PDA

View Full Version : نیپالی اداکارہ کا اسلام قبول کرنے کا اعلان



گلاب
10-20-2012, 10:36 AM
[undefined=undefined]
میں بودھ خاندان سے تھی، بودھ مت میرے رگ رگ میں سرایت کرچکا تھا، ایک سال پہلے میرے ذہن میں خیال آیا کہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا جائے، ہندو مت، عیسائیت اور اسلام کا تقابلی مطالعہ شروع کیا، اسلام کی جو سب سے بڑی خصوصیت ہے، وہ توحید ہے، ایک اللہ پر ایمان و یقین کا جو مضبوط عقیدہ یہاں دیکھنے کو ملا، وہ کسی اور دھرم میں نہیں مل سکا۔


س: اسلام کی کون سی خصوصیت نے آپ کو قبول اسلام پر آمادہ کیا؟

میں بودھ خاندان سے تھی، بودھ مت میرے رگ رگ میں سرایت تھا، ایک سال پہلے میرے ذہن میں خیال آیا کہ دوسرے مذاہب کا مطالعہ کیا جائے، ہندو مت، عیسائیت اور اسلام کا تقابلی مطالعہ شروع کیا، اسلام کی جو سب سے بڑی خصوصیت ہے، وہ توحید ہے، ایک اللہ پر ایمان و یقین کا جو مضبوط عقیدہ یہاں دیکھنے کو ملا، وہ کسی اور دھرم میں نہیں مل سکا۔
س: عالمی میڈیا نے اسلام کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے، اسلام کو دہشت کے انداز میں پیش کیا جارہا ہے، کیا آپ اس سے متاثر نہیں ہوئیں؟
ج: اسلام کے خلاف پروپیگنڈے نے مجھے اسلام سے قریب کردیا، اس لئے کہ مطالعہ میں اس کے بر عکس پایا، اور اب میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسانیت کے مسائل کا عادلانہ و پر امن حل پیش کرتا ہے۔
س: پوجا جی! آپ کا تعلق فلمی دنیا سے رہا ہے، اور آپ ہی سے متعلق میڈیا میں کئی اسکینڈل منظر عام پر آئے، جس سے آپ کو صدمہ لاحق ہوا،اور ایک مرتبہ آپ نے خودکشی کی ناکام کوشش بھی کی، کچھ بتائیں گی؟
ج: میں نہیں چاہتی تھی کہ میری ذاتی زندگی کے تعلق سے میڈیا تہمت تراشی کرے، تبصرے شائع کرے، مجھے بدنام کرے،میں آپ کو یہ بتادینا ضروری سمجھتی ہوں کہ اب تک میری تین شادیاں ہو چکی ہیں، مختصر وقفے کے بعد سب سے علیحدگی ہوتی گئی، پہلے شوہر سے ایک بیٹاہے جو میری ماں کے ساتھ رہتا ہے، انہی امور کے متعلق میڈیا نے کچھ نا مناسب چیزیں اچھال دیں، جس سے مجھے بے حد تکلیف ہوئی، لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ شہرت کے لئے میں نے یہ سب کیا، حقیقت یہ ہے کہ میں بد حال تھی خود کشی کرنا چاہتی تھی، مجھے میرے دوستوں نے سنبھالا ، مذہبی کتابوں کے مطالعہ پر اکسایا ، پھر اسلام قبول کیا، میں اپنا ماضی بھول جانا چاہتی ہوں، اس لئے کہ میں اب ایک پرسکون و باوقار زندگی بسر کر رہی ہوں۔
س: پوجا جی! قبول اسلام کے بعد آپ کے طرز زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، آپ کے سر پر اسکارف بندھا ہوا ہے، کیا شراب و تمباکو نوشی سے بھی توبہ کر لی ؟
ج: برائے مہربانی مجھے پوجا نہ پکاریں، پوجا میرا ماضی تھا اور اب میں آمنہ ہوں، قبول اسلام سے پہلے تناؤ بھرے لمحات میں شراب و سگریٹ میرا سہارا تھے، کبھی اس قدر پی لیتی کہ بے ہوش ہوجاتی تھی۔ ڈپریشن کا شکار ہو چکی تھی، میرے چاروں اور اندھیرا ہی اندھیرا تھا، لیکن قبول اسلام کے بعد سکھ کا سانس لیا ہے، شراب، سگریٹ سے توبہ کر لی ہے، صرف حلال گوشت ہی کھاتی ہوں۔
س: اسلام نے خواتین کو جسمانی نمائش ، ناچ گانا اور سازو سرود سے روکا ہے، آپ کس حد تک متفق ہیں؟
ج: میرے مسلمان ہونے کے بعد سارے پروڈیوسروں نے مجھ سے ناطہ توڑ لیا ہے، چونکہ سنگیت میرے نس نس میں سمایا ہوا ہے، اس لئے کبھی کبھار تھمیل (کاٹھمانڈو کا پوش علاقہ) کے ایک ریستوران میں گیت گانے چلی جاتی ہوں، برقع (مکمل پردہ) پہننے کی بھی عادت ڈال رہی ہوں، کوشش کروں گی کہ گانے کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے۔
س: قبول اسلام کے محرکات کیا تھے؟

