہ صرف پاکستان کی طرف سے اخلاقی و سفارتی تعاون کی ضرورت ہے بلکہ پاکستان کی طرف سے عملاً بھی کچھ ہونا چاہیے۔ آج منظور وٹو امور کشمیر کے وزیر اور مولانا فضل الرحمٰن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں‘ گو ان کو یہ عہدے کسی ڈیل کی صورت میں ملے ہیں‘ اسکے باوجود یہ اپنی اہلیت ثابت کریں‘ محض بیانات سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا۔ اس کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے‘ جو وزارت امور کشمیر کی طرف سے نظر آتے ہیں‘ نہ کشمیر کمیٹی کی طرف سے۔ دونوں مل کر مہم چلائیں اور کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کامیاب کرانے کیلئے پورے وسائل استعمال کریں‘ قوم مظلوم کشمیریوں کے کل بھی ساتھ تھی‘ آج بھی ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں
14 روپے فی کلو کا اضافہ
پیداواری کمپنیوں نے اوگرا کی اجازت کے بغیر ایل پی جی کے نرخوں میں 14 روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا ہے‘ جس کے نتیجے میں گھریلو سلنڈر 165 روپے اور کمرشل سلنڈر 635 روپے مہنگا ہو گیا۔
اس ملک میں وہی چیز زیادہ تر مہنگی کی جاتی ہے جس کا تعلق غریب آدمی سے ہوتا ہے‘ ایل پی جی سے رکشے چلتے ہیں اور غریبوں کے چولہے جلتے ہیں‘ اسی لئے اسے پیداواری کمپنیوں نے ازخود 14 روپے فی کلو مہنگا کر دیا ہے جبکہ اس سے پہلے ایل پی جی بارہا مہنگی کی جا چکی ہے‘ اب اسکے اثرات عام آدمی پر کیا مرتب ہونگے‘ اسکی پرواہ اوگرا کو ہے نہ حکمرانوں کو‘ کیونکہ انکی شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں‘ اگر غریبوں کے استعمال کی اشیاء کے نرخ بڑھیں تو انہیں اسکی کیا پرواہ؟ خدا جانے یہ حکمران بروز حشر اپنی گردن کیسے چھڑائیں گے۔ اوگرا‘ او…گِرا نہ بنے اور اس اضافے کو فی الفور رد کردے بلکہ ایل پی جی کو چودہ روپے فی کلو بڑھانے کے بجائے سستا کرے تاکہ عام آدمی پر اسکا کمر توڑ اثر نہ پڑے۔ یہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ جب ایک باقاعدہ ادارہ اوگرا موجود ہے تو پیداواری کمپنیوں کو اتنا بڑا اضافہ کرنے کی جسارت کیونکر ہوئی؟ اس سے تو یہ شک بھی پیدا ہوتا ہے کہ اوگرا درون خانہ ان پیداواری کمپنیوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور رشوت وصول کرکے‘ درحقیقت نرخوں میں اضافے کی اجازت دے چکی ہے مگر افشاء کرنے کو روک دیا گیا۔ وزیراعظم گیلانی اس زیادتی کا سختی سے نوٹس لیں اور پیداواری کمپنیوں سمیت اوگرا سے بھی پوچھ گچھ کریں اور اس اضافے کو واپس لینے کے احکامات جاری کریں۔


یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے .

بےباک
12-14-2010, 11:30 AM
اس خبر نامہ کا شکریہ ، کافی ہی خبریں میرے لیے نئی تھیں،

تانیہ
12-14-2010, 11:57 AM
تھینکس فار شیئرنگ