ج: چونکہ میرے کئی بودھ ساتھی اسلام قبول کر چکے تھے، جب وہ مجھے پریشان دیکھتے تو اسلام کی طرف رغبت دلاتے، اس کی تعلیمات بتاتے، میں نے مطالعہ شروع کیا، ایک دن مجھے ایک مسلم دوست نے لیکچر دے ڈالا، اس کا ایک جملہ میرے دل میں پیوست ہوگیا کہ کوئی بھی غلط کام انسانوں کے ڈر سے نہیں بلکہ اللہ کے ڈر سے نہیں کرنا چاہئے، چنانچہ اسی وقت اسلام کے دامن میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
س: قبول اسلام کے بعد آپ کے خاندان کا کیا رد عمل رہا؟
ج: اسلام کو گلے لگانے کے بعد میں نے اپنے خاندان کو اطلاع دی، جو دار جلنگ میں رہتا ہے، میری ماں نے بھر پور تعاون کیا، انہوں نے جب مجھے دیکھا تو پھولے نہیں سمائیں، کہنے لگیں'' واہ بیٹا! تو نے صحیح راہ چنی، تمہیں خوش دیکھ کر مجھے چین مل گیا ہے‘‘۔ میری عادتیں بدل گئی ہیں، اس لئے خاندان کے دوسرے لوگوں نے بھی سراہا۔
س: میڈیا نے شک ظاہر کیا ہے کہ کہیں آپ کسی مسلمان کی محبت میں گرفتار ہیں اور اس سے شادی کے لئے آپ نے اسلام قبول کیا ہے؟
ج: بالکل بے بنیاد خبر، میرے کئی دوست مسلمان ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی کی محبت میں گرفتار ہوں اور اس سے شادی کے لئے اسلام لائی ہوں، ہاں اب میں مسلمان ہوں، لہذا میری شادی بھی کسی مسلمان سے ہی ہوگی، اور جب اس کا فیصلہ کروں گی تو سب کو پتہ چل جائے گا۔

.....

گلاب
10-20-2012, 10:38 AM
ہر سال سو اسرائیلی اسلام قبول کرتے ہیں مقبوضہ بیت المقدس:ہر سال تقریباً سو اسرائیلی یہودیت کو خیر باد کہہ کر اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ تبدیلی مذہب کے سلسلے میں یہ رپورٹ معروف اسرائیلی اخبار ”معاریف“ نے دی ہے۔ اسرائیلی وزارت عدل نے اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے بالمقابل چند لوگ عیسائیت بھی قبول کر لیتے ہیں لیکن ان کی تعداد اسلام قبول کرنے والوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ وزارت ِعدل کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ نے یہودیوں کے متشدد مذہبی حلقوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اخبار معاریف کے مطابق 2005ء اور 2007ء کے دوران اسرائیلی عدالت میں 306 اسرائیلیوں نے مذہب تبدیل کرنے کی درخواست دی تھی جن میں سے 249 نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور محض 48 لوگوں نے عیسائیت قبول کرنے کی درخواست دی تھی،جب کہ 9 درخواستیں ان لوگوں کی تھیں جنہوں نے اسلام یا عیسائیت قبول کر لینے کے بعد دوبارہ یہودیت میں واپس آنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ وزارت ِعدل سے موصولہ رپورٹ کی بنیاد پر اخبار معاریف نے یہ بھی لکھا ہے کہ2008ء میں اسلام قبول کرنے کے لیے درخواست دینے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال 212 درخواستیں قبولِ اسلام کرنے والوں کی اور 26 درخواستیں عیسائیت قبول کرنے والوں کی تھیں۔ 2009ء میں بھی اب تک 32 درخواستیں آئی ہیں جن میں 15 اسلام قبول کرنے والوں کی اور 15 درخواستیں عیسائیت قبول کرنے والوں کی ہیں۔

نگار
10-22-2012, 01:25 AM
جزاک اللہ

بہت اچھی معلومات ہیں آپ کا بہت بہت شکریہ

pervaz khan
10-22-2012, 01:59 PM
بہت اچھی شئیرنگ ہےبہت شکریہ